Al-Risala · January 1984

"چل گئی تو موتی لال ، نہیں چلی تو جواہر لال" ،

Al-Risala, January 1984, pp. 18–19

By Maulana Wahiduddin Khan

ہندوستان کی سیاست میں جو لوگ « جواہر لال » بنے وہ وہی تھے جن کی انہیں چلتی تھی ، پریکٹس یا کاروبار میں ناکام ہونے والے لوگ سیاست کے میدان میں داخل ہو گئے ۔ یہاں عمل کی ضرورت نہ تھی۔ بلکہ تقریریں اور بیانات کافی تھے۔ چنانچہ بہت جلد وہ کامیاب لیڈر بن گئے۔

یہ بات مسلم قیادت کے لئے اور بھی زیادہ صحیح ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلم قیادت سب سے زیادہ ناکام قیادت ثابت ہوئی ہے۔ اس کی غالباً سب سے بڑی وجہ وہی ہے جو اوپر مذکور ہوئی۔ میں ناکام رہنے والے لوگ قیادت کے میدان میں داخل ہو گئے۔ حقیقی زندگی میں حقیقی لیاقت درکار تھی مگر قیادت کے میدان میں صرف تقریریں اور تحریریں کافی تھیں۔ اور یہ دوسرا سرمایہ ان لوگوں کے پاس کافی مقدار میں موجود تھا۔ عمل کے میدان میں ناکام رہنے والے لوگ الفاظ کے میدان میں آفتاب اور ماہتاب بن کر

ان لوگوں کے پاس ملت کو دینے کے لئے کوئی حقیقی عمل نہ تھا۔ ان کے پاس صرف الفاظ تھے جن کے سہارے وہ اپنا مقام پیدا کر سکیں، چنانچہ انھوں نے یہی کیا۔ انھوں نے رومانی شاعری، جذباتی تقریریں مبالغہ آمیز بیانات اور وقتی نعروں اور ہنگاموں پر اپنی قیادت کی عمارت کھڑی کی۔ اس طرح انھیں ذاتی عظمت تو حاصل ہو گئی مگر ملت کو عظمت کی منزل تک پہنچانے میں وہ سراسر ناکام رہے۔ ایک مثال لیجئے۔ ہندوستان کی مسلم قیادت کا ایک اہم اشو انگریزی اخبار ر ہا ہے۔ کے انگریزی اخبارات مسلم خبروں کی صحیح رپورٹنگ نہیں کرتے "، یہ بات تقریباً ہمارے ہر لیڈر کی زبان اس عنوان پر ہمارے لیڈروں نے مسلمانوں کے جذبات اس قدر زیادہ بھڑکائے ہیں کہ حال میں ایک صاحب نے ماہنامہ الرسالہ کے بارے میں کہا کہ الرسالہ میں ٹائمس آف انڈیا کے اقتباسات ہوتے ہیں، جب کہ ٹائمس آف انڈیا مسلمانوں کا دشمن نمبر ایک ہے ۔ ان کے نزدیک چوں کہ الرسالہ میں دشمن اخبار کے اقتباسات چھپتے ہیں اس لئے الرسالہ مسلمانوں کو پڑھنا نہیں چاہئے۔

اس قسم کی لایعنی باتوں کی ذمہ داری تمام تر ہماری مسلم قیادت پر ہے۔ وہ ہندوستان کے موجودہ

انگریزی اخبارات کے خلاف جو شیلے بیانات دیتے ہیں۔ وہ مسلمانوں کے انگریزی اخبار کے نام پر بڑے بڑے چندے وصول کرتے ہیں مگر یہ سب کچھ محض لفظی پہلوانی ہے، یہی وجہ ہے کہ آج تک مسلمانوں کا انگریزی اخبار وجود میں نہ آسکا۔ نہ یہی ممکن ہوا کہ موجودہ انگریزی اخبارات میں مسلمانوں کی کوئی قابل ذکر نمائندگی ہو سکے۔

دوسری طرف اس معاملہ میں ہمسایہ قوموں کا حال دیکھئے ۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ ہندوستان کی آزادی سے پہلے ہندوستان کی انگریزی صحافت انگریزوں یا انگریزوں کے تربیت یافتہ افراد کے ہاتھ میں تھی یہی لوگ اس وقت ملک کی انگریزی صحافت پر چھائے ہوئے تھے۔ آزادی کے بعد یہ سوال تھا کہ اب اس ملک میں انگریزی صحافت پر کس کا قبضہ ہو۔

اس وقت حالت یہ تھی کہ سارے ہندوستان میں صرف بمبئی یونیورسٹی میں جرنلزم کا ڈپلوما کورس ڈگری کے درجہ کی تعلیم کے لئے آدمی کو انگلینڈ جانا پڑتا تھا۔ اس وقت ایک سردار پروفیسر نے پنجاب یونیورسٹی (چنڈی گڑھ) میں جرنلزم کا ڈگری کورس شروع کیا۔ تاہم ابتداً اس شعبہ کو کوئی اہمیت حاصل نہ ہو سکی۔ بہت کم طلبہ اس میں داخلہ لینا پسند کرتے تھے۔ جب طلبہ کا پہلا دستہ نظری تعلیم مکمل کر چکا تو اس کی عملی تربیت کی ضرورت پیش آئی۔ مذکورہ پروفیسر ان کو لے کر دہلی آئے تاکہ یہاں کے بڑے بڑے اخبارات اور نیوز ایجنسیوں میں ان کو عملی تربیت کے لئے رکھ سکیں۔ مگر مشکل کچھ لوگ ان کو اپنے یہاں لینے کے لئے تیار ہوئے۔ تاہم پروفیسر نے اپنی کوشش جاری رکھی یہاں تک کہ ان کے پڑھائے ہوئے طلبہ عملی تربیت پا کر اخباری اداروں میں داخل ہونے لگے۔ دھیرے دھیرے یہ تناسب بڑھتا رہا۔ بالآخر یہ حال ہوا کہ یہ طلبہ اکثر اخباری اداروں میں نظر آنے لگے۔ نے اپنی رو داد بیان کرتے ہوئے ایک بار کہا پہلی بار جب میں دہلی آیا تھا تو یہاں کسی نے مجھ کو لفٹ نہ دی۔ مگر اب یہ حال ہے کہ میں انھیں اخباری دفتروں میں آتا ہوں تو آدھے آدمی میرے استقبال کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ میرے شاگرد ہیں۔

یہ واقعہ بتاتا ہے کہ اس دنیا میں کام کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ یہ ہے کسان کی طرح خاموشی کے ساتھ اپنے آپ کو نتیجہ خیز کام میں لگانا۔ مذکورہ واقعہ میں ایک شخص نے اپنے آپ کو ملک کی سو یونیورسٹیوں میں سے ایک یونیورسٹی کے ایک شعبہ میں وقف کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ملک کی انگریزی صحافت پر اس کی قوم کا غلبہ ہو گیا۔ اس کے برعکس جو لوگ احتجاج اور مطالبہ کر رہے ہیں وہ اسی مدت میں کوئی بھی صحافتی مقام پیدا نہ کر سکے۔

Printed page