Al-Risala · January 1984

خدا کا وجود

Al-Risala, January 1984, pp. 35–37

By Maulana Wahiduddin Khan

سب سے پہلے اس سوال کو لیجئے کہ اس کائنات کا ایک خدا ہے۔ بعض لوگ اس بات کو نہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ سارا کارخانہ محض ایک اتفاقی حادثے کے طور پر وجود میں آگیا ہے۔ آپ چلا جا رہا ہے۔ یکسلے کے الفاظ میں چھ بندر ایک ایک ٹائپ رائٹر لے کر بیٹھ جائیں۔ اور اربوں کھربوں سال تک الٹ ٹپ طریقے سے ان کو پیٹتے رہیں تو ہو سکتا ہے کہ ان کے سیاہ کئے ہوئے کاغذات کے ڈھیر میں کسی صفحے پر شکسپیر کی ایک نظم نکل آئے۔ اسی طرح اربوں اور کھربوں سال تک مادے کے اندھے عمل کے دوران میں بالکل اتفاق سے یہ دنیا بن گئی ہے۔ یہ جواب جس نے صدیوں سے بہت سے لوگوں کو فریب میں مبتلا کر رکھا ہے، یہ دراصل کوئی جواب نہیں ہے۔ بلکہ محض چند الفاظ کا مجموعہ ہے۔ کیونکہ اتفاق یا حادثہ بذاتِ خود کوئی چیز نہیں ہے۔ پھر جو چیز خود ہی اپنا وجود نہ رکھتی ہو وہ کسی دوسری چیز کو وجود میں لانے کا سبب کس طرح بن یہی وجہ ہے کہ کائنات کی یہ تشریح کائنات کے اوپر بالکل چسپاں نہیں ہوتی۔ ایک بے بنیاد دعویٰ ہے جو ذہنوں میں گھڑ لیا گیا ہے۔ اور کائنات کی حقیقی ساخت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کے برعکس خدا کا تصور کائنات کے ساتھ بالکل ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔ کائنات کے اندر سے بول رہا ہے۔

کائنات اتنی پر حکمت اور اتنی منظم ہے کہ اس کا تصور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ کسی اتفاقی حادثے کے طور پر وجود میں آگئی ہو۔ زمین پر جاندار چیزوں کی بقا کے لئے جو حالات ضروری ہیں وہ نہایت مکمل طور پر یہاں موجود ہیں۔ کیا محض اتفاق کے نتیجے میں اتنے عمدہ حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ کائنات میں نشانیاں زمین اپنے محور پر ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے لٹو کی مانند گھومتی ہے۔ اگر زمین کی رفتار ایک سو میل فی گھنٹہ ہوتی تو ہمارے دن اور رات اب کے دن اور رات سے دس گنا زیادہ لمبے زمین کی تمام ہریالی اور ہماری بہترین فصلیں سو گھنٹے کی مسلسل دھوپ میں جھلس جاتیں اور جو بچ رہتیں وہ لمبی رات میں پالے کی نذر ہو جاتیں۔

سورج جو ہماری زندگی کا سر چشمہ ہے، اپنی سطح پر بارہ ہزار ڈگری فارن ہائٹ سے دہک یہ حرارت اتنی زیادہ ہے کہ بڑے بڑے پہاڑ بھی اس کے سامنے جل کر راکھ ہو جائیں گے۔ مگر وہ ہماری زمین سے اتنے مناسب فاصلے پر ہے کہ یہ " کائناتی انگیٹھی" ہمیں ہماری ضرورت سے ذرہ بھر زیادہ گرمی نہ دے سکے۔ اگر سورج دگنے فاصلہ پر چلا جائے تو زمین پر اتنی سردی پیدا ہوگی کہ ہم سب لوگ جم کر برف ہو جائیں گے۔ اور اگر وہ آدھے فاصلے پر آ جائے تو زمین پر اتنی حرارت پیدا ہوگی کہ تمام جاندار اور تمام پودے جل بھن کر خاک ہو جائیں گے۔ زمین کا کرہ فضا میں سیدھا کھڑا نہیں ہے بلکہ ۲۳ درجے کا زاویہ بناتا ہوا ایک طرف جھکا ہوا ہے یہ جھکاؤ ہمیں ہمارے موسم دیتا ہے اور اس کے نتیجے میں زمین کا زیادہ سے زیادہ حصہ آباد کاری کے قابل ہو جاتا ہے اور مختلف قسم کی نباتات اور پیداوار حاصل ہوتی ہیں۔ اگر یہ جھکاؤ نہ ہوتا تو سمندر سے اٹھتے ہوئے بخارات سیدھے شمال یا جنوب کو چلے جاتے اور ہمارے براعظم برف سے ڈھکے رہتے۔ چاند ہم سے تقریبا ڈھائی لاکھ میل کے فاصلے پر ہے۔ اس کے بجائے اگر وہ صرف پچاس ہزار میل دور ہوتا تو سمندروں میں مدو جزر کی لہریں اتنی بلند ہوتیں کہ تمام کرہ ارض دن میں دو بار پانی میں ڈوب جاتا اور بڑے بڑے پہاڑ موجوں کے ٹکرانے سے گھس کر ختم ہوجاتے۔

یہ ہماری کائنات کے چند نہایت معمولی اور بالکل سادہ واقعات ہیں۔ ان کے سوا بے شمار ایسے واقعات ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ ہماری زمین پر ان کا اجتماع محض اتفاقی طور پر نہیں

کہ جب بھی ہم اس کے کسی واقعہ کو بیان کرتے ہیں تو در حقیقت ہم اس کو محدود کر دیتے ہیں۔ کے ایک ایک جز ء کے اندر اتنی حکمتیں ہیں کہ جب بھی ہم اس کی کسی حکمت کا ذکر کرتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا ہم اس کو ایک کمتر درجے کی چیز بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ ایسی ایک کائنات کو خدا کی مخلوق ماننا اگر کسی کو خلافِ عقل معلوم ہوتا ہے تو اس سے زیادہ خلافِ عقل بات یہ ہے کہ اس کائنات کو بے خدا فرض کر لیا جائے۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر خدا نے سب چیزیں پیدا کی ہیں تو خود خدا کو کس نے پیدا کیا ہے۔ مگر یہ ایک ایسا سوال ہے جو ہر حال میں پیدا ہوتا ہے۔ خواہ ہم خدا کو مانیں یا نہ مانیں۔ ہم دو میں سے کسی ایک چیز کو بلا سبب ماننے پر مجبور ہیں۔ یا خدا کو بے سبب مانیں یا کائنات کو۔ ایک عظیم کائنات ہے جس کو ہم دیکھتے ہیں، جس کو ہم محسوس کرتے ہیں۔ ہم مجبور ہیں کہ اس کائنات کے وجود کو تسلیم کریں۔ ہم اس کا انکار نہیں کر سکتے۔ پھر ہم یا تو یہ کہیں کہ کائنات خود سے وجود میں آگئی ہے یا یہ کہیں کہ کوئی اور ہستی ہے جس نے اس کو بنایا ہے۔ دونوں صورتوں میں ہم کسی نہ کسی کو بلا سبب تسلیم کریں گے۔ پھر کیوں نہ ہم خدا کو بلا سبب مان لیں جس کو ماننے کی صورت میں ہمارے تمام سوالات کا جواب مل جاتا ہے۔ جبکہ کائنات کو بلا سبب ماننے کی شکل میں کوئی مسئلہ حل نہیں وہ تمام سوالات جو اس مسئلہ کے ارد گرد پیدا ہوتے ہیں وہ سب کے سب بدستور باقی رہتے

بعض لوگوں نے فلسفیانہ موشگافی کے ذریعہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ کائنات کوئی چیز ہی نہیں ہے۔ سب کچھ صرف ہمارا وہم ہے۔ مگر ایک شخص جب یہ بات کہتا ہے تو ٹھیک اسی وقت وہ کائنات کے وجود کو تسلیم کر لیتا ہے۔ آخر یہ سوال ہی کیوں پیدا ہوا کہ کائنات کوئی چیز ہے یا نہیں۔ سوال کا پیدا ہونا خود ظاہر کرتا ہے کہ کوئی چیز ہے جس کے بارے میں سوال درپیش اور کوئی ہے جس کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو رہا ہے ۔ اس طرح فلسفہ تشکیک بیک وقت انسان اور کائنات دونوں کو تسلیم کر لیتا ہے۔

Printed page