Al-Risala · June 1984

عالمی فضا کی تبدیلی

Al-Risala, June 1984, pp. 33–34

By Maulana Wahiduddin Khan

اس سلسلہ میں پہلی بات جس کو جاننا ضروری ہے۔ وہ یہ کہ وہ کون سے حالات ہیں جن کے درمیان ہم کو دعوت حق کا کام انجام دینا ہے۔ مختصر لفظوں میں اس کو اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ ہمارے اسلاف کے لئے دعوت الی اللہ کا مطلب دورِ شرک کو ختم کرنا نہ تھا۔ اب ہمارے لئے دعوت الی اللہ کا مطلب دورِ الحاد کو ختم کرنا ہے۔ ہمارے اسلاف دورِ شرک کو ختم کر کے دورِ توحید لے آئے۔ اس کے بعد دنیا میں ایک نئی تاریخ وجود میں آئی۔ یہ تاریخ ہزار سال تک کامیابی کے ساتھ چلتی رہی۔ یہاں تک کہ سولہویں صدی عیسوی میں مغربی سائنس کا ظہور ہوا۔ اس کے بعد دنیا کی ایک نئی تاریخ بنناشروع ہوئی۔ بیسویں صدی میں اگر چہ تاریخ اپنے کمال پر پہنچ گئی ہے۔ اب دوبارہ یہ حال ہو گیا ہے کہ ظہور ر

اسلام سے پہلے جس طرح فکر و عمل کے تمام شعبوں پر شرک کا غلبہ تھا، اسی طرح اب فکر و عمل کے تمام شعبوں پر الحاد کا غلبہ ہو چکا ہے۔ حتیٰ کہ آج مذہب بھی علمی طور پر الحاد کا ضمیمہ بن چکا ہے۔ اس سے الگ اس کی کوئی مستقل

یہاں ایک لطیفہ قابل ذکر ہے جو موجودہ زمانہ میں مذہب کی صورت کو بہت اچھی طرح واضح کرتا ہے۔ جرمن مفکر ای ۔ ایف شوماخر نے اپنا ایک واقعہ ان الفاظ میں نقل کیا ہے :

On a visit to Leningrad some years ago (August 1968) I con- sulted a map to find out where I was, but I could not make it out. I could see several enormous churches, yet there was no trace of them on my map. When finally an interpreter came to help me, he said: “We don’t show churches on our maps.”

A Guide for the Perplexed, London, 1981, p. 9 اگست ۱۹۶۸ء میں میں روس کے شہر لینن گراڈ گیا۔ وہاں ایک دن میں ایک نقشہ دیکھ رہا تھا تاکہ میں جانوں کہ میں کہاں ہوں۔ مگر میں اس کو جان نہ سکا۔ میری نظروں کے سامنے کئی بڑے بڑے چرچ تھے۔ نقشہ میں ان کا کوئی نشان موجود نہ تھا۔ بالآخر ایک ترجمان نے میری مدد کی۔ اس نے کہا: ”ہم اپنے نقشوں میں چرچ کو نہیں دکھاتے ہیں یہ جزئی واقعہ اس پوری صورت حال کی تصویر ہے جو موجودہ زمانہ میں پیش آئی ہے۔ نے خدا کو اپنے تمام علمی اور فکری نقشوں سے نکال دیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں جغرافیہ، تاریخ، طبیعیات نباتات، حیوانات، فلکیات وغیرہ تمام علوم نہایت تفصیل کے ساتھ مرتب کئے گئے ہیں۔ مگر ان علوم میں کہیں بھی خدا کا ذکر نہیں۔ ایک شخص جس کو نظر حاصل ہو، جب وہ آنکھ اٹھا کر کائنات کو دیکھتا ہے تو ہر طرف اس کو خدا کا نشان نمایاں نظر آتا ہے، مگر مدون علوم میں خدا ہر جگہ ایک غیر موجود چیز ہے۔ علوم کو پڑھنے والا کہیں بھی خدا کا کوئی حوالہ نہیں پاتا۔

ان حالات میں دعوت توحید کا کام گویا خدا کو از سرِ نو فکرِ انسانی کے نقشہ پر لکھنا ہے۔ پر ایک ایسا فکری انقلاب لانا ہے کہ انسان دوبارہ خدائی اصطلاحوں میں سوچنے کے قابل ہو سکے۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ توحید اور آخرت کی بات آدمی کی سمجھ میں آئے اور اس کو وہ حقیقت سمجھ کر قبول کر سکے۔ ہمارے اسلاف نے انسانی فکر کی دنیا میں شاکلہ شرک کو توڑ کر شاکلہ توحید کو قائم کیا تھا۔ اب ہم کو دوبارہ شاکلہ الحاد کو توڑ کر شاکلہ توحید پر انسانی فکر کا نظام قائم کرنا ہے۔ دعوت کے مسئلہ کا اس سے کم تصور دعوتِ کم فکر کی کم تعبیر (Underestimation) ہے جس کی کوئی قیمت نہ بندوں کے نزدیک ہے اور نہ خدا کے نزدیک۔

Printed page