Kingdom of Satya Sai Baba
Al-Risala, March 1984, pp. 44–47
By Maulana Wahiduddin Khan
بورڈ دیکھنے سے پہلے میں نے سمجھا تھا کہ ڈاکٹر صاحب نے کٹ گڈم (سلطنت) کا لفظ تفریح کے طور پر کہا ہے۔ مگر وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ واقعۃ اس کا نام یہی ہے۔ سائی بابا کا یہ مرکز سڑک کے کنارے تقریباً تین کلومیٹر لمبے اور دو کلومیٹر چوڑے علاقہ میں پھیلا ہوا ہے۔ اس میں ہر قسم کے فارم، اسکول، کالج، اسپتال، لائبریری، پریس، وغیرہ وغیرہ چیزیں موجود ہیں۔ طرح ایک خود کفیل دنیا ہے جو اپنی ضرورت کی تمام چیزیں (غلے سے لے کر کتاب تک) خود تیار
اس وقت سائی بابا اپنے مرکز میں موجود نہ تھے، کہیں باہر گئے ہوئے تھے، اس لئے ان سے ملاقات نہ ہوسکی۔ البتہ ان کے کچھ معتقدین سے ملاقاتیں ہوئیں۔ مسٹر وی کے (زمین رسالو ایڈیٹر انڈین ایکسپریس) سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ان کے ہاتھ میں ایک الیکٹرانک گھڑی تھی جس کے متعلق انھوں نے کہا کہ سائی بابا نے اس کو مجھے جنگل کے درمیان دیا تھا:
It was given to me by Swami in the middle of the forest. میں نے قریب سے دیکھا تو یہ گھڑی ٹھیک ویسی ہی تھی جیسی عام گھڑی ہوتی ہے۔ میں حیران ہوا کہ لوگ کتنے سادہ ہیں کہ یہ یقین کر لیتے ہیں کہ سائی بابا نے یہ گھڑی کسی آسمانی فیکٹری سے پر اسرار طور پر حاصل کرکے انھیں دی ہے۔ اگر واقعی یہ گھڑیاں’’ آسمان سے آتی ہیں تو ان کا ڈیزائن عام زمینی گھڑیوں سے مختلف کیوں نہیں۔
مسڑ زمین نے کہا کہ سائی بابا خدا کے اوتار ہیں۔ اوتار کی تشریح انھوں نے اس طرح کی کہ لکڑی کا چھوٹا پل ٹوٹ جائے تو گاؤں والے خود ہی اس کی مرمت کر لیتے ہیں۔ مگر جب لوہے کا بڑا پل ٹوٹتا ہے تو انجینئر کو خود اس کو درست کرنے کے لئے آنا پڑتا ہے۔
میں نے کہا جب کہ انسانی سماج کا انجینئر خود اصلاح کے لئے زمین پر آگیا ہے تو انسانی سماج کی خرابیوں کی اصلاح کیوں نہیں ہوتی۔ انھوں نے اب ایک اور مثال دی۔ انھوں نے کہا کہ ایک شخص بھگوان کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ بارش کی وجہ سے میرا گھر گر رہا ہے، بارش کو بند کیجیے۔ اب اگر بھگوان بارش کو بند کر دیں تو کسان آ کر فریاد کریں گے کہ ہماری فصل سوکھنے کی وجہ سے برباد ہوگئی۔ میں نے کہا کہ آپ کے اس جواب کا مطلب یہ ہے کہ پل کے ٹوٹنے میں بھی کوئی مصلحت تھی، اس لئے بھگوان اس کو باقی رکھے ہوئے ہیں۔ جب ایسا ہے تو پھر بھگوان کو زمین پر آنے کی حاجت ہی نہیں تھی۔ کیوں کہ آپ کے کہنے کے مطابق وہ اس وقت زمین پر آتے ہیں جب کہ ٹوٹے ہوئے پل کو درست کرنے کی ضرورت ہو۔ ۴ فروری ۱۹۸۴ کو دہلی میں ایک کشمیری نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ وہ ماہنامہ الرسالہ شروع سے خریدتے ہیں۔ اور مکتبہ الرسالہ کی مطبوعات بھی پڑھ چکے ہیں۔ وہ جہاں کہیں بھی جاتے ہیں الرسالہ کا تذکرہ ضرور کرتے ہیں۔
حال میں ایک سفر کے دوران وہ ایک دن کے لئے بنگلور میں ٹھہرے تھے۔ بنگلور میں انھوں نے ایک دکاندار سے الرسالہ کا تذکرہ کیا۔ دکاندار نے جواب دیا کہ ہم اس نام کے کسی رسالہ سے واقف نہیں اور ہم رسالے وغیرہ پڑھتے بھی نہیں۔ یہ سب مولویوں کے جھگڑے ہیں اور مولوی ہم کو بہت برباد کر چکے ہیں۔
مذکورہ کشمیری نوجوان بنگلور سے یہ تاثر لے کر لوٹے کہ بنگلور میں ابھی الرسالہ کی آواز نہیں حالاں کہ ان کی غلطی یہ تھی کہ انھوں نے بنگلور کے ایک دکاندار کو بنگلور سمجھ لیا۔ اگر وہ بنگلور کے سفر میں ہمارے ساتھ ہوتے تو ان کا تاثر دوسرا ہوتا۔ کیوں کہ بنگلور میں خدا کے فضل سے الرسالہ کی کئی ایجنسیاں کامیابی سے چل رہی ہیں۔ اور وہاں راقم الحروف کی تقریروں میں بھی کثرت سے تعلیم یافتہ طبقہ شریک ہوا۔
میں نے مذکورہ کشمیری نوجوان سے کہا کہ بنگلور ایک بہت بڑا شہر ہے۔ وہاں بہت سے لوگ الرسالہ کو برابر پڑھ رہے ہیں۔ مگر کسی شہر میں الرسالہ کے قارئین کا ہونا اور چیز ہے اور شہر کے ہر فرد تک الرسالہ کا پہنچنا دوسری چیز۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کسی کے خلاف یا موافق ایک رائے قائم کر لیتا ہے۔ حالاں کہ اس کی رائے اس کے محدود مشاہدہ کی نسبت سے ہوتی ہے نہ کہ وسیع تر معنوں میں پوری صورت واقعہ کی اکثر یقین صرف اس بات کا نتیجہ ہوتا ہے کہ آدمی کو پوری بات کا علم ہی نہیں۔
THE INTRODUCTION TO ISLAM The INTRODUCTION TO ISLAM SERIES is the rendering into English of the Urdu Ta'arufi Set by Maulana Wahiduddin Khan. It provides the general public with an understanding of the basic teachings of divinely The titles in this series: 1. The Way to Find God 2. The Teachings of Islam 3. The Good Life 4. The Garden of Paradise 5. The Fire of Hell
ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن فروری ۱۹۸۴ میں شائع ہو چکا ہے۔ اس کی قیمت فی شمارہ ۳ روپیہ اور سالانہ ۳۶ روپیہ ہے ایجنسی وغیرہ کی شرائط وہی ہیں جواردو الرسالہ کی ہیں۔ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن زیادہ ترار دوالرسالہ یا ادارۂ الرسالہ کی اردو مطبوعات کے ترجمے اس سلسلہ میں ہم کوان اصحاب کے قلمی تعاون کی ضرورت ہے جو انگریزی تحریر پر بخوبی قدرت رکھتے ہوں ۔ ایسے لوگوں سے ہماری اپیل ہے کہ وہ الرسالہ یا ہماری دوسری اردو مطبوعات سے انگریزی ترجمہ کرکے روانہ فرمائیں۔ ہم ایسے لوگوں کے انتہائی مشکور ہوں گے۔ جو اصحاب انگریزی ترجمے کے کام میں معاونت فرمائیں ان سے گزارش ہے کہ ہر ترجمہ خواہ وہ الرسالہ سے لیا گیا ہو یا کسی کتاب سے اس کا مکمل حوالہ ضرور درج کریں۔