غیر مشرکین کا شرک
Al-Risala, August 1984, pp. 12–13
By Maulana Wahiduddin Khan
قدیم زمانہ میں اللہ کے جو پیغمبر اٹھے ان سب کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا کہ ہر ایک کو ان کے متتبعین نے رد کر دیا۔ ان کو حقیر جانا ، ان کی مخالفت میں ہر وہ چارہ کارروائی کی جو وہ کر سکتے تھے۔ یہ مخالفت اس قسم کی نہیں تھی جو موجودہ زمانہ میں ان ملکوں کی سیاسی پارٹیوں کے ساتھ دکھائی دیتی ہے جہاں کوئی ڈکٹیٹر حکومت کے تخت پر قابض ہو ۔ اس مخالفت کی وجہ سیاسی نہیں بلکہ تمام تر لوگوں نے غیر خدا کے ساتھ اپنے قلبی جذبات کو وابستہ کر لیا تھا۔ وہ کسی غیر خدا کو عظمت اور تقدس کا مقام دئے ہوئے تھے۔ جب پیغمبر ایک خدا کی معبودیت کا اعلان کرتا اور دوسرے تمام معبودوں کو بے حقیقت قرار دیتا تو اس سے لوگوں کے دل پر چوٹ پڑتی ، وہ اپنے بت کو ٹوٹتا ہوا دیکھ کر لڑنے کے لئے کھڑے ہو جاتے۔
قرآن سے یہ ثابت ہے کہ خدا کے جتنے پیغمبر آئے سب کا مشترک پیغام یہ تھا کہ اے لوگو ، ایک خدا کو اپنا الہ بناؤ اور اسی کی عبادت کرو (اعبد و اللہ مالکم من اله غيره) یہ واضح طور پر ایک غیر سیاسی اس سے مراد یہ تھا کہ آدمی صرف ایک خدا سے ڈرے اور اسی سے محبت کرے۔ صرف ایک خدا کو وہ اپنی عقیدت اور توجہ کا مرکز بنا لے ۔
کسی انسان کی زندگی میں اصل اہمیت کی چیز یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے سوچ اور جذبات کا مرکز کس کو جس ہستی کو آدمی اس طرح اپنا مرکز توجہ بنائے وہی اس کا معبود ہے۔ پیغمبر یہ بتانے کے لئے آئے کہ موجودہ دنیا میں جو شخص اپنی توجہات کا مرکز خدا کو بناتا ہے وہی ہدایت پر ہے اور موت کے بعد کی زندگی میں وہی کامیاب ہوگا۔ اس کے برعکس جو شخص اپنی توجہات کا مرکز کسی اور کو بنائے وہی وہ شخص ہے جو راہ سے بے راہ ہو گیا۔ اس کے لئے آخرت میں خدا کا انعام پانا مقدر نہیں۔ خدا کے سوا جن چیزوں کو اپنا مرکز توجہ بنایا جاتا ہے وہ عام طور پر چند ہیں۔ فطرت کے نمایاں مظاہر ، مثلاً سورج ، چاند ، ستارے وغیرہ قوم کے اکابر ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو تاریخی اسباب کے تحت "بڑا" سمجھ لیا جاتا ہے۔ اور پھر ان کے گرد عظمت و تقدس کی فرضی داستانیں جمع ہونے لگتی ہیں ، یہاں تک کہ لوگوں کے ذہنوں میں ان کی ایک افسانوی تصویر بن جاتی ہے ، جس کا ابتدائی حقیقی شخصیت سے کوئی تعلق نہیں
یہی معاملہ کبھی قومی تاریخ کے ساتھ پیش آتا ہے۔ جن لوگوں کا ماضی شاندار رہا ہو، وہ بعد کے دور میں عام طور پر اپنی تاریخ کی پرستش میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ ان کے لئے ان کی قومی تاریخ حرکت کا سرچشمہ (Source of inspiration) بن جاتی ہے۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے سچے مومن کے لئے اس کا عقیدہ خدا اس کے حرکت کا سرچشمہ ہوتا ہے۔
اس قسم کی تمام صورتیں شرک کی صورتیں ہیں۔ پیغمبر چونکہ غیر خدا کی پرستش کے تمام طریقوں کو غلط قرار دیتے ہیں اور ان کو بے بنیاد ثابت کرتے ہیں، اس لئے لوگ ان سے بگڑ جاتے ہیں۔ قدیم زمانہ میں پیغمبروں کی مخالفت حقیقتہ اسی قسم کے جھوٹے معبودوں پر تنقید کی بنا پر ہوتی تھی نہ کہ کسی سیاسی وجہ سے۔ آج بھی یہ منظر ہر جگہ دیکھا جاسکتا ہے۔ آج اگر چہ مظاہرِ فطرت کی پرستش کم ہوگئی ہے تا ہم بقیہ دونوں پرستشیں پورے عروج پر ہیں۔ کہیں اپنے اکابر کی اور کہیں قومی تاریخ کی۔ آج بھی بے شمار لوگ مشرکانہ نفسیات میں مبتلا ہیں۔ خواہ بظاہر وہ اپنے آپ کو مشرک نہ مانتے ہوں۔ کسی شخص کا معبود کیا ہے، اس کی خاص پہچان یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ وہ سب سے زیادہ کس کا تذکرہ کرتا ہے۔ ایک شخص سب سے زیادہ جس چیز کا تذکرہ کرتا ہو، جس کو بڑا ظاہر کر کے اسے لذت ملتی ہو، جس کی یاد سے اس کی روح غذا پاتی ہو، وہی اس کا معبود ہے۔ جس شخص کی زندگی میں یہ مقام خدا کو حاصل ہو وہ موحد ہے اور جس کی زندگی میں خدا کے سوا کوئی اور یہ مقام حاصل کرلے وہ مشرک۔ لوگ خدا کے سوا جس کو اپنا معبود بنا لیں اس کے خلاف وہ کوئی بات سننا پسند نہیں کرتے۔ وہ اس وقت تک بالکل ٹھیک دکھائی دیتے ہیں جب تک ان کے مفروضہ معبودوں کو کچھ نہ کہا گیا ہو مگر جیسے ہی ان کی محبوب شخصیت پر تنقید کی جائے یا ان کی پر فخر تاریخ پر کوئی اظہار رائے کیا جائے، وہ فوراً بپھر اٹھتے ہیں۔ قدیم زمانہ میں پتھر کے بت ہوا کرتے تھے۔ موجودہ زمانہ میں لوگوں نے نفسیاتی بت بنا لئے ہیں۔ آج کا انسان اپنے نفسیاتی بت کے ٹوٹنے پر اسی طرح شدید رد عمل کا اظہار کرتا ہے جس طرح قدیم زمانے کے مشرک اپنے پتھر کے بتوں کے ٹوٹنے پر شدید رد عمل ظاہر کرتے تھے۔ جب آدمی دوسری چیزوں سے اس طرح محبت کرے جس طرح محبت خدا سے کرنا چاہئے، جب دوسری شخصیتوں سے اس کو وہ قلبی وابستگی ہو جائے جس کا حقدار صرف اس کا خدا ہے تو یہی غیر خدا کو اپنا خدا بنانا ہے۔ ایسے تمام لوگ خدا کے نزدیک شرک کے مجرم ہیں، خواہ دنیا میں بظاہر وہ دین اور توحید کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہوں۔