Al-Risala · May 1984

ایک سفر

Al-Risala, May 1984, pp. 12–21

By Maulana Wahiduddin Khan

مارچ 1984میں الجا معۃ الاسلامیہ کی دعوت پر مدینہ (سعودی عرب) کا سفر ہوا ۔ وہاں ایک ہفتہ کے لئے راقم الحروف کے لکچر وں کا پروگرام تھا (اس کی تفصیل الگ سفرنامہ میں ملاحظہ فرمائیں) مدینہ سے واپسی میں میں اور مولانامحمد ہاشم الہ قاسمی ۱۳ مارچ کی دو پہر کوریاض پہنچے۔ ریاض قدیم زمانہ میں ایک گاؤں تھا جس کا نام حجر الیمامہ تھا۔ شہر میں گھومتے ہوئے اب بھی کہیں کہیں کچی اینٹوں کی دیواروں کی صورت میں قدیم بستی کا منظر دکھائی دیتا ہے۔ تاہم آج کا ریاض پورے معنوں میں ایک جدید شہر ہے جو سعود ی عرب کا دار السلطنت ہے۔

ریاض میں پہاڑ دکھائی نہیں دیتے۔ یہ غیر معمولی طور پر بڑا اور منصوبہ بند شہر ہے۔ اس کا بیشتر حصہ صحرا میں بسایا گیا ہے۔ تشجیر (شوار ع کی اسکیموں نے صحرا میں خشک سڑکوں کو ہرا بھرا کر رکھا ہے۔ عام طور پر نہایت عمدہ اور بے حد کشادہ ہیں۔ تاہم یہ شہر ابھی " زیر تعمیر " مرحلہ میں ہے ۔ چنانچہ ہر طرف توڑنے اور بنانے کے مناظر دکھائی دیتے ہیں ۔

۱۴ مارچ 1984 کو سعودی عرب کے سب سے بڑے عالم شیخ عبدالعزیز بن عبد اللہ بن باز کو ٹیلی فون پر بتایا گیا کہ میں ان سے ملنا چاہتا ہوں ۔ وہ مجھ سے بخوبی واقف تھے ۔ انھوں نے کہا کہ ” شیخ سے میرا سلام کہو اور یہ کہو کہ آج دو پہر کا کھانا وہ میرے ساتھ کھائیں ۔ چنانچہ ہم لوگ ظہر کی نماز کے بعد ان کے مکان پر پہنچے۔

یہ غیر معمولی طور پر ایک بہت بڑا مکان تھا۔ ایک نہایت وسیع ہال میں نشست تھی۔ تقریباً بیس علماء کرسیوں پر موجود تھے۔ مجھ کو شیخ ابن باز کی بالکل قریبی کرسی پر بٹھایا گیا۔ اس کے بعد حسب معمول قہوہ آیا۔ نے پہلی پیالی شیخ ابن باز کی طرف بڑھائی۔ شیخ نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : فضل یا شیخ ! شیخ ابن باز نہایت عزت اور محبت کے ساتھ پیش آئے۔ زیادہ تر مسلم دنیا اور میرے کام کے بارے میں گفتگو کھانا کھانے کے بعد دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا۔

ریاض سے روانگی کے دن دوبارہ شیخ ابن باز سے ان کے دفتر میں ملنے گیا ۔ شیخ کا دفتر اتنا بڑا ہے کہ وہ حکومت کا سکریٹریٹ معلوم ہوتا ہے۔ شیخ ایک بہت بڑے کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ کرسیوں پر نشست تھی ۔ وہ عام طور پر لوگوں کو بیٹھے بیٹھے رخصت کر رہے تھے ۔ مگر جب میں سامنے آیا تو شیخ فوراً کھڑے ہو گئے اور دعاؤں اور نیک تمناؤں کے ساتھ مجھ کو رخصت کیا۔

۴ مارچ کو ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد المحسن الترکی سے ملاقات کا پروگرام تھا۔ وہ سعودی عرب کی سب سے بڑی یو نورسٹی جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ کے مدیر (Rector) ہیں۔ ان کا دفتر اتنا بڑا ہے جو خود ایک یونی ورسٹی معلوم ہوتا ہے۔ ملاقات کاکثرہ ہندوستان کے وزیر اعظم کے کمرہ سے بھی زیادہ وسیع اور شاندا ر نظر آیا۔ تا ہم اس کے اندر جو انسان بیٹھا ہوا تھا وہ سراپا تواضع اور سنجیدگی کی تصویر معلوم ہوتا تھا۔

زیادہ تر ہندوستان کے حالات اور اسلامی مرکز (دہلی) کے بارے میں گفتگو رہی۔ آخر میں وہ نماز ظہر کے لئے اٹھے۔ میں یہ سمجھا کہ وہ عقبی کمرہ میں نماز ادا کرنے کے لئے جا رہے ہیں۔ مگر وہ ہمارے ساتھ بیرونی دروازہ کی طرف چلے، یہاں تک کہ، ہم لوگ زینہ سے اتر کر قریب کی مسجد میں پہنچے جو مدیر کے دفتر سے متصل بنائی گئی ہے۔ یہاں کافی لوگ نماز کے لئے جمع تھے۔ ڈاکٹر ترکی چلتے چلتے رہے یہاں تک کہ وہ امام کی جگہ پہنچ گئے۔ اب مجھے معلوم ہوا کہ جوشخص یونی ورسٹی کا ریکٹر ہے وہ یہاں کی مسجد کا امام بھی ہے۔ ڈاکٹر ر عبد اللہ بن عبدالمحسن الترکی نے ایک بڑی عرب شخصیت سے میرا تعارف کراتے ہوئے کہا۔ الشيخ وحید الدین ، مدیر المركز الاسلامی في الهند، هو معروف لدينا بنشاطه وصدق سعيه ۔

سعودی عرب میں دو لاکھ سے زیادہ ہندوستانی ہیں۔ ان میں ہندو، مسلمان، اور عیسائی سب شامل ریاض میں بھی ان کی کافی تعداد ہے۔ ریاض کے زمانہ قیام میں بعض ہندوستانی دوستوں کی خواہش ہوئی کہ ان کے یہاں ایک وقت کا کھانا کھایا جائے۔ اس موقع پر ہندوستانی دوستوں کی ایک تعداد جمع ہو گئی۔ کی بعض آیات کی روشنی میں میں نے دین کی حقیقت واضح کرنے کی کوشش کی۔

سعودی عرب میں جو ہندوستانی مقیم ہیں وہ عام طور پر خوش ہیں۔ یہاں وہ مسائل مطلق نہیں ہیں جو ہندوستان جیسے ملکوں میں ہوتے ہیں۔ البتہ وطن اور خاندان سے دوری کا احساس ہر ایک کو رہتا ہے۔ دوسری بات بچوں کی تعلیم کی ہے۔ اکثر لوگ اس احساس میں مبتلا رہتے ہیں کہ وطن سے دور رہنے کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کو ویسی تعلیم نہیں دلا پاتے جیسا وہ چاہتے ہیں۔

ڈاکٹر عبد الحلیم عویس جامعۃ الامام میں علوم اجتماعیہ (Social Sciences) کے پروفیسر ان سے بڑی دلچسپ اور مفید ملاقاتیں رہیں۔ ایک گفتگو میں انھوں نے بڑی عمدہ بات کہی۔ کہا کہ انسان مال بناتا ہے مگر مال انسان نہیں بناتا۔ (الانسان يصنع المال ولكن المال لا يصنع

ڈاکٹر عبد العلیم عویس مصری ہیں اور نہایت ذہین ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ کئی مصریوں نے اردو پڑھی ہے اور وہ اردو اتنی ہی اچھی جانتے ہیں جتنا کہ اہل زبان (هم يجيدون الاردية كاهلها) ان میں سے تین مصری اس وقت جاپان میں ہیں۔ ڈاکٹر عبد العلیم عویس نے اخبار الشرق الاوسط کے لئے میرا انٹرویو لیا۔ رياض میں ایک سعودی نوجوان عبد الله الشویعر سے ملاقات ایک یادگار ملاقات تھی۔ ان کے پاس میری تمام عربی کتابیں کئی کئی تعداد میں موجود ہیں۔ وہ خود پڑھنے کے علاوہ دوسروں کو بھی تقسیم کرتے ایک روز گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ واللہ ہم آپ سے صرف اللہ کی خاطر محبت کرتے ہم کو تمام اسلامی مصنفین سے محبت ہے اور آپ اس میں چوٹی پر ہیں (وأنتم على قمتها) ساحل العاج کے ایک نوجوان ابوبکر اسماسی سے ملاقات ہوئی۔ وہ یہاں جامعۃ الامام میں کلیۃ الشریعۃ کے طالب علم ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ساحل العاج کی آبادی ۱۰ ملین ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس میں سے45 فی صد ممسلمان ہیں۔ تاہم خود مسلمانوں کا خیال ہے کہ ان کی آبادی65 فی صد سے کم نہیں۔ سرکاری زبان فرانسیسی ہے۔ صدر حکومت مسلمان ہے اور وزارت میں کئی مسلمان شامل ہیں۔ مذکورہ نوجوان سے میں نے پوچھا کہ ساحل العاج میں مسلمانوں کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔ مسلمانوں نے یہاں کی یونی ورسٹی میں شاندار مسجد بنا لی ہے۔ ٹیلی ویژن پر ہر جمعہ کو اسلامی پروگرام ہوتا ان کو حکومت ہر طرح کی سہولت دیتی ہے۔ مگر اس کو انھوں نے حکومت کے ”تملق“ سے تعبیر کیا۔ یہ بھی عجیب ذہن ہے کہ حکومت اگر کچھ کرے تو وہ تملق ہے اور نہ کرے تو ظالم۔

انھوں نے بتایا کہ ساحل العاج میں لوگ کثرت سے مسلمان ہورہے ہیں۔ ایک مقام پر صرف ایک دن میں چار ہزار آدمی سلمان ہو گئے۔ میں نے پوچھا کہ کن لوگوں کی کوششوں سے ایسا ہو رہا ہے۔ نے کہا الفضل يرجع الى الله والى الكتب المترجمة الى الفرنسية 15 مارچ کو دوپہر کا کھانا شیخ الوعبد الرحمن بن عقیل الظاہری کے یہاں تھا۔ وہ اعلیٰ پایہ کے مصنف اور مگر ہندوستان میں اور عرب میں یہ فرق ہے کہ ہندوستان کے علماءء بول چال کے موقع پر بھی کتابی زبان مگر اکثر عرب علما لکھتے وقت تو کتابی زبان لکھتے ہیں مگر بولنے کے وقت ان پر عوامی زبان کا اثر آجاتا مثلاً ہمارے میزبان نے ایک موقع پر گھر کے ایک لڑکے سے کہا: ايش تبغون (تم کیا چاہتے ہو اس طرح کی زبان سمجھنا ان لوگوں کے لئے کسی قدر مشکل ہوتا ہے جو صرف کتابی عربی سے واقف ہیں۔ عرب لوگ قہوہ اور چائے بہت پیتے ہیں۔ کھانے کے بعد چائے کا دور شروع ہوا تو میں نے چائے پینے سے معذرت کی۔ انھوں نے باصرار چائے کی پیالی دیتے ہوئے کہا : پیجیے ہضم کے عمل میں آسانی پیدا

کرتا ہے (يسهل عملية الهضم انشاء الله)

ایک صاحب جو محامی (وکیل) ہیں اور یہاں کھانے میں شریک تھے، انھوں نے ایک گفتگو کے درمیان بڑے درد کے ساتھ کہا: الناس كلهم يا اخی متعطشون الی الاسلام (میرے بھائی، آج تمام لوگ اسلام کے پیاسہ ہیں)

۱۶ مارچ (بروز جمعہ) ڈاکٹر احمد تو تو نجی کو ٹیلی فون کیا گیا اور میری ریاض میں آمد کا ذکر کیا گیا ۔ خوش ہوئے اور فوراً کہا کہ انا احب الشيخ و احرص علی لقائه۔ مگر انھوں کہا کہ آج ہی دوپہر کو برونی (افریقہ) روانہ ہو رہا ہوں۔ تاہم میں نماز جمعہ کے فوراً بعد شیخ کی قیام گاہ پر آکر ان سے ملاقات کروں گا۔ جمعہ کی نماز ہم لوگوں نے مسجد سلیمانیہ میں ادا کی۔ ایک عرب با صرار اپنے ساتھ وہاں لے گئے تھے۔ فراغت کے بعد ہم لوگ اپنی قیام گاہ پر لوٹے تو ڈاکٹر احمد تو تو نجی یہاں موجود تھے۔ مجھ کو دیکھ کر بے حد خوش ہوئے۔ بار بار کہتے رہے کہ ہم آپ سے محبت کرتے ہیں۔ آپ کے کاموں کی ہمارے دل میں بہت قدر ہے۔ سرمایہ ہیں وغیرہ وغیرہ ۔

وہ ایک خوبصورت قسم کا بند پیکٹ اپنے ساتھ لائے تھے جس پر لکھا ہوا تھا۔

هدیة الی الشيخ وحید الدین خان سلمه الله تعالى۔ شیخ احمد تو تو نجی سے میں نے کہا کہ یہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ آپ کے لئے ہے۔ میں نے کھولا تو اس کے اندر دو ایسی کتابیں تھیں جو عین میرا مطلوب تھیں۔ ایک قرآن کا جیبی نسخہ جو بائبل پیپر پر چھاپا گیا تھا۔ دوسرا حیات الصحابہ (مولانا محمد یوسف کاندھلوی) کی جلدیں دمشق کی چھپی ہوئی۔ مجھے قرآن کے مذکورہ نسخہ کی عرصہ سے تلاش تھی۔ اسی طرح حیات الصحابہ کا دمشق میں چھپا ہوا نسخہ بھی میں بہت چاہتا تھا۔ الحمد للہ کہ آج ڈاکٹر تو تو نجی کے ذریعہ دونوں چیزیں مجھے مل گئیں ڈاکٹر احمد تو تو نجی آج ہی بیرونی (افریقہ) جارہے تھے۔ چنانچہ انھوں نے دکستور طاہر جابر العلوانی کو مقرر کیا کہ ان کی غیر موجودگی میں وہ مجھ سے ملتے رہیں اور میری جو بھی ضرورت ہو اس میں میری

اصحاب رسول کی زندگیاں اسلام کا زندہ نمونہ ہیں۔ چنانچہ اصحاب رسول کے بارہ میں اسلاف نے کثرت سے کتابیں اور تراجم لکھے ہیں۔ تاہم اس موضوع پر قدیم کتابوں کا انداز یہ ہوتا ہے کہ ایک ایک صحابی کو عنوان بناکر اس کے تحت ان کے حالات لکھے جاتے ہیں۔ مولانا محمد یوسف کاندھلوی رحمتہ اللہ علیہ نے یہ کیسا کہ عملی عنوانات قائم کرکے اس کے تحت صحابہ کے احوال درج کئے۔ یہ ایک بے حد مشکل کام تھا جو

سالہا سال کی محنت بعد تمام ہوا۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن حیدر آباد سے چھاپا گیا تھا۔ تاہم اس میں کثرت سے مطبعی غلطیاں تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے دو عرب علماء شیخ نائف العباس اور شیخ محمد علی دولہ کو یہ توفیق دی کہ وہ پوری کتاب کو دوبارہ تصحیح اور تعلیق کے ساتھ شائع کریں۔ وہ دیباچہ میں لکھتے ہیں کہ انہوں نے جگہ جگہ جزئی اضافے بھی کئے ہیں ونضيف الكلام الذي نسيبه المؤلف اثناء النقل) کتاب کا کاغذ، چھپائی اور جلد ہر چیز نہایت عمدہ ہے اور دیکھتے ہی جی چاہتا ہے کہ اس کو پڑھنا شروع کردیں۔

ریاض میں ڈاکٹر عبدالرشید صاحب سے ملاقات بھی قابل ذکر ہے۔ انہوں نے ایک بڑی عجیب بات وہ قرآن کے مطالعہ کا بے حد ذوق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن اللہ اور بندہ کے درمیان مقام اتصال (Point of contact) ہے ۔ اسی طرح انہوں نے کہا کہ بحیثیت ڈاکٹر جب میں انسان کے جسم کو دیکھتا ہوں تو میں خدا کے کمالات میں ڈوب جاتا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان ہر وقت خدا کے اختیار میں ہے۔ یہ گویا ایک ریموٹ کنٹرول کا نظام ہے۔ خدا اگر ریموٹ کنٹرول سے ہارٹ بیٹنگ کو روک دے تو ایک لمحہ میں ہمارا وجود ختم ہو جائے ۔ جدید دریافتوں نے اسلامی حقیقتوں کی تفہیم کو کتنا آسان بنا دیا ہے۔

۷ مارچ کی شام کو میں نے ریاض سے دہلی ٹیلیفون پر بات کی۔ ریاض اور دہلی کے درمیان ڈائرکٹ ٹیلیفون پر حسب ذیل نمبروں پر انگلی رکھی گئی :

اور ایک منٹ کے اندر دہلی میں ہمارے دفتر کے ٹیلیفون پر گھنٹی بجنے لگی۔ میں نے ریسیور اٹھا کر "ہلو" کہا تو دوسری طرف سے میرے لڑکے کے ثانی اثنین کی آواز آئی ۔ یہ موجودہ زمانہ کی بہت زیادہ عام سہولت مگر کتنے کم ہیں وہ لوگ جو اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خدا کو یاد کرتے ہیں۔ اس وقت آدمی اگر خالق کو یاد کرے تو اس کا حال یہ ہو گا کہ بظاہر اگر چہ وہ ٹیلیفون پر کسی آدمی سے بات کرے گا مگر اس کی روح خدا سے ہم کلام ہو رہی ہوگی۔ ٹیلیفونی ربط اس کو خدا سے مربوط کرنے کا ذریعہ بن جائے گا۔ سعودی عرب میں مختلف اخبارات نکلتے ہیں۔ اکثر عرب ملکوں کے اخبارات محض پروپیگنڈے والی باتوں سے بھرے ہوتے ہیں۔ تاہم سعودی عرب کے اخبارات نسبتاً کافی بہتر نظر آئے۔

یہاں ایک روزنامہ "عرب نیوز" کے نام سے نکلتا ہے جو بیک وقت جدہ اور ریاض سے شائع عرب نیوز میں ہر روز آخری صفحہ پر ایک دل چسپ کالم ہوتا ہے ۔ ۱۰ جمادی الثانی ۱۴۰۲ھ (۱۲ مارچ 1984) ایک رپورٹنگ کے ذیل میں حسب ذیل لطیفہ درج تھا۔

لبنان میں ایک چڑیا پائی جاتی ہے جس کو چو ہا خور (Mouse eater) کہتے ہیں، یہ باز سے کچھ بڑی ہوتی ہے اور عام طور سے بڑے درختوں کی اوپر کی شاخوں پر بیٹھتی ہے۔ اس چڑیا کے متعلق لبنان میں ایک لطیفہ مشہور ہے۔ صبح کو جب سورج نکلتا ہے تو وہ زمین پر اپنے سایہ کو دیکھتی ہے۔ اس وقت چوں کہ اس کو اپنا سایہ بہت بڑا نظر آتا ہے، وہ منصوبہ بناتی ہے کہ آج میں ایک اونٹ کو اپنی خوراک بناؤں گی۔ مگر جیسے جیسے سورج اونچا اٹھتا ہے اس کا سایہ چھوٹا ہوتا جاتا ہے۔ تک کہ دوپہر کے وقت اس کا سایہ بالکل چھوٹا ہو جاتا ہے۔ اب وہ اس پر قناعت کر لیتی ہے کہ ایک چوہا پکڑ کر اس کو کھا لے۔

ایسا ہی کچھ معاملہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا ہو اہے فرضی تصور کے تحت اپنے کو "عظیم" سمجھ کر وہ بڑے بڑے منصوبے بناتے ہیں۔ مگر بالآخر ان کے حصہ میں جو چیز آتی ہے وہ صرف ایک " چھوٹا چوہا" اور کبھی چھوٹا چوہا بھی نہیں۔

یہاں کے عربی اخبارات اب کافی ترقی یافتہ ہو چکے ہیں۔ مثلاً وہ ایسی چیزیں چھاپنے کی پوزیشن میں ہو گئے ہیں جو عام طور پر ہمارے اردو اخبارات کی دسترس سے باہر ہوتی ہیں۔ روز نامہ الشرق الاوسط (ریاض) کی اشاعت ۲۸ جنوری 1984 میں ایک مفصل مضمون نظر سے گذرا جس کا عنوان تھا:

وثائق الخارجية البريطانية السرية لعام ۱۹۵۳ - اس میں سابق برطانی وزیر اعظم سر ونٹن چرچل کے ایک خط کا حوالہ ہے جو ۲۲ اپریل ۱۹۵۳ کو لکھا گیا تھا۔ اس خط کے ایک حصہ کا عربی ترجمہ اخبار میں حسب ذیل الفاظ میں درج تھا :

ان آخر المعلومات السرية المتوفرة تظهر آخری خفیہ اطلاعات بتاتی ہیں کہ یہ کس قدر خطر ناک مدى خطورة السماح للأمور بالاستمرار ہو گا کہ حالات کو بدستور جاری رہنے دیا جائے جب کہ على حالها بينما يستخدم محمد نجيب المانا محمد نجیب (صدر مصر) نازی جرمنوں کو مصری فوج کی نازيين لتعليم الجيش المصري والإرهابيين تربیت کے لئے استعمال کر رہے ہیں اور دہشت للتخريب وحرب العصابات پسندوں کو تخریب کاری اور گوریلا جنگ کے لئے تیار کر رہے ہیں۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ۳۰ سال پہلے اسرائیل کے سرپرست عربوں سے کس قدر خوف زدہ

روز نامہ الرياض ۲۸ صفحات پر شائع ہوتا ہے۔ اور اسی کی قیمت ایک ریال ہوتی ہے۔ میں ہر قسم کی معلومات اور ہر طرح کے مضامین ہوتے ہیں۔ اسی کے ساتھ تنقیدی خطوط بھی شائع ہوتے ہیں۔ مثلاً الرياض (۱۳، مارچ ۱۹۸۴ء) میں علی الدویکی الغامدی (جامعۃ ام القری) کا ایک خط نظر سے گزرا۔ جس میں انھوں نے اخبارات کے مواد پر تنقید کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ان کو پڑھنے والا ان میں ایسی چیز نہیں پاتا جو اس کی عقل کو اکسائے اور سیدھے راستہ کی طرف رہنمائی کرے (لا يجد القارى فيها ما يثير غفله و ما يهديه الى الصراط المستقيم)

عربی زبان کا ٹائپ اور اس سے متعلق مشینیں اعلیٰ ترین ترقی کے مقام پر پہنچ چکی ہیں۔ اور جرائد اور کتابوں کو دیکھ کر خواہش ہوتی ہے کہ کاش اردو والوں نے یہی ٹائپ اختیار کر لیا ہوتا تو آج اردو زبان بھی " ٹائپ " کے دور میں پہنچ چکی ہوتی جس طرح فارسی زبان ایسا کر کے ٹائپ کے دور میں پہنچ چکی ہے۔ اردو زبان ابھی تک ٹائپ کے دور کے فوائد سے محروم ہے اور غیر ضروری طور پر نستعلیق کا ٹائپ بنانے کی دوڑ میں لگی ہوئی ہے۔ اردو کے لئے اس علیحدہ تشخص کی ضرورت آج تک میری سمجھ میں

جن ملکوں میں لوگوں کے پاس دولت آئی ہے ان کے یہاں عجیب عجیب تفریحات اور تعیشات رواج مثلاً خاندانی تقریبات کی فلم تیار کرنا۔ جو لوگ زیادہ دولت مند ہیں ان کے پاس خود اپنی ذاتی مشینیں ہوتی ہیں۔ ورنہ ایسی کمپنیاں ہوتی ہیں جو فلمی تصویر کشی (Video shooting) کا انتظام ایک صاحب نے بتایا کہ پاکستان میں ایک شادی کی فلم پانچ ہزار روپے میں فروخت ہوتی ہے لوگ شادی کی تقریب یا دوسری خاندانی تقریبات کی فلم بنا کر رکھ لیتے ہیں اور پھر تفریح کے طور پر اس کو وی۔ آر پر دیکھتے ہیں۔

جدید دنیا کے دوسرے شہروں کی طرح عرب شہروں میں چلتے ہوئے یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم ایک تمدنی جنگل میں ہیں۔ جہاں یا تو ٹھہرے ہوئے مکانات ہیں یا دوڑتی ہوئی گاڑیاں ۔ اپنے آپ سے اور اس کے ساتھ قدرت سے اپنے کو دور محسوس کرنے لگتا ہے۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جدید تمدن نے انسان سے اس کی اپنی ذات کو بھی چھین لیا ہے۔ اور اس کے خدا کو بھی۔ روز نامہ المدینہ (۷، جمادی الثانی ۱۴۰۴ ھ ) میں ڈاکٹر عبد اللہ عمر نصیف کا ایک انٹرویو نظر سے گزرا۔ موصوف اس سے پہلے جامعہ الملک عبدالعزیز (جدہ) میں مدیر تھے۔ اب وہ رابطہ عالم اسلامی کے امین عام ہیں۔ انٹرویور نے ان سے جو سوالات کئے ان میں سے ایک سوال دنیا کے مسلمانوں کے بارہ میں

ڈاکٹر عبداللہ نصیف نے غم ناک انداز ہیں کہا:

نحن نری حال المسلمین فی کل مکان انتشار الامر اض بینہم ہم ہر مقام کے مسلمانوں کو دیکھتے ہیں۔ ان کا حال ان کے وسائل بہت کم ہیں۔ غریبی اور جہالت ہے۔ ان کے درمیان بیماریاں پھیلی

۱۸ مارچ کی دوپہر کو ہم وزارت داخلہ کے دفتر میں پہنچے۔ عظیم عمارت کی تیسری منزل کے وسیع ہال سے گزرے تو وہاں بڑے بڑے قالین بیجھے جارہے تھے۔ معلوم ہوا کہ ابھی نمازِ ظہر ادا کی گئی ہے۔ سعودی مملکت کے تمام دفاتر میں نماز باجماعت ادا کی جاتی ہے اور تمام کارکنان کے لئے لازم ہے کہ وہاں وقت پر آکر نماز ادا کریں۔

اس کے بعد ہم لوگ نائف وزیر کے دفتر میں داخل ہوئے۔ جدید طرز کے عظیم دفتر میں ایک ایسا شخص بیٹھا ہوا تھا جو بظاہر معلوم ہوتا تھا کہ کوئی ”مولوی“ ہے۔ نائب وزیر موصوف نے انتہائی اکرام کے ساتھ ملاقات کی۔ انھوں نے بتایا کہ ہم آپ کی کتابیں پڑھے ہوئے ہیں اور آپ کے بے حد قدرداں انھوں نے اسی وقت وزیر محترم سے ملاقات کے لئے ٹیلی فون کیا۔ وزیر موصوف اپنے روزانہ کے معمول کے مطابق نماز ظہر سے فارغ ہو کر عوام کی شکایات سن رہے تھے۔ یہ نمازِ ظہر کے بعد ان کا روزانہ ایک گھنٹہ کا معمول ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس عوامی ملاقات میں شیخ وحید الدین سے ملنا مناسب نہیں بہتر ہے کہ کل ان سے باقاعدہ ملاقات ہو۔ چنانچہ کل کا وقت طے ہوا۔

اگلے دن ۱۹ مارچ کو وزیرِ داخلہ (سعودی مملکت) سے ملاقات ہوئی۔ یہ شہزادہ نائب بن عبدالعزیز ہیں جو موجودہ شاہ فہد کے حقیقی بھائی ہیں۔ جتنا عظیم الشان ان کا دفتر ہے اور ان کے گرد جتنے وسیع انتظامات میں اس کے لحاظ سے ہمارا سامنا ایک ایسے شخص سے ہونا چاہئے تھا جو کبر کی تصویر بنا ہوا ہو۔ مگر جب ہم ملے تو ہمارے سامنے ایک ایسا شخص تھا جو سراسر تواضع کا نمونہ دکھائی دیتا تھا۔ گفتگو کے دوران معلوم ہوا کہ شہزادہ مذکور مجھ سے اور میرے کام سے بخوبی واقف ہیں۔ نے نہایت توجہ سے ہماری دعوتی باتوں کو سنا۔ اور اس پر اپنی طرف سے آیات اور احادیث کا اضافہ انھوں نے نہ تو اپنے کارناموں کو بیان کیا اور نہ کسی مفروضہ دشمن کے خلاف جوش و غضب کا مظاہرہ کیا۔ بلکہ یہ کہا کہ ہم سب کو اللہ توفیق دے کہ اتحاد و اتفاق کے ساتھ دین کا کام کر سکیں۔ سعودی عرب کے ذمہ داروں سے ملاقات کے وقت مجھے ایسا ہوا کہ اس علاقہ پر خدا کی خاص

شاید یہ خدا کا منصوبہ ہے کہ دین کی قدری جب دوسری جگہ مٹ رہی ہوں اس وقت بھی وہ یہاں موجود رہیں۔ شاید یہی مطلب ہے اس حدیث کا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ـــــــ ان الدین لیار زالی الحجاز كما تا رز الحية الى جحرها. ہندوستان کے مسلمانوں کے ذہن پر جس طرح یہاں کا اکثریتی فرقہ چھایا ہوا ہے ، اسی طرح عربوں کے ذہن پر یہودیوں اور عیسائیوں کا مسئلہ چھایا ہوا ہے۔ روزنامہ المدینہ (۱۰ جمادی الثانی ۱۴۰۴ھ) میں ایک مضمون (صفحہ ۹) نظر سے گزرا۔ مضمون نگار اس میں مسلمانوں کے مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے کہتے ہیں: ولم يكن الاستعمار في العصر الحديث اقل موجودہ زمانہ کا استعمار صلیبی جنگوں سے کم ہر نہیں شراسة من الحروب الصليبية - فلا فرق بينه ہے۔ اس میں اور صلیبی جنگوں میں کوئی فرق نہیں سوا وبين الحروب الصليبية الا في اختلاف وسائل کے فرق کے۔ صلیبی جنگوں کا وسیلہ اگر الوسيلة - فاذا كانت وسيلة الحرب بالصليبية فوجی تھا تو جدید استعمار کا وسیلہ قوم کے هي القهر العسكري - فان وسيلة الاستعمار الحديث تشخص کو مٹانا اور اس کی ان بنیادی قدروں هي محو شخصية الشعب والقضاء على مقوماتها کو ختم کرنا ہے جو عقیدہ اور زبان اور روایات الأساسية من عقيدة ولغة وتقاليد۔ سے تعلق رکھتی ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ صلیبی قومیں اپنے مقدس مقامات کو مسلمانوں سے واپس لینے کے جذبہ کے تحت اٹھی جب کہ موجودہ زمانہ کا استعماری قوتوں کے زور پر ابھرا۔ مسلمانوں نے چوں کہ دونوں کو ایک سمجھا اس لئے انھوں نے جدید استعمار کے مقابلہ میں صرف منفی رد عمل کا مظاہرہ کیا۔ قدیم صلیبی حملوں کی طرح وہ ان کے خلاف لڑنے کے لئے کھڑے ہوگئے۔ اگر وہ " استعمار " کی حقیقت کو صحیح طور پر سمجھتے تو ان کو نظر آتا کہ وہ صرف استعمار نہیں ہے بلکہ وہ جدید امکانات کا ہر دل بھی ہے، دعوت اسلامی کے اعتبار سے بھی اور دنیوی ترقی کے اعتبار سے بھی۔

۱۸ مارچ کو ہم موسسۃ الملک فیصل الخیریہ (ریاض) میں گئے۔ اس کی عمارت اتنی عظیم الشان ہے کہ اس کو دیکھ کر شاہی محل کا گمان ہوتا ہے۔ اس ادارہ کی بہت سی دینی اور تعمیری سرگرمیاں ہیں جن میں سے ایک فیصل انعام بھی ہے جو پانچ قسم کے میدان میں کام کرنے والوں کو امتیازی بنیاد پر دیا جاتا ہے۔ اس کے تحت ایک ذیلی ادارہ بھی ہے جس کا نام مرکز الملك فيصل للبحوث والدراسات

18 مارچ کی شام کوریاض ٹیلیویژن پر دو انٹرویو ہوئے۔ دونوں آدھ آدھ گھنٹہ کے تھے۔ جب میں اپنے ساتھی ڈاکٹر محمد مانع الجہنی ( الامین العام المساعد للندوہ العالمیہ للشباب الاسلامی ) کے ساتھ ٹیلی وژن سنٹر پر پہنچا تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں" ریاض " میں نہیں ہوں بلکہ امریکہ کے کسی انتہائی جدید قسم کے عالیشان دفتر میں ہوں۔ یہ مغرب کا وقت تھا۔ ڈاکٹر مانع الجہنی نے کہا کہ ہم لوگ پہلے نماز پڑھ اس کے بعد، ہم پہلی منزل کے ایک بڑے ہال میں داخل ہوئے تو یہاں مسئلے بچھا ہوا تھا اور بالکل مسجد کا منظر تھا۔ امریکی طرز کی عمارت میں اسلامی طرز کا عبادت خانہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ انٹرویو انگریزی میں تھا۔ اس کی صورت یہ تھی کہ ڈاکٹر محمد مانع الجہنی سوال کرتے تھے اور میں اس کا جواب دیتا تھا۔ پہلا انٹرویو زیادہ تر میرے بارہ میں اور المركز الاسلامی کے بارہ میں اور ہندوستان کے مسلمانوں کے بارہ میں تھا۔ دوسرا انٹرویو زیادہ تر الاسلام تندی کے بارہ میں اور جدید چیلنج اور اسلام کی طرف سے اس کے جواب کے بارہ میں تھا۔

19 مارچ کی شام کو ہم ریاض سے جدہ کے لئے روانہ ہوئے۔ یہ جہاز (۴۷) جدہ ہوتے ہوئے لندن جا رہا تھا۔ جہاز کی روانگی کے ساتھ اعلانات شروع ہوئے۔ سعودی ایئر لائنز شاید واحد ایئر لائنز ہے جس کے اعلانات بسم اللہ الرحمن الرحیم اور باذن اللہ تعالی جیسے الفاظ کے ساتھ مسافر کے کانوں میں پہنچتے اس کے بعد خالص عرب لہجہ میں قرآن کی آیات اور سفر کی دعا سنائی گئی۔

20 مارچ کی صبح کو ہم جدہ میں تھے۔ ڈاکٹر عبداللہ عمر نصیف سے ٹیلی فون پر وقت لیا گیا تھا اور انھوں نے مکہ میں 11 بجے دن کا وقت دیا تھا۔ مگر ہم لوگ جدہ میں دیر سے پہنچے اور بظا ہر ممکن معلوم نہیں ہوا کہ ہم لوگ وقت پر مکہ پہنچ کر ان سے مل سکیں گے۔ میں نے جناب حامد الدین صاحب (جامعہ عبدالملک عبدالعزیز ) سے کہا تو انھوں نے کہا کہ وہ اس وقت اپنے مکان پر ہوں گے۔ اس لئے ابھی ان سے ٹیلی فون کر کے دوسرا وقت مقرر کر لیا جائے۔ یہ نماز فجر کے بعد کا وقت تھا۔ حامد الدین صاحب نے ٹیلی فون لایا تو السلام علیکم کے بعد پہلا جملہ یہ کہا :

Printed page