ایک سفر
Al-Risala, July 1984, pp. 36–28
By Maulana Wahiduddin Khan
۲۹ فروری ۱۹۸۴ کی صبح کو میں دہلی کی مسجد کی اذان پر فجر کی نماز کے لئے اٹھا تھا۔ اگلے دن یکم مارچ کی صبح کو میں مدینہ منورہ کے موذن کی اذان پر فجر کی نماز کے لئے اٹھا اور مسجد نبوی کے امام کے پیچھے بین اقوامی جماعت“ میں شریک ہو کر فجر کی نماز ادا کی۔
ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ راتوں رات طے ہونے کا واقعہ بظاہر اتنا ہی عجیب ہے جتنا چودہ سو سال پہلے سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصیٰ کا واقعہ لوگوں کو عجیب معلوم ہوا تھا۔ مگر آج کا انسان چونکہ تیز رفتار کاروں اور ہوائی جہازوں کے زمانہ میں ہے اس لئے ایسی خبر سن کر آدمی کے اوپر حیرانگی طاری نہیں ہوتی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ چودہ سو سال پہلے ’’اسراء‘‘ کا واقعہ بھی اتنا ہی غیر عجیب تھا جتنا موجودہ زمانہ کا واقعہ۔ آج کا اسراء جس نظام اسباب کے تحت ہوتا ہے وہ چونکہ انسان کے سامنے کھلا ہوا ہے اس لئے اس پر انسان کو حیرانی نہیں ہوتی۔ مگر چودہ سو سال پہلے کا ’’اسراء‘‘جس جس نظام اسباب کے تحت ہوا تھا وہ انسان کی نظروں سے اوجھل تھا اس لئے انسان اس کو سمجھ نہ سکا۔ قیامت میں اس دوسرے نظام (خدائی نظام) سے پردہ ہٹ جائے گا۔ اس وقت انسان جان لے گا کہ اسرار خداوندی بھی اسی طرح عین ممکن تھا جس طرح آج اسرار مشینی بالکل ممکن نظر آتا ہے۔ ”بیل گاڑی“ کے دور میں انسان کے لئے ”هوائی جہاز“ ایک ناقابل یقین چیز تھی۔ اس وقت ہوائی جہاز مستقبل کے پردہ میں چھپا ہوا تھا۔ اسی طرح موجودہ زندگی میں ابھی آخرت کا دور انسان کی نظروں سے چھپا ہوا ہے۔ پردہ ہٹنے کے بعد عالم غیب کی باتیں بھی آدمی کے لئے اسی طرح قابل فہم بن جائیں گی جس طرح عالم شہود کی باتیں آج قابل فہم بنی ہوئی ہیں۔
مدینہ کی موجودہ مسجد نبوی غیر معمولی پر وسیع اور عظیم ہے۔ میں اس کے سامنے کھڑا ہوا تو اس کی عظمت میرے لئے خدائی عظمت کی علامت بن گئی۔ میرا دل بھر آیا اور بے اختیار زبان سے نکلا کہ خدایا تو ہم پر رحم فرما اور ہم کو بخش دے۔ اگر تو رحم نہ کرے اور مغفرت نہ فرمائے تو یقیناً ہم گھاٹا اٹھانے والوں میں ہوکر رہ جائیں گے۔ (روبن لم ترحمنا وتغفر لنا لنكونن من الخاسرين)
میرا یہ سفر بڑے عجیب حالات میں ہوا۔ سفر سے صرف چند دن پہلے معلوم ہوا کہ میرے پاسپورٹ کی مدت ۶ مارچ کو ختم ہو رہی ہے۔ مزید یہ کہ پاسپورٹ پر ایف لکھا ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ یعنی اب اس کی تجدید نہیں ہوگی۔ بلکہ حسب قاعدہ دوسرا پاسپورٹ از سر نو بنوانا ہوگا۔
اس کے علاوہ سفر میں چند چیزیں ساتھ لے جانی تھیں جواب تک تیار نہ تھیں۔ مثلاً انگریزی الرسالہ (مارچ ۱۹۸۴ء) انگریزی میں تعارفی سٹ، مرکز کا تعارف نامہ وغیرہ۔ صرف چند دن کے اندر یہ سارے کام ہو جانا ضروری تھا۔ سعودی عرب ایئر لائنز نے دو ٹکٹ دیئے، ایک میرے لئے اور ایک مولانا ہاشم القاسمی ۲۹ فروری کی صبح کے لئے ریزرویشن بھی کرا لیا گیا۔ مگر ۲۸ فروری آگئی اور ابھی تک کام پورا نہیں یقین نہیں تھا کہ میرا سفر ہو سکے گا۔
۲۸ فروری کی صبح کو میں نے اپنے لڑکے ثانی اثنین کو کاموں کی فہرست دے کر گھر کے روانہ کیا۔ ثانی اثنین کی سمجھ میں بھی نہیں آ رہا تھا کہ اتنا سب کام صرف ایک دن میں کس طرح انجام پائے گا۔ رات کو واپس آکر ثانی اثنین نے بتایا کہ میں نظام الدین سے روانہ ہوا تو اجمیری گیٹ تک مجھ کو تمام چورا ہوں پر گرین پہلی بار بالکل غیر معمولی طور پر ایسا ہوا کہ کسی ایک جگہ رکے بغیر میں سیدھا اجمیری گیٹ پہنچ گیا۔ واقعہ سے میری ہمت بندھی، مجھے یقین ہو گیا کہ ہمارے ساتھ اللہ کی مدد شامل ہے۔ اور ضرور تمام کام ہو جائے گا۔ چنانچہ رات تک حیرت انگیز طور پر سارا کام مکمل ہو چکا تھا۔ ایک ہفتہ کا کام صرف ایک دن میں مکمل ہو گیا اور میں حسب پروگرام ۲۹ فروری کو صبح ۱۰ بجے سعودی ایئر لائنز کی فلائٹ سے مدینہ کے لئے روانہ
غیر یقینی صورت حال کی وجہ سے میرے پروگرام کی قطعی اطلاع الجامعۃ الاسلامیہ (مدینہ) کو نہیں دی جا سکی تھی۔ میری روانگی کے بعد ۲۹ فروری کی دوپہر کو جامعہ کے نام دہلی سے ٹیلکس کیا گیا جب کہ اسی دن شام کو میں مدینہ پہنچنے والا تھا۔ ظہران اور ریاض ہوتا ہوا مدینہ ایئر پورٹ پر پہنچا تو جامعہ کا نمائندہ وہاں معاونت کے لئے موجود تھا۔ موجودہ زمانہ میں مواصلات کی ترقی نے انسان کے لئے کس قدر آسانیاں پیدا کر دی ہیں۔ اس کے باوجود انسان خدا کا شکر ادا نہیں کرتا۔
مدینہ ایئر پورٹ سے ہم الجامعۃ الاسلامیہ کے نمائندہ کے ساتھ چلے۔ یہاں تک کہ ہم لوگ فندق النخیل میں پہنچادئے گئے۔ یہاں ہمارا قیام کمرہ نمبر ۹۰۱ اور ۹۰۲ میں تھا۔ اگلے دن ہم الجامعۃ الاسلامیہ لے جائے وہاں رئیس الجامعۃ دکتور عبد اللہ صالح العبید اور دوسرے ذمہ داروں سے ملاقات ہوئی۔ لوگ ملاقات کے وقت دعائیں بہت دیتے ہیں۔ یرحکم اللہ،، یحییکم اللہ جیسے کلمات کی فضا میں ملاقاتیں ہوئیں۔ رئیس الجامعۃ بار بار فرصة طيبة ، فرصتہ طلبہ کہتے رہے۔ ذمہ داروں کے مشورے کے بعد محاضرات کا پرو گرام ترتیب دیا گیا۔ اس سلسلے میں ذمہ داروں کی طرف سے اخبار میں بھی اعلان شائع کر دیا گیا۔ جامعہ سے شائع کردہ سرکلر کا عکس مقابل صفحہ پر دیا جا رہا ہے۔
بسم الله الرحمن الرحيم الجامعة الاسلامية بالمدينة المنورة عمادة شئون الطلاب الشيخ وحيد الدين خان بمنسوبى الجامعة تستضيف الجامعة المفكر الاسلامى المعروف الشيخ وحيد الدين خان .. وتنظم له عدة لقاءات مع منسوبى الجامعة كالآتى :- موضوع المحاضرة | المكان | الوقت | اليوم والتاريخ الاسلام والانسان المعاصر | قاعة المحاضرات | بعد المغرب | الأحد ١٤٠٤/٦/٢ مسجد الجامعة الاسلام والمشاكل العصرية قاعة المحاضرات التضامن والدعوة الاسلامية صالة الـدور امكانيات جديدة للدعوة الثالث بمجمع ب الاسلامية قاعة المحاضرات حوار مفتوح والدعوة عامة للجميع .