افراد کار کی فراہمی
Al-Risala, June 1984, pp. 44–47
By Maulana Wahiduddin Khan
دعوت اسلامی کی ذمہ داری کو ادا کر نے اور موجودہ مواقع کو استعمال کرنے کے لئے افراد کار کی ضرورت قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ مسلمانوں میں سے کچھ منتخب لوگ مخصوص تربیت کے ذریعہ اس مقصد کے لئے تیار کئے جائیں۔ وہ دین میں تفقه حاصل کرکے مختلف قوموں میں جائیں اور ان کو توحید کی تعلیم دیں اور آخرت سے آگاہ کریں (فلولا نفر من كل فرقة منهم طائفة ليتفقهوا في الدين ولينذروا قومهم اذا رجعوا اليهم، التوبه ۱۲۲)
آج دنیا میں مسلمانوں کے بے شمار مدر سے اور تعلیم کے ادارے ہیں مگر ساری دنیا میں کوئی ایک مدرسہ بھی خاص اس مقصد کے لئے موجود نہیں جہاں خالص دعوتی ضرورت کے تحت لوگوں کی تعلیم و تربیت کی جائے تاکہ وہ وقت کی ضرورت کے مطابق تیار ہو کر موثر انداز میں لوگوں کے اوپر دعوت الی اللہ اور انذار آخرت کا کام کریں۔ آج کی ناگزیر ضرورت ہے کہ ایسی ایک تعلیم گاہ قائم کی جائے اور اس کو معیار کے مطابق بنانے کے لئے ہر وہ قیمت ادا کی جائے جو موجودہ حالات میں
افراد کار کے سلسلے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان کو صرف "باعلم" نہیں بلکہ "بامقصد" ہونا مقصد کے بغیر علم صرف معلومات ہے۔ مگر علم جب مقصد کے ساتھ ہو تو وہ معرفت بن جاتا ہے۔ ایسی تعلیم گاہ قائم ہو جہاں ڈگری یافتہ اساتذہ کے ذریعے لوگوں کو قدیم و جدید علوم پڑھا دئے جائیں تو صرف اس بنا پر وہ مطلوبہ داعی نہیں بن جائیں گے۔ ضروری ہے کہ ان کے سینہ میں مقصد کی آگ لگی ہوئی ہو۔ کیوں کہ مقصد ہی لوگوں کے اندر وہ اعلیٰ فکر اور اعلیٰ کردار پیدا کرتا ہے جس کے ذریعے وہ دعوت کے میدان میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کر سکیں۔
خواہ کوئی دنیوی مقصد ہو یا دینی مقصد، دونوں ہی کے لئے ایسے افراد درکار ہیں جو ایک اعلیٰ مقصد کی خاطر ہر قسم کی ضروری قربانی دے سکیں۔
ٹائمس (The Times) لندن کا ایک قدیم اخبار ہے۔ اس اخبار میں 1900 میں ایک اشتہار اس اشتہار کے ساتھ نہ عورتوں کی تصویریں تھیں نہ کسی قسم کے بناوٹی تماشے۔ اس میں ایک چھوٹے سے چوکھٹے میں حسب ذیل الفاظ درج تھے۔ ایک جوکھم کے سفر کے لئے آدمی درکار ہیں۔ سخت سردی، مکمل تاریکی کے لمبے مہینے، مسلسل خطرہ، محفوظ واپسی مشتبہ۔ کامیابی کی صورت میں عزت اور اعتراف :
Men wanted for Hazardous Journey. Small wages, bitter cold, long months of complete darkness, constant danger, safe return doubtful. Honour and recognition in case of success. -Sir Ernest Shackleton یہ اشتہار قطب جنوبی کی مہم کے لئے تھا۔ اس کے جواب میں اتنی زیادہ درخواستیں آئیں کہ ذمہ داروں کو ان میں سے انتخاب کرنا پڑا۔ اسی قسم کے بلند ہمت لوگ تھے جو مغرب میں سائنسی انقلاب لائے اور اہل مغرب کے لئے عالمی قیادت کی راہ ہموار کی۔
مذکورہ بالا مثال ایک دنیوی مثال تھی۔ یہی معاملہ ان لوگوں کا بھی ہے جنہوں نے اسلام کی تاریخ بیعت عقبہ ثانیہ کے موقع پر انصار مدینہ کے نمائندہ افراد سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو اس کی نمایاں مثال پیش کرتی ہے۔ یہاں ہم سیرہ ابن ہشام کا ایک حصہ نقل کرتے ہیں : قال كعب ثم خرجنا الى الحج وواعدنا رسول الله صلى الله عليه وسلم من وسط ايام التشريق فلما فرغنا من الحج وكانت الليلة التى واعدنا رسول الله صلى الله عليه وسلم وكنا نكتم من معنا من قومنا من المشركين امرنا ... قال فنمنا تلك الليلة مع قومنا في رحالنا حتى اذا - مضى ثلث الليل خرجنا من رحالنا لميعاد رسول الله صلى الله عليه وسلم نتسلل تسلل القطا
مستخفين حتی اجتمعنا في الشعب عند العقبة ونحن ثلاثۃ وسبعون رجلا و معنا امراتان من نسائنا ۴۹ قال ابن اسحاق وحدثنی عاصم بن عمر بن قتادة ان القوم لما اجتمعوا لبيعة رسول الله صلی الله عليه وسلم قال العباس بن عبادة بن نضلة الانصاري يا معشر الخزرج هل تدرون علا م تبايعونہ هذا الرجل قالوا نعم قال انكم تبايعون علی حرب الاحمر والاسود من الناس فان كنتم ترون انكم اذا نهكت اموالكم مصيبة واشرافكم قتل اسلمتموه فمن الآن فهو والله ان فعلتم. خزى الدنيا والآخرة وان كنتم ترون انكم وافون له بمادعوتموه اليه علی مصيبة الاموال وقتل الاشراف فخذ وه فهو والله خير الدنيا والآخرة قالوا فانا ناخذه علی مصيبة الاموال وقتل الاشراف فما لنابذلك يا رسول الله ! ان نحن و فينا قال الجنة قالوا ابسط يدك فبسط يده.
سیرۃ النبی لابی محمد عبدالملک بن هشام الجز الثانی ۔
اسی قسم کے با شعور اور با ہمت اصحاب تھے جنہوں نے تاریخ میں شرک کے تسلسل کو ختم کیا اور انسانی تاریخ کے رخ کو بدل دیا۔ آج دوبارہ تاریخ کو وہی حرکت دینے کی ضرورت ہے جو ہمارے اسلاف نے اپنے زمانہ میں دیا تھا۔ انہوں نے شرک کا دور ختم کر کے توحید کا دور شروع کیا۔ اب ہم کو الحاد کا دور ختم کر کے دوبارہ توحید کا دور انسانی تاریخ میں لانا ہے۔ یہ ایک بہت اعلیٰ کام ہے۔ اور اس کے لئے اعلیٰ افراد انتہائی طور پر ضروری ہیں۔ ضرورت ہے کہ ایک ایسا ادارہ قائم کیا جائے جہاں تعلیم و تربیت کے ذریعہ ایسے افراد تیار کئے جائیں۔ ڈاکٹر فلپ ۔ کے کہی کے الفاظ میں ، آج اسلام کو دوبارہ ایک ہیروئوں کی نرسری (Nursery of heroes) درکار ہے۔ اس کے بغیر یہ اہم کام انجام نہیں پاسکتا۔ مذکورہ درس گاہ گویا اسی قسم کی ایک نرسری ہوگی جہاں دعوت اسلامی کے ہیرو تیار کئے جائیں۔ دعوتی مرکز کا قیام او پر میں نے ڈاکٹر نشی کانت چٹوپادھیا( اسلامی نام محمد عزیز الدین) کا ذکر کیا ہے۔ اپنے ۱۹۰۴ء کے لکچر میں قدیم حیدر آباد میں کہا تھا :
I feel sure, that if a comprehensive Islamic mission were started in Hyderabad (India) to preach the simple and sublime truths of Islam to the people of Europe, America and Japan, there would be such rapid and enormous accession to its ranks as has not been witnessed again ever since the first centuries of the Hejira. Will you, therefore, organise a grand central Islamic Mission here in Hyderabad and open branches in Europe, America and in Japan? Why have I Accepted Islam, Dr Nishikanta Chattopadhya.
مجھ کو یقین ہے کہ اگر حیدر آباد میں ایک مکمل اسلامی مشن شروع کیا جائے جس کا مقصد اسلام کی صاف اور سادہ سچائیوں کی تبلیغ ہو اور اس کو یورپ، امریکہ اور جاپان کے لوگوں تک پہنچایا جائے تو اسلام اتنی تیز اور عظیم سطح سے نفوذ کرے گا جس کی مثال پہلی صدی ہجری کے بعد دوبارہ نہیں دیکھی گئی۔ کیا آپ لوگ اسلامی مشن کا ایک عظیم مرکز حیدر آباد (ہندوستان) میں بنائیں گے جس کی شاخیں یورپ امریکہ اور جاپان میں ہوں واضح ہو کہ حیدر آباد کا لفظ یہاں محض اتفاقی ہے۔ اس سے مراد کوئی بھی مناسب شہر ہے نہ کہ صرف حیدر آباد)
ایک سعید مسلم روح نے ۸۰ سال پہلے یہ بات کہی تھی۔ مگر بدقسمتی سے ابھی تک یہ واقعہ نہ بن سکی۔ سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ ایک ایسا عظیم دعوتی مرکز قائم کیا جائے جو تمام جدید وسائل سے لیس ہو۔ ہر قسم کے ضروری دعوتی اور تربیتی شعبے قائم ہوں۔ اور اسی کے ساتھ وہ ہر قسم کی سیاست اور ہر قسم کے قومی جھگڑوں سے الگ ہو کر کام کرے۔ ایک اعلیٰ دعوتی مرکز کے ساتھ اگر یہ چیزیں جمع کر دی جائیں تو یقینی ہے کہ اسلام کی وہ نئی تاریخ دوبارہ بنناشروع ہو جائے گی جس کا ہم مدت سے انتظار کر رہے ہیں مگر وہ ابھی تک ظہور میں نہ آسکی۔
نوٹ : یہ مقالہ (عربی زبان میں) الجامعۃ الاسلامیہ (مدینہ منورہ) کے قاعۃ الکبریٰ میں ۲ مارچ ۱۹۸۴ کو پڑھ کر سنایا گیا۔