Al-Risala · May 1984

الا الرحيم

Al-Risala, May 1984, pp. 25–27

By Maulana Wahiduddin Khan

الای الشیخ وحید الدین خان وجهة التعديل العصرية لاة العشاء مباشرة محمود رحمه الله»

ب دائرة المرور

صرف ایک بار لوگ جمع ہوئے تھے جب کہ لائبریری کا افتتاح تھا اور سلطان شارقہ خود اس کا افتتاح کرنے لئے تشریف لائے تھے۔

ابتدائی کارروائی کے بعد میں نے عربی مقالہ " الاسلام والتحديات العصرية " پڑھ کر سنایا۔ انتہائی خاموشی کے ساتھ سنتے رہے۔ مقالہ سے لوگوں کی غیر معمولی دلچسپی کا ایک مظاہرہ یہ ہوا کہ مقالہ ختم ہونے کے بعد بڑی تعداد میں لوگ ہال میں ٹھہرے رہے اور دیر تک مجھ سے باتیں کرتے رہے۔ موضوع کے بارے میں مزید تفصیل جاننا چاہتے تھے۔ میں نے کہا کہ اس موضوع پر میں انشاء اللہ ایک جامع کتاب تیار کر رہا ہوں جس کا انگریزی نام God Arises ہو گا۔

اجتماع کے بیشتر شر کاءبے حد خاموشی اور سنجیدگی کے ساتھ مقالہ کو سنتے رہے اور مقالہ سننے کے بعد غور وفکر میں ڈوبے ہوئے نظر آئے۔ مگر چند لوگ جن کا تعلق ایک خاص جماعت سے تھا اور جو سیاسی اسلام کے بارہ میں میری تنقیدوں سے برہم ہیں وہ غیر متعلق سوالات کر کے فضا کو برہم کرنے کی کوشش کرتے ان کے سوالات زیادہ تر ایسے تھے جن کا تعلق اصل موضوع سے نہ تھا بلکہ میری ذات کو مطعون کرنا مثلاً آپ نے جہاد کو ساقط کر دیا ہے۔ آپ حدیث کی حجیت کے منکر ہیں۔ آپ اسلام دشمن طاقتوں کے ایجنٹ ہیں۔ آپ قادیانیوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ ظالموں کی حمایت کرتے ہیں۔ اجتماع کے عام شرکاء کو ان سوالات سے کوئی دل چسپی نہ تھی۔ چند آدمی (خاص طور غالباً دو آدمی) اس سلسلے میں بہت پیش پیش تھے۔ میں نے ابتداء مختصر جوابات دئے مگر ان کی تیزی اور شدت میں اضافہ یہاں تک کہ وہ بہت زور زور سے بولنے لگے۔ اس وقت میں نے فیصلہ کیا کہ اسلامی اصول کے مطابق ان سے اعراض کرنا چاہئے۔ چنانچہ میں نے مائک پر حسب ذیل الفاظ کہے اور پھر خاموش ہو گیا: عفواً يا اخى لا فائدة فى مثل هذه الاسئلة والاجوبة۔ لان هذه الاسئلة ليست اسئلة بل هي كلها جدال۔ ونبينا صلى الله عليه وسلم قد نهانا عن الجدال۔ وانی لا اقول الا ما قال المومنون الاولون عن المحباد لبن، سلام عليكم، لا نجاهلكم۔ لنا ما نحن عليه ولكم ما انتم عليه ( یہ آخری قول نجران کے ان مومنین کا تھا جن کا ذکر قرآن کی سورۃ القصص، آیت ۵۵ میں آیا ہے۔

۲۵ مارچ کی صبح کو محمد رضی نے انٹرویو لیا۔ وہ ایک مصری نوجوان ہیں۔ اور یہاں ماہنامہ الاصلاح (دبئی) سے وابستہ ہیں۔ انٹرویو میں میری ذات سے متعلق سوالات ، المركز الاسلامی کے مقاصد اور سرگرمیاں اور ہندوستان اور عالم اسلام کے حالات کے بارے میں سوالات تھے۔

ایک گھنٹہ تک جاری رہا۔

نماز ظہر کے فوراِ بعد ہم لوگ الشیخ علی الحوتی (رئیس المحکمة الشرعیة) کی دعوت پر ان کے مکان کے لئے روانہ ہوئے۔ وہ شارقہ (خاص ہے) ۸۰ کلومیٹر کے فاصلہ پر زید میں رہتے ہیں۔ زید یہاں کا نہایت سر سبز اور شاداب علاقہ ہے۔ یہاں شیخ کا وسیع مکان ہے اور اس سے متعلق دور تک پھیلے ہوئے ان کے باغات ہیں۔ جن میں کھجور کے درخت ہیں اور مختلف قسم کی زراعت ہوتی ہے۔ زید جاتے ہوئے طویل فاصلہ صحرا میں طے کرنا پڑا۔ نہایت عمدہ بنی ہوئی سڑک کے دونوں طرف رتیلے صحرا ہیں جن میں جھاڑیاں نظر آتی ہیں۔ یہ صحرا قدیم ترین زمانہ سے بظاہر بے قیمت پڑے ہوئے تھے۔ گران صحراؤں کے نیچے ایک ایسی چیز دفن تھی جو ہر دوسری چیز کی قیمت ادا کر سکتی تھی۔ چنانچہ اس نے ظاہر ہو کر قیمت ادا کی اور آج انھیں صحراؤں میں شاندار شہر آباد نظر آتے ہیں۔

صحرا میں دور آگ کے بہت بڑے بڑے شعلے جلتے ہوئے نظر آئے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ گیس کے فضلا ت ہیں جو جل رہے ہیں۔ گیس کے یہ فضلات انتہائی قیمتی ہیں۔ ان سے ہزاروں چیزیں بنتی ہیں۔ انھیں سے وہ کو کنگ گیس بنتی ہے جس کو حاصل کرنے کے لئے ہندوستان میں ایک آدمی کو کئی کئی سال تک لائن لگانی پڑتی ہے۔ مگر خلیجی ممالک میں اکثر یہ قیمتی چیز پھینک دی جاتی ہے اور جلتی رہتی ہے۔ ان کو استعمال میں لایا جائے (جیسا کہ ترقی یافتہ ممالک ان کو استعمال میں لا رہے ہیں) تو وہ دولت کا عظیم الشان خزانہ بن جائے۔

۲۳ مارچ ۱۹۸۴ کو شارقہ میں ایک بڑے شیخ کے یہاں ایک خصوصی نشست تھی۔ اتنے میں ہندوستان کے ایک مسلم قائد وسیع کمرہ میں داخل ہوئے۔ ملاقات کے بعد انھوں نے کچھ چھپے ہوئے کاغذات عرب شیوخ کے درمیان تقسیم کرنے شروع کئے۔ میں نے دیکھا تو اس میں ہندوستان کے مسلمانوں پر حکومت کے ”مظالم“ کے خلاف چیخ پکار تھی۔ گفتگو کے دوران قائد موصوف نے کہا :

” ہندوستان میں اسلام آزاد نہیں ہے۔ مسجد کے اندر بھی سجدہ کی آزادی نہیں “ یہ سن کر ایک عرب شیخ نے کہا : ہم نے کئی بار ہندوستان کی زیارت کی ہے۔ اور وہاں مختلف مقامات پر مسجدوں کے اندر نمازیں پڑھی ہیں۔ ہم نے تو نہیں دیکھا کہ وہاں مسجدوں میں سجدہ کرنے کی ” آزادی نہ ہو “ اس موقع پر قائد موصوف نے ایک ” پریس اسٹیٹمنٹ “ تقسیم کیا جس کے چھ نکات میں سے ایک نکتہ یہ تھا : A urinal was constructed at the tomb of famous Urdu poet Zauq ۲۴ مارچ ۱۹۸۴ کی صبح کو ہم برٹش ایرویز (۷۴۷) کے ذریعہ دہلی واپس پہنچے۔

Printed page