I hope I did not disturb you.
Al-Risala, May 1984, pp. 21–24
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈاکٹر صاحب، مجھے امید ہے کہ میں نے آپ کو خلل نہیں ڈالا ہوگا ) میں نے اپنے دل میں سوچا کہ یہ انداز خطاب تعلیم سے آتا ہے۔ اگر قوم کو تعلیم یافتہ بنا دیا جائے تو قوم کے تمام مسائل اپنے آپ ختم ہو جائیں۔ کیوں کہ تعلیم قوم کے افراد کو مہذب بھی بناتی ہے اور باشعور بھی۔
اس کے مطابق شام کو نماز عصر کے بعد ڈاکٹر عبداللہ نصیف سے ان کی قیام گاہ (جدہ ) پر ملاقات ہوئی۔ نہایت خندہ پیشانی سے ملے اور اسلامی مرکز کی سرگرمیوں کے بارہ معلومات کرتے رہے۔ انھوں نے خواہش
ظاہر ہے کہ ہندوستان کے اگلے سفر کے موقع پر اسلامی مرکز کی بھی زیارت کریں۔
جدہ میں ہم نے سرکاری مہمان بننے کے بجائے جناب محمد رفیق قریشی کی میز بانی کو پسند کیا۔ اس کی وجہ سے یہاں بہت سے لوگوں سے ملاقات کا موقع ملا۔
ڈاکٹر احمد محمد علی سے ملاقات ہوئی جو اسلامیڈویلپمنٹ بنک کے صدر ہیں۔ مختلف ملاقاتوں کے درمیان میں نے محسوس کیا کہ راقم الحروف نے جو آواز پہلے بلند کرنا شروع کیا تھا اس کی اہمیت اب عام طور پر محسوس کی جانے لگی ہے۔ اب سوچنے سمجھنے والا طبقہ عام طور تسلیم کرتا ہے کہ دعوت اسلامی کا کام قومی اور سیاسی جھگڑوں سے الگ ہو کر کرنا چاہئے۔ مجھے یقین ہے کہ جو بات پچھلے برسوں میں اجنبی بنی ہوئی تھی، بہت جلد وہ وقت آ رہا ہے جب کہ وہی تمام لوگوں کی بات ہوگی۔
۲۱ مارچ کی صبح کو، ہم مولانا عبد الوحید ندوی کے ساتھ عمرہ کرنے کے لئے مکہ پہنچے۔ طواف کعبہ کے دوران بھیڑ نہیں تھی، اس لئے حجر اسود تک پہنچنے کا موقع بھی آسانی سے مل گیا۔ حجر اسود ایک بڑے پیالہ کے مانند عمرہ گویا چھوٹا حج ہے۔ کعبہ کے گرد گھومتے ہوئے اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرتے ہوئے جو احساسات ایک مومن پر طاری ہوتے ہیں ان کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔
۲۱ مارچ کی شام کو ہم جدہ سے دوبی کے لئے روانہ ہوئے۔ جہاز میں مجھے سردی کا احساس ہوا تو اوپر کا خانہ کھولا کہ اس میں سے کمبل نکال کر پیروں پر ڈال لوں۔ مگر وہاں صرف تکیہ رکھا ہوا تھا۔ ٹٹولتے ہوئے دیکھ کر جہاز کا ایک کارکن قریب آیا اور بولا Can I help you. (کیا میں آپ کی مدد کر سکتا ہوں) اردو میں اسی بات کو کہنا ہو تو آدمی کہے گا "آپ کو کیا چیز چاہئے" ، زبان کا یہ اسلوب دونوں زبان کے بولنے والوں کے مزاج میں بھی منتقل ہوا ہے جس کا مظاہرہ مختلف عملی پہلوؤں سے ہوتا رہتا ہے۔
۲۰ مارچ کی شام کو ہمارا جہاز دوبئی کے ہوائی اڈہ پر اترا۔ جیسے ہی میں ہوائی جہاز کی سیڑھی سے نیچے اترا، ہو ائی اڈہ کا ایک افسر میرے قریب آیا اور سوالیہ انداز میں کہا: "الشیخ وحید الدین" میں نے کہا نعم ۔ اس نے مرحبا کہا اور کہا کہ دکتور سالم عبد اللہ المحمود با ہر آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ آگے بڑھ کر ہوائی اڈہ کی عمارت میں داخل ہوا۔ تو دوبارہ ہوائی اڈہ کے ایک ذمہ دار آگے بڑھے اور مذکورہ سوال کیا۔ اور پھر ہمارے ساتھ چلنے لگے۔ یہاں تک کہ ہم کو باہر پہنچا دیا جہاں لوگ ہمارے
ڈاکٹر سالم عبد اللہ المحمود شارجہ کے ممتاز ترین ڈاکٹر ہیں۔ ان کے والد الشیخ عبد اللہ بن علی المحمود شارجہ کے ایک انتہائی ممتاز شخص تھے۔ یہاں ان کا مکان بجائے خود ایک محل معلوم ہوتا ہے۔ ہماری آمدڈاکٹر سالم عبد اللہ المحمود کی دعوت پر ہوئی ہے۔ انھوں نے غیر معمولی کوشش کی۔ مملکت میں قیام کے دوران ان کے درجنوں ٹیلی فون آتے رہے۔ یہاں کے سفر میں ہمارے لئے مختلف قسم کی شدید رکاوٹیں حائل تھیں مگر انھوں نے اپنے اثر و رسوخ سے ان تمام رکاوٹوں کو حل کیا۔ یہاں تک کہ شارجہ میں ہمارا داخلہ ممکن ہو سکا۔
شارجہ کا ہوائی اڈہ الگ ہے۔ تاہم ہم دوبئی کے ہوائی اڈہ پر اترے۔ یہاں سے شارجہ15-20منٹ کے فاصلہ پر ہے۔ دوبئی ہوائی اڈہ سے چلے تو دوبئی شہر کے مناظر سامنے تھے۔ اس کی شہری پلاننگ نہایت اعلیٰ غالباً تمام عرب ملکوں میں دبئی اس اعتبار سے نمبر ایک پر ہے۔ اس کی غیر معمولی طور پر رونق دنیا سے گزرتے ہوئے میرے دل نے کہا:
پٹرول کے کرشموں کا یہ حال ہے تو پٹرول کے خالق کے کرشموں کا کیا حال ہوگا۔
عمل کثیف کی امکانیات اتنی زیادہ ہیں تو عمل لطیف کی امکانیات کتنی زیادہ ہوں گی۔ ہماری گاڑی ایک وسیع مکان کے سامنے رکی جو یہاں کی اہم ترین سڑک کے کنارے ہے۔ یہ "مکتبہ الشیخ عبد اللہ بن علی المحمود" کی عمارت تھی۔ یہ شارقه (شارحہ) کا سب سے زیادہ سر سبز اور صاف ستھرا علاقہ ہے یہاں بڑے بڑے شیوخ رہتے ہیں۔ سڑکیں نہایت چکنی اور صاف ستھری ہیں۔ اور ان کے دونوں طرف یک منزلہ یا دو منزلہ مکانات پھیلے ہوئے ہیں۔
اسی مکتبہ (لائبریری) کی وسیع عمارت میں میرا قیام تھا۔ اور اس کے وسیع ہال میں تقریب کا پروگرام رکھا گیا تھا۔ عمارت کے باہر ایک بڑا سا خوبصورت بورڈ نظر آیا جس پر پروگرام کی تفصیل درج تھی۔ مضمون کا پوسٹر تیار کر کے پوری عرب امارات میں پھیلا دیا گیا تھا۔ پوسٹر کا مختصر عکس اگلے صفحہ پر درج کیا جا رہا ہے۔
۲۳ مارچ کی شام کو نماز عشاء کے بعد پروگرام تھا۔ لائبریری کا وسیع ہال سامعین سے بھرا ہوا تھا۔ بازو کے بڑے کمرے میں بھی کرسیاں بچھی ہوئی تھیں اور ٹیلیویژن Closed-circuit television کے ذریعہ آواز اور تصویر پہنچانے کا انتظام تھا۔ تاہم کرسیاں ناکافی ثابت ہوئیں اور کثرت سے لوگ کھڑے ہوئے معلوم ہوا کہ پورے عرب امارات سے اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ صرف میری تقریر سننے کے لئے آیا تھا۔ کے ایک کارکن نے بتایا کہ یہاں اکثر اجتماعات ہوتے رہتے ہیں۔ مگر اتنی بڑی تعداد میں اس سے پہلے
بسم الله الرحمن الرحيم يلتقي الكاتب والفكر الإسلامي الاسلام في نكالا يوم الخميس بعد صلاة المغرب ١٩ جمادي الثانية ١٤٠٤هـ وذلك بمقر جمعية عبد الله بن علي الأنصاري الكائن بالشارقة - شارع الرمثاء