Al-Risala · July 1984

عميد شئون الطلاب

Al-Risala, July 1984, pp. 28–21

By Maulana Wahiduddin Khan

د . احمد بن سعد حمدان الغامدی

مدینہ کا یہ سفر الجامعۃ الاسلامیہ (مدینہ منورہ) کی دعوت پر ہوا۔ جمادی الاول ۱۴۰۴ھ میں جامعہ میں المؤتمر الثانی للدعوۃ الاسلامیہ کا اجلاس ہوا۔ جس میں دنیا کے مختلف حصوں سے دعاۃ اور اہل علم بلائے گئے مجھے بھی اس موتمر میں شرکت کی دعوت دی گئی مطبوعہ پروگرام میں میرا نام شامل کیا جا چکا تھا۔ وقت میں بعض اسباب کی بنا پر سفر نہ کرسکا۔ تاہم جامعہ مجھ کو بلانا چاہتی تھی۔ چنانچہ اس کے بعد انھوں نے ایک ہفتہ کا مستقل پروگرام بنایا جس میں جامعہ کے طلبہ اور اساتذہ سے ملاقاتیں تھیں اور ہر روز شام کو جامعہ میں میرا ایک محاضرہ (لچکر) رکھا گیا تھا۔ اس پروگرام کے تحت یہ سفر ہوا۔ مولانا محمد ہاشم القاسمی کے ہمراہ یکم مارچ کو مدینہ پہنچا۔

ظہران کے ہوائی اڈہ پر جہاز اتراتو اعلان کیا گیا کہ تمام مسافر، خواہ وہ ظہران سے آگے جارہے ہوں یہاں اتریں اور کسٹم پر جاکر معائنہ کرائیں۔ اس قسم کی غیر معمولی چیکنگ ان سیاسی مجاہدین کی نادانیوں کی قیمت ہے جو وہ اسلام کے نام پر موجودہ زمانہ میں کر رہے ہیں۔ اسلام انسانوں کے لئے رحمت بن کر آیا تھا مگر اسلام کے نادان دوستوں نے اس کو انسانوں کے لئے زحمت بنا دیا ہے۔ ظہران کے ہوائی اڈہ پر ہماری کتابیں اور کاغذات کسٹم والوں نے بے رحمی کے ساتھ نکال کر بکھیر دئے۔ ان کو ہر لٹریچر پر با عیانہ لٹریچر کا شبہ ہوتا ہے۔ اتنے میں شیخ محمد یونس نجرا می آگئے جو یہاں مراقب المطبوعات ہیں ، وہ مجھ کو جانتے تھے۔ انھوں نے اسٹاف کے لوگوں سے کہا کہ ہومن کبار علماء الہند۔ اس کے بعد انھوں نے ہم کو چھوڑ دیا۔

۲ مارچ کو جامعہ کے بڑے ہال میں پہلا محاضرہ تھا۔ اصل محاضرہ عربی میں تھا اور اس کا موضوع تھا: التضامن والدعوۃ الاسلامیۃ۔ وسیع ہال بھرا ہوا تھا۔ ابتدائی کارروائی کے بعد میں نے مقالے کے چند صفحات پڑھے اور پھر یہ کہہ کر اس کو مولانا صفی احمد صاحب کو دے دیا اور انھوں نے بقیہ صفحات پڑھ کر مقالہ کو مکمل کیا۔ سیوالي القرأة انشاء الله اخي الفاضل صفى احمد نيابة عني وبيدا الله التوفيق ۳ مارچ کو جامعہ کی مسجد میں پروگرام تھا۔ یہ مسجد بہت بڑے ہال کی مانند ہے اور انتہائی سادہ ہوتے کے باوجود انتہائی شاندار ہے۔ یہ دوسرا محاضرہ انگریزی میں تھا۔ میں نے اصل انگریزی محاضرہ کا کچھ حصہ بطور خلاصہ پڑھا اور اس کے بعد کہا:

هذه خلاصة مقالتي وسيلقيها مفصلة باللغة العربية فضيلة الاستاذ محی الدین العربی محی الدین عربی ایک مصری عالم ہیں۔ انھوں نے پہلے سے میرے انگریزی مقالہ کا عربی ترجمہ تیار کر رکھا تھا ۔

انھوں نے مکمل ترجمہ خالص عربی لہجہ میں پڑھ کر سنایا۔

۴ مارچ کو دوبارہ جامعہ کے بڑے ہال (قاعۃ المحاضرات) میں پروگرام تھا۔ محاضرہ کا عنوان تھا: امکانات جدیدۃ للدعوۃ۔ یہ مقالہ عربی میں تھا۔ میں نے خود پورا مقالہ پڑھ کر سنایا۔ بعد کو لوگوں نے کہا کہ آپ کے پڑھنے کا طریقہ بہت اچھا تھا۔ اور آئندہ آپ کو اپنا مقالہ خود ہی پڑھنا چاہیے خواہ وہ عربی میں ہو یا انگریزی میں۔

اس کے بعد تین دن کا وقفہ تھا۔ اگلا پروگرام ۱۱ مارچ کو دن میں ہوا۔ اصل مقالہ انگریزی میں تھا۔ میں نے ابتدائیہ کچھ کلمات خلاصہ کے طور پر کہے۔ اس کے بعد محی الدین عربی نے اس کا مکمل عربی ترجمہ پڑھ کر شام کو نماز مغرب کے بعد حوار مفتوح (سوال وجواب) کا پروگرام تھا۔ میں نے تمہید کے طور پر کچھ ابتدائی کلمات عربی میں کہے۔ اس کے بعد طلبہ کے سوالات کا عذر پر لکھے ہوئے آنا شروع ہوئے۔ سوالات آئے اگر چہ بعض سوالات میرے ذوق کے خلاف تھے۔ تاہم میں نے تمام سوالات کے جوابات دئے۔ اس کی شکل یہ ہوئی کہ ایک ایک سوال پڑھ کر سنایا جاتا اور میں اس کا جواب دیتا۔ یہ مجلس کافی دلچسپ رہی۔ لوگ آخر تک نہایت دلچسپی کے ساتھ سنتے رہے۔ اساتذہ اور ذمہ داروں کی بھی ایک تعداد ہال کے اندر تھی۔

۶ مارچ کی شام کو نماز عشا کے بعد جامعہ اسلامیہ کے ہندوستانی طلبہ بڑی تعداد میں ہوٹل کے کمرہ ان کی خواہش پر میں نے بتایا کہ میرا حاصل مطالعہ کیا ہے اور میں نے اب تک کے مطالعہ سے کیا پایا یہ گفتگو زیادہ اسلامی دعوت کے جدید امکانات کے پہلو پر تھی۔ اس مجلس میں جامعہ کے بعض استاد بھی شریک تھے۔ مزید میں نے کہا کہ سورہ یوسف سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی دنیا میں یہ بھی ممکن ہے کہ جہاں لوگ آپ کی تاریخ ختم کرنا چاہتے ہوں وہاں سے آپ کے لئے ایک نئی تاریخ کا آغاز ہو جائے۔ آپ کا اسور القصص احسن القصص میں تبدیل ہو جائے۔ مگر اس عظیم خدائی انعام کو پانے کی دو لازمی شرطیں ہیں۔ تقویٰ اور صبر

۷ مارچ کی شام کو ایک صاحب کے مکان پر ہندوستانی طلبہ کا اجتماع ہوا۔ یہاں میں نے اس موضوع پر اظہار خیال کیا کہ "مومن" ہونے کا مطلب کیا ہے اور جنت میں داخلہ آدمی کو کس طرح ملے گا۔ کچھ لوگوں نے خواہش ظاہر کی کہ آپ اپنے مرکز کے مقاصد کے بارہ میں کچھ بتائیں۔ اس سلسلے میں میں نے ضروری تفصیلات عرض کیں۔

مجھ کو ایک عجیب تجربہ یہ ہوا کہ اگر اسلام تنقیدی قسم کی سائنس والی باتیں کی جائیں تو لوگ خوب خوش

ہوتے ہیں اور ھل من مزید کا مطالبہ کرتے ہیں۔ لیکن اگر محمد خدا وندی کی باتیں کی جائیں اگر جنت اور جہنم کا تذکرہ اگر رزق ربانی کے نغمے چھیڑے جائیں تو لوگوں کو کوئی خاص دلچسپی نہیں ہوتی۔ اس کی وجہ غالب یہ ہے کہ پہلا اسلام ان کی پہچان والا اسلام ہے۔ جب کہ دوسرا اسلام ان کی پہچان والا اسلام نہیں۔ مسلمانوں نے اسلام کو اپنے لئے سرمایہ فخر بنا رکھا ہے۔ اس لئے پہلی قسم کی باتیں ان کو اسلام کا سائنسی قصیدہ معلوم ان کو سن کر ان کی نفسیات فخر کو تسکین ملتی ہے اور وہ خوش ہو جاتے ہیں۔ مگر دوسری قسم کی باتیں ان کو اجنبی معلوم ہوتی ہیں۔ کیوں کہ اسلام کے نام سے وہ اس قسم کی کسی چیز کو جانتے ہی نہیں، اسلام ان کے لئے قومی فخر کا عنوان ہے نہ کہ اصلاحِ ذات کا عنوان فخر والی بات کی جائے تو وہ اس میں اپنے لئے غذا پا لیتے ہیں۔ مگر اصلاحِ ذات والی باتیں کی جائیں تو وہ اس سے متوحش ہوتے ہیں۔ کیوں کہ اس کا مطلب اپنی نفی ہے۔ اور کون ہے جو اپنی نفی کی قیمت پر حق کا اعتراف کرے رابطہ عالم اسلامی کے ہفتہ وار الدعوۃ (الرياض) مورخہ ۱۲ مارچ 1984 میں شائع شدہ رپورٹ یہاں نقل کی جاتی ہے:

Printed page