Al-Risala · August 1984

کہاں سے کہاں تک

Al-Risala, August 1984, pp. 10–11

By Maulana Wahiduddin Khan

۵ رمضان ۱۴۰۴ ھ کو میں دہلی کے ایک جنازہ میں شریک ہوا۔ موت کے بعد مرنے والے شخص کو نہلایا گیا۔ اس کو نئے کپڑے کا کفن پہنایا گیا۔ لوگوں نے کھڑے ہو کر اس کی نماز جنازہ پڑھی اور پھر میت کو اپنے کاندھوں پر لے کر چلے۔ اں تک کہ قبر میں احترام کے ساتھ لٹا کر اس کو ڈھک دیا گیا۔ میں نے سوچا کہ ایک مردہ جسم کے ساتھ اتنے زیادہ اہتمام کا حکم اسلام نے کیوں دیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مرنے کے بعد انسان کا جسم مٹی کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا، مگر اس کو عام مٹی کی طرح ادھر اُدھر پھینک نہیں دیا جاتا بلکہ اس کے ساتھ باقاعدہ انسان کا سا سلوک کیا جاتا ہے۔ "مٹی" کے ساتھ "انسان" جیسا معاملہ کرنے کا حکم مرنے والے کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ زندہ رہنے والے کے اعتبار سے ہے۔ کے ذریعہ زندہ انسانوں کو یہ سبق دیا جاتا ہے کہ بالآخر ان کا انجام کیا ہونے والا ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ زندہ لوگ مرنے والے کے روپ میں خود اپنے آپ کو دیکھیں۔ وہ موت سے پہلے موت کا تجربہ کریں۔ یہ تجربہ اس طرح بھی ممکن تھا کہ ایک مقرر دن کو کا غذ کا انسانی پتلا بنایا جائے اور اس کے ساتھ تمام رسوم ادا کر کے اس کو مٹی کے گڑھے میں ڈال دیا جائے۔ اسلام نے اس تجربہ کو حقیقی بنانے کے لئے حقیقی انسان کے مردہ جسم کو استعمال کیا۔

ایک انسان ہماری طرح ایک زندہ انسان تھا۔ چلتے چلتے اس کے قدم جواب دے گئے۔ اس کی زبان بند ہو گئی۔ دیکھتے دیکھتے اس کی آنکھیں بے نور ہو گئیں۔ لوگوں کے نزدیک اس کی جو قیمت تھی وہ سب اچانک ختم ہو گئی۔ اب خدا اس واقعہ کو استعمال کرتا ہے تاکہ اپنے جیسے ایک انسان کے ذریعہ لوگوں کو زندگی کا سبق یاد دلا دے۔

لوگ اس کو اہتمام کے ساتھ تیار کرتے ہیں اور پھر لے کر چلتے ہیں۔ یہاں تک کہ آخری مرحلہ میں پہنچ کر جب اس کو قبر کے گڑھے میں لٹا دیا جاتا ہے تو ہر آدمی یہ کرتا ہے کہ تین بار اپنے ہاتھ میں مٹی لے کر قبر میں ڈالتا پہلی بار مٹی ڈالتے ہوئے وہ کہتا ہے منھا خلقناکم (اسی سے ہم نے تم کو پیدا کیا) جب وہ دوسری بار مٹی ڈالتا ہے تو کہتا ہے وفیھا نعید کم (اسی میں ہم تم کو دوبارہ ڈالیں گے) اور پھر تیسری بار مٹی ڈالتے ہوئے وہ کہتا ہے ومنھا نخرجکم تارة اخریٰ (اور اسی سے ہم تم کو دوبارہ نکالیں گے) یہ تین بار مٹی ڈالنا اس پورے قصہ کا کلا ئمکس ہے۔ اس طرح ایک زندہ واقعہ کے ذریعہ بتایا جاتا ہے انسان کیا ہے اور اس کا آخری انجام کیا۔

اپنے ذہن کا قصور قرآن کی سورہ نمبر4 کی ایک آیت حسب ذیل ہے :

افلا يتدبرون القرآن ولو كان من کیا لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے۔ اور اگر وہ اللہ کے عند غير الله لوجدوا فيه اختلافا كثيرا سواکسی اور کی طرف سے ہوتا تو یقیناً وہ اس میں النساء ۸۲ بہت زیادہ اختلاف پاتے مولانا محمود حسن دیوبندی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

" اس میں اس کی طرف بھی اشارہ ہو گیا کہ جو تدبر اور وہم سے کام نہ لے وہ قرآن میں شبہات اور اختلافات کا فہم چلا سکتا ہے۔ مگر فہم ایسا نہیں کر سکتا۔ دیکھو، جو اسی مقام میں تدبر نہ کرے وہ کہہ سکتا ہے کہ اول توفرمایا قل كل من عند الله کہو کہ سب اللہ کی طرف سے ہے، اور پھر فرما دیا وما أصابك من سيئة فمن نفسك (اور تجھ کو جو برائی پہنچے وہ تیرے نفس کی طرف سے ہے) سو یہ تو تناقض اور اختلاف ہوگیا۔ تفسیر قرآن، صفحہ ۱۱ انسان کا علم محدود ہے۔ اس لئے اکثر اوقات وہ ایسی رائے قائم کر لیتا ہے جو صرف اس کے ذہن میں ہوتی ہے۔ اس کے اپنے ذہن کے باہر اس کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔ اس لئے سنجیدگی اور ذمہ داری کا تقاضا ہے کہ آدمی پوری طرح سمجھے بغیر کوئی رائے قائم نہ کرے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ کوئی خبر معلوم ہو تو پہلے اس کی تحقیق کرو۔ جب بھی کسی کے بارہ میں کوئی ایسی بات سامنے آئے جس سے اس کی ذات یا اس کے کام کے متعلق بری رائے قائم ہوتی ہو تو محض ایک بار سن کر اس کو مان لینا صحیح نہیں۔ آدمی کو چاہئے کہ یا تو اس کے بارہ میں چپ رہے یا قابل اعتماد ذرائع سے اس کی تحقیق کرے ۔ جب تحقیق سے بات پوری طرح ثابت ہو جائے اس کے بعد اس کو حق پہنچتا ہے کہ اس کو مانے یا اس کو بیان کرے ۔

ضروری تحقیق کے بغیر کسی کے متعلق بری رائے قائم کرنا اللہ کے نزدیک گناہ ہے۔ میں اس کا نقصان یہ ہے کہ سماج کے اندر ایک دوسرے کے خلاف بے بنیاد غلط فہمیاں پیدا غیر ضروری شکائیں وجود میں آتی ہیں۔ لوگوں کے دل ایک دوسرے سے دور ہوتے ہیں اور آپس میں ایسا اختلاف پیدا ہوتا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔

Printed page