لٹریچر کی تیاری
Al-Risala, June 1984, pp. 36–29
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ خدا نے قلم کے ذریعہ انسان کو تعلیم دی (علّم بالقلم، العلق) اس سے اسلامی دعوت کے لئے لٹریچر کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔
مگر اسلامی لٹریچر کا مطلب یہ نہیں کہ اسلام کے نام پر کچھ کتابیں لکھی جائیں اور ان کو کسی بھی طرح مختلف زبانوں میں چھاپ کر تقسیم کر دیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی لٹریچر کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں، یہ بشری سطح پر قرآن کا بدل فراہم کرنا ہے۔
خدا نے اپنا کلام عربی زبان میں اتارا ہے۔ مگر اس کی تبلیغ دوسری زبان والوں تک بھی کرنی ہے ، اور جیسا کہ ثابت ہے، مدعو کی اپنی زبان میں کرنی ہے (ابراہيم هم) اس لحاظ سے اگر علم بالقلم کو وقتی نہ سمجھا جائے بلکہ اس کو ابدی پس منظر (Perspective) میں رکھ کر دیکھا جائے تویقینی طور پر انسان بھی اس میں شامل ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ دوسری زبانوں میں تعلیم بالقلم کا فریضہ انسان ہی کو ادا کرنا ہے۔
گویا یہ نا صحیح ہوگا کہ خدا عربی زبان میں معلم بالقلم بنا تھا، اب ہم کو دوسری زبانوں میں معلم بالقلم بنائے۔ مشہور عرب شاعر لبید نے قرآن کو سن کر شاعری چھوڑ دی۔ کسی نے کہا کہ تم اب شاعری کیوں نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا، کیا قرآن کے بعد بھی (باعد القرآن) اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن نے اپنے زمانہ کے افراد کو ذہنی طور پر مفتوح کر لیا تھا۔ اسی طرح آج دوبارہ ایسا اسلامی لٹریچر درکار ہے جو لوگوں کو ذہنی طور پر مفتوح کرلے۔
بظاہر یہ بات ناممکن دکھائی دیتی ہے۔ مگر اس ناممکن کو خود خدا نے ہمارے لئے ممکن بنا دیا ہے۔ خدا نے حق کے داعیوں کی مدد کے لئے انسانی تاریخ میں ایک نیا انقلاب برپا کیا۔ یہاں میری مراد سائنسی انقلاب سے ہے۔ سائنسی انقلاب کے ذریعہ نے استدلالی امکانات انسان کی دسترس میں آگئے۔ حتیٰ کہ بلاشبہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ آج ہمارے لئے یہ ممکن ہو گیا ہے کہ مخاطب کے سامنے دین کے حق میں وہ اعجازی استدلال پیش کر سکیں جو پہلے صرف خدا کے پیغمبروں کی دسترس میں ہوتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ کائنات ایک عظیم الشان خدائی معجزہ ہے۔ وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ اپنے خالق کی ذات وصفات کے حق میں معجزاتی دلیل ہے۔ تاہم قدیم زمانہ میں یہ خدائی معجزہ ابھی تک غیر دریافت شدہ حالت میں پڑا ہوا تھا۔ اس لئے خدا نے قدیم زمانہ میں پیغمبروں کو مخصوص طور پر خارق عادت معجزے دئے۔
مگر پیغمبر اسلام کے مخاطبین کے مسلسل مطالبہ کے با وجود انہیں مذکورہ قسم کا کوئی معجزہ نہیں دکھایا گیا۔ بلکہ قرآن میں کائنات کا حوالہ دیا گیا۔ کہا گیا کہ کائنات میں خدا کی آیات موجود ہیں ان کو دیکھو۔ تمہارے یقین کے لئے کافی ہیں۔ چوں کہ قرآن دور سائنس کے آغاز میں آیا اس لئے قرآن میں کائنات کی نشانیوں کا حوالہ دینا کافی سمجھا گیا۔ ابدی پس منظر میں، قرآن کا مخاطب وہ انسان تھا جو دور سائنس میں جی رہا ہو۔ اور دور سائنس کے انسان کو خدا اور اس کی باتوں پر یقین کرنے کے لئے کسی خارق عادت معجزہ کی ضرورت نہیں۔
معجزہ سے کیا مطلوب ہے۔ معجزہ سے مطلوب محض کوئی حیران کن کرشمہ دکھانا نہیں بلکہ دعوت حق کو مخاطب کے لئے آخری طور پر ثابت شدہ بنانا ہے۔ دعوت کی موافقت میں ایسے دلائل جمع کرنا ہے جس کے بعد مخاطب کے لئے انکار کی گنجائش باقی نہ رہے۔ قدیم زمانہ میں اسی مقصد کے لئے خارق عادت معجزہ دکھایا جاتا تھا۔ موجودہ زمانہ میں یہی کام رموز فطرت کو منکشف کر کے سائنس نے انجام دے واضح ہو کہ قرآن میں پیغمبرانہ معجزوں اور کائناتی نشانیوں کے لئے ایک ہی مشترک لفظ استعمال ہوا
ہے اور وہ آیت (نشانی) ہے۔
خدا کے دین کی دعوت اتمام حجت کی حد تک مطلوب ہے (النساء، ۱۶۵) اسی اتمام حجت کے لئے قدیم زمانہ میں پیغمبروں کے ذریعہ معجزے دکھائے گئے۔ اب سوال یہ ہے کہ آج کی قوموں کے لئے بھی یہی مطلوب ہے کہ دین کی دعوت ان کے سامنے اتمام حجت کی حد تک پیش کی جائے۔ پھر موجودہ زمانہ میں اس کا ذریعہ کیا ہے جب کہ پیغمبروں کی آمد اب ختم ہو چمکی ہے۔
جدید سائنسی انقلاب اسی سوال کا جواب ہے۔ جدید سائنسی انقلاب کے ذریعہ یہ ممکن ہو گیا ہے کہ دین حق کی تعلیمات کو عین اس معیار پر ثابت کیا جاسکے جو انسان کا اپنا تسلیم شدہ معیار ہے۔ سلسلے میں پہلی اہم ترین بات وہ ہے جو طریق استدلال (Methodology) سے تعلق رکھتی ہے۔ سائنس نے مختلف میدانوں میں اپنی تحقیقات کے نتیجہ میں اس بات کاقطعی اقرار کیا ہے کہ استنباطی استدلال (Inferential Argument) اپنی نوعیت کے اعتبار سے اتناہی معقول (Valid) ہے جتنا کہ براہ راست استدلال ۔ یہی قرآن کا طرز استدلال ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں علم انسانی نے قرآن کے طرز استدلال کو عین وہی درجہ دے دیا ہے جو علوم دینیہ سے باہر خود انسان کا تسلیم شدہ طرز
جدید سائنس کا یہ نتیجہ ہوا ہے کہ جو چیز پہلے صرف خارجی اطلاع کی حیثیت رکھتی تھی وہ اب خود انسانی دریافت بن چکی ہے۔ جدید سائنس نے معلوم کیا ہے کہ انسان اپنی محدودیت (Limitations) کی وجہ سے کلی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا۔ اس سے واضح طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسانی رہنمائی کے لئے وحی کی ضرورت ہے۔ جدید سائنس نے معلوم کیا ہے کہ کائنات میں تحکمی نظام (Arbitrary System) ہے اس سے واضح طور پر خدا کا وجود ثابت ہوتا ہے۔ جدید سائنس نے معلوم کیا ہے کہ موجودہ دنیا کے ساتھ ایک اور غیر مرئی متوازی دنیا موجود ہے جس کا سائنسی نام اینٹی ورلڈ (Antiworld) ہے۔ سے واضح طور پر عالم آخرت کا وجود ثابت ہوتا ہے۔ اسی طرح مقناطیسی میدان (Magnetic Field) اور حرکت (Motion) کی یکجائی سے بجلی کی روشنی کا پیدا ہونا ویسا ہی ایک حیرت ناک خدائی معجزہ ہے جیسا ہاتھ کو بغل میں رکھ کر نکالنے سے ہاتھ کا غیر معمولی طور پر چک اٹھنا، بڑے بڑے جہازوں کا اتھاہ سمندروں اور نا قابل عبور فضاؤں میں انسان کو لے کر دوڑنا ویسا ہی دہشت خیز خدائی معجزہ ہے جیسا دریا کا پھٹ کر انسانوں کو پار ہونے کا راستہ دینا۔ مادہ سے متحرک مشینوں کا وجود میں آنا ویسا ہی عجیب خدائی معجزہ ہے جیسا لاٹھی کا سانپ بن کر چلنے لگنا۔
واقعہ یہ ہے کہ قدیم زمانہ میں پیغمبروں کو جو معجزے دئے گئے وہ سب باعتبارِ مواد استدلالِ خدا کی پیدا کی ہوئی کائنات میں وسیع پیمانہ پر موجود ہیں۔ مگر قدیم زمانہ میں چوں کہ وہ انسان کے علم میں نہیں آئے تھے اس لئے خدا نے لوگوں کو خارق عادت معجزے دکھائے۔ آج سائنسی تحقیقات نے فطرت کی یہ نشانیاں کھول دی ہیں اس لئے آج کے انسان کے یقین و ایمان کے لئے وہی کافی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ سائنسی انقلاب خدا کے معجزہ کا ظہور ہے۔ اس کے ذریعہ خدا کی تمام باتیں اعجازی سطح پر ثابت ہو رہی ہیں۔ اگر ان سے گہری واقفیت حاصل کی جائے اور ان کو دعوتِ حق کی حمایت میں استعمال کیا جائے تو یہ دعوت کے ساتھ معجزہ کو جمع کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر آج ہم حقیقی معنوں میں سائنسی دلائل کے ساتھ دین کی دعوت پیش کر سکیں تو زمین پر دوبارہ یہ واقعہ ظہور میں آئے گاکہ وقت کا لبید یہ کہہ دے کہ کیا حقیقت کے اس طرح ثابت ہو جانے کے بعد بھی۔ سائنسی استدلال موجودہ زمانہ میں معجزاتی استدلال کا بدل ہے۔ جدید سائنس نے تمام دینی تعلیمات کو علمی طور پر ثابت شدہ یا کم از کم قابل فہم (Understandable) بنا دیا ہے۔ تاہم اسلام کے داعیوں نے ابھی تک اس کو واقعی معنوں میں استعمال نہیں کیا۔ راقم الحروف نے اس موضوع پر دس سالہ مطالعہ کے بعد ۱۹۶۴ء میں ایک کتاب (مذہب اور جدید چیلنج) لکھی تھی جو عربی زبان میں الاسلام یتحدی کے نام سے شائع ہو چکی ہے، تاہم پچھلے 20سال میں علم کا دریا بہت آگے جا چکا ہے۔ چنانچہ اب میں اس موضوع پر انشاء اللہ دوسری جامع تر کتاب تیار کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں جس کا انگریزی نام God Arises وبیّد اللہ التوفیق۔