Al-Risala · June 1984

موافق امکانات

Al-Risala, June 1984, pp. 29–44

By Maulana Wahiduddin Khan

دعوتِ دین کا کام انتہائی مشکل کام ہے۔ مگر اللہ نے اپنی خصوصی رحمت سے اس کو ہمارے لئے آسان بنا دیا ہے۔ اس مقصد کے لئے اللہ تعالی نے انسانی تاریخ میں ایسی تبدیلیاں کیں جس نے ہمارے لئے نئے مواقع کھول دئے۔ موجودہ زمانہ میں یہ تاریخ یعنی عمل اپنی آخری حد کو پہنچ گیا ہے۔ حتی کہ اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ جو کام پہلے ’’ خون ‘‘ کے ذریعے کرنا پڑتا تھا، اس کو اب قلم کی سیاہی کے ذریعہ انجام دیا جا سکے۔

اس عمل تیسیر کے تین خاص پہلو ہیں جن کی طرف قرآن میں اشارے کئے گئے ہیں۔

قرآن میں اہل ایمان کو یہ دعا تلقین کی گئی کہ ربنا ولا تحمل علینا اصراً كما حملته على الذین من قبلنا (خدایا ، ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو تو نے پچھلی امتوں پر ڈالا تھا )۔

اگر الفاظ بدل کر اس آیت کی تفسیر کی جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دعوت توحید کا جو کام پچھلے داعیوں کو پابندی رائے کے ماحول میں کرنا پڑتا تھا ، اس کو ہمیں آزادی رائے کے ماحول میں کرنے کا موقع عطا فرما۔ پہلے زمانہ میں یہ صورت حال تھی کہ توحید کا اعلان کرنے والے کو پتھر مارے جاتے۔ اس کو آگ میں ڈال دیا جاتا۔ اس کے جسم کو آرے سے چیر دیا جاتا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پہلے زمانہ میں حکومت کی بنیاد شرک پر قائم تھی۔ پچھلے زمانہ کے بادشاہ مفروضہ دیوتاؤں کے نمائندہ بن کر حکومت کرتے تھے۔ اس لئے جب کوئی شخص شرک کو بے بنیاد قرار دیتا تو اس زمانہ کے بادشاہوں کو محسوس ہوتا کہ وہ نظریاتی بنیاد ختم ہو رہی ہے جس پر انھوں نے اپنی حکومت کو قائم کر رکھا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ جو انقلاب آیا اس نے شرک کی اجتماعی حیثیت کو ختم کر کے اس کو ایک ذاتی عقیدہ بنا دیا۔ اب شرک الگ ہو گیا اور سیاسی ادارہ الگ ۔ اس طرح وہ دور ختم ہو گیا جب کہ شرک لوگوں کے لئے اعلان توحید کی راہ میں رکاوٹ بن سکے۔ یہی وہ بات ہے جو قرآن میں ان الفاظ میں آئی ہے۔ و قاتلوهم حتى لا تكون فتنة ويكون الدين كله لله اس سلسلے میں دوسری بات یہ ہے کہ اسلام نے جب توہم پرستی اور شخصی تقدس کا خاتمہ کیا تو نسلی بادشاہت کی بنیادیں بھی ہل گئیں۔ چنانچہ انسانی تاریخ میں ایک نیا دور شروع ہوا جو بالآخر یورپ پہنچ کر جمہوریت (Democracy) کی صورت میں مکمل ہوا۔ اس کے بعد شخصی حاکمیت کے بجائے عوامی حاکمیت کا اصول دنیا میں رائج ہوا اور آزادی رائے کو ہر آدمی کا مقدس حق تسلیم کر لیا گیا۔ فکری انقلاب نے داعیان حق کے لئے یہ عظیم امکان کھول دیا کہ وہ غیر ضروری رکاوٹوں سے بے خوف ہو کر ساری دنیا میں حق کے اعلان کا کام انجام دے سکیں۔

قرآن میں یہ اعلان کیا گیا کہ سنريهم آياتنا فى الآفاق وفي انفسهم حتى يتبين لهم انہ الحق (ہم عنقریب آفاق میں اور انفس میں ایسی نشانیاں دکھائیں گے جس سے کھل جائے کہ یہ سراسر حق ہے) قرآن کی اس آیت میں اس انقلاب کی طرف اشارہ ہے جس کو جدید سائنسی انقلاب کہا

کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ خدا کی دلیل ہے۔ تمام مخلوقات اپنے خالق کی صفات کا اظہار کر رہی ہیں۔ گویا کائنات قرآن کی دلیل ہے۔ تاہم یہ دلیل سائنسی انقلاب سے پہلے بڑی حد تک غیر دریافت شدہ حالت میں پڑی ہوئی تھی۔ اس دریافت کے لئے ضروری تھا کہ چیزوں کی گہرائی کے ساتھ

تحقیق کی جائے۔ مگر شرک کا عقیدہ اس تحقیق کی راہ میں حائل تھا۔ مشرک انسان کائنات کے مظاہر کو پرستش کی چیز سمجھے ہوئے تھا۔ پھر وہ اس کو تحقیق کی چیز کیسے بناتا۔

توحید کے عمومی انقلاب نے اس رکاوٹ کو ختم کر دیا۔ اسلامی انقلاب کے بعد کائنات کے تقدس کا ذہن ختم ہو گیا ۔ اب کائنات کے مظاہر پر آزادانہ غور و فکر شروع ہو گیا۔ یہ کام صدیوں تک عالمی سطح پر جاری رہا یہاں تک کہ بالاخر وہ یورپ پہنچا۔ یورپ میں اس کو موزوں زمین ملی۔ اس نے تیزی سے ترقی کی۔ یہاں وہ عظیم فکری انقلاب ظہور میں آیا جس کو موجودہ زمانہ میں سائنسی انقلاب کہا جاتا ہے۔

سائنسی تحقیق کے ذریعے کائنات کے جو حقائق معلوم ہوئے ہیں وہ قرآن کی دعوت کو قطعیات کی سطح پر ثابت کر رہے ہیں۔ اس کی تفصیل راقم الحروف نے اپنی کتاب مذہب اور جدید چیلنج (الاسلام یتحدی) میں کی ہے۔ جو لوگ زیادہ تفصیل کے خواہشمند ہوں وہ اس کتاب میں ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں تیسری چیز وہ ہے جس کی طرف قرآن کی اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔ عسی ان يبعثك ربك مقاما محمودا (قریب ہے کہ اللہ تم کو ایک مقام محمود پر کھڑا کرے) محمود کے معنی ہیں ”تعریف کیا ہوا“ تعریف دراصل تسلیم و اعتراف کی آخری صورت ہے۔ ماننے والا جب اس کو ماننے کی آخری حد پر پہنچتا ہے تو وہ اس کی تعریف کرنے لگتا ہے۔ اس اعتبار سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی اسکیم یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلیم شدہ نبوت کے مقام پر کھڑا کرے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں بھی محمود تھے اور آخرت میں بھی محمود۔ شفاعت کبریٰ جس کا ذکر حدیث میں ہے وہ آخرت میں آپ کا مقام محمود ہے اور آپ کا تاریخی طور پر مسلم اور معترف ہونا دنیا میں آپ کا

خدا کی طرف سے ہر دور میں اور ہر قوم میں پیغمبر آئے۔ یہ سب سچے پیغمبر تھے۔ ان سب کا پیغام بھی مگر مختلف اسباب سے ان پیغمبروں کو تاریخی حیثیت حاصل نہ ہو سکی۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق آج کے انسان کے لئے ان پیغمبروں کی حیثیت نزاعی نبوت کی ہے نہ کہ مسلم نبوت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت تاریخی طور پر ایک ثابت شدہ نبوت ہے۔ جب کہ دوسرے نبیوں کی نبوت تاریخی طور پر ثابت اس بنا پر آج یہ ممکن ہو گیا ہے کہ تسلیم شدہ (Established) نبوت کی سطح پر دین کی دعوت دے سکیں ۔ جب کہ اس سے پہلے، ہمیشہ تنازعہ (Controversial) نبوت کی سطح پر دین کی دعوت دینی پڑتی تھی۔

ڈاکٹر فر نشی کا نٹ چٹوپادھیائے دلاسلامی نام: محمد عزیز الدین)، ہندوستان کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندو وہ انیسویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں حیدر آباد میں پیدا ہوئے۔ ڈاکٹر چھٹو پادھیائے کو حق کی تلاش ہوئی۔ اس غرض سے انھوں نے ہندی، انگریزی، جرمن، فرانسیسی وغیرہ زبانیں انھوں نے تمام مذاہب کا مطالعہ کیا۔ مگر وہ کسی پر مطمئن نہ ہو سکے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے پایا کہ یہ تمام مذاہب تاریخی معیار پر ثابت نہیں ہوتے۔ پھر کس طرح ان کی واقعیت پر یقین کیا جائے اور ان کو مستند سمجھا جائے۔

آخر میں انھوں نے اسلام کا مطالعہ کیا۔ وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اسلام کی تعلیمات آج بھی اپنی اصل صورت میں پوری طرح محفوظ ہیں۔ اسلام کی شخصیات مکمل طور پر تاریخی شخصیات ہیں نہ کہ دیو مالائی وہ لکھتے ہیں کہ میں نے پایا کہ پیغمبرِ اسلام کی زندگی میں کوئی چیز مبہم اور دھندلی نہیں۔ پر اسرار یا دیو مالائی ہے، جیسا کہ مثال کے طور پر، زرتشت اور شری کرشن کے یہاں، حتی کہ بدھ اور مسیح کے یہاں ہے۔ دیگر پیغمبروں کے وجود تک کے بارہ میں اہلِ علم نے شبہ کیا ہے۔ حتی کہ انکار کیا ہے مگر جہاں تک میں جانتا ہوں ، پیغمبرِ اسلام کے بارہ میں کوئی یہ جرأت نہ کر سکا کہ ان کو توہماتی عقیدہ یا پریوں کی کہانی کہہ سکے۔

اس کے بعد ڈاکٹر فرنشیکانت چھٹو پادھیائے کہتے ہیں :

Oh, what a relief to find, after all, a truly historical Prophet to believe in. اُف ، کیسا عجیب تسکین کا سامان ہے کہ بالآخر آدمی واقعی معنوں میں ایک تاریخی پیغمبر کو پالے جس پر وہ

یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں مقام محمود ( الاسرار (۹) کہا گیا ہے۔ نبوت تاریخی ہی کا دوسرا نام نبوتِ محمودی ہے۔ پیغمبرِ آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کو مقامِ محمود پر کھڑا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ دوسرے پیغمبروں کی طرح، تاریخی طور پر کوئی نا معلوم شخصیت یا غیر ثابت شدہ شخصیت نہیں ہوں گے، بلکہ آپ تمام انسانوں کے لئے پوری طرح ایک معلوم اور مسلّم شخصیت ہوں گے۔ آپ کی سیرت بھی ایک محفوظ سیرت ہوگی اور آپ کی تعلیم بھی ایک محفوظ تعلیم۔

یہ داعیانِ اسلام کے لئے موجودہ زمانہ میں بہت بڑا (Advantage) ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دعوت کے میدان میں وہ بلا مقابلہ کامیابی حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔

انسان پیدائشی طور پر اپنی فطرت میں خدا کی طلب لے کر پیدا ہوتا ہے۔ چنانچہ اس کو سچائی کی تلاش وہ انسانی علوم میں اپنی طلب کا جواب دریافت کرنا چاہتا ہے مگر وہ دریافت نہیں کر پاتا۔ مذاہب کا مطالعہ کرتا ہے تو پاتا ہے کہ موجودہ تمام مذاہب تاریخی پہلو سے غیر محفوظ ہیں۔ ان کو تاریخی اعتباریت (Historical credibility) کا درجہ حاصل نہیں۔ یہاں ہم اس پوزیشن میں ہیں کہ انسان سے کہہ سکیں کہ تم جس چیز کی تلاش میں ہو وہ محفوظ اور مستند حالت میں ہمارے یہاں موجود ہے۔ دوسروں کے پاس صرف غیر تاریخی پیغمبر ہیں جن کو وہ دنیا کے سامنے پیش کریں۔ مگر اسلام کا پیغمبر مکمل طور پر ایک تاریخی پیغمبر ہے۔ تاریخ کے مسلم معیار کے مطابق آپ کے بارہ میں کسی قسم کا شک کرنے کی دوسروں کے پاس متنازعہ نبوت ہے اور اسلام کے پاس مسلمہ نبوت۔

یہ اللہ تعالی کی انتہائی عظیم نعمت ہے۔ اس نے ممکن بنا دیا ہے کہ خدا کے دین کی دعوت آج مسلمہ نبوت کی سطح پر دی جائے، جب کہ اس سے پہلے وہ صرف تنازعہ نبوت کی سطح پر دی جا سکتی تھی۔ مخالفانہ عمل کو ختم کرنا موجودہ زمانہ میں اسلامی دعوت کا کام دراصل جدید اقوام پر اتمام حجت کے ہم معنی ہے۔ عظیم الشان کام ہے۔ جس کے لئے عظیم الشان وسائل اور غیر معمولی موافق حالات درکار ہیں۔ یہ وسائل اور حالات مسلم ملکوں میں یقینی طور پر مل سکتے ہیں۔ مگر وہ اسی وقت مل سکتے ہیں جب کہ مسلم حکومتوں کو اسلامی دعوت کا حریف نہ بنایا جائے۔

۱۸۹۱ء کا واقعہ ہے کہ جاپان کے شہنشاہ (مچی ۱۳ - ۱۸۶۸ء) کا ایک خط ترکی کے سلطان عبد الحمید ثانی کو ملا۔ اس خط میں سلطان سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ مسلم مبلغین کو جاپان بھیجے تاکہ وہ وہاں کے لوگوں کو اسلام سے واقف کرائیں۔ سلطان عبد الحمید نے اس اہم کام کے لئے سید جمال الدین افغانی کا انتخاب کیا اور ان کو ہر طرح کے سرکاری تعاون کا یقین دلایا۔

مگر یہی سید جمال الدین افغانی جن کو سلطان عبد الحمید نے اس قدر احترام اور تعاون کا مستحق سمجھا تھا، بعد کو اسی سلطان نے سید جمال الدین افغانی کو جیل میں بند کر دیا۔ حتی کہ جیل خانہ ہی میں ان کا انتقال اس کی وجہ یہ تھی کہ سلطان کو معلوم ہوا کہ سید جمال الدین افغانی اس کے خلاف سیاسی سازش میں جمال الدین افغانی سلطان کو مغربی استعمار کا ایجنٹ سمجھتے تھے اور اس کو تخت سے بے دخل کر دینا جو شخص جاپان میں اسلام کی تاریخ کا آغاز کرنے والا بن سکتا تھا وہ صرف جیل کے رجسٹر میں اپنے نام کا اضافہ کر کے رہ گیا۔

یہی تمام مسلم حکمرانوں کا حال ہے۔ اگر آپ اسلامی دعوت کے کام میں مشغول ہوں تو وہ ہر طرح کا اعلیٰ ترین تعاون آپ کو دیں گے۔ لیکن اگر آپ ان کے خلاف سیاسی مہم چلائیں تو وہ آپ کو برداشت کرنے کے لئے تیار

بدقسمتی سے موجودہ زمانہ میں مسلسل سید جمال الدین افغانی کے اسوہ کو دہرایا جا رہا ہے۔ کہیں ایک عنوان سے اور کہیں دوسرے عنوان سے، اپنے حکم رانوں کے خلاف سیاسی لڑائی میں مشغول ہیں۔ حتی کہ آج '' اسلامی دعوت '' کا لفظ مسلم حکمرانوں کے لئے سیاسی اپوزیشن کے ہم معنی بن کر رہ گیا ہے۔ اس کی وجہ سے نہ صرف یہ نقصان ہوا ہے کہ اسلامی دعوت کی مہم میں مسلم حکومتوں کا بھر پور تعاون حاصل نہیں ہو رہا ہے۔ بلکہ اگر کوئی شخص حکومت سے بے نیاز ہو کر ذاتی طور پر اس ذمہ داری کو ادا کرنا چاہے تو حکومت اس کو شبہ کی نظر سے دیکھنے لگتی ہے اور اس کی راہ میں رکاوٹیں ڈالتی ہے۔ ضرورت ہے کہ مسلم حکم رانوں سے سیاسی منازعت کو مکمل طور پرختم کر دیا جائے، خواہ وہ اسلام کے نام پر ہو یا کسی اور نام پر۔ تاکہ ہر مسلم ملک میں اسلامی کارکنوں کو ان کی قومی حکومتوں کا تعاون حاصل ہو اور اسلام کے احیاء کا کام بڑے پیمانے پر شروع کیا جا سکے، غیر مسلموں میں اسلام کا پیغام پہنچانے کے لئے بھی اور خود مسلمانوں کی اپنی تعمیر واصلاح کے لئے بھی۔

Printed page