Al-Risala · January 1984

It is a case of the living envying the dead

Al-Risala, January 1984, pp. 20–23

By Maulana Wahiduddin Khan

یعنی یہ ایک ایسی زندگی ہوگی جب کہ زندہ رہنے والوں کو مُردوں پر رشک آئے (ٹائمز آف انڈیا ۲۲ نومبر ۱۹۸۳)

۲۰ نومبر ۱۹۸۳ کو دو نوبل انعام یافتہ سائنس دانوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل (Javier Perez de Cuellar) سے مل کر ایک یادداشت ان کے حوالے کی (ٹائمز آف انڈیا ۲۱ نومبر ۱۹۸۳) اس یادداشت پر بارہ ہزار سائنس دانوں کے دستخط ہیں جو کہ چالیس سے زیادہ ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ مذکورہ نوبل انعام یافتہ سائنس دانوں کے نام یہ ہیں : 1. Mr. Philip Anderson (Princeton University)

2. Mr. James Cronin (Chicago University)

اس یادداشت میں اقوام متحدہ کی معرفت ایٹمی طاقتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں پر

مکمل پابندی عائد کریں۔ اس کے الفاظ میں، ہیرو شیما اور ناگا ساکی کے ۳۸ سال بعد بھی دنیا مستقل طور پر اپنے آپ کو اس خطرہ میں پا رہی ہے کہ ایٹمی جنگ کے ذریعہ اس کا خاتمہ ہو جائے: Thirty eight years after Hiroshima and Nagasaki the world finds itself under a constant threat of annihilation by nuclear war. اسی زمانہ میں اس سلسلے کا ایک اور واقعہ پیش آیا ہے جو اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ موجودہ زمانہ میں جو مصنوعی سیارے خلا میں بھیجے گئے ہیں۔ ان کے ذریعہ بہت سی نئی باتیں انسان کے علم میں آئی ہیں۔ ان معلوماتی سیاروں پر مخصوص قسم کے کیمرے اور طرح طرح کے آلات نصب ہوتے ہیں جو خلا کے بارے میں مسلسل معلومات زمین پر بھیجتے رہتے ہیں۔

اس طرح جو چیزیں معلوم ہوئی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ سیارہ مریخ (Mars) کے چاروں طرف زبر دست مقدار میں گرد کا طوفان چھایا ہوا ہے۔ چنانچہ سورج کی شعاعیں مریخ کی سطح پر نہیں پہنچ پاتیں اور اس بنا پر مریخ کا ٹمپریچر خطر ناک حد تک کم ہو گیا ہے۔

اس دریافت نے دو سائنس دانوں کو متاثر کیا۔ ان کو معلوم تھا کہ ایٹمی انفجار سے بھی ایسا ہی ہوتا ہے کہ بہت بڑی مقدار میں زمینی ذرات اُڑ کر فضا میں چلے جاتے ہیں (ایک میگاٹن بم کے پھٹنے سے ایک لاکھ ٹن سے زیادہ ذرات) اب ان کے سامنے یہ سوال آگیا کہ اگر ایٹمی جنگ ہو تو ایٹم بم کے پھٹنے سے جو ذرات اڑ کر فضا میں پہنچیں گے ان کے اثرات زمین پر کیا ہوں گے۔

اس ابتدائی سوال سے آغاز کر کے انھوں نے تحقیق شروع کی تو ان کے مطالعہ کے نتائج ایک پوری کتاب کی صورت اختیار کر گئے۔ یہ کتاب مندرجہ ذیل نام سے شائع ہوئی ہے ۔ کے طویل المدت حیاتیاتی نتائج :

The Long-Term Biological consequences of Nuclear War اس کتاب کے مصنف اسٹینفورڈ کے پال ارہلچ (Paul Ehrlich) اور کارنیل کے کارل ساگن (Carl Sagan) ہیں۔ اس کے علاوہ مزید ۸۰ سائنس دانوں نے کتاب پر تصدیقی دستخط کئے ہیں۔ اس کتاب میں فنی تجزیہ کر کے بتایا گیا ہے کہ ایٹمی جنگ کا مطلب ہے زمین سے انسانی نسل کا

Nuclear warfare means the extinction of the human race. when the missiles fly, the end is nigh. ایٹمی جنگ ہوئی تو دفعۃ اربوں انسان مر جائیں گے۔ اور جو لوگ اپاہج اور زخمی ہوکر بچیں گے وہ بھی

جلد ہی موت کا شکار ہو جائیں گے۔ کیوں کہ زمین ان کے سانس لینے کے لئے زہریلی گیس ہوگی۔ معمولی ٹھنڈ، اندھیرا اور ریڈیائی تابکاری۔ ایٹمی جنگ اگر چہ مدت کے اعتبار سے تاریخ کی مختصر ترین جنگ ہوگی مگر اپنے بعد وہ ایسی دنیا چھوڑے گی جس میں انسان جیسی مخلوق زندہ نہیں رہ سکتی۔ انسانیت کی بچی ہوئی نسل زمین پر سخت ٹھنڈک کی وجہ سے مفلوج ہو جائے گی اور تاریکی کی بنا پر تمام موجودہ سرگرمیاں ختم ہو جائیں گی۔ فضا میں دھوئیں اور گرد کی وجہ سے سورج کی شعائیں سطح زمین پر نہیں پہنچیں گی۔ ٹمپریچر خطرناک حد تک کم ہو جائے گا اور زمین ایٹمی سردی (Nuclear winter) کے حوالے ہو جائے گی۔

امریکہ اور روس کے پاس جو دور مار میزائل ہیں ان کی مجموعی مقدار تقریباً پانچ ہزار میگاٹن ہے۔ اگر ایٹمی جنگ میں یہ سب کے سب استعمال ہو جائیں تو زمین کے تقریباً نصف حصہ پر کم از کم عارضی طور پر برفانی دور (Ice age) جیسے حالات پیدا ہو جائیں گے۔ ایٹمی جنگ کے بعد زمین پر جو حالات پیدا ہوں گے وہ مذکورہ تحقیق کے مطابق مختصر طور پر یہ ہیں:

۲۲۵ ملین ٹن دھواں فضا میں داخل ہو گا۔ یہ دھواں اتنا زیادہ ہے کہ وہ زمین کے بڑے حصہ کو ڈھانک لینے کے لئے کافی ہے، اس کے نتیجہ میں یہ ہوگا کہ زمین تک پہنچنے والی سورج کی شعائیں تقریباً ۹۰ فی صد تک آنے سے رک جائیں گی۔

زمین کا تقریباً نصف حصہ بالکل رات کی طرح تاریک ہو جائے گا۔ ٹمپر یچر نقطہ انجماد سے نیچے آجائے گا اور یہ حالت تقریباً تین مہینے تک باقی رہے گی۔

سورج کی شعاعوں کے زمین تک نہ پہنچنے سے فوٹو سنتھی س (Photo-synthesis) کا عمل رک جائے گا جس کی وجہ سے پودے اس قابل ہوتے ہیں کہ وہ سن لائٹ کو انرجی میں تبدیل کر سکیں۔ یہ وہ کلیدی عمل ہے جو زندگی کے لئے مدد گار ہے۔ اس کے نتیجہ میں زمین پر پودے ختم ہو جائیں گے اور اسی کے ساتھ وہ جاندار بھی جو پودوں پر پرورش پاتے ہیں۔

جب تاریکی اور ٹھنڈ ختم ہوگی تو ایک اور شدید خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ ایٹمی دھماکوں سے پیدا ہونے والے کیمیائی رد عمل کا یہ نتیجہ ہو گا کہ فضا میں اوزون کی تہ Ozone layer موجودہ شکل میں باقی نہ رہے گی۔ اوزون گیس کی یہ تہ سورج کی نقصان دہ الٹرا وائلٹ شعاعوں کو زمین پر آنے سے چنانچہ الٹرا وائلٹ شعاعوں کی آمد کی وجہ سے حیاتیاتی اجسام شدید طور پر متاثر ہوں گے۔ جو انسان ایٹمی عذاب سے بچیں گے وہ بعد کو ان مہلک شعاعوں کی وجہ سے اندھے ہو جائیں گے۔

اس ہولناک ایٹمی جنگ سے بچنے کی تدبیر کیا ہے، یہ سوال مذکورہ سائنس دانوں سے ایک نیوز کانفرنس میں پوچھا گیا۔ انھوں نے کہا کہ سائنسی صداقت فیصلہ کرنے والوں کو پر مجبور کر دینے والی ثابت ہوگی۔

Scientific truth will prove compeling to decision-makers اخبار گار جین (۱۳ نومبر ۱۹۸۳) کے کالم نگار نے بجاطور پر اس کو سادگی کا نظریہ (Naive theory) کہا حقیقت یہ ہے کہ علمی واقفیت اگر روکنے والی ہوتی تو فیصلہ کرنے والوں کو پہلے ہی روک چکی ہوتی۔ ایٹمی ہتھیار اس واقفیت کے باوجود بنائے گئے ہیں۔ بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ وہ قومی دولت کے بے پناہ ضیاع کے بعد اسی لئے بنائے گئے ہیں کہ ان میں اتنی غیر معمولی ہلاکت کا سامان ہے۔ پھر جب ہلاکت خیزی کا علم ان ہتھیاروں کو بنانے میں مانع نہیں ہوا تو وہ ان کے استعمال میں کیوں مانع ہو جائے گا۔ ایٹمی جنگ سے بچنے کا حل صرف ایک ہے۔ اور وہ خدا کا خوف ہے۔ " فیصلہ کرنے والوں" کو عظیم اور برتر خدا کے خوف کے سوا کوئی اور چیز روکنے والی ثابت نہیں ہوسکتی۔ تمام مفلسانہ سرگرمیاں جو زمین پر جاری ہیں وہ اسی لئے جاری ہیں کہ انسان اس غلط فہمی کا شکار ہو گیا ہے کہ اس کے اوپر کوئی اس سے پوچھنے کوئی اس کے اعمال پر اس کو پکڑنے والا نہیں۔ یہ صرف خدا سے بے خوفی کا نتیجہ ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کو خوف اور دہشت میں مبتلا کئے ہوئے ہے۔

اگر انسان یہ جان لے کہ حقیقت واقعہ اس کے برعکس ہے۔ انسان خود مختار نہیں بلکہ مسئول ہے، تو وہ اس قسم کی تمام کارروائیوں سے یک لخت رک جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے اوپر ایک خدا ہے۔ وہ ہر ایک کے اوپر کامل اختیار رکھتا ہے۔ وہ انسان کی تمام کارروائیوں سے پوری طرح واقف ہے۔ وہ آخر میں ہر ایک کو پکڑے گا اور فساد کرنے والوں کو سخت ترین سزا دے گا، ایسی سزا جس کا سلسلہ ابدی طور پر جاری رہے گا۔ یہی علم انسان کو فساد سے روک سکتا ہے۔

آج جو لوگ مہلک ہتھیاروں کے بنانے میں مشغول ہیں وہ اسی لئے مشغول ہیں کہ انھیں یقین ہے کہ یہ مہلک ہتھیار صرف دوسروں کے خلاف استعمال ہوں گے۔ اگر وہ جان لیں کہ ان کے اوپر ایک اور زبر دست ہستی ہے۔ وہ اتنی طاقت ور ہے کہ ان کے تمام ہتھیاروں کو اکٹھا کر کے خود انھیں کے سروں پر پٹک دے تو وہ فوراً ہم اٹھیں گے اور ایسی تمام سرگرمیوں سے اچانک دست کش ہو جائیں گے۔ خدا کے سامنے جواب دہی کا عقیدہ " ہلاکت " کے مسئلہ کو آدمی کا ذاتی مسئلہ بنا دیتا ہے اور ذاتی مسئلہ سے بڑی کوئی چیز نہیں جو انسان کو کسی عمل سے روکنے والی ثابت ہو۔

Printed page