دشمن سے بھی نفرت نہ کیجئے
Al-Risala, March 1984, pp. 37–39
By Maulana Wahiduddin Khan
احد کی جنگ میں دشمنوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پتھر پھینکے۔ پتھر آپ کو لگے۔ آپ کے دانت ٹوٹ گئے اور آپ کے چہرہ سے خون بہنے لگا۔ اس جنگ میں آپ کے چچا حضرت حمزہ مارے گئے اور بہت سے صحابہ قتل ہوئے۔ چنانچہ آپ کے کچھ اصحاب نے آپ سے کہا کہ ان دشمنوں کے خلاف بد دعا کیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ میں لعنت کرنے کے لئے نہیں بھیجا گیا ہوں بلکہ داعی اور رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں (انی لم ابعث لعانا ولكن بعثت د اعيا ورحمة )
قرآن میں محمد حجت الا رسول بقیہ مطبعیہ کی تاریخ پیدائش کا اعلان قرآن میں ہے وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل (آل عمران ۱۴۴) اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم ویسے ہی ایک رسول تھے جیسے تمام رسول۔ آپ میں اور دوسرے رسولوں میں درجہ اور منصب کا کوئی فرق نہیں ۔ خدا کے تمام رسول ایک ہی دین لے کر آئے۔ ان میں سے کوئی رسول نہ دوسرے رسولوں سے افضل تھا۔ اور نہ ان میں سے کسی کا دین دوسروں کے دین کے مقابلہ میں زیادہ کامل۔ اس سلسلے میں یہاں چند حدیثیں نقل کی جاتی ہیں : عن ابی سعید قال قال رسول الله صلّی الله عليه وسلم لا تخيرونى بين الانبياء
عن ابی هريرة قال قال رسول الله صلّی الله عليه وسلم لا تفضلوا بين انبياء الله
مجھ کو نبیوں کے درمیان ممتاز نہ ٹھہراؤ۔ اللہ کے نبیوں میں کسی کو دوسرے پر فضیلت نہ دو۔ عن ابی هريرة قال قال رسول الله صلّے کسی شخص کو نہیں چاہئے کہ وہ کہے کہ میں یونس الله عليه وسلم ما ينبغي لاحد ان يقول اني خير من يونس بن متى (متفق عليه)
عن ابی ھریرۃ قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من قال انا خير من يونس بن متى فقد كذب (بخاری)
ابن متی سے بہتر ہوں ۔
جس شخص نے کہا کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں اس نے جھوٹ کہا۔
پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے رسولوں میں کیا فرق تھا ۔ وہ فرق یہ تھا کہ دوسرے رسول صرف رسول تھے اور آپ اسی کے ساتھ آخری رسول (ولكن رسول الله وخاتم النبیین) دوسرے رسول سلسلہ رسالت کی درمیانی کڑی تھے اور آپ سلسلہ رسالت کی آخری کڑی ۔ ایک شخص جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات اور تاریخ کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ آپ کے بہار ایک صاحبِ مَسند پیر صاب
کچھ ایسی چیزیں پاتا ہے جو دوسرے انبیاء کے یہاں نہیں پائی جاتیں۔ اب چوں کہ قرآن آپ کی حیثیت صرف یہ قرار دیتا ہے کہ آپ خاتم النبیین تھے، اس لئے ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم یہ مانیں کہ یہ مزید چیزیں اس خاتم النبیین ہونے کی حیثیت سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان مزید چیزوں کی توجیہہ ختم نبوت کے تصور کے تحت کی جائے گی نہ کہ کسی اور تصور کے تحت۔ جو چیزیں آپ میں اور دوسرے رسولوں میں مشترک ہیں وہ آپ کی حیثیت رسالت کے خانہ میں جائیں گی۔ اور جو چیزیں آپ میں اور دوسرے نبیوں میں مشترک نہیں وہ آپ کی حیثیت خاتم النبیین کے خانہ میں۔
مثلاً محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے مخالفین پر سیاسی فتوحات حاصل ہوئیں۔ آپ کا دین زمین کے ایک بڑے حصے میں غالب اور حکمراں ہوگیا۔ یہ ایسی چیز جو دوسرے نبیوں کے یہاں نہیں پائی جاتی۔ یہ اس لئے ہے کہ آپ خاتم النبیین تھے۔ آپ کے بعد چونکہ کوئی نبی آنے والا نہیں تھا۔ لئے ضروری تھا کہ آپ کا لایا ہوا دین ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو جائے۔ انا نحن نزلنا الذكر وانا لہ لحافظون) کوئی طاقت اس میں کسی قسم کی کوئی تحریف نہ کر سکے۔ آسمانی کتاب میں تحریف کے بعد نیا نبی آنا ضروری ہو جاتا ہے۔ چوں کہ آپ کے بعد خدائی اسکیم میں کوئی اور نبی آنے والا نہیں تھا۔ اس لئے ضروری تھا کہ آپ کی لائی ہوئی کتاب کی مستقل اور قابل اعتماد حفاظت کا انتظام کر دیا جائے۔ یہی وہ مقصد ہے جو سیاسی غلبہ کے ذریعہ حاصل کیا گیا۔
یہ خدا کی ایک خاص مصلحت تھی جس کے لئے آپ کو اور آپ کے پیروؤں کو عرب میں اور اطراف عرب میں کامل غلبہ دیا گیا۔ اس طرح خدا کی آخری کتاب کی پشت پر ایک ایسی طاقت ور حکومت کھڑی کر دی گئی جو صدیوں تک مسلسل اس کی حفاظت کرتی رہی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اسلام دشمن طاقتیں قرآن کو مٹا دیتیں یا اس کو اس طرح بدل دیتیں کہ وہ لوگوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے اپنی اصل صورت میں باقی نہ رہے۔ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیاسی غلبہ کو جمع کرنا آپ کے لائے ہوئے دین کی حفاظت کے لئے تھا۔ ثابت کرتی ہے کہ سیاسی غلبہ کے ذریعہ یہ مقصد صد فی صد حاصل ہوا۔
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جو تصویر قرآن وحدیث سے ثابت ہوتی ہے وہ یہی ہے۔ اور آپ کی صحیح اور سچی تصویر یقینی طور پر وہی ہے جو قرآن وحدیث سے ثابت ہو۔