Al-Risala · April 1984

کیسی عجیب محرومی

Al-Risala, April 1984, p. 38

By Maulana Wahiduddin Khan

آپ کسی شخص کو ایک ڈالر دیں اور اس سے کہیں کہ آگے اسی قسم کے ایک کروڑ سکے پڑے ہوئے اگر تم تیزی سے جاؤ تو اس پورے ذخیرہ کو حاصل کر سکتے ہو۔ ایسا آدمی ڈالر دیکھ کر کیا کرے گا۔ ایک کو بھول کر ایک کروڑ کی طرف دوڑ پڑے گا۔

ایسا ہی کچھ معاملہ دنیا اور آخرت کا ہے۔ موجودہ دنیا آخرت کا تعارف ہے۔ یہاں آدمی ان نعمتوں اور لذتوں کی ابتدائی پہچان حاصل کرتا ہے جس کو خدا نے کامل طور پر آخرت میں مہیا کر رکھا ہے۔ لئے ہے تاکہ آدمی جز سے کل کو سمجھے۔ وہ قطرہ کو دیکھ کر سمندر کا اندازہ کرے۔ اگر آدمی کو دنیا کی صحیح معرفت حاصل ہو تو اس کے لئے دنیا مذکورہ ایک ڈالر کی مانند ہو جائے وہ چھوٹی لذت کو چھوڑ کر بڑی لذت کی طرف بھاگے گا ۔ وہ دنیا کو بھول کر آخرت کی طرف دوڑ اس کے برعکس جو شخص دنیا کی صحیح نوعیت کو نہ سمجھے وہ موجودہ دنیا ہی کو سب کچھ سمجھ بیٹھے گا۔ وہ آخرت کو بھول کر اسی دنیا کی چیزوں میں ہمہ تن مشغول ہو جائے گا۔

سورج اس لئے ہے کہ وہ آخرت کی روشنیوں سے بھری زندگی سے انسان کو متعارف مگر انسان سورج کو دیکھ کر یہ کرتا ہے کہ وہ خود سورج ہی کو اپنا معبود بنا لیتا ہے۔ پھولوں اور درختوں کا حسن اس لئے ہے کہ وہ آدمی کو آخرت کے حسن کی یاد دلائے۔ پھولوں اور درختوں کو آخری چیز سمجھ کر انھیں کے درمیان اپنی مستقل جنت بنانے لگتا ہے ۔ کی لذتیں اس لئے ہیں کہ انسان کو ہمہ تن آخرت کا مشتاق بنا دیں مگر انسان انھیں لذتوں میں ایسا کھوتا ہے کہ اس کو آخرت کی یاد بھی نہیں آتی۔

جو شخص موجودہ دنیا کی دل فریبیوں میں گم ہو جائے اس نے اپنی آخرت کو کھو دیا۔ آخرت میں پہنچے گاتو وہاں کی ابدی نعمتوں کو دیکھ کر اس کا یہ حال ہو گا گویا اس کا سینہ حسرت ویاس کا قبرستان بن چکا ہے۔ وہ کہے گا کہ میں بھی کیسا نادان تھا۔ میں نے جھوٹے عیش کی خاطر حقیقی عیش کو کھو دیا۔ میں نے جھوٹی لذت کے پیچھے حقیقی لذت گنوا دی ۔ میں نے جھوٹی آزادی سے فریب کھا کر اپنے آپ کو حقیقی آزادی سے محروم کر لیا۔

Printed page