Al-Risala · January 1984

خدا کے ساتھ ہمارا تعلق

Al-Risala, January 1984, pp. 37–30

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا کو ماننے کے بعد فورا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ ہمارا تعلق کیا ہے پچاس سال پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ اگر خدا کا کوئی وجود ہے بھی تو اس سے ہمارا تعلق نہیں ہو سکتا۔ مگر جدید کوانٹم نظریہ کے ذریعہ خود سائنس نے اس کی تردید کر دی ہے پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ کائنات

ایک مشین ہے جو ایک مرتبہ حرکت دینے کے بعد مسلسل چلی جارہی ہے۔ اس نظریہ پر سائنس دانوں کو اس قدر یقین تھا کہ انیسویں صدی کے آخر میں برلن کے پروفیسر میکس پلانک (Max Planck) نے جب روشنی کے متعلق بعض ایسی تشریحات پیش کیں جو کائنات کے مشین ہونے کو غلط ثابت کررہی تھیں تو اس پر سخت تنقیدیں ہونے لگیں اور اس کا مذاق اڑایا گیا۔ نظریے کو زبردست کامیابی ہوئی اور بالآخر وہ ترقی کرکے نظریہ مقادیر برقیات Quantum Theory کی صورت میں آج علم طبیعیات کے اہم اصولوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ پلانک کا نظریہ اپنی ابتدائی شکل میں یہ تھا کہ قدرت چھلانگوں کے ذریعہ حرکت کرتی ہے۔ 1917 میں آئن سٹائن نے اس بات کی وضاحت کی کہ پلانک کا نظریہ صرف عدم تسلسل Discontinuity کو ثابت نہیں کرتا بلکہ زیادہ انقلاب انگیز نتائج کا حامل ہے۔ یہ اصولِ تعلیل کو اس کے بلند مقام سے معزول کر رہا ہے۔ جو اس سے پہلے عالم فطرت کے تمام واقعات کا واحد رہنما سمجھا جاتا تھا۔ قدیم سائنس نے بڑے وثوق سے اعلان کیا تھا کہ قدرت صرف ایک ہی راستہ اختیار کر سکتی ہے جو سبب اور نتیجے کی مسلسل کڑیوں کے مطابق اس کے آغاز سے لے کر انجام تک معین ہو چکا ہے۔ مگر اب معلوم ہوا کہ یہ محض ناقص مطالعہ کا نتیجہ تھا۔ پہلے یہ کہا جاتا تھا کہ خدا کو اگر ماننا ہی ہے تو سبب اول کی حد تک اسے مان لو ورنہ آج کائنات کو خدا کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اب معلوم ہوا کہ کائنات صرف حرکت اول ہی کے لئے کسی محرک کی محتاج نہیں رکھتی بلکہ وہ ہر آن حرکت دئیے جانے کی محتاج ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ بتاتا ہے کہ کائنات ایک خود چالو مشین نہیں ہے بلکہ وہ ایک ایسی مشین ہے جس کو ہر آن چلایا جا رہا ہے گویا ایک حیی و قیوم ہستی کا مسلسل فیضان ہے جو اس کو باقی رکھے ہوئے اگر ایک لمحے کے لئے بھی وہ اپنا فیضان واپس لے لے تو ساری کائنات اس طرح ختم ہو جائے گی جیسے سینما گھر میں بجلی کا سلسلہ ٹوٹنے سے پردہ سیمین کے سارے واقعات غائب ہو جاتے ہیں اور ناظرین کے سامنے ایک سفید کپڑے کے سوا اور کچھ نہیں رہتا۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اس دنیا کا ہر ذرہ اپنے وجود اور حرکت کے لئے ہر آن قادر مطلق سے اجازت طلب کرتا ہے۔ اس کے بغیر وہ اپنی ہستی کو قائم نہیں رکھ سکتا۔

کائنات کے ساتھ خدا کا یہ تعلق خود بتاتا ہے کہ انسان کے ساتھ اس کا تعلق کیا ہونا چاہئے۔ ے تفصیل کیلئے ملاحظہ ہو۔ ماڈرن سائنس لفت تھاٹ، صفحات ۱۲ - ۲

ظاہر ہے کہ جس نے ہمیں خلق کیا ہے، جو ہمارے لئے تمام موزوں ترین حالات کو مسلسل باقی رکھے ہوتے ہیں اور ان کو ہمارے حق میں ہموار کرتا رہتا ہے۔ جو ہر آن ہماری پرورش کر رہا ہے۔ کا ہمارے اوپر یہ لازمی حق ہے کہ ہم اپنے مقابلے میں اس کی بر تر حیثیت کو تسلیم کریں۔ اس کے بندے بن جائیں۔ انسان جن قدروں سے واقف ہے ان میں سب سے نمایاں اور اہم ترین قدر یہ ہے کہ احسان کرنے والے کا احسان مانا جائے۔ محسن خواہ اپنی طرف سے نہ دبائے مگر جو احسان مند ہے وہ خود اس کے سامنے دب جاتا ہے، محسن کے آگے اس کو نظر اٹھانے کی ہمت

اس کے معنی یہ ہیں کہ خدا کا خدا ہونا خود ہی اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم اس کی خدائی کو تسلیم کریں اور اس کی مرضی پوری کرنے کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں۔ بندے کی طرف سے خدا کی اطاعت کے لئے اس کے سوا کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں۔

مگر بات صرف اتنی ہی نہیں ہے۔ یہ صرف حق شناسی کا تقاضا نہیں ہے کہ ہم خدا کی خدائی اور اس کے مقابلے میں اپنی بندگی کو تسلیم کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے لئے اس کے سوا کوئی راہ بھی نہیں ہے۔ ہماری زندگی کے سارے مسائل خدا سے متعلق ہیں۔ ہم کو جو کچھ ملے گا، اسی سے اس کے سوا کوئی اور ہمیں کچھ نہیں دے سکتا۔ ہم اس کائنات میں اس قدر عاجز اور مجبور ہیں کہ خدا کی مدد کے بغیر ایک لمحہ کے لئے اپنا وجود باقی نہیں رکھ سکتے۔ پھر خدا کو چھوڑ کر آخر ہم اور کہاں جا

ذرا غور کیجئے، یہ ہندوستان کی شمالی سرحد پر ہمالیہ پہاڑ کا ڈھائی ہزار میل لمبا سلسلہ کس نے قائم کیا ہے۔ ہم نے یا خدا نے۔ اگر ہمالیہ پہاڑ نہ ہوتا تو خلیج بنگال سے اٹھنے والی جنوب مشرقی ہوائیں جو ہر سال ہمارے لئے بارش لاتی ہیں۔ بالکل پانی نہ برساتیں۔ وہ سیدھی روس کی طرف نکل جاتیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ تمام شمالی ہندوستان منگولیا کی طرح ریگستان ہوتا۔ آپ کو معلوم ہے کہ سورج اپنی غیر معمولی کشش سے ہماری زمین کو کھینچ رہا ہے، اور زمین ایک مرکز گریز قوت (Centrifugal Force) کے ذریعہ اس کی طرف کھنچ جانے سے اپنے آپ کو روکتی اس طرح وہ سورج سے دور رہ کر فضا کے اندر اپنا وجود باقی رکھے ہوئے ہے۔ اگر کسی دن زمین کی یہ قوت ختم ہو جائے تو وہ تقریباً چھ ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سورج کی طرف کھینچنا شروع ہو جائے گی، اور چند ہفتوں میں سورج کے اندر اس طرح جا گرے گی جیسے کسی بہت بڑے

آلود کے اندر کوئی تنکا گر جائے ۔ ظاہر ہے کہ زمین کو یہ طاقت ہم نے نہیں دی ہے بلکہ اس خدا نے دی ہے جس نے زمین کو پیدا کیا ہے۔

کائنات کے جس حصے میں ہم رہتے ہیں اس کا نام نظام شمسی ہے ، اگر آپ کسی دور دراز مقام پر بیٹھ کر اس نظام کا مشاہدہ کرسکیں تو آپ دیکھیں گے کہ اتھاہ خلا کے اندر ایک آگ کا گولابھڑک رہا ہے جو ہماری زمین سے تیرہ لاکھ گنا بڑا ہے۔ جس سے اتنے بڑے بڑے شعلے نکلتے ہیں جو کئی کئی لاکھ میل تک فضا میں اڑتے چلے جاتے ہیں ، اسی کا نام سورج ہے۔ پھر آپ ان سیاروں کو دیکھیں گے جو سورج کے چاروں طرف اربوں میل کے دائرے میں پروانوں کی طرح چکر لگارہے ہیں۔ ہوئی دنیاؤں میں ہماری زمین نسبتاً ایک چھوٹی دنیا ہے جس کی گولائی تقریباً پچاس ہزار میل ہے۔ نظام شمسی ہے جو بظاہر بہت بڑا معلوم ہوتا ہے ۔ مگر کائنات کی وسعت کے مقابلے میں اس کی کوئی حیثیت

کائنات میں اتنے بڑے بڑے ستارے ہیں جن کے اوپر ہمارا پورا نظام شمسی رکھا جاسکتا ہے۔ بے انتہا وسیع اور عظیم کائنات میں ہماری زمین فضا میں اڑنے والے ایک ذرے سے بھی زیادہ حقیر ہے۔ ہم ایک چھوٹے سے کیڑے کی مانند اس ذرے سے چمٹے ہوئے ہیں اور خلا میں ایک کبھی نہ ختم ہونے والے سفر میں مصروف ہیں۔

یہ کائنات کے اندر ہماری حیثیت ہے ۔ غور کیجئے انسان کس درجہ حقیر ہے ۔ وہ خارجی طاقتوں کے مقابلے میں کس قدر عاجز ہے ۔ پھر حبیب ہماری حیثیت یہ ہے تو ہم خالق کائنات سے مدد طلب کرنے کے سوا اور کیا کر سکتے ہیں۔ جس طرح ایک چھوٹے بچے کی ساری کائنات اس کے ماں باپ ہوتے ہیں ۔ اس کی زندگی ، اس کی ضرورتوں کی تکمیل اور اس کے مستقبل کا انحصار بالکل اس کے والدین کے اوپر ہوتا ہے۔ اسی طرح بلکہ اس سے کہیں زیادہ انسان اپنے رب کا محتاج ہے۔ خدا کی مدد اور اس کی رہنمائی کے بغیر اپنے لئے کسی چیز کا تصور نہیں کر سکتے ۔ وہی ہمارا سہارا ہے اور اسی کی طرف ہمیں دوڑ نا چاہئے۔

اس تفصیل سے یہ بات واضح ہو گئی کہ انسان خدا کی رہنمائی اور اس کی مدد کا محتاج ہے ۔ خدا کے مقابلے میں انسان کی یہی حیثیت قرار پاتی ہے اور خود انسان کے لئے بھی اس کے سوا چارہ نہیں ہے کہ وہ خدا سے اپنے لئے مدد اور رہنمائی کی درخواست کرے۔ یہ حقیقت پسندی ہے اور حقیقت پسندی بلاشبہ انسان کی سب سے بڑی خوبی ہے۔

یہ حقیقت پسندی ہے اور حقیقت پسندی بلاشبہ انسان کی سب سے بڑی صفت

Printed page