Al-Risala · July 1984

اقامت دین

Al-Risala, July 1984, pp. 22–25

By Maulana Wahiduddin Khan

سورہ انعام میں حضرت ابراہیم، اسحاق، یعقوب، نوح، داؤد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ، ہارون، زکریا، عیسیٰ، یحییٰ، الیاس، اسماعیل، الیسع، یونس، لوط علیہم السلام کا ذکر ہے۔ فرمایا گیا ہے کہ ان تمام پیغمبروں کو ہم نے عالم پر فضیلت دی اور ان کو ہدایت بخشی۔ اس کے بعد ارشاد ہوا ہے: اولئك الذين هدى الله فبهدهم اقتداء (الانعام 90) دوسری جگہ بتایا گیا ہے کہ ایک ہی میثاق نبوت ہے جو حضرت محمد، نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ اور تمام پیغمبروں سے لیا گیا۔ یہ میثاق اس بات کا تھا کہ لوگوں کے سامنے حقیقت آخرت کو پوری طرح کھول دیا جائے تاکہ کوئی شخص بھی آنے والے نازک مرحلہ حیات سے بے خبر نہ پھر جو کوئی تصدیق کرے وہ اپنی تصدیق کا ابدی انعام پائے اور جو منکر بن رہے وہ اپنے انکار کی ابدی سزا بھگتے۔ احزاب8-7) 7 - اس سے معلوم ہوا کہ ایک ہی مشترک پیغمبرانہ مشن ہے جس کے لئے ہر نبی کو کام کرنا ہے۔ اب اگر گہرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہر نبی کے یہاں کچھ چیزیں مشترک ہیں اور کچھ چیزیں غیر مشترک۔ حضرت ابراہیم کا اپنے بیٹے کو ذبح کرنا، حضرت نوح کا کشتی بنانا۔ حضرت موسیٰ کا ید بیضا کا معجزہ دکھانا۔ حضرت سلیمان کا ہوا میں اڑنا۔ حضرت یوسف کا مسائل قحط کو حل کرنا۔ حضرت یحییٰ کا قتل ہو جانا۔ کا مردہ کو زندہ کرنا۔ ان میں سے ہر چیز ہر نبی کے یہاں الگ الگ ہے۔ کوئی نبی اس میں ایک دوسرے کے ساتھ مشترک نہیں ہے۔ انہی غیر مشترک چیزوں میں حکومت کا قیام بھی ہے۔ کیوں کہ وہ بعض پیغمبروں کے یہاں پایا جاتا ہے مگر اکثر کے یہاں نہیں پایا جاتا۔

اب اگر فبہدهم اقتده کا مطلب یہ لیا جائے کہ ایک پیغمبر دوسرے پیغمبروں کی تمام چیزوں کا اتباع کرے تو یہ نہ تو ممکن ہے اور نہ کسی پیغمبر نے کیا۔ حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو نبی کامل ہیں۔ بھی نہیں کیا۔ مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیٹے کو ذبح نہیں کیا۔ آپ نے جنوں کو مسخر کر کے ان سے کام نہیں لیا۔ آپ نے ید بیضا کا معجزہ نہیں دکھایا۔ آپ نے مردوں کو زندہ نہیں کیا۔ وغیرہ اسی طرح دوسرے نبیوں میں بیشتر وہ ہیں جنھوں نے جہاد بمعنی جنگ نہیں کیا۔ اور حکومت قائم نہیں کی۔ اس سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ ان آیات میں اتباع سے مراد مشترک امور میں اتباع ہے نہ کہ غیر مشترک امور میں اتباع۔

ہدایت اور میثاق کا تعلق جب تمام نبیوں کے ساتھ یکساں ہے تو لامحالہ ہدایت اور میثاق کا ایسا

مفہوم لینا پڑے گا جو تمام نبیوں کے درمیان مشترک ہو، جو تمام پیغمبروں پر یکساں طور پر صادق آتا ہو نہ کہ کسی ایک پیغمبر پر۔ اس اصول کی روشنی میں جب نبوت اور کارِ نبوت کا مشترک پہلو تلاش کیا جائے تو وہ ایک ہی نکلتا ہے۔ اعلانِ آخرت، ایک ایک فرد پر یہ کوشش کر ناکه وه دنیا میں ربانی بن کر ورنہ آخرت میں اس کو ابدی عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہی ایک بات ہے جو تمام نبیوں کے درمیان مشترک ہے۔ اب اگر آدمی اس ایک بات کو اپنی زندگی میں بخوبی طور پر پکڑے اور دوسروں کو اس کی طرف بلائے تو یہ اقامتِ دین ہے اور اگر وہ اس ایک بات کے سوا کسی اور بات کو اشو بنا کر اس پر تحریک چلانے لگے تو یہ تفرق فی الدین (الشوری ۱۳)

اس مشترک دین کے سوا جو چیزیں پیغمبروں کی زندگی میں ایک دوسرے سے مختلف ملتی ہیں وہ اضافی حیثیت رکھتی ہیں نہ کہ حقیقی۔ یعنی وہ دوسرے تقاضوں کے تحت کسی پیغمبر کی زندگی میں شامل ہوتی ہیں نہ کہ اس کے اصلی مشن کے تحت۔

حکومت والے پہلو کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ تمام نبیوں کا مقصد حکومتِ الہیہ کا قائم کرنا تھا۔ کچھ انبیاء کوشش کے درجہ میں رہ گئے اور کچھ آخری کا میابی کے درجہ تک پہنچے۔ تو یہ بات واقعہ کے مطابق

مثال کے طور پر حضرت موسیٰ کو لیجئے ۔ اس انقلابی نظریہ کے دعویدار یہ کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ کا مشن مصر میں سیاسی انقلاب برپا کرنا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ حکومتِ وقت کا تختہ الٹ دیں اور ملک کے حکمراں طبقہ کو سر زمین مصر کی فرماں روائی سے بے دخل کر کے ملک کے اقتدار پر قبضہ کریں اور پھر وہاں کے نظام کو بدل کر نئی بنیادوں پر سیاسی و معاشی و تمدنی انقلاب بر پا کریں ۔ مگر یہ بات سراسر غلط قرار پاتی ہے۔ کیوں کہ اگر حضرت موسیٰ کا مقصد یہی تھا تو فرعون اور اس کے لشکر کی غرقابی کے بعد مصر میں آپ کے لئے میدان صاف ہو چکا تھا اور وہاں حضرت موسیٰ اپنی قیادت و فرماں روائی کی غیر معمولی قابلیت ، کو کام میں لا کر مطلوبہ سیاسی نظام قائم کر سکتے تھے۔ مگر اس کے برعکس یہ ہوا کہ حضرت موسیٰ مردہ فرعون کے ملک کو چھوڑ کر صحرائے سینا میں چلے گئے ۔ حضرت ابراہیم کا عراق چھوڑ کر جانا اگر اس لئے تھا کہ وہاں آپ کے لئے مواقع حکومت نہیں تھے تو حضرت موسیٰ کیوں مصر کو چھوڑ کر چلے گئے جہاں آپ کے لئے مکمل طور پر مواقع حکومت پیدا ہو چکے تھے۔

حقیقت یہ ہے کہ نبوت کے مشن کی یہ تعبیر سراسر بے بنیاد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ قرآن سے کسی طرح ثابت نہیں ہوتی۔

الرساله (اردو) ۱۹۷۶ میں نکلنا شروع ہوا تھا۔ اس کا انگریزی ایڈیشن فروری ۱۹۸۴ سے نکل رہا ہے اور ہر ماہ پابندی کے ساتھ خریداروں کے پاس پہنچ رہا ہے۔ الرسالہ کے ایک خریدار مسٹر جیت سنگھ لانہ کے خط کا عکس مقابل کے صفحہ پر شائع کیا جارہا ہے، یہ ان بہت سے خطوں میں سے ایک ہے جو برابر ہم کو مختلف حلقوں کی طرف سے موصول ہو رہے ہیں۔

مسلم دنیا میں بہت سے انگریزی رسالے اور اخبارات شائع ہورہے ہیں۔ بظاہر ان کے نام مختلف تاہم اگر مضامین کے اعتبار سے ان کا کوئی ایک مشترک نام رکھنا ہو تو وہ پروٹسٹ (احتجاج) ہوگا۔ جرائد کو دیکھنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے گویا ان کے پاس اپنے مفروضہ دشمنوں کے خلاف شکایت اور احتجاج کے سوا کوئی اور لکھنے کی چیز نہیں۔ انھوں نے نہ خدا کو پایا جس کی وہ کبریا ئی بیان کریں۔ ان کو نہ جہنم کی لپٹیں محسوس ہوئیں جس کی وہ دنیا کو خبر دیں۔ ان کو نہ جنت کے کسی جھونے کا تجربہ ہوا جس کو وہ خدا کے بندوں ان کو بس ایک ہی چیز معلوم ہے۔ اور وہ مسلمانوں کے قومی مسائل ہیں اور وہ انہیں کو دہراتے

مسلمانوں کے جرائد ساری دنیا میں ایک قسم کا احتجاج نامہ بن کر رہ گئے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک عام انسان کو اس میں پڑھنے کی کوئی چیز ملتی ہی نہیں۔ عام انسان جو اپنی فطرت کے زور پر سچائی کی تلاش میں ہے اس کو مسلمانوں کی قومی چیخ پکار سے کیا تعلق۔ نتیجہ یہ ہے کہ بظاہر اگرچہ مسلمانوں کے بہت سے انگریزی جرائد ساری دنیا میں نکل رہے ہیں مگر دین حق کے تعارف کے اعتبار سے ان کی کوئی افادیت نہیں۔ الرساله (انگریزی) مسلم دنیا میں غالباً پہلا رسالہ ہے جو لوگوں کے سامنے اسلام کا مثبت تعارف پیش کرتا ہے جو احتجاج اور شکایت سے بلند ہو کر انسان کو برتر سچائیوں کی طرف بلاتا ہے۔ جو انسان کی ابدی فطرت کا ترجمان ہے نہ کہ کسی قوم کے وقتی مسائل کا ترجمان۔

ایسے ایک پرچہ کا وجود میں آنا آپ پر ز دست ذمہ داری ڈالتا ہے۔ وہ یہ کہ آپ اس کے ساتھ آپ اس کی ایجنسی لیں۔ آپ لوگوں کو اس کا خریدار بنائیں۔ اس کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لئے آپ اپنی ساری طاقت لگا دیں۔

منیجر الرساله (انگریزی)

S. S. LAMBA

K-123, Kirti Nagar Respected Maulana Saheb, I am enclosing herewith a Cheque No. B-945694 of today's date for Rs. 36/- on account of yearly subscription of Al-Risala Monthly. I am regularly receiving the copies of Al-Risala and have greatly benefited from your articles. Your remarkable contributions which have been undoubtediy added to my existing knowledge about Islam and the Holy Prophet, are really praiseworthy. I congratulate you for your positive steps and contributions in bringing out Al-Risala in English which, I am sure, will be read by the people all over With respectful regards, (S. S. Lamba)

Maulana Waheed-ud-din Khan Saheb, C-29, Nizamuddin West, Encl: As above.

Printed page