داعی اور مدعو کا تعلق
Al-Risala, June 1984, pp. 35–36
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسرا اہم مسئلہ مسلمانوں اور غیرمسلموں کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ بحال کرنا ہے۔ کی حیثیت سے مسلمان خدا کے دین کے داعی ہیں اور بقیہ تمام قومیں ان کے لئے مدعو کی حیثیت رکھتی ہیں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے سب سے بڑی غلطی یہ کی ہے کہ انھوں نے دوسری قوموں کو اپنا قومی حریف اور مادی رقیب بنا لیا ہے۔ ان قوموں سے وہ ساری دنیا میں معاشی اور سیاسی جھگڑے چھیڑے ہوئے ہیں۔ داعی کا کلمہ لا اَسئلكم عليه من اجر بتایا گیا ہے۔ ایسی حالت میں حقوق طلبی کے یہ تمام ہنگامے اپنی دعوتی حیثیت کی نفی کے ہم معنی ہیں۔
اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ خدا کے یہاں، ہم کو خدا کے گواہ کا مقام حاصل ہو تو ہم کو یہ قربانی دینی ہوگی کہ دوسری اقوام سے ہمارے دنیوی جھگڑے، خواہ وہ بظاہر درست کیوں نہ ہوں، ان کو ہم یک طرفہ طور پر ختم کر دیں تاکہ ہمارے اور دوسری قوموں کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ قائم ہو، ہمارے اور دوسری قوموں کے درمیان وہ معتدل فضا وجود میں آئے جس میں ان کے سامنے توحید اور آخرت کی دعوت پیش کی جائے اور وہ سنجیدگی کے ساتھ اس پر غور کر سکیں۔
صلح حدیبیہ (۶ھ) میں مسلمانوں نے یک طرفہ طور پر مخالفین اسلام کے تمام معاشی اور قومی مطالبات مان لئے تھے۔ انھوں نے اپنے حقوق سے دستبرداری پر خود اپنے ہاتھ سے دستخط کر دئے تھے۔ جب مسلمان یہ معاہدہ کر کے لوٹے تو خدا کی طرف سے یہ آیت اتری ــــــــ انا فتحنا لك فتحاً مبیناً (الفتح) بظاہر شکست کے معاہدہ کو خدا نے فتح کا معاہدہ کیوں کہا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس معاہدہ نے مسلمانوں اور غیرمسلموں کے درمیان مقابلہ کے میدان کو بدل دیا تھا۔ اب اسلام اور غیر اسلام کا مقابلہ ایک ایسے میدان میں منتقل ہو گیا تھا جہاں اسلام واضح طور پر زیادہ بہتر حیثیت (Advantageous position) میں تھا۔
غیرمسلموں کی جارحیت کی وجہ سے اس وقت اسلام اور غیر اسلام کا مقابلہ جنگ کے میدان میں ہو رہا تھا۔ غیرمسلموں کے پاس ہرقسم کے زیادہ بہتر جنگی وسائل تھے یہی وجہ ہے کہ ہجرت کے بعد مسلسل غزوات کے باوجود معاملہ کا فیصلہ نہیں ہو رہا تھا۔ اب حدیبیہ میں غیرمسلموں کے تمام قومی مطالبات مان کر ان سے یہ عہد لے لیا گیا کہ دونوں فریقوں کے درمیان دس سال تک براہ راست یا بالواسطہ کوئی جنگ نہیں ہوگی۔
مسلسل جنگی حالات کی وجہ سے اسلام کا دعوتی کا م رکا ہوا تھا۔ جنگ بند ہوتے ہی دعوت کا کام
پوری قوت کے ساتھ ہونے لگا۔ جنگی میدان میں اس وقت اسلام کمزور تھا۔ مگر جب مقابلہ پر امن تبلیغ کے میدان میں آگیا تو یہاں شرک کے پاس کچھ نہ تھا جس سے وہ توحید کی حقانیت کا مقابلہ کر سکے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ عرب کے قبائل اتنی کثرت سے اسلام میں داخل ہوئے کہ کفر کا زور بالکل ٹوٹ گیا اور معاہدہ کے صرف دو سال کے اندر مکہ فتح ہو گیا۔
موجودہ زمانہ میں بھی اسی طرح کے ایک "معاہدہ حدیبیہ" کی ضرورت ہے۔ قوموں سے ہر جگہ مادی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ مسلمان چونکہ اپنی غفلت کی وجہ سے مادی پہلو سے دوسری قوموں کے مقابلہ میں بہت پیچھے ہو گئے ہیں، وہ ہر محاذ پر ان سے شکست کھا رہے ہیں۔ اب ضرورت ہے کہ ایک طرفہ قربانی کے ذریعے ان محاذوں کو بند کر کے میدانِ مقابلہ کو بدل دیا جائے۔ ان قوموں کو مادی مقابلہ کے میدان سے ہٹا کر فکری مقابلہ کے میدان میں لایا جائے۔ قدیم زمانہ میں میدانِ مقابلہ کی یہ تبدیلی جنگ کو یک طرفہ طور پر ختم کر کے حاصل کی گئی تھی، آج یہ تبدیلی قومی حقوق کی مہم کو یک طرفہ طور پر ختم کر کے حاصل ہوگی۔ قومی مفادات کی یہ قربانی بلا شبہ ایک نہایت مشکل کام ہے مگر اسی کھونے میں پانے کا سارا راز چھپا مسلمان جس دن ایسا کریں گے اسی دن فتحِ اسلام کا آغاز ہو جائے گا۔ کیوں کہ فکری میدان میں کسی اور کے پاس کوئی چیز موجود ہی نہیں۔ مادی مقابلہ کے میدان میں مسلمانوں کے پاس "روایتی ہتھیار" ہیں اور دوسری قوموں کے پاس "جدید ہتھیار"۔ جب کہ فکری میدان میں مسلمانوں کے پاس حقیقت ہے اور دوسری قوموں کے پاس تعصب ، اور حقیقت کے مقابلہ میں تعصب دیر تک ٹھہر نہیں سکتا۔