سب سے زیادہ خطر ناک
Al-Risala, June 1984, pp. 20–32
By Maulana Wahiduddin Khan
شیر کے ڈراونے چہرے کو دیکھ کر مشکل سے کوئی آدمی یقین کرے گا کہ اس پھاڑ کھانے والے درندہ سے بھی زیادہ خطرناک دشمن کوئی انسان کے لئے ہو سکتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان کا سب سے زیادہ خطرناک دشمن شیر یا بھیڑیا نہیں ہے۔ سب سے خطرناک دشمن وہ بیکٹیریا ہیں جو اتنے چھوٹے ہیں کہ خالی آنکھ سے نظر نہیں آتے۔ یہ بیکٹیریا اتنی تیزی سے اپنی نسل بڑھاتے ہیں کہ موافق حالات میں صرف دس گھنٹوں کے اندر ایک کیڑا اپنی نسل کے دس ہزار جان دار پیدا کر لیتا ہے۔ شیر یا بھیڑیا کہیں کسی ایک آدمی کو پھاڑتے ہوں گے مگر بیکٹیریا کی زد میں ہر آدمی ہر وقت ہوتا ہے۔ بیکٹیریا کی ہزاروں قسمیں ہیں۔ ہماری خوش قسمتی سے ان کی ۹۹ فی صد تعداد یا تو بے ضرر ہے یا ہمارے لئے مفید ہے۔ مگر ایک فی صد تعداد جو مضر ہے وہ بھی اتنی خطرناک ہے کہ آن کی آن میں آدمی کی جان لے سکتی ہے۔ میڈیکل سائنس کے مطابق تمام مہلک بیماریاں انھیں بیکٹیریا کی پیدا کردہ ہوتی ہیں۔ بیکٹیریا انتہائی چھوٹے ہونے کی وجہ سے ایسے راستوں سے انسان کے اندر داخل ہو جاتے ہیں جن کا روکنا عام طور پر آدمی کے بس میں نہیں ہوتا۔ لوگ عام طور پر بڑے بڑے حادثات کو جانتے ہیں اور ان کو اپنی تباہی کا سبب مگر حقیقت یہ ہے کہ ہمارے " چھوٹے چھوٹے دشمن" ہم کو اس سے کہیں زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں جتنا کہ بڑے بڑے دشمن۔ اور ہماری سب سے زیادہ خطرناک دشمن خود ہماری اپنی چھوٹی چھوٹی کوتا ہیاں ہیں جو ہم کو محسوس نہیں ہوتیں مگر وہ ہماری زندگی کو برباد کر کے رکھ دیتی ہیں۔
مثلا ہر شخص کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے روزانہ اوقات کا ایک حصہ بغیر استعمال کئے ہوئے گزار دیتا ہے۔ ہر شخص روزانہ ضروری مدوں میں کچھ نہ کچھ رقم خرچ کرتا رہتا ہے یہ وقت اور یہ سرمایہ ایک دن کے لحاظ سے تو بہت تھوڑا نظر آتا ہے، چند گھنٹے یا چند روپے لیکن اگر پورے سال اور آدمی کی پوری عمر کو ملا کر دیکھے تو معلوم ہوگا کہ ہر شخص اپنی تقریبا نصف عمر اور اپنی نصف کمائی کو بے نتیجہ چیزوں میں برباد کر رہا ہے۔ اس بربادی کو اگر پوری قوم پر پھیلائیے تو یہ نقصان اتنا زیادہ بڑھ جائے گا کہ اس کا شمار بھی ناممکن ہو۔
۸ مارچ ۱۹۸۳ء کو میرا قیام پونا میں تھا۔ اور اس کے بعد ۹۔ ۱۱ مارچ ۱۹۸۳ء کو بمبئی میں۔
اس دوران میں دونوں مقام پر پڑھے لکھے لوگوں کے درمیان خطابات کرنے کا موقع ملا۔ کثیر تعداد میں لوگوں سے ملاقات اور گفتگو ہوئی۔
پونا کی آبادی تقریباً 16 لاکھ ہے، جس میں مسلمان، سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ایک لاکھ ہیں۔ مگر مسلمانوں کا اپنا خیال یہ ہے کہ ان کی آبادی کسی طرح تین لاکھ سے کم نہیں ہے۔ یہی معاملہ بمبئی کا ہے، اور یہی معاملہ دوسرے مقامات کا بھی۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس کی وجہ کیا ہے۔ یہ کوئی واقعی حقیقت ہے کہ مسلمانوں کی آبادی سرکاری اعداد وشمار میں اصل سے کم دکھائی جاتی ہے، یا ایسا ہے کہ مسلمان اپنی آبادی کا خیالی اضافہ کرکے اپنے احساس حق تلفی کو تسکین دینا چاہتے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں آپ جس شہر میں بھی جائیں آپ وہاں دینی اور اسلامی سرگرمیاں ہوتی ہوئی دیکھیں گے۔ ایک آدمی اس کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں کھاتے پیتے لوگوں میں سے ایک طبقہ کے درمیان ہیں۔ تقریباً ہر شہر میں کم از کم پچاس فیصد مسلمان ایسے بستے ہیں جو غریبی اور جہالت کا شکار ہیں۔ ان کو بقدر ضرورت بھی زندگی کا سامان میسر نہیں۔ مگر یہ پورا طبقہ ہر جگہ اندھیرے میں پڑا ہوا ہے۔ بہت کم اصلاحی یا اسلامی سرگرمیاں ملیں گی جو اس دوسرے طبقہ کے درمیان جاری ہوں۔ دوسرا مشاہدہ یہ ہوتا ہے کہ ہر شہر موجودہ زمانہ میں دو شہر کا نام ہے۔ ایک قدیم اور دوسرا جدید۔ قدیم شہر میں تنگ سڑکیں اور گھنی آبادیاں ہیں۔ اس کے باشندے زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو غریب اور جاہل ہیں۔ دوسرا جدید شہر یہ؛ یہاں کشادہ سڑکیں، پارک اور کھلے مکانات ہیں۔ یہاں کے رہنے والے وہ لوگ ہیں جو تعلیم یافتہ اور خوش حال ہیں۔ میں نے تقریباً ہر جگہ یہ پایا کہ ہر قسم کا فساد ہمیشہ قدیم شہر میں ہوتا ہے۔ جدید شہر والے حصہ میں کبھی کوئی فساد نہیں ہوتا۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ فساد“ کے مسئلہ کا سب سے زیادہ یقینی حل مسلمانوں کی تعلیمی اور اقتصادی حالت کو بہتر بنانا ہے، جب کہ یہی وہ میدان ہے جہاں ملت کے مجاہدین میں سے کوئی بھی سرگرم عمل نہیں۔ موجودہ سفر میں اور دوسرے سفروں میں مجھے تجربہ ہوا کہ اس وقت قوم کے سنجیدہ طبقہ میں سب سے زیادہ جس چیز کی طلب ہے وہ اتحاد ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ ایسی باتیں کہی جائیں جو اتفاقی ہوں ۔ اختلافی باتیں سرے سے ذکر نہ کی جائیں۔ مگر ہر آدمی صرف دوسروں کو متحد کرنا چاہتا ہے نہ کہ اپنے آپ کو۔
پونہ کے سفر کے بعد وہاں کا ایک خط مورخہ ۴ جنوری ۱۹۸۴ موصول ہوا۔ یہ خط یہاں نقل کیا جار ہا ہے :
عالی جناب مولانا صاحب، آپ کو دوبارہ پونہ کا سفر کرنا چاہئے۔ کیوں کہ آپ کے پونہ آنے سے پہلے یہاں الرسالہ صرف ۲۰ کی تعداد میں آتا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ اب الرسالہ ۱۰۰ کی تعداد میں پونہ آ رہا ہے۔ دوسری کتابوں کی مانگ بھی کافی ہے۔ چنانچہ اس دوران میں کئی بار میں زیادہ زیادہ کتابیں مکتبہ الرسالہ سے منگا چکا ہوں۔ نیز یہ کہ آپ کی آواز کی ٹیپ کی ضرورت ہے۔ آجائیں تو میں آپ کی تقریروں کے کیسٹ تیار کرلوں گا اور لوگوں کو ایک جگہ جمع کرکے ان کو سنانے کا بندوبست کروں گا۔
پونہ کے مقامی اخبار الانصار میں ”پیغمبر انقلاب“ کے انعام کی خبر چھپی تھی۔ اسی کے ساتھ آپ کا مضمون ” یہ اختلاف کیوں “ بھی شائع کرایا تھا۔ اس کو الرسالہ سے نقل کرنے میں غلطی ہوسکتی تھی، اس لئے میں نے یہ کیا کہ اس کی ایک فوٹو کاپی نکلوانی اور وہی اخبار کے کاتب کو دے دیا۔ آپ کے جانے کے بعد پونہ میں ہفتہ وار اجتماع برابر ہو رہا ہے۔ میں اپنے ساتھیوں سے کہتا ہوں کہ الرسالہ کو خوب پھیلاؤ۔ الرسالہ کی ایجنسی آخرت کی ایجنسی ہے اور آخرت کی ایجنسی ہر طرح سے بے ضرر اور فائدہ مند ہے۔ جب میرے دل میں یہ تقدس شامل ہو گیا تو اب مجھے کام کرنا آسان ہو گیا۔
ربیع الاول میں پونہ میں ہر سال بڑے پیمانے پر سیرت النبی کا جلسہ ہوتا ہے اور مختلف تقاریب منائی جاتی ہیں۔ اس کی ایک نشست میں جس میں غیر مسلم صاحبان بھی موجود تھے میں نے آپ کا ایک مضمون ” ظہورِ اسلام“ سے پڑھ کر سنایا۔ اس کے علاوہ ہم نے اسلام کے تعارف پر انگریزی میں ایک دو ورقہ خاص اہتمام سے چھپوایا اور اس کو تقسیم کیا۔ اس دو ورقہ کو ڈاک سے بھی خاص خاص لوگوں کو بھیجا گیا ۔ مثلاً گورنر مہاراشٹر، وزیر اعلٰی مہاراشٹر۔ ضلع پونہ کے سات ممبران پارلیمنٹ، ضلع پونہ کے سات ایم ایل سی۔ ضلع پونہ کے چودہ ایم ایل اے ۔ پونہ کارپوریشن کے 75 ممبران ۔ کیمپ بورڈ کے ۸ ممبران۔ پونہ کے روز ناموں کے ایڈیٹر صاحبان ۔ پونہ کے محکمہ تعلیمات کے افسران ۔ کے محکمہ پولیس کے افسران ۔ پونہ کے تعلیمی اداروں کے سربراہان۔ نیز ضلع پونہ کے مراٹھی دانشور اور اہل فکر حضرات کو مجموعی طور پر چار سو کی تعداد میں روانہ کئے گئے۔ اس کے علاوہ ” ٹیچنگ آف اسلام“ اور ” محمد دی آئیڈیل کیریکٹر“ یہ دونوں انگریزی کتابیں بھی غیر مسلم حضرات کو تقسیم کی گئیں۔
پونہ کے سفر سے واپسی کے بعد پونہ کے بعض احباب نے وہاں کے ایک انگریزی اخبار کی کٹنگ بھیجی اس کا ذکر بھی پونہ کے سفر کی مناسبت سے یہاں کیا جاتا ہے۔
راجندر رگل، دلیپ سوتر ، شانتا رام جگتاپ اور منور ہارون شاہ، چاروں دوست انھوں نے اپنی صلاحیت کا استعمال یہ تلاش کیا کہ مجرمانہ کارروائیوں کے ذریعہ رات دن میں کروڑ پتی بن جائیں۔
ان نوجوانوں نے دولت کی حرص میں دس آدمیوں کو قتل کر ڈالا۔ انھوں نے پہلا قتل 15جنوری 1976 کو کیا اور دسواں قتل ۲۳ مارچ 1977 کو۔ اس کے بعد چاروں گرفتار ہوئے ان پر مقدمہ چلا جو سپریم کورٹ تک گیا۔ بالآخر ۲۵ اکتوبر ۱۹۸۳ کو انھیں یرواڈا سنٹرل جیل (پونہ) میں پھانسی دے دی گئی۔
اس واقعہ پر پونہ کے انگریزی اخبار مہاراشٹر ہیرالڈ (۲۵ اکتوبر ۱۹۸۳) نے مفصل با تصویر رپورٹ شائع کی ہے۔ اس میں ڈبلیو ۔ باپت (ایڈیشنل سیشن جج) کا فیصلہ بھی نقل کیا گیا ہے۔ موصوف کے سامنے مجرمین کی طرف سے جو وکالت کی گئی ، اس میں کہا گیا تھا کہ یہ مجرمین چوں کہ کم عمر اور نوجوان ہیں، اس لئے ان کو موت سے کم درجہ کی سزا دی جائے۔ جٹس موصوف نے اس کو رد کرتے ہوئے اپنے جواب میں لکھا:
In my opinion, there is really nothing redeeming about the youth of the accused who never saw any meadows but only graves, never saw any stars but saw only mud and learnt very little about life but which about death and murders. میرے نزدیک، ان مجرمین کی نوعمری اس قابل نہیں کہ انھیں چھوڑ دیا جائے ۔ ان نوجوانوں نے دنیا میں کبھی چراگاہ نہیں دیکھی بلکہ صرف قبرستان دیکھی۔ انھوں نے کبھی تارے نہیں دیکھے بلکہ صرف انھوں نے زندگی سے بہت کم سیکھا، انھوں نے جو سیکھا صرف موت اور قتل کے بارہ میں سیکھا۔ رحم دلی بہت اچھی چیز ہے لیکن جرائم فطرت لوگوں کے ساتھ رحم دلی کی جائے تو وہ ظلم بن اجتماعی زندگی کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ افراد کے اندر ایک دوسرے کے لئے احترام، حسن ظن، فیاضی، اعتراف اور حقوق پہچاننے کا مادہ ہو۔ جو لوگ جارحیت کی حد تک منفی ذہنیت کا شکار ہوں وہ اسی قابل ہیں کہ ان کے اور سماج کے درمیان مستقل جدائی کر دی انھیں ان کے مقام عمل سے ہمیشہ کے لئے ہٹا دیا جائے۔
ایک اور خط ۲۹ مارچ ۱۹۸۴ کا لکھا ہوا موصول ہوا ہے جو یہاں نقل کیا جاتا ہے: مولانا محترم، السلام علیکم! حیدر آباد کے سفر کے بعد سے دہلی آپ کو تین مرتبہ فون کیا لیکن آپ کے سفر میں ہونے کی وجہ سے بات نہ ہوسکی۔ قابل ذکر یہ ہے کہ آپ کا ایک مقالہ جو دسمبر ۱۹۸۳ء بعنوان ”منزل کی طرف“ چھپا تھا۔ اس کو آپ نے آریہ سماج الہ آباد کے ایک جلسہ میں پیش کیا تھا جو سرو دھرم سمیلن کے عنوان سے ۲۲ مئی ۱۹۶۰ کو ہوا تھا۔
یہ مقالہ یہاں پونہ کے کچھ احباب کو بہت پسند آیا۔ جس کا ذکر میں نے آپ سے حیدر آباد کی ملاقات کے وقت بھی کیا تھا۔ اس مقالہ میں دیگر مذاہب کی تعلیمات کے ساتھ اسلام کا تعارف بھی ہے۔ انسانوں کے لئے دعوت بھی۔ اس بنا پر ہم نے مہاراشٹر کی خاص زبان مراٹھی میں اس کا ترجمہ کیا چھپائی کا انتظام بھی معیاری کرنے کا طے ہوا ہے۔ جو انشاء اللہ آپ کے مزاج کے مطابق ہوگا۔ ترجمہ ۱۶ سے ۱۸ صفحہ الرسالہ کی سائز جیسا ہوگا۔ پانچ ہزار کاپی چھاپنا طے کیا گیا ہے۔ جس کا خرچ تقریباً تین ہزار روپیہ آئے گا جو کچھ احباب مل کر اٹھا رہے ہیں۔ اس کی تقسیم اس طرح ہوگی۔ کے ایڈیٹر حضرات، رائٹر، دانشور، تمام مراٹھی لائبریریاں وغیرہ۔ یہ کام پورے مہاراشٹر میں یہ تقسیم ہم پوسٹ کے ذریعہ کرنے والے ہیں۔
مقالہ کا ترجمہ ہو چکا ہے لیکن یہاں کے زبان داں حضرات کے سامنے پڑھنے کا سلسلہ جاری ہے۔ تا کہ ترجمہ کا معیار معلوم ہو سکے۔ آپ کی گراں قدر رائے کا انتظار رہے گا۔ اس طرح کے خطوط مختلف مقامات سے ہم کو موصول ہو رہے ہیں جن میں یہ خواہش ظاہر کی گئی ہے کہ وہ الرسالہ کے کسی مضمون کا یہاں سے چھپے ہوئے کسی کتابچہ کا ترجمہ اپنے علاقہ کی زبان میں کر کے اس کو مقامی طور پر مفت تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں ہمارا خیال ہے کہ مفت تقسیم کرنا زیادہ مفید نہیں۔ زیادہ مفید صورت یہ ہے کہ ملک کے جس خطہ میں کوئی علیحدہ علاقائی زبان رائج ہے، وہاں حسب استطاعت ایک دار الاشاعت قائم کیا جائے اور علاقہ کی زبان میں کتابیں چھاپ کر کم قیمت میں فروخت کیا جائے۔ اسلامی مرکز کی دعوت کو پھیلانے کا ایک اہم ذریعہ بک اسٹال ہے یعنی مختلف اجتماعات کے موقع پر رسالہ اور کتاب کا اسٹال رکھنا۔ اس کے لئے بھی علاقائی زبانوں میں لٹریچر کا ہونا بہت ضروری ہے۔ بک اسٹال ایک پروگرام ہے اور اسی کے ساتھ دعوت کا ایک اہم ذریعہ بھی۔
اسلامی دعوت اور اتحاد مسلمانوں کا اتحاد مسلمانوں کی سب سے بڑی قوت ہے۔ اور اس اتحاد کا سب سے بڑا ذریعہ دعوت الی اللہ ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے دعوت دین کے کام کے لئے چن لیا ہے۔ جو دین ان تک پہنچایا ہے اسی کو انہیں تمام قوموں تک پہنچانا ہے۔ اس ضمن میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ کو مضبوطی سے پکڑ لو۔ یعنی ایک خدا کے گرد سب کے سب متحد ہو جاؤ (ليكون الرسول شهيداً عليكم و تكونوا شهداء علی الناس فاقيموا الصلوة واٰتو الزكوة واعتصموا بالله ، الحج78) دعوت کے حکم کے ذیل میں اتحاد کی تاکید سے ظاہر ہوتا ہے کہ دعوت اور اتحاد میں بہت گہرا باہمی تعلق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوت سے باہمی اتحاد پیدا ہوتا ہے اور باہمی اتحاد سے مسلمان اس قابل ہوتے ہیں کہ دعوت کے کام کو مؤثر طور پر انجام دے سکیں۔
حدیث سے بھی دعوت اور اتحاد کا باہمی تعلق ثابت ہے۔ حضرت مسور بن مخرمہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے پاس آئے اور فرمایا کہ اللہ نے مجھ کو تمام انسانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے تو تم میری طرف سے لوگوں تک پہنچا دو اور آپس میں اختلاف نہ کرو جس طرح حواریوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اختلاف کیا (اخر ج الطبرانی عن المسور بن مخرمة رضی الله عنه قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم على اصحابه فقال إنّ الله بعثنى رحمة للنّاس كافة فناد واعنی ولا تختلفوا كما اختلف الحواريون على عیسی بن مریم)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ بات فرمائی تو صحابہ نے کہا اے خدا کے رسول ، ہم آپ سے کبھی کسی معاملہ میں اختلاف نہ کریں گے۔ آپ ہم کو حکم دیجئے اور ہم کو بھیجئے (يا رسول الله، انّا لا نختلف عليك في شئ ابدأ فمرنا وابعثنا، البدایہ والنہایہ، جلد (۴) صحابہ کو معرفت دین کا جو مرتبہ حاصل تھا اس نے انہیں بتا دیا تھا کہ دعوت الی اللہ کی ذمہ داریاں کیا ہیں اور اس معاملہ میں انہیں کس قسم کا کردار پیش کرنا چاہئے۔
تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں میں اس وقت تک باہمی اتحاد و اتفاق رہا جب تک وہ دعوت الی اللہ کے کام میں مشغول رہے۔ جیسے ہی وہ اس کام سے ہٹے ان کے درمیان ایسا اختلاف اور ٹکڑا اور شرع ہوا جو پھر کبھی ختم نہ ہوا۔ اس کے بعد انھوں نے دعوت الی اللہ کو بھی کھو دیا جو ان کا فرض منصبی تھا۔
اور باہمی اتحاد کو بھی جو اس دنیا میں کسی گروہ کی سب سے بڑی طاقت ہے (الانفال ۴۶) قرنِ اول کی مثال مشہور قول کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ۱۲ ربیع الاول ۱۱ ھ کو ہوئی۔ سے صرف دو ہفتہ پہلے کا واقعہ ہے کہ عین مرض الموت کی حالت میں آپ نے خصوصی اہتمام کے ساتھ مسلمانوں کی ایک فوج تیار کی۔ یہ رومیوں ( باز نطینیوں) سے مقابلہ کے لئے تھی۔ اس فوج میں آپ نے تمام بڑے بڑے صحابہ کو شامل کیا۔ ان کے اوپر اسامہ بن زید بن حارثہ کو سردار بنایا اور ان کو شام کی طرف روانہ کیا جہاں اس سے پہلے موتہ کے مقام پر رومیوں اور مسلمانوں میں جنگ ہوئی تھی۔ اسالہ اسامہ ایک غلام کے لڑکے تھے۔ تاہم وہ اس خاص مہم کی سرداری کے لئے موزوں ترین کیوں کہ اس سے پہلے غزوہ موتہ ( ۸ھ) میں رومیوں نے ان کے والد زید بن حارثہ کو قتل کیا تھا اور اس بنا پر بیٹے کے دل میں اپنے باپ کے قاتلوں سے لڑنے کے لئے آگ لگی ہوئی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اسامہ بن زید اس مہم پر روانہ ہو گئے۔ وہ مدینہ سے ایک فرسخ دور جرف کے مقام پر ٹھہرے۔ یہاں لوگ آ آکر ان کے ساتھ ملنے لگے۔ کہا جاتا ہے کہ جرف وہی مقام ہے جہاں مدینہ کی موجودہ جامعہ اسلامیہ قائم ہے۔
اسامہ بن زید اور ان کا لشکر ابھی جرف ہی میں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر ملی۔ اس کو سن کر ان لوگوں نے اپنا سفر ملتوی کر دیا اور آپ کی تجہیز و تکفین میں شرکت کے لئے مدینہ واپس
اب صحابہ کے اتفاق رائے سے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پہلے خلیفہ مقرر ہوئے۔ خلافت کے بعد مسلمانوں کی عام رائے یہ تھی کہ اسامہ کے لشکر کو مدینہ میں روک لیا جائے۔ کی وفات اور عرب کے اکثر علاقوں میں منافقین کے بڑھتے ہوئے فتنے کی وجہ سے اس وقت ہر طرف غیر یقینی حالت چھائی ہوئی تھی۔ لوگوں کا عام خیال یہ تھا کہ پہلے مدینہ کی نئی اسلامی ریاست کو مضبوط بنایا اس کے بعد باہر کی کسی مہم پر نکلا جائے۔
مگر خلیفہ اول نے عمومی مخالفت کے باوجود اسامہ کے لشکر کی روانگی میں معمولی تاخیر بھی گوارا نہ کی۔ آپ نے فرمایا کہ خدا کی قسم میں اس گرہ کو نہیں کھولوں گا جس کو اللہ کے رسول نے باندھا۔ خواہ چڑیاں ہم کو اچک لیں اور اطراف کے درندے ہم پر ٹوٹ پڑیں ۔ اور خواہ کتے امہات المومنین کے پیروں کو میں ہر حال میں اسامہ کے لشکر کو روانہ کروں گا ( واللہ لا احل عقدة عقد ها
رسول اللہ ۔ ولوان الطیر تخطفتنا والسباع من حول المدینة۔ ولوان الكلاب جرت بارجل امهات المومنین لاجھےزن جیش اسامة)
خلیفہ اول نے اس معاملہ کی انتہائی اہمیت کو لوگوں پر واضح کرنے کے لئے مزید یہ کیا کہ جب لشکر اپنی منزل کی طرف روانہ ہوا تو آپ مدینہ سے جرف تک اس طرح گئے کہ نوجوان اسامہ گھوڑے پر سوار تھے اور خلیفہ اول ان کو نصیحت اور ہدایت دیتے ہوئے ان کے ساتھ پیدل چل رہے تھے۔ اسامہ کے اصرار کے باوجود وہ سواری پر نہیں بیٹھے (فشيع البعثة وهو ماش علی قدميه فقال اسامة یا خلیفة رسول الله، والله لترکبن أولا ننزل ۔ فقال والله لا تنزل والله لا أركب۔ وما علی ان اغبر قدمی فی سبیل
پیغمبر اسلام اور خلیفہ اول کا یہ اقدام نہایت اہم مصلحت پر مبنی تھا۔ یہ مصلحت تھی _ مسلمانوں کے جذبہ جہاد کے لئے عرب کے باہر میدان عمل فراہم کرنا۔ " جہاد حقیقً خارجی دائرہ میں اسلام کی توسیع واشاعت کے لئے جد وجہد کا عنوان ہے۔ لیکن اگر خارجی نشانہ مسلمانوں سے اوجھل ہو جائے تو وہ داخلی لڑائی میں مصروف ہوجاتے ہیں اور اس کو جائز ثابت کرنے کے لئے غلط طور اس کو جہاد کا نام دے دیتے ہیں۔ پیغمبر کی تحریک کے نتیجہ میں عرب کے لوگ جب اسلام لائے تو ان کے اندر زبر دست اسلامی جوش انھوں نے چاہا کہ جس دین کو انھوں نے سب سے بڑی سچائی پا کر اختیار کیا ہے اس دین کو تمام لوگوں کا دین بنا دیں۔ اس جوش کو اپنے اظہار کے لئے کوئی وسیع میدان درکار تھا۔ کے لشکر کی بر وقت روانگی کا مقصد مسلمانوں کے لئے یہی میدان کا فراہم کرنا تھا۔ پیغمبر اسلام نے رومیوں کی جارحیت کو فورا استعمال کیا اور اپنے آخر وقت میں ان کے ساتھ مڈبھیڑ کر کے یہ کیا کہ مسلمانوں کے جوش کو غیر مسلم اقوام میں اسلامی دعوت کی طرف موڑ دیا۔ اس طرح یہ ہو اکو جو طاقت داخلی لڑائیوں میں ضائع ہوتی وہ خارجی عمل میں استعمال ہونے لگی۔ اگر ایسا نہ کیا گیا ہوتا تو عرب کے مسلمان ایک دوسرے کی اصلاح کے نام پر آپس میں لڑنا شروع کر دیتے ۔ جیسا کہ آج کل ہم تمام مسلم ملکوں میں دیکھ رہے ہیں۔ پیغمبر اسلام اگر عین وقت پر مسلمانوں کے جذبہ عمل کو خارج کی طرف نہ موڑتے تو اس کے بعد ان کے درمیان جو داخلی لڑائیاں شروع ہو تیں ان کا انجام صرف یہ نکلتا کہ اسلام کی تاریخ جہاں بننا شروع ہوئی تھی وہیں وہ بننے سے پہلے ختم ہو جاتی ۔ تا تاریخ آج جن شاندار اسلامی کرداروں کے تذکرے سے بھری ہوئی ہے وہ ان کے مرثیہ سے زیادہ اور کچھ نہ ہوتی۔ حقیقت یہ ہے کہ اعلیٰ مقصد میں مشغول ہو نا اعلیٰ کردار
کی سب سے بڑی ضمانت ہے، اور دعوت الی اللہ کے محاذ سے ہٹنے کے بعد مسلمان یہی اعلیٰ ترین چیز کھو دیتے ہیں۔ خلیفہ اول کے زمانہ میں اس عمل کا رخ پہلے رومیوں کی طرف پھیر اگیا تھا۔ جلد ہی بعد فارسیوں (ساسانیوں) کی جارحیت کی بنا پر فارس سے بھی مسلمانوں کا مقابلہ شروع ہو گیا۔ اس طرح مسلمانوں کے لئے اسلامی عمل کا اتنا وسیع میدان ہاتھ آ گیا جو ایشیا سے لے کر افریقہ اور یورپ تک چلا گیا ۔ کیوں کہ اس زمانہ میں یہی دونوں سلطنتیں روم اور فارس، دنیا کے اکثر آباد حصہ پر چھائی ہوئی تھیں۔ رومیوں اور ایرانیوں کی طرف مسلمانوں کا یہ اقدام حقیقتاً کسی سیاسی مقصد یا ملکی توسیع کے لئے نہ تھا، بلکہ تمام تر اسلامی دعوت کے لئے تھا۔ یہ مسلمان اس ربانی جذبہ سے سرشار ہو کر اپنی سرحدوں سے نکلے تھے کہ اللہ کے بندوں کو انسان کی عبادت سے نکال کر خدا کی عبادت کے دائرہ میں لے آئیں (لتحراج عباد اللہ من عبادۃ العباد الی عبادۃ اللہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ روم اور فارس مسلمانوں کے لئے اصلاً دعوت حق کا موضوع تھے۔ مگر ان قوموں کی طرف سے جارحیت کی بنا پر ان کے درمیان ورنہ جن قوموں نے جنگ نہیں کی ان کے درمیان اسلام کسی لڑائی بھڑائی کے بغیر مثلاً حبش، مالدیپ، ملیشیا، انڈونیشیا وغیرہ قدیم غیر مسلم اقوام تک اسلام کی توسیع و اشاعت کا عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے فوراً بعد شروع ہوا۔ تقریباً ۳۰ سال تک وہ پوری کامیابی کے ساتھ جاری رہا۔ اس پوری مدت میں مسلمان متحد اور متفق ہو کر دوسری قوموں میں اسلام کی اشاعت کرتے رہے۔ اسی کا ایک نتیجہ وہ عظیم مسلم جغرافیہ ہے جس کو آج عرب دنیا کہا جاتا ہے۔
عام الجماعت (اتحاد کا سال)
خلیفہ ثالث عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے آخری زمانہ میں یہ تسلسل ٹوٹتا ہے۔ " داخلی جہاد " کے جوش میں اپنے عمل کا رخ باہر سے اندر کی طرف موڑ دیا۔ اصلاح سیاست کے نام پر وہ خود اپنے حکمرانوں سے لڑنے لگے۔ یہ باہمی ٹکراؤ یہاں تک بڑھا کہ مسلمانوں میں سے ایک طبقہ نے اپنے خلیفہ کو قتل کر ڈالا۔
تاہم خلیفہ کے قتل پر بھی سلسلہ ختم نہ ہوا۔ اب خون عثمان کے قصاص کے نام پر مسلمانوں میں دو گروہ اس طرح آپس میں ایسی لڑائیاں شروع ہوئیں جو مسلسل دس سال تک نہایت خوں ریز جنگ کی شکل میں اسلام کی عمومی دعوت کے محاذ سے ہٹنے کا یہ نتیجہ ہوا کہ ایک طرف اسلام کی توسیع و اشاعت کا کام بالکل رک گیا اور دوسری طرف مسلمانوں کی طاقت خود مسلمانوں کے خلاف استعمال ہونے لگی۔
جو مسلمان اسلام کے مقصد کے لئے باہم جڑے ہوئے تھے وہ خود اسلام کے نام پر مختلف اور منتشر ہو کر تقریباً دس سال کے اختلاف اور انتشار کے بعد مسلمان دوبارہ 41ھ میں متحد ہوئے۔ بنا پر اس سال کو اسلامی تاریخ میں عام الجماعت (اتحاد کا سال) کہا جاتا ہے۔ مسلمانوں میں دوبارہ اتحاد کا یہ واقعہ حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے ذریعے پیش آیا جن کی بابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش گوئی کی تھی کہ اللہ ان کے ذریعے سے مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا (ان ابنی ھٰذا سید ولعل اللہ ان يصلح به بين فئتين عظيمتين من المسلمين، رواہ البخاری)
حضرت حسن اپنے والد کے بعد اسلام کے پانچویں خلیفہ مقرر ہوئے تھے۔ مگر انھوں نے دیکھا کہ خلافت کا مسئلہ مسلمانوں کے لئے باہمی جنگ کا سبب بن گیا ہے۔ چنانچہ وہ مسلمانوں کے اختلاف کو ختم کرنے کے لئے یک طرفہ طور پر اپنے حق سے دست بردار ہو گئے۔
اس وقت صورت حال یہ تھی کہ مسلمان دو متارب گروہوں میں بٹے ہوئے تھے۔ ایک کے سردار حضرت حسن تھے اور دوسرے کے سردار حضرت معاویہ۔ حضرت حسن نے حب خلافت کے حق سے دست بردار ہو کر داخلی محاذ کو بند کیا تو اس کے بعد بالکل فطری طور پر یہ ہوا کہ مسلمانوں کی سرگرمیوں کا رخ دوبارہ اسلام کی توسیع و اشاعت کی طرف مڑ گیا۔ اسلام کا بڑھتا ہوا قافلہ جو دس سال سے رکا ہوا تھا، وہ دوبارہ خدا کے دین کی عمومی اشاعت کے میدان میں سرگرم ہو گیا۔ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ۲۰ سالوں ( (40-60ھ) میں اسلام کی اشاعت اتنے بڑے پیمانے پر ہوئی جس کی مثال بعد کی صدیوں میں نہیں ملتی۔ ان کے زمانہ میں اسلام کا قافلہ ایک طرف سمر قند، دوسری طرف افغانستان اور تیسری طرف تیونس تک پہنچ گیا۔ چوتھی طرف مسلمان آبنائے باسفورس کو پار کر کے جزیرہ روڈس پر قابض ہو گئے جو گویا قسطنطنیہ میں داخلہ کا پہلا زینہ تھا۔ اس طرح ان کے عہد خلافت میں مشرق و مغرب اور شمال و جنوب ہر طرف اسلام کی توسیع ہوئی۔ اسلام کا قافلہ خشکی سے گذر کر سمندروں میں سفر کرنے لگا۔ ایک تاریخی سبق معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت پر کچھ لوگوں نے اعتراضات کئے ہیں۔ حتیٰ کہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ معاویہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے اسلام کے اندر ملوکیت کی بنیاد رکھی۔ مگر اس سے قطع نظر، معاویہ رضی اللہ عنہ کے ۲۰ سالہ خلافت کی تاریخ ایک بہت بڑا سبق دیتی ہے۔ وہ سبق یہ ہے مسلمانوں کو اگر کسی طرح باہمی لڑائی سے ہٹایا جاسکے ، خواہ یہ سیاسی ادارہ میں ملوکیت کو برداشت
کرنے کی قیمت پر کیوں نہ ہو، تو اسلام کے حق میں اس کا نتیجہ نہایت مفید شکل میں نکلتا ہے۔ باہمی لڑائی کی صورت میں یہ ہوتا ہے کہ افراد کا جوش اسلامی آپس کی تخریب پر صرف ہونے لگتا ہے۔ لیکن اگر مسلمانوں کو باہمی لڑائی کے محاذ سے ہٹا دیا جائے تو ان کا جوش عمل اسلام کی توسیع و اشاعت کے میدان میں اپنا نکاس ڈھونڈ
مسلمانوں کا دو گروہ بن کر آپس میں لڑنا سراسر حرام ہے۔ تا ہم جب مسلمانوں کو باہمی لڑائی سے بچایا جاتا ہے تو صرف اتنا ہی نہیں ہوتا کہ وہ ایک فعل حرام کے ارتکاب سے بچ جاتے ہیں۔ بلکہ اس کا ایک مثبت فائدہ بھی اپنے آپ حاصل ہوتا ہے۔ مسلمانوں کا جوش اسلامی اس کے بعد کا نہیں رہتا بلکہ وہ اپنے اظہار کے لئے دوسرا میدان اسلام کی توسیع و اشاعت کا میدان تلاش کر لیتا ہے۔ اس طرح یہ ہوتا ہے کہ جو قوت باہمی تخریب میں ضائع ہوتی وہ اسلام کی ترقی اور استحکام میں استعمال ہونے لگتی ہے۔ مزید یہ کہ وہ مدعا بھی اسی سے اپنے آپ حاصل ہو جاتا ہے جس کے لئے وہ ایک دوسرے کے خلاف لڑ رہے یعنی مسلمانوں کی اصلاح اور ان میں اعلیٰ اسلامی صفات کا پیدا ہونا۔
مسلمانوں کا جوش جہاد اگر اسی طرح خارج کی طرف عمل کرتا رہتا جس طرح وہ ابتدائی زمانہ میں عمل کر رہا تھا تو آج دنیا کی تاریخ دوسری ہوتی جس طرح عرب ملکوں کی تاریخ ہمیشہ کے لئے دوسری ہو چکی ہے۔ دعوت کے ذریعہ اتحاد دعوت الی اللہ یا تبلیغ اسلام ہی امت مسلمہ کا منصبی مشن ہے۔ اس مشن سے مراد اصلاً یہ ہے کہ خدا کے دین کو غیر مسلم اقوام تک پہنچایا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو جو مستقل مشن دیا ہے وہ یہی مشن ہے جس کا دوسرا نام شہادت علی الناس ہے (الحج ۷۸)، ختم نبوت کے بعد مسلمان مقام نبوت پر ہیں۔ کو دعوت الی اللہ کا وہ کام انجام دینا ہے جس کے لئے اس سے پہلے رسول آیا کرتے تھے۔ یہ کل جو امت مسلمہ کا اصل مشن ہے، اسی کی ادائیگی سے خدا کی نصرت ان کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور اسی سے امت کے اندر وہ اہم ترین چیز پیدا ہوتی ہے جس کا نام اتحاد اور اتفاق ہے۔ دعوت غیر مسلموں میں اسلام کی اشاعت، ایک ایسا کام ہے جو آدمی کے لئے خارج میں عمل کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ اپنے علی حوصلہ کی تکمیل کے لئے وہ اندر کے بجائے باہر کا میدان کھولتا ہے۔ اس طرح لوگوں کو اپنے جذبہ جہاد یا جوش اسلامی کے استعمال کے لئے اپنی صفوں سے باہر کی دنیا میں نشانہ مل جاتا ہے۔ لوگ داخلی مقابلہ آرائی سے ہٹ کر خارج میں اسلام کی توسیع و اشاعت میں لگ جاتے ہیں۔ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا ، اسلام کی تاریخ اس کا زبر دست ثبوت فراہم کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کی وفات کے بعد ۳۰ سال تک مسلمان خارجی میدان میں اسلام کی توسیع و اشاعت میں مصروف تھے تو ان کی اندرونی صفوں میں مکمل اتحاد قائم رہا۔ حضرت عثمان کے آخری زمانہ میں ”داخلی جہاد“ کا آغاز ہوا تو اس قدر باہمی لڑائیاں پیش آئیں کہ دس سال تک کے لئے اسلام کی توسیع کا عمل رک گیا۔ یہ عمل دوبارہ اس وقت شروع ہوا جب حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی خلافت سے دست برداری کے نتیجہ میں داخلی مقابلہ آرائی ختم ہوئی۔ اب دوبارہ ۲۰ سال تک مسلسل اسلام کی توسیع ہوتی رہی۔ امیر معاویہ کی وفات (۶۰ ھ) کے بعد بنو امیہ اور بنو ہاشم میں ”اصلاح سیاست“ کے عنوان پر ٹکراؤ شروع ہوا تو دوبارہ اسلام کی توسیع کا کام رک گیا جو پھر کبھی پرلے کی طرح جاری نہ ہوسکا۔ اسلام کی تووسیع اور اس کی اشاعت عام کو چھوڑنے کی قیمت مسلمانوں کو یہ دینی پڑ رہی ہے کہ پچھلے ہزار سال سے ان کی طاقتیں آپس کے ٹکراؤ اور اختلاف میں ضائع ہو رہی ہیں، وہ کسی طرح ختم ہونے میں نہیں آتیں۔ یہ داخلی ٹکراؤ اگرچہ بظاہر اسلام کے نام پر ہو رہا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ خدا کی دنیا میں اس سے زیادہ غیر اسلامی کام اور کوئی نہیں۔
دعوت الی اللہ اصلاً اس اسلامی کام کا عنوان ہے جو غیر مسلموں تک خدا کا پیغام پہنچانے کے لئے انجام دیا جاتا ہے (مسلمانوں کے درمیان کام کا اصطلاحی نام اصلاح ہے، انجرات ۱۰) جب آپ غیر مسلم کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کر رہے ہوں تو ایسا نہیں ہو گا کہ آپ اس کے سامنے آمین بالسر یا آمین بالجہر کے مسائل بیان کریں۔ یا ان دوسرے فروعی مسائل کو چھیڑیں جن کے بارہ میں مسلم فرقوں کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ایسے مواقع پر ہر مسلمان یہ کرے گا کہ وہ مخاطب کے سامنے توحید، رسالت، آخرت اور مساوات انسانی جیسی بنیادی تعلیمات پیش کرے گا۔ اسلام کی عمومی دعوت کا کام ایک ایسا کام ہے جو بالکل فطری طور پر بنیادی تعلیمات دین کو بحث و گفتگو کا موضوع بنا دیتا ہے۔
یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ دین کی بنیادی تعلیمات میں کوئی اختلاف نہیں۔ وہ سب کی متفق اس کے برعکس دین کے فروعی (فقہی) احکام میں کافی اختلافات ہیں. اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ جب دعوتی اسلام لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتا ہے تو لازمی طور پر اسلام کے بنیادی پہلو، بالفاظ دیگر متفق علیہ پہلو زیادہ سے زیادہ زیر بحث آتے ہیں۔ اور اس کے فروعی، دوسرے لفظوں میں اختلافی پہلو پس پردہ چلے جاتے ہیں۔
اس طرح قدرتی طور پہ ایسا ہوتا ہے کہ ملت جب دعوتی عمل میں مصروف ہو تو اس کے
اندر اتفاق واتحاد کے اسباب پرورش پاتے ہیں۔ اسلام کے اساسی اور اتفاقی امور لوگوں کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔ اسلام کے فروعی مسائل کو لے کر اٹھتے تو مسلمانوں کے اندر اختلافات جنم لیں گے ۔ کے برعکس اسلام کے بنیادی مسائل کو لے کر اٹھتے تو لوگوں کے ذہن زیادہ سے زیادہ متفق علیہ امور پر کام کریں گے۔ ملت کے اندر اختلاف کی جڑ کٹے گی اور ہر طرف اتحاد کی فضا وجود میں آئے گی ۔ فروعی مسائل اختلاف کا ماحول پیدا کرتے ہیں اور بنیادی مسائل اتفاق کا ماحول۔ انسانوں کے درمیان ہمیشہ اختلافات موجود رہتے ہیں۔ چنانچہ اتحاد جب کبھی وجود میں آتا ہے تو وہ اس طرح وجود میں نہیں آتا کہ لوگوں میں سرے سے کوئی اختلاف باقی نہ رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود متحد ہونے کا نام اتحاد ہے نہ کہ اختلاف کے بغیر متحد ہونے کا۔ " اختلاف کے باوجود متحد ہونا ،، بظاہر ایک لفظ ہے ۔ مگر یہ سب سے بڑی قربانی ہے جو موجودہ دنیا میں کوئی آدمی پیش کرتا ہے۔ اس قربانی کے لئے وہ فیاضی درکار ہے جب کہ آدمی دوسرے کے فائدہ کی خاطر اپنے نقصان کو برداشت کرلے۔ اس کے لئے وہ بلند ہمتی درکار ہے جب کہ ذاتی شکایت کے باوجود وہ دوسرے کے فضل و کمال کا اعتراف کر سکے۔ اس کے لئے وہ بے نفسی درکار ہے جب کہ آدمی دوسرے کے مقابلہ میں اپنے کو چھوٹا ہوتا ہوا دیکھے، پھر بھی وہ منفی نفسیات کا شکار نہ ہو۔ اس کے لئے وہ اعلیٰ ظرفی درکار ہے جب کہ آدمی اپنی رائے کو بطور خود اہم سمجھتے ہوئے دوسرے کی رائے کے مقابلہ میں اس کو واپس لے اس کے لئے وہ حوصلہ درکار ہے جب کہ آدمی دوسرے کو اگلی سیٹ پر بٹھا کر خود پچھلی سیٹ پر بیٹھنے کے لئے راضی ہوجائے۔
اجتماعی اتحاد فرد کی سب سے بڑی قربانی ہے۔ آدمی کسی چیز کو اس وقت چھوڑتا ہے جب کہ اس کو اس سے بڑی کوئی چیز مل جائے۔ دعوت الی اللہ کا مشن یہی سب سے بڑی چیز ہے۔ دعوت و شہادت گویا موجودہ دنیا میں خدا کی نمائندگی ہے۔ آخرت میں سب سے بڑا انعام داعیان حق کے لئے مقدر کیا گیا ظاہر ہے کہ اس سے بڑا کوئی کام اس دنیا میں نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ دعوت میں مصروف ہونے والے لوگ اس عظیم قربانی کے لئے تیار ہو جاتے ہیں جو کسی اور طریقہ سے ممکن نہیں۔ دعوت الی اللہ کا مشن کسی انسان کے لئے سب سے بڑی چیز ہے۔ اس کے مقابلہ میں تمام چیزیں ملت کے موجودہ اختلافات اسی لئے ہیں کہ ملت کے افراد کے سامنے کوئی بڑا مقصد نہیں۔ اگر ان کے سامنے بڑا مقصد آجائے تو وہ خود بخود چھوٹی چھوٹی چیزوں کو چھوڑنے پر راضی ہو جائیں اور بلاشبہ بڑے مقصد کی خاطر چھوٹی چیزوں کو چھوڑنے کے نتیجہ ہی کا دوسرا نام اتحاد ہے۔