Seven men, and the eighth God
Al-Risala, July 1984, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
بظاہر یہ جملہ، معمولی فرق کے ساتھ، قرآن کی اس آیت کا ترجمہ معلوم ہوتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تم میں سے پانچ آدمی جہاں ہوتے ہیں وہاں چھٹا خدا ہوتا ہے (المجادلہ) پھر کیا ڈاکہ کی بات انھیں معنوں میں ہے جن معنوں میں وہ قرآن میں آئی ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ دونوں کے درمیان - لفظی مشابہت کے سوا کوئی اور چیز مشترک نہیں۔
ڈاکو نے کس معنی میں یہ بات کہی، وہ خود مذکورہ انٹرویو میں موجود ہے۔ اس نے کہا کہ ہم لوگ ڈاکو کے ذریعے جو کچھ حاصل کرتے ہیں اس کو ہم اپنی ٹولی کے درمیان بانٹتے ہیں۔ مثال کے طور پر میری ٹولی میں سات افراد ہیں تو ہم لوٹے ہوئے مال کے آٹھ حصے بناتے ہیں۔ سات حصے اپنے افراد کے لئے، اور ایک حصہ خدا کے لیے۔ خدا کا جو حصہ ہے اس کو ہم کسی غریب کو دیدیتے ہیں۔ آمدنی کا ایک حصہ مذہب کے نام پر خدا کو دینا یہ تمام ڈاکوؤں کا طریقہ ہے۔
قرآن کا خدا خوف پیدا کرتا ہے اور ڈاکوؤں کا خدا بے خوفی۔ خدا اس لئے تھا کہ وہ آدمی کو ڈاکو بازی سے روکے۔ مگر ڈاکوؤں نے خدا کا حصہ لگا کر اس کو اپنے ڈاکو کا چوکیدار بنا لیا۔ جب وہ سات مل کر ڈاکو ڈالیں تو خدا ان کا آٹھواں بن کر ان کی حفاظت کے لئے موجود رہے۔