گروہ بندی
Al-Risala, August 1984, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
ائمہ اربعہ نے ضرورت کے احساس کے تحت بہت سے نئے مسائل وضع کئے ۔ مگر وہ کتاب اور ۔ سنت ہی کو دین کا اصل مرجع سمجھتے تھے۔ ان کو کبھی گمان نہ تھا کہ ان کے وضع کردہ مسائل دین کا مقام حاصل کرلیں گے۔ چنانچہ وہ کہتے تھے کہ کسی شخص کے لئے جائز نہیں کہ وہ ہمارے قول پر فتویٰ دے بغیر اس کے کہ اس کو ہماری دلیل کا علم حاصل ہو (لا يجوز لاحد ان يقول قولنا من غير ان يعرف
مگر بعد کے زمانہ میں یہ صورت باقی نہ رہی حتی کہ وہ وقت آیا کہ لوگ بس اپنے امام کے قول کو سب کچھ سمجھنے لگے۔ انسانی فقہ نے خدائی شریعت کی جگہ لے لی۔ اب امام کی نئی کو یہ کہنے کی جرأت ہوتی کہ ہر آیت یا حدیث جو اس سے ٹکراتی ہو جس پر ہمارے اصحاب ہیں وہ یا تو قابل تاویل ہے یا منسوخ ہو چکی ہے۔ (كل آية او حديث يخالف ما عليه اصحابنا فهو مؤول اومنسوخ، فقہ السنة، مجلدا ول،
جب قوم پر گراوٹ کا یہ دور آتا ہے اسی وقت اس کے اندر تخریب پیدا ہو جاتا ہے۔ اپنے مسلک کو اصل دین سمجھنے لگتا ہے۔ قوم مختلف قسم کے متارب فرقوں میں بٹ جاتی ہے۔ دین کا اصل سرال لوگوں کے ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے۔ ہر ایک کا وہ حال ہو جاتا ہے جو قرآن کی اس آیت میں بیان کیا گیا ہے: وتقطعوا امرهم بينهم زبراً كل حزب بمالديهم فرحون)