بے معنی الفاظ
Al-Risala, July 1984, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک شخص نے غیر مادی حقیقتوں کی مادی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے " فکر و ادراک ایک مرکب ہے جو فارمک ایسڈ (Formic Acid) کے مشابہ ہوتا ہے ۔ اور قوت مدرکہ فاسفورس کے تابع ہوتی ہے۔ اور نیکی، سچائی اور بہادری دراصل انسانی اعضاء کی برقی لہریں ہیں"۔ یہ جملہ قواعد زبان کے لحاظ سے بالکل درست ہے۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے بے معنی الفاظ کے مجموعہ کے سوا اور کچھ نہیں۔
اگر غیر مادی حقیقتیں صرف مادی تعامل کا نتیجہ ہیں جیسا کہ اوپر کے فقرہ میں ظاہر کیا گیا ہے تو انسان کے لئے کیوں کر ایسا ممکن نہ ہو سکا کہ وہ اپنی تجربہ گاہ میں ان مظاہر کو پیدا کر سکتا۔ فارمک ایسڈ کے استعمال پر انسان کو پوری طرح اختیار حاصل ہے۔ پھر کیوں ایسا ممکن نہ ہو تاکہ فارمک ایسڈ کے مخصوص استعمال سے وہ فکر انسانی جیسی چیز پیدا کرلیتا۔ اسی طرح فاسفورس ایک ایسی چیز ہے جس پر انسان کو پورا قبضہ حاصل ہے۔ پھر وہ فاسفورس پر عمل کر کے قوت مدرکہ کو کیوں نہیں پیدا
یہی معاملہ برقی لہروں کا ہے۔ آج انسان کو برقی لہروں پر پورا کنٹرول حاصل ہو چکا ہے۔ ایسا ممکن نہ ہوا کہ برقی لہروں کے کسی خاص استعمال سے وہ چیز پیدا کرلی جاتی جس کو نیکی، سچائی اور بہادری کہا جاتا ہے۔
آدمی جب کسی بات کو نہ ماننا چاہے تو وہ ایسے الفاظ بولتا ہے جو اگر چہ ڈکشنری میں لکھے ہوئے ہیں مگر اس کی زبان سے نکلے ہوئے مجموعہ میں وہ اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔
ظہور اسلام غیر مجلد ۲۵ روپے " مجلد ۳۰ روپے مذہب اور سائنس چھ روپے حقیقت کی تلاش تین روپے