محاضرات
Al-Risala, July 1984, pp. 21–46
By Maulana Wahiduddin Khan
الاسلام المعاصر - محاضرة القاها الشيخ وحيد الدين خان ، وذلك بالجامعة الاسلامية
الاسلام والمشاكل العصرية - محاضرة القاها الشيخ وحيد الدين خان بالجامعة التضامن والدعوة الاسلامية - محاضرة القاها الشيخ وحيد الدين خان بالجامعة
امكانيات جديدة للدعوة الإسلامية محاضرة القاها الشيخ وحيد الدين خان وذالك بالجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة والجدير بالذكر ان هذه المحاضرات الاربع قد القاها فضيلته خلال شهر جمادى الآخرة ١٤٠٤ھ وذالك خلال زيارته للجامعة ۴ مارچ کو ایک صاحب عبد القادر النماری (الجزائر) نے انٹرویو لیا۔ وہ اخبار المدینہ کے نمائندہ انھوں نے ایک کاغذ پر بہت سے سوالات لکھ رکھے تھے۔ میں نے کچھ سوالات کے جوابات دئے اور کچھ اختلافی نوعیت کے سوالات کے جوابات سے معذرت کی۔ میں نے دیکھا میرے جوابات کے بعد دوبارہ وہ نئی شق نکال کر سوال نہیں کرتے تھے۔ اور میری معذرت فوراً قبول کر لیتے تھے ۔ عبدالقادر جزائری تبلیغی جماعت سے متاثر ہیں اور کسی جماعت کے ساتھ دہلی (نظام الدین) بھی جا چکے ہیں۔ مجھے گفتگو کے دوران بار بار یہ تجربہ ہوا کہ تبلیغی جماعت کے افراد بحثوں میں نہیں الجھتے۔ اور نہ اختلافی امور میں زیادہ شدت ظاہر کرتے۔ یہ ان کے دینی مزاج کا ثبوت ہے۔ دوسری طرف وہ لوگ جو اسلام کی سیاسی تعبیر سے متاثر ہیں ان سے گفتگو کے دوران اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا ان کو سب سے زیادہ دلچسپی اختلافی امور سے ہے۔ کوئی بھی جواب انھیں چپ نہیں کرتا۔ ہر جواب کے بعد وہ ایک نیا لفظی شوشہ نکال کر نئی بحث شروع کر دیتے ہیں۔
تیونس سے ایک ماہوار رسالہ نکلتا ہے جس کا نام ہے جو ہر الاسلام۔ پتہ یہ ہے : جو ہر الاسلام ، ۲۸ نہج جمال عبد الناصر ۔ تیونس (ٹیلی فون ۸۰۱ - ۲۵۹)
۴ مارچ کی شام کو جوہر الاسلام کے دو نمائندے آئے اور اپنے رسالہ کے لئے انٹرویو لیا۔ ان کے سوالات کچھ ہمارے مشن کے بارے میں تھے اور کچھ موجودہ مسلم سیاست کے بارے میں۔ میں نے اپنے مشن کے بارہ میں سوالات کے جوابات دئے ۔ مگر موجودہ سیاست کے بارے میں جواب دینے سے اعراض کیا۔ روزنامہ عکاظ کے دو نمائندے ۱۱ مارچ کی شام کو میری قیام گاہ پر آئے۔ اور اپنے اخبار کے لئے انٹرویو لیا۔ ان کے سوالات بھی کچھ مرکز اسلامی کے بارہ میں تھے۔ اور کچھ عالمِ اسلام کے بارہ میں۔ المعهد العالی للدعوة الإسلامیہ ( مدینہ ) کی طرف سے ایک ماہانہ پر چہ نکلتا ہے جس کا نام ہے رسالة المعهد اس کے نمائندہ محمد ضیاء الدین صاحب نے ۵ مارچ کی شام کو رسالة المعهد کے لئے انٹرویو لیا۔ محمد ضیاء الدین صاحب نوجوان ہیں اور حلب (شام) کے رہنے والے ہیں۔ اس وقت وہ مدینہ میں وزارتِ الاعلام کے تحت کام کر رہے ہیں۔ رسالہ المعهد کے جوابات کا اردو ترجمہ یہاں بطور نمونہ نقل کیا جاتا ہے۔
دعوت اسلامی کا مطلب میرے نزدیک دعوت الی اللہ ہے۔ موجودہ زمانہ میں دعوت الی اللہ کو جو چیلنج درپیش ہے وہ میرے نزدیک الحادی فکر کا غلبہ ہے۔ اس لئے دعوت اسلامی کی راہ ہموار کرنے کے لئے سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ دنیا سے الحادی فکر کا غلبہ ختم کیا جائے۔ قدیم زمانہ میں مادی مظاہر کو خدا قرار دے کر انسان نے خدا کو چھوڑ دیا تھا۔ موجودہ زمانہ میں مادی مظاہر کے پیچھے کام کرنے والے سلسلہ اسباب کو خدا قرار دے دیا گیا ہے اور اسی کا نام جب تک اس فکری ڈھانچہ کو توڑا نہ جائے کوئی دوسرا کام نہیں کیا جا سکتا۔ موجودہ زمانہ کے داعیوں کا اصل مسئلہ وہ ہے جو داخلی ہے۔ وہ ابھی تک دعوت اور قومیت کو اور اسی طرح دعوت اور سیاست کو الگ الگ نہیں کر سکے ہیں۔ جس دن وہ دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کرنے میں کامیاب ں گے اسی دن ان کے مسائل کے خاتمہ کا بھی آغاز ہو جائے گا۔ صحافت یقیناً اسلامی دعوت کے لئے نہایت اہم ہے۔ مگر میرا خیال ہے کہ مسلمان ابھی تک صرف قومی صحافت کو جانتے ہیں، وہ عالمی صحافت کے میدان میں داخل نہیں ہوئے۔ عالمی صحافت کے لئے موضوعیت (Objectivity) لازمی طور پر ضروری ہے اور مسلمان موضوعیت سے محروم
میری زندگی کسی ’’حادثہ‘‘ کے نتیجہ میں نہیں بنی۔ میں نے اسلامی علوم اور غیر اسلامی علوم کا تقریباً ۴۰ سال تک مطالعہ کیا ہے۔ میری شخصیت اسی مطالعہ کے ذریعہ بنی ہے۔
جدید علمی انکشافات کو تفسیر قرآن میں استعمال کرنا میرے نزدیک عین درست ہے شرط صرف یہ ہے کہ معیار اصلی قرآن نہ ہو کہ جدید انکشافات۔ یعنی جدید انکشافات کو قرآن کی روشنی میں دیکھا جائے نہ کہ قرآن کو جدید انکشافات کی روشنی میں۔
علمی نظریات کے بدلنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ دور اول میں جب قرآن نے کہا کہ زمین و آسمان کی نشانیوں پر غور کرو تو انسان نے اپنی اس وقت کی معلومات کی روشنی میں زمین و آسمان پر غور کیا۔ آج بھی یہی ہوگا کہ انسان اپنی موجودہ معلومات کی روشنی میں آیات کون پر غور اس کی وجہ سے نہ پہلے کوئی اعتقادی خرابی پیدا ہوئی اور نہ آج ہوسکتی ہے۔ حج کے زمانہ میں حرم میں جو غیر معمولی بھیڑ ہوتی ہے اس کو میں صرف حج کی خصوصیت سمجھتا تھا۔ خیال تھا کہ غیر حج کے زمانہ میں مسجد خالی رہتی ہوگی۔ مگر میں نے دیکھا کہ آجکل بھی نمازوں کے اوقات میں مسجد نبوی تقریباً پوری بھر جاتی ہے۔ اور جمعہ کے دن تو بڑی تعداد میں لوگ مسجد کے باہر نماز ادا کرتے ہیں
جیسا کہ حج کے زمانہ میں نظر آتا ہے۔
قدیم مسجد نبوی کے مقابلہ میں موجودہ مسجد نبوی بہت زیادہ بڑی ہو چکی ہے۔ پوری مسجد بڑے بڑے پایوں پر قائم ہے۔ پایوں کے اوپر خاص طرح کے نشانات اس کی توسیع کی تاریخ بتاتے ہیں۔ طرف کچھ پایوں پر خاص طرح کے رنگ مسجد نبوی کے قدیم رقبہ کو بتا رہے ہیں۔ اس کے بعد کے پایوں پر دوسرے نقوش ہیں جو اس توسیع کو ظاہر کرتے ہیں۔ جو حضرت عثمان کے زمانہ میں ہوئی۔ اس کے بعد اس توسیع کے نشانات ہیں جو ترک خلافت کے زمانہ میں کی گئی۔ اور اس کے بعد نسبتاً جدید طرز کی شاندار تعمیرات ہیں جو سعودی حکومت کے زمانہ میں کی گئی ہیں۔ اس کے باوجود جب نماز کا وقت آتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ مسجد اپنی تمام توسیع اور اضافوں کے باوجود بدستور ناکافی ہے۔
حرم میں نماز کے وقت امام کی آواز بہت صاف سنائی دیتی ہے، امام خواہ سجدہ میں ہو یا رکوع میں یا قیام میں۔ میں نے جاننا چاہا کہ یہاں لاؤڈ اسپیکر کا کیا انتظام ہے کہ ہر حال میں امام کی آواز مقتدیوں تک بالکل صاف پہنچتی رہتی ہے۔ ایک روز قریب جاکر دیکھا تو معلوم ہوا کہ امام کی جگہ پر کئی بہت اچھے قسم کے مائک لگے ہوئے ہیں۔ یہ مائک نیچے سے لے کر اوپر تک ہیں۔ چنانچہ امام خواہ سجدہ میں ہو یا رکوع میں یا قیام کی حالت میں، مائک ہر حالت میں اس کی پوری آواز پکڑ لیتا ہے۔
یہی انتظام موذن کے لئے بھی ہے۔ چنانچہ موذن جب اذان دیتا ہے تو اس کی آواز میلوں تک سنائی دیتی ہے۔ قدیم مسجد نبوی کی اذان اگر ایک فرلانگ تک سنائی دینی ہوگی تو آج مشینی دور میں یہ ممکن ہو گیا ہے کہ اس کی زبان سے نکلی ہوئی اللہ اکبر اور حی علی الفلاح کی آواز ایک سو فرلانگ کے دائرہ میں گونجے____ تاریخ کے امکانات کہاں سے کہاں تک جاپہنچے ہیں۔
حرم کے بالکل قریب ٹھہرنے کی وجہ سے پانچوں وقت کی نمازیں حرم میں ادا کرنے کا موقع ملا۔ نعمت مجھے خدا کے فضل سے دو بار ملی۔ پہلی بار حج کے موقع پر۔ دوسری بار موجودہ سفر میں۔ تاہم ایک چیز میرے لئے بڑی عجیب تھی۔ اور وہ تھا حرم میں خواتین اسلام کا اپنا ''حق مساوات‘‘ وصول کرنا۔ کا ایک بڑا حصہ صرف خواتین کے لئے مخصوص ہے۔ یہ حصہ عام طور پر بھرا رہتا ہے۔ میں نے دیکھا کہ اس حصہ میں عام طور پر جماعت شروع ہونے سے پہلے خاموشی رہتی ہے۔ مگر جیسے ہی جماعت کی نماز شروع ہوتی ہے اس حصہ سے بچوں کے چیخ و پکار کی آوازیں آنے لگتی ہیں۔ یہ آوازیں مسلسل جاری رہتی ہیں یہاں تک کہ جیسے امام سلام پھیر کر جماعت ختم کرتا ہے بچوں کے شور کی آوازیں بھی ختم ہو جاتی ہیں۔ اس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ آجکل والدین کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کے لئے زندہ کھلونا بنے
چنانچہ خواتین جب نماز کے لئے حرم میں آتی ہیں تو بچوں کو لانا بھی ان کے لئے ضروری ہو جاتا ہے۔ نماز شروع ہونے سے پہلے بچے اپنے ماؤں کی گود میں ہوتے ہیں۔ جب نماز شروع ہوتی ہے تو پاس کی جگہ پر انہیں رکھ کر وہ نماز کے لئے کھڑی ہو جاتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خواتین جب نماز میں مشغول ہوتیں تو ان کے بچے اپنے کھلونے سے محروم ہو جاتے۔ اور اس بنا پر رونے چیخنے لگتے۔ نماز ختم ہوتے ہی فوراً انہیں اپنا کھلونا مل جاتا اور وہ دوبارہ چپ ہو جاتے۔
یکم مارچ کی شام کو مغرب سے کچھ پہلے میں مسجد نبوی چلا گیا۔ ہمارا ہوٹل (الدخیل) مسجد نبوی سے اتنا قریب تھا کہ تکبیر کی آواز بھی ہمارے کمرہ تک سنائی دیتی تھی۔ مسجد کے صحن میں بیٹھ کر میں سبز گنبد کو دیکھ رہا تھا جس کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر ہے۔ اچانک ایسا محسوس ہوا گویا میں تصور کی سطح پر رسول خدا کے ساتھ مربوط ہو گیا ہوں۔ درمیان کا زمانی فاصلہ تھوڑی دیر کے لئے حذف ہو گیا۔ سبز گنبد میرے لئے ایک تاریخی تسلسل کی علامت بن گیا۔
اسلام میں بلاشبہ قبر پرستی نہیں ہے۔ مگر پیغمبر اسلام کی قبر کا ثابت شدہ حالت میں مدینہ میں موجود ہونا آپ کی تاریخی اعتباریت کا ایک پختہ نشان ہے۔ آدمی سبز گنبد کو دیکھ کر گویا ایک تاریخ کو دیکھنے لگتا ہے۔ اعتبار سے پیغمبر اسلام کی ” پختہ “ قبر کا موجود رہنا بھی اسلام کی ایک استثنائی ضرورت ہے۔ یکم مارچ کی صبح کو ایک بار میں دسویں منزل سے اپنے کمرہ سے نیچے اترا۔ واپسی کے وقت معلوم ہوا کہ بجلی فیل ہو گئی ہے اور لفٹ کام نہیں کر رہی ہے۔ نیچے گراؤنڈ فلور پر بہت سے لوگ بجلی کی آمد کے انتظار میں کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے، میں بھی ایک خالی نشست پر بیٹھ گیا۔ بظا ہر دماغ میں یہ تھا کہ اب ایک ہی صورت ہے ۔ وہ یہ کہ بجلی کے آنے کا انتظار کریں۔ کیوں کہ ” دسویں منزل“ تک سیڑھیوں کے ذریعہ چڑھ کر پہنچنا بہت مشکل کام ہے۔
” آئیے کچھ ورزش کریں “ اچانک مولانا محمد ہاشم القاسمی نے کہا۔ میں سمجھا کہ شاید وہ کہہ رہے ہیں کہ یہاں بیٹھے رہنے کے بجائے ہم لوگ تھوڑی دیر کے لئے باہر کہیں ٹہل لیں۔ مگر جلد ہی معلوم ہوا کہ وہ سیڑھیوں کے ذریعہ چل کر اوپر جانے کی بات کر رہے تھے۔ میں فوراً آمادہ ہو گیا اور ہم دونوں سیڑھی کے ذریعہ اوپر چڑھنے لگے۔ چند منٹ گزرے تھے کہ میں اپنی منزل پر کمرہ نمبر ۹۰۱ میں داخل ہو چکا تھا۔ جو بظاہر مشکل یا ناممکن نظر آتا ہے۔ وہ یقینی طور پر ممکن اور آسان ہے، بشرطیکہ ہمت کر کے اس کو شروع کر دیا جائے۔
ہندوستان میں اگر کسی کی موت ہو اور اس کو نماز جنازہ کے لئے مسجد میں لایا جائے تو فرض نماز
کے بعد اعلان ہوگا" جنازہ تیار ہے" یہاں حرم میں اکثر کوئی نہ کوئی جنازہ ہوتا ہے اور نماز کے بعد اس کے لئے نماز کا اعلان ہوتا ہے۔ مگر اعلان کے الفاظ اس قسم کے ہوتے ہیں : الصلوٰۃ علی الرجل يرحمكم الله ، الصلوٰۃ علی المرأة يرحمكم الله ، الصلوٰۃ علی الطفل يرحمکم الله عربی زبان کا یہ اندازِ اسلام کی دین ہے۔ اسلام کی چھاپ عربی زبان پر اتنی زیادہ ہے کہ اس کے تمام اسالیب سے ظاہر ہوتی ہے۔ ایک دن ہمارے ایک ساتھی نے کمرہ کا ٹیلی وژن کھولا تا کہ سعودی عرب کی خبریں سن سکیں۔ اس وقت اتفاق سے ملک فہد کی ایک تقریر کا کچھ حصہ نشر کیا جا رہا تھا۔ کی تقریر میں بار بار اسلامی کلمات ادا ہو رہے تھے۔ مثلاً ایک موقع پر انھوں نے سنجیدہ لہجہ میں کہا : ونرجوا ربنا عز وجل ان یساعدنا ۔
ایک روز ایسا ہوا کہ حرم میں کوئی صاحب مل گئے۔ اور ان سے بات کرتے ہوئے میں فرش پر بیٹھ گیا جہاں میں بیٹھا وہ اتفاق سے راستہ تھا۔ ایک عرب جو چا ہتے تھے کہ میں راستہ سے ہٹ جاؤں تا کہ لوگوں کو نکلنے میں آسانی ہو، انھوں نے کہا، خل الطريق للناس يرحمك الله عربی زبان کا یہ انداز اس لئے ہے کہ اس کا نشوونما اسلام کی روایات میں ہوا اس کے بر عکس اردو کا نشو و نما بالکل دوسرے حالات میں ہوا۔ چنانچہ مدینہ کے ایک ہندوستانی طالب علم نے ایک ملاقات کے موقع پر سوالیہ انداز میں کہا:
الرسالہ کا تو کوئی دفتر نہیں ہوگا۔ وہ جمعیۃ بلڈنگ کے کمرہ میں ہوگا۔
میں نے یہ جملہ سنا تو میری زبان سے نکلا " الرسالہ کا دفتر زمین و آسمان میں ہے" عربوں کے ذہن پر عام طور پر سب سے زیادہ جو مسئلہ سوار ہے وہ یہود کا مسئلہ ہے ۔ یہودیوں سے شدید نفرت کرتے ہیں۔ ایک عرب مصنف کے قلم سے ایک کتاب چھپی ہے جس کا نام ہے _ اليهود وراء كل جريمة (تمام جرائم کے پیچھے یہودی ہیں) ایک تعلیم یافتہ عرب سے بات ہورہی تھی تو ان کی زبان سے بے اختیار نکلا۔ آج دوبارہ ہم کو ایک صلاح الدین ایوبی کی ضرورت ہے۔ پر مجھے کچھ اہل علم کی مجلس میں اظہار خیال کرنے کا موقع ملا۔ میں نے کہا کہ آجکل دنیا بھر کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ ایک قسم کے احساس مظلومی Persecution Complex میں مبتلا ہیں۔ کہیں یہودی ان کو اپنے اوپر ظلم کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور کہیں غیر یہودی۔ کسی قوم کے لئے نہایت بری علامت ہے۔ یا فت پر اٹھتی ہیں نہ کہ احساس محرومی پر۔ قرن اول میں جو لوگ مکہ سے ہجرت کر کے حبشہ گئے۔
زمانہ کے مسلمانوں سے زیادہ بڑے ظلم سے دوچار تھے۔ مگر شاہ نجاشی کے دربار میں حضرت جعفر طیار نے جو تقریر کی اس میں وہ کھونے ، کا شکوہ نہیں کرتے بلکہ پانے کا ذکر کرتے ہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو اگر دوبارہ اٹھانا ہے تو ان کے اندر بھی یہی ذہن پیدا کرنا ہوگا۔ ایک غیر عرب سے ملاقات ہوئی۔ وہ عالم تھے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ قرآن پر ایک تحقیقی کتاب لکھ رہے ہیں۔ انھوں نے اپنی عمر کا بڑا حصہ قرآن کے مطالعہ میں گزارا ہے۔ ان سے میں نے پوچھا کہ اپنے مطالعہ کی روشنی میں بتائیے کہ قرآنی تعلیمات کا خلاصہ کیا ہے۔ انھوں نے جواب دیا۔ اس حیثیت سے میں نے زیادہ غور نہیں کیا۔ میرے لئے یہ سوال اچانک ہے۔ اس لئے مجھے سوچ کر بتانا ہوگا۔ اسی طرح ایک اور صاحب ملے انھوں نے کہا کہ میرا موضوع قرآن ہے۔ میں نے کہا کہ کوئی ایسی بات بتائیے جو آپ نے خود قرآن میں پائی ہو ، جو آپ کی اپنی دریافت ہو۔ مگر وہ قرآن میں کسی خود در یافت کردہ حقیقت کی نشان دہی نہ کر سکے کیسے عجیب ہوں گے وہ قرآن کو پڑھنے والے جن کے ذہنی خانہ خانہ میں قرآن نے کسی نئی چیز کا اضافہ نہ کیا ہو۔
اس سفر کے دوران ایک عرب ملک کی ایک بڑی مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھنے کا اتفاق ہوا عرب امام نے کافی لمبا خطبہ دیا۔ اس خطبہ میں بیع کے مسائل نہایت تفصیل سے بیان کئے گئے تھے۔ تا ہم ان مسائل میں اکثر ایسے تھے جن کا آج کے حالات سے کوئی تعلق نہیں ۔ ایسا محسوس ہوا کہ وہ بس کتاب کی باتوں کو دہرائے چلے جا رہے ہیں۔
مثلاً انھوں نے کہا کہ جو لوگ مسلمانوں سے جنگ کریں ان کو ہتھیار بیچنا حرام ہے (بیع السلام علی من يحارب المسلمين حرام) یہ مسئلہ صلیبی جنگوں کے زمانہ کا ہے۔ اس زمانہ میں عراق و شام کے علاقہ میں دنیا کے بہترین ہتھیار بنتے تھے۔ چنانچہ جنگ کے وقفوں میں یورپی نا جر یہاں آکر ہتھیار خریدتے چوں کہ یہ اندیشہ تھا کہ یہ ہتھیار وہ یورپی قوموں کے ہاتھ بیچیں گے اور وہ ان کو اگلی صلیبی جنگ میں مسلمانوں کے خلاف استعمال کریں گے۔ اس لئے اس وقت کے علماء نے فتویٰ دیا کہ جو لوگ مسلمانوں سے برسر جنگ ہوں ان کو ہتھیار فروخت کرنا حرام ہے۔
یہ مسئلہ خود بتا تاہے کہ وہ ایسے وقت سے متعلق ہے جب کہ مسلمان ہتھیار فروخت کرنے کی پوزیشن میں ہوں۔ مگر موجودہ زمانہ میں تو مسلمان صرف اس کے خریدار ہو کر رہ گئے ہیں۔ کی صنعت پوری طرح کا فروں کے ہاتھ میں جا چکی ہے ۔ اور خود مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ وہ ان سے ہتھیار خریدے بغیر اپنے دشمنوں سے اپنا دفاع نہیں کر سکتے۔ ہمارے اکثر بڑے خطیبوں کا یہ حال
ہے کہ جب وہ بولتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ " وہ بیسویں صدی میں نہیں بول رہے ہیں بلکہ " صلاح الدین کے منبر پر کھڑے ہو کر اقوامِ عالم کو خطاب کر رہے ہیں۔
۵ مارچ کو دوپہر کا کھانا رئیں جامعۃ اسلامیہ دکتور عبداللہ صالح العبید کی طرف سے تھا۔ نے میرے اعزاز میں مدینہ کے ہوٹل میں ظہرانہ دیا۔ اس ظہرانہ میں چنی ہوئی اعلیٰ شخصیتیں موجود تھیں۔ میں وزارت تعلیم کے وکیل بھی تھے۔ اسی طرح ایک اور صاحب نے ایک خصوصی دعوت کی جس میں رابطہ عالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل کے پی اے استاد اسامہ خلیفہ بھی شریک تھے۔
ان مواقع پر ذمہ دار لوگوں سے باتیں ہوئیں۔ شیخ محمدعمر فلاتہ سے اسلامی مرکز کے موضوع پر بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ہم سیاست سے دور رہ کر خالص دعوت کے میدان میں کام کرنا چاہتے ہیں۔ میں میری زبان سے نکلا کہ ہندوستان کے حالات میں موثر کام کرنے کے لیے سیاست سے دور رہنا ضروری ہے، شیخ محمدعمر فلاتہ نے فوراً کہا کہ ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ ہرملک میں ضروری ہے۔ سیاست میں مشغول ہو کر کوئی موثر کام نہیں کیا جا سکتا۔
پچھلے برسوں میں سیاسی اسلام کا ذوق اتنا بڑھا کہ اسلامی دعوت کو سیاسی دعوت کے ہم معنیٰ بنا دیا گیا۔ جہاد غیر مسلموں سے مقابلہ کے لئے تھا۔ انھوں نے جہاد کو مسلمانوں کی باہمی جنگ کا عنوان بنا لیا۔ مگر علی تحجر بہ نے اس کو نا کام ثابت کر دیا۔ چنانچہ عالمِ اسلام میں اب وہ دور شروع ہو گیا ہے جو بالآخر اس فکر کو بالکل بے قیمت بنا کر رکھ دے گا۔ اس سفر میں میری ملاقات ایک عرب قائد سے ہوئی ۔ وہ پہلے سیاسی اسلام کے داعی اب وہ اس کو ترک کر چکے ہیں۔ میں نے کہا کہ میں اسی کو صحیح اسلام سمجھتا ہوں۔ اور پچھلے 20سال سے اس کی تبلیغ کر رہا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ جس فکر پر آپ ۲۰ سال پہلے پہنچ گئے تھے ، ہم اس پر صرف ایک سال پہلے پہنچے ہیں۔
رئیس الجامعہ دکتور عبداللہ صالح العبید سے میں نے پوچھا کہ آپ نے الاسلام تجدیدی پڑھی ہے۔ نے فوراً کہا کہ اس نے نہیں پڑھی ہے۔ اکثر لوگ مجھ سے یہ پوچھتے کہ الاسلام تجد کی کے بعد دوسری تصنیفات کیا ہیں اور وہ عربی میں منتقل ہوئیں یا نہیں۔
یہاں جس جگہ بھی جانا ہوا یا جس سے بھی ملاقات ہوئی اس نے یہی بتایا کہ اس نے الاسلام تجیدی پڑھی بعض نے کہا کہ میں نے اس کے بارے میں بہت کچھ سنا ہے۔ اور اس کو پڑھنا چاہتا ہوں۔ الاسلامیہ میں انڈونیشیا کے ایک طالب علم نے بتایا کہ انڈونیشی زبان میں بھی الاسلام تجیدی کا ترجمہ شائع ہو چکا ہے۔ انھوں نے میرا پتہ لیا اور کہا کہ اس کا ایک نسخہ میں آپ کو ڈاک سے روانہ کروں گا۔
شیخ محمد عمر فلاتہ 2مارچ کو ہوٹل میں ملنے کے لئے آئے۔ اتفاق سے میں موجود نہ تھا تو حسب ذیل تحریر چھوڑ گئے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم صیغہ الشیخ وحید الدین خانه خدا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اور بعد حضرت سے مشرف باسلام ہو سکا۔ بعد صلوة المغرب قلم اسعد بلقاسم ومأخود مره آخرص اے بناء الله دانشم خدا بسرا را مول. و اقصی اه يكل انه دستا عيکم بالنجاح والرشدنيه ۲۷/۳/۱۲ عمر محمد عمر نے
۱۰ مارچ کی شام کو شیخ محمد عمر فلا تہ سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے الجامعة الاسلامیہ کے بعض عجیب واقعات انھوں نے بتایا کہ میں جامعہ کے تحت ایک سفر کے دوران کیمرون گیا۔ وہاں جامعہ کے ایک فارغ طالب علم سے ملاقات ہوئی تو وہ بار بار جامعہ کے ایک مستخدم (ملازم) کے بارہ میں سوال کرتا اور اس کا حال پوچھتا۔ میں نے پوچھا کہ تم جامعہ کے شیوخ سے زیادہ مستخدم کے حالات دریافت کر رہے ہو، کیا اس کے بعد اس نے بتایا کہ میں تعلیم کی غرض سے جامعہ گیا۔ میں اپنے ساتھ کوئی رقم نہیں لے گیا تھا۔ کیوں کہ میں سمجھتا تھا کہ ساری کفالت جامعہ کی طرف سے ہوگی۔ جب وہ مدینہ کے ائیر پورٹ پر اتراتو اس کو یہ دیکھ کر بہت مایوسی ہوئی کہ وہاں کوئی گاڑی اس کی مدد کے لئے موجود نہیں ہے۔ نوجوان کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ ٹیکسی کرے۔ اگرچہ اس کی جیب میں کوئی رقم موجود تاہم اس نے ٹیکسی کی اور اس کے ذریعہ ائیر پورٹ سے جامعہ پہنچا۔ یہاں جب ٹیکسی والے نے کرایہ (پندرہ ریال) مانگا تو نوجوان نے کہا کہ میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ اس پر ٹیکسی والا غصہ میں آگیا۔ اور نوجوان کو دھوکہ باز، شیطان وغیرہ کہنے لگا۔
نوجوان بے بسی کے انداز میں ٹیکسی والے کی سخت کلامی کو سن رہا تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کرے۔ اتنے میں جامعہ کا ایک مستخدم شور سن کر وہاں آگیا اور ٹیکسی والے سے کہا کہ تم کیوں اس طالب علم کو پریشان کر رہے ہو۔ اس نے کہا کہ یہ دھوکے باز ہے۔ مجھ کو ائیر پورٹ سے لایا اور اب کرا یہ دینا ہے تو کہتا ہے کہ میرے پاس کچھ نہیں۔ مستخدم نے کہا کہ اپنی زبان روکو، یہ ضیوف الرحمن ہیں اور یہ مجھ سے اور تم سے بہت زیادہ بہتر ہیں۔
اس کے بعد مستخدم نے اپنی جیب سے پندرہ ریال نکالے اور اس کو ٹیکسی کے مالک کے حوالے کیا۔ اس کے بعد یہ مستخدم نوجوان کو لے کر دفاتر میں گیا۔ ضروری کارروائی کرائی اور اس کے سامان کو اس کے کمرہ تک پہنچایا۔ آخر میں جب وہ رخصت ہونے لگا تو اس نے دوبارہ اپنی جیب سے ۲۰ ریال نکالے اور طالب علم کے حوالہ کرکے باہر چلا گیا۔
ایک ہندوستانی طالب علم سے میں نے عربوں کے بارہ میں ان کے تجربات پوچھے ۔ کہا کہ میں نے عربوں میں ایک خاص بات یہ دیکھی کہ ان کے اندر توسع کا مزاج ہوتا ہے جو ہندوستان اور پاکستان جیسے علاقوں میں دیکھنے میں نہیں آتا۔ ہم لوگ کسی محفل میں ایک تقریر کرتے ہیں یا کسی موقع پر ایک سوال کا معمولی جواب دیتے ہیں تو ہمارے اساتذہ فراخ دلی کے ساتھ احسنت احسنت ان کا مزاج ہوتا ہے کہ جو خوبی ہے اس کا بھر پور اعتراف کیا جائے اور جو کمی ہے اس کو نظر انداز
بیرونی ممالک کے سفروں میں بار بار مجھ کو اس کا تجربہ ہوا کہ میرے جیسی شکل وصورت کے آدمی کو " ہندوستانی " ہونے کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی بھی ملک میں ہندوستانی کی تصویر
مدینہ میں ہم جس ہوٹل میں ٹھہرائے گئے وہ یہاں کے معیار کے مطابق درجہ اول کا ہوٹل نہ تھا تاہم عملہ کا رویہ ابتداءً کچھ زیادہ اچھا نہ تھا۔ اس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ انہوں نے ہم کو بس ایک " ہندوستانی مسلمان “ سمجھا۔ اس کے بعد جب انہوں نے دیکھا کہ شیوخ و اکابر مجھ سے ملنے کے لئے آرہے ہیں۔ مہمانوں کے لئے یہاں قیام و طعام کے بعد صرف مقامی ٹیلی فون کی سہولت ہوتی ہے مگر ہمارے لئے جامعہ اسلامیہ سے ہوٹل کو ہدایت دی گئی کہ شیخ وحید الدین سعودی مملکت کے دوسرے شہروں نیز خارجی ممالک میں بھی ٹیلی فون کر سکتے ہیں اور یہ جامعہ کی طرف سے ان کے لئے خاص ہے؛؛ روھی خاصہ للشيخ وحيد الدين من ادارة الجامعة ( رئیس الجامعة (مدینہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ) نے اسی ہوٹل میں ہمارے اعزاز میں خصوصی ظہرانہ دیا اور آخر میں رخصت ہوتے ہوئے خود آگے بڑھ کر میرے لئے لفٹ کا بٹن دبایا۔ اس قسم کے واقعات کو دیکھ کر ہوٹل والوں کی روش خود بخود درست ہو گئی۔ وہ پہلے جتنا خشک تھے ۔ اب وہ اتنا ہی ہمارے اوپر مہربان ہو گئے۔ ہوٹل کے منیجر نے خود ہمارے کمرہ میں آکر کہا کہ ہم ہر وقت آپ کی خدمت کے لئے حتی کہ اگلے دن تازہ پھل دو ٹرے میں رکھ کر ہمارے لئے بھیجے گئے جس کے ساتھ خوبصورت کارڈ پر یہ لکھا ہوا تھا: مع تحياتنا لسيادتكم بطيب الاقامة اوپر کی سطح پر اگر آپ کا اعتراف کر لیا جائے تو نیچے کی سطح کے لوگ خود بخود آپ کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
۵ مارچ کی صبح کو ہم دو فلسطینی نوجوانوں کے ساتھ مدینہ کے تاریخی آثار دیکھنے کے لئے نکلے۔ نصف دن گزر ابر مصطفے شاور (فلسطینی ثم اردنی ) کو آثار عرب کے بارے میں خاصی معلومات ہیں۔ چنانچہ وہ رہنمائی مدینہ میں رسول اللہ اور صحابہ کے زمانہ کے اصل آثار اب بہت کم باقی ہیں۔ ان آثار کی ایک حیثیت تاریخی تھی اور دوسری یہ تھی کہ لوگ ان کو مقدس قرار دے کر یہاں آکر مشرکانہ افعال کرتے تھے۔ داروں نے ان کی دوسری حیثیت کی بنا پر انہیں ختم کر دیا۔ اس وقت جو آثار ہیں ان میں اکثر وہ ہیں جہاں نئی تعمیرات مثلاً ایک شخص آپ کو بتائے گا کہ یہاں سقیفہ بنی ساعدہ تھا۔ مگر آج وہاں صرف کھجور اور درخت نظر آتے ہیں۔ مسجد الجمعہ اور مسجد قبا آج موجود ہیں مگر ان کی تعمیرات وہ نہیں ہیں جو ابتدا رمیں تھیں۔
تاہم کچھ چیزیں آج بھی اپنی ابتدائی شکل میں موجود ہیں۔ مثلاً بئر رومہ جس کو حضرت عثمان نے ایک یہودی سے خرید کر عام مسلمانوں کے لئے وقف کیا تھا۔ اسی طرح کعب بن اشرف کا قلعہ نما مکان بھی کھنڈر کی صورت میں ابھی تک موجود ہے۔ ہم نے یہ مقامات دیکھے۔ ان کو دیکھ کر عجیب عبرت حاصل ہوئی۔ پھر ہم احد پہاڑ کو دیکھنے گئے۔ یہاں دیگر آثار کے علاوہ وہ شق (غار) بدستور موجود ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شکست کے بعد پناہ لی تھی۔ میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پہاڑ کے اوپر چڑھ کر غار میں داخل ہوا اور ان پتھروں پر دیر تک بیٹھارہا جہاں حسب روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہونے کے بعد بیٹھے تھے۔ اس وقت طبیعت پر عجیب اثر ہوا۔ ایسا معلوم ہوا جیسے تاریخ کا درمیانی وقفہ حذف ہو گیا ہے اور میں براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پہنچ گیا ہوں۔ مدینہ منورہ میں ہمارا آخری پروگرام ۱۱ مارچ ۱۹۸۴ کو النادی الأدبی میں تھا۔ فلسطینی نو جوان مصطفیٰ شاعر ایک روز مجھ کو ایک کتاب کے سلسلے میں ایک دفتر میں لے گئے۔ مگر جب ملاقات ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہاں کے ذمہ دار اعلیٰ (ڈاکٹر محمد ہاشم رشید) مجھ سے بخوبی واقف ہیں اور میری عربی مطبوعات پڑھے ہوئے ہیں۔ انھوں نے اصرار کیا کہ النادی الأدبی میں بھی ضرور میرا ایک پروگرام ہو۔ چنانچہ مشورہ کے بعد اس کی تاریخ ۱۱ مارچ کی شام طے ہوئی۔ النادی الأدبی کے ذمہ داروں نے اخبار میں اس کا اعلان کر دیا۔ نیز حسب ذیل سرکلر مختلف تعلیم یافتہ افراد کے نام شخصی طور پر روانہ کیا گیا۔ المملكة العربية السعودية الرئاسة العامة لرعاية الشباب نادى المدينة المنورة الادبی يتشرف نادى المدينة المنورة الادبی بدعوة حضر تكم للاشتراك في الندوة المفتوحة التي سيقيمها النادى مع صاحب الفضيلة العلامة الداعية الاسلامي الكبير الشيخ وحيد الدين خان / مساء يوم الاحد الموافق ٩-١٠ / ٦ / ١٤٠٤ هـ بعد صلاة العشاء منبا شرة على صالة المحاضرات في مقر النادى بقباء لكم حسن استجابتكم وتعاونكم مع النادى رئيس نادى المدينة المنورة الادبي محمد هاشم رشيد
۱۱ مارچ کی شام کو نشست ہوئی۔ النادی الادبی کے وسیع صحن میں کرسیاں بچھادی گئیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ شریک تھے۔ مقالہ کا عنوان تھا : الاسلام فی القرن العشرین تلاوت قرآن کے بعد النادی الادبی کے رئیس ڈاکٹر محمد ہاشم رشید نے مفصل طور پر راقم الحروف کا تعارف انھوں نے کہا کہ میں نے الاسلام یتحدی پڑھی ہے اور واقعہ یہ ہے کہ یہ ایک منفرد کتاب ہے اور میری دعا ہے کہ مصنف اسی انداز کی اور کتابیں لکھیں۔
اس کے بعد میں نے عربی مقالہ پڑھ کر سنایا۔ آخر میں اعلان کیا گیا کہ مقالہ سے متعلق کسی کے ذہن میں کوئی سوال ہو تو وہ بتائیں۔ مقالہ نگار اس کا جواب دیں گے۔ مگر کسی نے کوئی سوال پیش نہیں کیا۔ البتہ دو آدمیوں نے مقالہ کے اعتراف پر تقریر کی۔ ایک صاحب نے کہا کہ مقالہ اتنا اعلیٰ اور اتنا مکمل تھا کہ ہم کوئی چیز نہیں پاتے کہ سوال کر سکیں۔ بس خدا سے دعا ہے کہ وہ مصنف کو صحت کے ساتھ بہت دن تک زندہ رکھے اور وہ بار بار مدینہ آئیں تا کہ ہم ان سے استفادہ کر سکیں۔ ہندوستان واپس آتے ہوئے ہوائی جہاز میں ہم کو جو اخبارات مطالعہ کے لئے دئے گئے ان میں جدہ کا سعودی گزٹ (۲۱ مارچ) بھی تھا۔ اس اخبار کے مطالعہ کے دوران اس کے ایک صفحہ پر النادی الادبی کے اجتماع کی رپورٹ نظر سے گزری جو اخبار سے لے کر یہاں نقل کی جاتی ہے: Indian Scholar Traces Glory of Islam Sheikh Wahiduddin Khan, a famous Muslim scholar of India, recently delivered a lecture at the Madina Literary Club in which he reviewed the stages through which mankind passed till the appearance of the hight of Islam. Sheikh Wahiduddin also spoke about the great achievements realised by Islam and Muslims for the benefit of the entire human race since the mis- sion of Prophet Muhammad till today. He was invited by the Islamic University, Madina. His lecture was entitled "Islam and the Twentieth Century." Sheikh Wahiduddin is the author of the book "Al-Islam Yatahadda" which is currently being studied in various universities and scientific organisations. He is fluent in several languages, has written more than 30 books on Islam and has read more than 10,000 pages of books on Com- munism and scientific Socialism and has counter-acted them in more than 100 articles. He has worked as the Chief Editor of Al-Risala magazine, Delhi and was the President of the Islamic Centre for Research and Call in India. (Al-Nadwa) Saudi Gazette (Jeddah) March 21, 1984
فلسطین کے ایک نوجوان احمد عزام سے گفتگو ہو رہی تھی۔ میں نے اردن میں فلسطینی تحریک کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ اردن میں فلسطینی اتنے طاقت ور تھے کہ اسرائیل ان کے ڈر سے کانپنے لگا تھا کانت اسرائیل ترجف خوفا)
میں نے پوچھا کہ شاہ حسین نے ابتدا ر فلسطینیوں کی کافی مد دکی ۔ پھر بعدکو وہ کیوں ان کے خلاف ہو گئے۔ انھوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ فلسطینیوں کی قوت شاہ حسین کی قوت پر غالب آگئی (قوتھا تغلبت علیٰ قوة الملک حسین) اس بنا پر شاہ حسین نے ان کو مار کر اردن سے نکال دیا۔ کیسی عجیب بات ہے ، اسرائیل اور شاہ حسین جس قوت سے کانپ رہے تھے وہی قوت اپنے کمز ور حریفوں سے مغلوب ہوکر رہ گئی۔ فلسطینی تحریک کے موجودہ مرحلہ کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ۔ بد اً فی فلسطین المحتلة ظاهرة العودة الى الاسلام من جديد، ويظهر ذلك من خلال الالتزام التام لمعظم الشباب الفلسطينيين ولذالك ارى بان المستقبل هو مستقبل الجهاد - لان الناس قد اقتنعوا بأن الثورات الوطنية لن تحقق شيئ - وان الجهاد هو الكفيل بتحرير فلسطين انشاء الله یعنی مقبوضہ فلسطین میں اسلام کی طرف واپسی دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔ اس کا انداز فلسطینی نوجوانوں کی اکثریت کو دیکھ کر ہوتا ہے۔ اور اس بنا پر میرا خیال ہے کہ فلسطین کا مستقبل جہاد کا مستقبل ہے۔ لوگوں نے جان لیا ہے کہ وطنی جد وجہد سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ اور جہاد ہی فلسطین کی آزادی کی ضمانت ہے انشا ء الله۔
موجودہ زمانہ میں دور اسلام کا آغاز “ کی حقیقت بس وہی ہے جو اوپر کے واقعہ میں نظر آتی ہے۔ لوگوں کا اصل مقصد بدستور قومی اور وطنی جد و جہد ہے۔ اس جد و جہد میں قومی اور وطنی نعرے لگانے سے کامیابی نہ ہو سکی۔ اب ان کی مایوسانہ نفسیات نے اسلامی نعرے میں اپنے لئے نئی پناہ تلاش کر لی ہے۔ کچھ قائدین اسلام سے ایک مخصوص گروہ کے بارے میں گفت گو تھی۔ انھوں نے اس گروہ کی ظلم و زیادتی کا ذکر کیا اور ان کے بارہ میں سخت الفاظ استعمال کئے ۔ میں نے کہا کہ ۔ اللہ انھیں ہدایت انھوں نے غصہ میں آ کر کہا : ان الله لا یھدی القوم الكافرين - ان اللہ لا يهدى ہمارے پر جوش قائدین عموماً ایسے موقع پر اس طرح کی آیتیں پڑھتے ہیں۔ اور سمجھتے ہیں کہ اپنی روش کی تائید میں وہ قرآن کی محکم دلیل پیش کر رہے ہیں۔ حالاں کہ یہ سرا سر غیر متسر آنی بات ہے۔ ان آیات میں کا فراور ظالم سے مراد وہ لوگ نہیں ہیں جن کو ہم بطور خود کافر اور ظالم کے خانہ میں ڈالے ہوئے ہیں۔ بلکہ وہ لوگ ہیں جن کو خدا کا فراور ظالم کے خانہ میں ڈالے۔ اور خدا ان لوگوں کو کافر اور ظالم کے خانہ میں ڈالتا ہے جن پر
اتمام حجت کی حد تک دعوت پہنچائی جائے، پھر بھی وہ کفر اور ظلم کی روش پر قائم رہیں۔ بعض اشخاص نے عالم اسلام کے دینی مدارس کی بابت سوال کیا۔ میں نے کہا کہ ہندوستان اور دوسرے ملکوں میں جو اسلامی ادارے قائم ہیں وہ اپنے اعلان کردہ مقصد کے برعکس نتائج پیدا کر رہے ہیں۔ خاص وجہ یہ ہے کہ ان اداروں کا نظام جدلی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے۔ ان کے یہاں سارا زور اساسیات کے بجائے جزئیات پر ہے۔ ان میں سے کسی کا زور اور اعتقادی اختلاف پر ہے، کسی کا فقہی اختلافات پر اور کسی کا سیاسی اختلافات پر۔ اب چوں کہ جزئیات میں ہمیشہ اختلاف ہوتا ہے۔ اس لئے وہاں کے ماحول میں جس کی تربیت ہوتی ہے وہ خلافیات کا ماہر ہو کر نکلتا ہے۔
ایک عرب عالم نے کہا کہ میں نے آپ کی کتاب الاسلام متحدی پڑھی۔ الدین فی مواجھة العلم پڑھی۔ الحدیث پڑھی یہ سب کتابیں مجھے پسند آئیں ۔ ان کتابوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر رحمت کا دروازہ کھولا مگر اس کے بعد میں نے آپ کی کتاب "حکمة الدین" پڑھی تو وہ پسند نہیں آئی۔ اس میں آپ نے اخوان المسلمین کی سیاست پر تنقید کی ہے۔ یہ زمانہ ایسا ہے کہ دشمنان اسلام ہمارے اختلاف سے فائدہ اٹھانے کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ ہم کو صرف وہی باتیں کرنی چاہئیں جس سے اتفاق پیدا ہو۔ اس قسم کی باتیں اور بھی کئی بار سننے کو ملی ہیں۔ مگر میں سوچتا ہوں کہ یہ کیسا عجیب مطالبہ ہے۔ جماعتوں پر میں نے تنقید کی ہے، وہ موجودہ زمانہ میں باہمی اختلاف کا سب سے بڑا سبب ہیں۔ نے مسلم ملکوں میں مسلمانوں کو حکمران اور غیر حکمران کے دو طبقوں میں بانٹ رکھا ہے اور دونوں کے درمیان زبر دست ٹکراؤ جاری کر دیا ہے۔ میں تو زیادہ سے زیادہ صرف علمی تنقید کرتا ہوں ۔ دوسرے لوگوں کا حال یہ ہے کہ انھوں نے اختلاف سے گزر کر مسلمانوں کو باہمی تصادم میں ڈال دیا ہے۔ بھی اختلاف پیدا کرنے کا الزام میرے اوپر ہے۔
تاہم عربوں کا مزاج یہ ہے کہ وہ اختلاف کے باوجود کسی آدمی سے محبت کر سکتے ہیں۔ عرب نوجوانوں کی بڑی تعداد اخوانی تحریک سے متاثر ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ میں اخوانی تحریک کا ناقد ہوں۔ اس کے باوجود الاسلام متحدی کی بنیاد پر وہ مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں۔ محمد ضیاء الدین ملا جبلی (حلب، شام) اخوانی نوجوان ہیں اور اخوانیوں کے بارہ میں میرے خیالات کو جانتے ہیں۔ مگر وہ نہایت احترام اور محبت کے ساتھ مجھ سے ملتے رہے۔ وہ دوسری بار آئے تو بتایا کہ میں نے شام میں اپنے والد سے ٹیلیفون پر بات کی۔ نے کہا کہ اس وقت میں خود نہیں آ سکتا۔ تم شیخ وحید الدین کو میرا سلام کہو اور میری طرف سے ان کے ہاتھ کا بوسہ دو (قبل يده بالنيابة عنی)۔
۱۲ مارچ ۹۸ کو مسجد نبوی میں فجر کی نماز پڑھی۔ یہ مسجد نبوی میں ہماری آخری نماز تھی۔ نماز سے فارغ ہو کر جب میں باہر نکل رہا تھا تو بے اختیار میری زبان سے نکلا: خدایا! یہ وہ مقام ہے جہاں تیرے پیغمبر نے نمازیں پڑھی ہیں۔ جہاں پیغمبر کے اصحاب کے قدم پڑے ہیں۔ جہاں ان لوگوں کی مجلسیں قائم ہوئی ہیں جن کو تو نے جنت کی بشارت دی ہے۔ مجھے بھی اس مجلس میں شریک ہونے والوں میں شامل فرما۔ جس طرح تو نے انھیں بخشا اسی طرح مجھے بھی اپنی رحمت سے بخش دے۔
۱۲ مارچ کی دوپہر کو ہم مدینہ سے ریاض پہنچے۔
سورہ بنی اسرائیل میں ارشاد ہوا ہے-"خدایا تم کو مقام محمود پر کھڑا کرے گا۔ " پیغمبر اسلام کے بارے میں یہ خدا وندی اطلاع رکی دور کے آخری سال نازل ہوئی۔ یہ وہ وقت تھا جب کہ آپ کی مظلومیت اور بے سروسامانی اپنی آخری انتہا کو پہنچ گئی تھی۔ حتی کہ آپ کے مخالفین آپ کے قتل کی تدبیریں کرنے لگے آپ کو محمد (تعریف کیا ہوا) کے بجائے مذمم (مذمت کیا ہوا) کہتے تھے ۔
اس وقت خبر دی گئی کہ مخالفین اسلام اپنے وقتی اقتدار سے خوش نہ ہوں ۔ محمد بن عبداللہ کا معاملہ کوئی انسانی معاملہ نہیں، یہ تمام تر خدائی معاملہ ہے۔ خدا بہر حال اپنے منصوبے کو پورا کرے گا، خواہ منکرین اس کے خلاف کتنی ہی کوششیں کر ڈالیں۔ نبی عربی کے ساتھ یہ نہیں ہونا ہے کہ وہ گم نامی کے ساتھ اس دنیا سے چلے جائیں، جیسا کہ اکثر نبیوں کے ساتھ ہوا۔ خدا اپنے نبی کو مکہ سے نکال کر یثرب لے جائے گا اور وہاں اس کے لئے مرکز فراہم کرے گا۔ اس کو اقتدار عطا فرمائے گا جس کے ذریعہ سے وہ باطل کو شکست دے گا۔ خدائی مصالح کے تحت اُن کو اس حد تک کامیاب بنانا ہے کہ وہ محمود خلائق ہو جائیں، ان کو مذمم کہنے والے بہت جلد اپنی زندگی ہی میں ان کو حقیقی معنوں میں محمد اور محمود بنتے ہوئے دیکھیں گے ۔ نبی عربی کے بارے میں خدا کا یہ منصوبہ مکمل طور پر پورا ہوا۔ حتیٰ کہ وہ اس قابل ہو سکے کہ دین خداوندی کی بنیاد پر ایک نئی تاریخ وجود میں لا سکیں ۔
خدا کے رسول، جس طرح دنیا میں لوگوں کے درمیان محمود و ممدوح قرار پائے، اسی طرح میدان حشر میں بھی وہ لوگوں کے درمیان مقام محمود پر فائز ہوں گے۔ محمودیت کے اس آخری اور کامل اظہار کا نام مقام شفاعت ہے۔ دنیا میں آپ کے ذریعہ انسانیت کو ایک عظیم امتحان سے نجات ملی۔ آخرت میں بھی اللہ آپ کے وسیلہ سے لوگوں کو حشر کی ہولناک آزمائش سے نکالے گا اور بلاشبہ یہ ایک ایسا اعزاز ہو گا جو اولین و آخیرین میں کسی کو حاصل نہیں۔