حقیقت سے بے خبری
Al-Risala, June 1984, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
امتحان ہال میں ہر طالب علم کو یکساں طور پر داخل ہونے اور بیٹھنے کے مواقع دئے جاتے ہیں مگر سند کی تقسیم کے وقت سند پانے کی خوشی ہر ایک کے حصہ میں نہیں آتی۔ یہ خوشی صرف اس طالب علم کا حصہ ہوتی ہے جو محنتی ہو۔ جس نے اپنے سال بھر کے وقت کو ضائع کرنے کے بجائے استعمال کیا ہو۔ ایسا طالب علم کامیابی کے ساتھ تمام سوالات کو حل کرتا ہے اور امتحان میں پاس ہو کر سند کا مستحق بنتا ہے۔ یہی حال وسیع تر معنوں میں زندگی کا بھی ہوتا ہے۔ موجودہ دنیا بے شمار نعمتوں سے بھری اور ہر آدمی اس سے متمتع ہو رہا ہے۔ مگر موجودہ دنیا میں ہر چیز جو آدمی کو مل رہی ہے وہ امتحان کی قیمت میں مل رہی ہے۔ اس کے برعکس آخرت میں ہر چیز آدمی کو عمل کی قیمت میں ملے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں تو ہر آدمی خدا کی نعمتوں میں سے کچھ نہ کچھ اپنے لئے پالیتَا مگر آخرت میں صرف وہی لوگ خدا کی نعمتوں کو پائیں گے جو اپنے عمل سے اس کا استحقاق ثابت باقی تمام لوگ اس سے محروم کر کے چھوڑ دئے جائیں گے۔
انسان زمین کے اوپر کس طرح اکڑ کر چلتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ زمین پر چلنا اس کا حق نہیں یہ صرف خدا کی طرف سے امتحان کی مہلت ہے۔ انسان یہاں دھوپ اور ہوا اور پانی اور غذا اور بے شمار دوسری چیزوں کو استعمال کرتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ یہ سب چیزیں اس کے لئے ہیں۔ حالانکہ یہ صرف وقفہ امتحان تک اس کے لئے ہیں۔ اس کے بعد وہ صرف اس شخص کے لئے ہوں گی جس نے ان کا حق ادا کیا ہو۔ باقی تمام لوگوں کے حصہ میں ابدی محرومی کے سوا اور کچھ نہیں آئے گا۔ انسان اختیار و اقتدار پا کر گھمنڈ کرنے لگتا ہے۔ اس کو خبر نہیں کہ یہ اختیار و اقتدار خدا کی امانت ہے۔ کو پا کر گھمنڈ کرنا خدا کی امانت میں خیانت کرنا ہے جس کی کم سے کم سزا یہ ہے کہ اس کو دائمی طور پر ہر قسم کے عزت اور اقتدار سے محروم کر دیا جائے۔
یہ ایک بے حد نازک صورت حال ہے۔ ہر آدمی ایک انتہائی بھیانک انجام کے کنارے کھڑا اس دنیا کا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ لوگوں کو اس صورت حال سے باخبر کیا جائے۔ موجودہ دنیا کی چیزوں کو جو لوگ ذاتی چیز سمجھ کر اس میں بے روک ٹوک تصرف کر رہے ہیں ان کا حال آخرت میں وہی ہو گا جو کسی بینک کے اس اکا ؤنٹنٹ کا ہوتا ہے جو بینک کی الماری میں بھرے ہوئے نوٹوں کو اپنی ذاتی چیز سمجھ لے۔