Al-Risala · April 1984

موت کا سبق

Al-Risala, April 1984, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک مجرم کو بتایا گیا کہ عدالت اس کے خلاف فیصلہ کر چکی ہے اور کل صبح اس کو پھانسی دے دی جائے گی۔ پھانسی اگرچہ کل کے دن ہونے والی تھی مگر آج ہی اس کا یہ حال ہو گیا اس کو پھانسی دی جا چکی ہو۔ زندگی اس کے لئے بے قیمت ہو گئی۔ اس کا ہنستا اور بولنا ختم ہو گیا۔ اس کے ہاتھ جو دوسروں کے خلاف اٹھتے تھے، اب اس قابل نہ رہے کہ کسی کے خلاف اٹھیں۔ اس کے پاؤں جو ہر طرف دوڑنے کے لئے آزاد تھے، اب ان میں یہ طاقت بھی نہ رہی کہ وہ کہیں بھاگنے کی کوشش کریں۔

موت بتاتی ہے کہ یہی معاملہ ہر ایک کا ہے۔ ہر آدمی جو آج زندہ نظر آتا ہے، کل کے دن اسے ”پھانسی“ کے تختہ پر لٹکنا ہے۔ مگر ہر آدمی اس سے بے خبر ہے۔ ہر ایک اپنے آج میں گم ہے، کسی کو اپنے کل کا احساس نہیں۔ یہاں ہر آدمی ”مجرم“ ہے مگر بہت کم لوگ ہیں جو اپنے مجرم ہونے کو جانتے ہوں۔

آدمی زمین پر چلتا پھرتا ہے۔ وہ دیکھتا اور سنتا ہے۔ وہ اپنے مال اور اپنے ساتھیوں کے درمیان ہوتا ہے۔ اس کے بعد ایک عجیب واقعہ پیش آتا ہے۔ اس سے پوچھے بغیر اچانک اس کی موت آجاتی ہے۔ اس کے چلتے ہوئے قدم رک جاتے ہیں۔ اس کی دیکھنے والی آنکھیں بے نور ہو جاتی ہیں۔ وہ اپنی ہر چیز سے جدا ہو کر قبر کی تنہائی میں چلا جاتا ہے۔

موت کا یہ واقعہ آدمی کی حقیقت کو بتا رہا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ آدمی اختیار سے بے اختیاری کی طرف وہ اجالے سے اندھیرے کی طرف جارہا ہے۔ وہ سب کچھ سے بے کچھ کی طرف جارہا ہے۔ پہلے وہ اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پاتا ہے جہاں وہ اپنے ارادہ کا آپ مالک ہے۔ موت کے بعد وہ ایک ایسی دنیا میں چلا جاتا ہے جہاں وہ کسی اور کی ماتحتی قبول کرنے پر مجبور ہو گا۔ آدمی اگر اس حقیقت کو یاد رکھے تو اس کی زندگی بالکل بدل جائے۔ کسی پر قابو پا کر اسے ستانا اس کو مضحکہ خیز معلوم ہو۔ کیونکہ جو شخص خود کل دوسرے کے قابو میں جانے والا ہے وہ کسی کو ستا کر کیا پائے گا۔ اپنے کو بڑا سمجھنے پر اسے شرم آئے گی۔ کیونکہ جو بڑائی بالآخر چھن جانے والی ہو اس کی کیا حقیقت۔

Printed page