استقلال کی اہمیت
Al-Risala, January 1984, pp. 28–30
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک بڑے تاجر کا قول ہے ”کاروبار کو بار بار بدلنا کاروبار میں خود اپنے ہاتھ سے آگ لگانا ہے؛ جب کوئی شخص اپنے کاروبار کو بدلتا ہے تو وہ اپنے آپ کو اپنی سابقہ تاریخ سے کاٹ دیتا ہے۔ جو شخص خود ہی اپنی تاریخ سے اپنے آپ کو کاٹتا رہے اس کے پاس کیا چیز باقی رہے گی جو اس کا سرمایہ بن سکے۔
کاروبار ملازمت کی طرح نہیں کہ ایک مہینہ کام کیا تو پہلی تاریخ کو اس کی تنخواہ مل گئی۔ ایک درخت کی مانند ہے جو سالوں کے بعد اپنے پھل دیتا ہے۔ اب اگر کوئی شخص ایسا کرے کہ ایک درخت لگائے اور سال بھر کے بعد اس کو کاٹ کر دوسرا درخت لگائے اور اگلے سال تیسرا درخت۔ طرح وہ پچیس سال تک کرتا رہے تو پچیس سال کی لمبی مدت گزارنے کے باوجود ایسا آدمی پھل دار درخت کا مالک نہ بن سکے گا۔ ایسے شخص کے لئے اس دنیا میں ہرا بھرا باغ مقدر نہیں۔ کسی شخص کے لئے پھل دار درخت حاصل کرنے کی ایک ہی صورت ہے۔ وہ یہ کہ وہ ایک درخت لگائے۔ اور اسی ایک درخت کو برابر بڑھاتا رہے۔ وہ ایک ہی درخت پر اپنی ساری توجہ لگا دے۔ اس کے بعد جب مدت پوری ہوگی تو اس کا درخت بڑھ کر ایک پورا پھل دار درخت بن جائے گا۔ اسی طرح کاروبار میں بھی آدمی کو یہ کرنا ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر ایک کار و بار شروع کرے اور پھر پوری طرح اس میں لگ جائے۔ وہ کسی حال میں نہ اپنے کاروبار کو چھوڑے اور نہ اس کو اگر اس نے ایسا کیا تو وہ ایک نہ ایک وقت کامیاب ہو کر رہے گا۔ گو بیٹے نے سچ کہا ہے ”جس شخص کے اندر اٹل اور مستحکم ارادہ ہے وہ دنیا کو اپنے سانچے میں ڈھال سکتا ہے۔ آپ اپنے آس پاس کے لوگوں کا مطالعہ کیجئے۔ آپ کو نظر آئے گا کہ کام کرنے والے تو بہت ہیں مگر کامیاب ہونے والے بہت کم۔ اس کی وجہ اکثر حالات میں عدم استقلال ہوتا ہے۔ جو لوگ استقلال کا ثبوت دیتے ہیں وہ کامیاب رہتے ہیں اور جو لوگ استقلال کا ثبوت نہیں دے پاتے وہ ناکام ہو جاتے ہیں۔ استقلال کا نہ ہونا کسی کو پیچھے دھکیل دیتا ہے اور استقلال کا ہونا کسی کو زندگی میں اعلٰیٰ درجات تک لے جاتا ہے۔
کسی مفکر نے سچ کہا ہے کہ ”لوگوں میں طاقت کی اتنی کمی نہیں جتنی مستقل ارادے کی۔ طاقت اور صلاحیت اکثر لوگوں کے پاس ہوتی ہے۔ اور سب لوگ اپنی طاقت اور صلاحیت کو استعمال
بھی کرتے ہیں۔ مگر بڑی کامیابی بہت کم لوگوں کے حصہ میں آتی ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ بڑی کامیابی مستقل ارادہ مانگتی ہے۔ اور یہی وہ امتحان ہے جس میں اکثر لوگ ناکام ثابت ہوتے ہیں۔ کرنے کو تو ہر آدمی کوئی نہ کوئی کام شروع کر دیتا ہے۔ مگر اکثر لوگ زیادہ دیر تک اپنے کام کو جاری نہیں رکھ پاتے۔ اور یہی وہ چیز ہے جو ان کو زندگی میں ناکام بنا دیتی ہے۔
ترقی اور خوش حالی مسلسل آگے بڑھتے رہنے کا دوسرا نام ہے۔ زندگی ایک ایسا مقابلہ ہے جس میں ٹھہر نا بھی گویا پیچھے ہٹنا ہے۔ اور جو شخص ایک بار پیچھے ہو گیا اس کو دوبارہ آگے بڑھنے کے لئے کئی گنا زیادہ محنت کرنی پڑے گی۔ آگے بڑھنا چلنا ہے۔ اور آگے نہ بڑھنا تھک کر بیٹھ جانا۔ رگ وید میں کہا گیا ہے کہ ’’قدم پیچھے نہ ہٹانے والا ہی خوش حالی کو فتح کرتا ہے۔ اس دنیا میں نتیجہ ہمیشہ اس شخص کے حصے میں آتا ہے جو نتیجہ کی پروا کئے بغیر اپنا عمل برابر جاری رکھے۔ جس کی نظر ہر وقت نتیجہ پر ہو وہ بہت جلد مایوس ہو کر بیٹھ جائے گا۔ وہ استقلال کے ساتھ اپنا کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ جس شخص کا یہ حال ہو کہ عمل ہی اس کے لئے لذت بن جائے۔ دیانت داری اور اخلاص کے ساتھ اپنے عمل میں لگا رہنا جس کو کافی نظر آئے وہ مستقل عمل پر قائم رہے گا۔ اور وہی حقیقی معنوں میں کامیاب ہوگا۔ یہی بات ہے جو مہابھارت کے ایک کردار کی زبان سے ان لفظوں میں ادا ہوئی ہے۔ ’’پھل کی خواہش کئے بغیر اپنا عمل کر‘‘ شیلر نے کہا ہے ’’نفسانی خواہشات کا جنون تھوڑی دیر رہتا ہے مگر اس کا پچھتاوا بہت دیر تک‘‘ یہ ایک حقیقت ہے کہ اکثر بڑی بڑی حماقتیں وقتی جذبہ کے تحت ہوتی ہیں۔ جب وقتی جذبہ ختم ہو جاتا ہے تو زندگی بھر آدمی افسوس کرتا رہتا ہے کہ اس نے ایسا کیوں کیا۔ اعتدال کی حالت میں آدمی خود ہی یہ مان لیتا ہے کہ بے اعتدالی کی حالت میں اس نے جو کچھ کیا وہ غلط تھا۔
میری ملاقات ایک وکیل صاحب سے ہوئی ۔ وہ فوج داری کے مقدمات کرتے ہیں۔ بتایا کہ اپنی وفات لوفی پریکٹس کے دوران میرا تعلق بہت سے قاتلوں سے ہوا۔ میں نے پایا کہ ہر قاتل اپنے قاتلانہ فعل پر شرمندہ تھا۔ وکیل صاحب نے کہا کہ قتل ہمیشہ وقتی جذبہ کے تحت ہوتا ہے۔ جوش میں آکر ایک آدمی دوسرے آدمی کو مار ڈالتا ہے۔ اس کے بعد جب اس کو ہوش آتا ہے تو ساری زندگی وہ پچھتاتا رہتا ہے۔ اس کا ضمیر ہمیشہ اس سے یہ کہتا ہے کہ کاش میں نے ایسا نہ کیا قاتل کی بعد کی زندگی ایک ایسی سزا ہوتی ہے جو اس کے ضمیر کی عدالت نے خود اس کے اوپر
نافذ کیا ہو۔
جب بھی آپ پر اس قسم کا جذبہ سوار ہو تو فوری کارروائی سے رک جائیے۔ آپ کا رکنا آپ کی اصلاح بن جائے گا۔ شام کے وقت اگر آپ پر جذبہ طاری ہوا اور آپ کسی طرح اقدام سے بچ کر اپنے کو بستر پر پہنچا دیں تو اگلے دن جب آپ سو کر اٹھیں گے تو آپ کا جذبہ ٹھنڈا پڑ چکا ہوگا۔ آپ کو خود یہ سوچ کر تعجب ہو گا کہ کل آپ کا کیا حال ہو گیا تھا۔
انگریزی زبان میں ایک کہاوت ہے ”انتقام کی پلیٹ ٹھنڈی کر کے کھاؤ،“ آپ کے سامنے کھانا آئے اور وہ زیادہ گرم ہو۔ ایسی حالت میں اگر آپ فوراً اس کو کھانے لگیں تو کیا ہوگا۔ خود آپ کا منہ جل ہر عقلمند آدمی ایسے گرم کھانے کو ٹھنڈا کر کے کھانا پسند کرے گا۔ یہی طریقہ ہم کو روزمرہ کی زندگی میں اختیار کرنا ہے۔ انتقام کی آگ بجھا کر ہم کو لوگوں سے معاملہ کرنا ہے۔ اگر کسی کے اوپر آپ کو غصہ آ جائے تو پہلے اپنے غصہ کو ٹھنڈا کیجئے ۔ اس کے بعد سوچیے کہ آپ کو اپنے فریق کے ساتھ کیا کرنا چاہیے منفی ذہنیت کے ساتھ کوئی شخص نہ صحیح طور پر سوچ سکتا اور نہ صحیح طور پر یہ فیصلہ کر سکتا کہ اسے فی الحقیقت کیا کرنا چاہئے۔
اسی بات کو شکسپیر نے ان لفظوں میں کہا ہے ” اپنے دشمن کے لئے اپنی بھٹی کو اتنا گرم نہ کر کہ وہ خود تجھ کو بھون ڈالے۔ “ ظاہر ہے کہ جنون کی آگ سب سے پہلے آدمی کے اپنے اندر بھڑکتی ہے۔ اپنے اندر تیز آگ بھڑکالے تو دوسرے تک اس کا اثر بعد کو پہنچے گا۔ آدمی اس سے پہلے اپنے آپ کو پھر آپ ایسی حرکت کیوں کریں جس کا نقصان دوسرے تک پہنچنا مشتبہ ہو مگر خود اپنی ذات کو یقینی طور پر اس کا نقصان پہنچنے والا ہو۔ اگر آپ کو اپنے آپ سے محبت ہے تو یہی کافی ہے کہ آپ دوسرے سے نفرت کرنا چھوڑ دیں۔
اس دنیا میں اپنے آپ سے محبت کا راز یہی ہی ہے کہ آدمی دوسروں سے محبت کرے ۔ دوسروں سے نفرت میں مبتلا ہو جائے وہ خود اپنے لئے ہر طرف نفرت کے کانٹے بکھیرے گا ۔ لوگوں کے درمیان خود اپنے لئے سکون کے ساتھ رہنے کو ناممکن بنادے گا۔ نفرت پر اپنی زندگی کی بنیاد رکھنا یہ ثابت کرتا ہے کہ آدمی معتدل حالت میں نہیں ہے ۔ بائرن نے صحیح کہا ہے ” نفرت دل کا پاگل پن ہے ، دماغی پاگل پن یہ ہے کہ آدمی ہوش کھودے۔ دل کا پاگل پن یہ ہے کہ آدمی سنجیدگی اور اعتدال کھودے۔ کوئی شخص دماغی پاگل پن کو پسند نہیں کرتا۔ اسی طرح دل کا پاگل پن بھی اس قابل ہے کہ آدمی اس سے دور رہے۔ - (آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے ۱۲-۱۴ دسمبر ۱۹۸۳ء کو نشر کیاگیا)