Al-Risala · August 1984

سبق آموز

Al-Risala, August 1984, pp. 19–20

By Maulana Wahiduddin Khan

فتح پور سیکری شہنشاہ اکبر (۱۶۰۵ - ۱۵۶۳) کا دارالسلطنت تھا۔ یہ اگرہ سے ۴۵ کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ یہاں دوسری بہت سی عمارتوں کے ساتھ ایک شاہی ”عبادت خانہ“ بھی تھا۔ عبادت خانہ اکبر کے بعد زمین کے نیچے دب گیا اور اس کے اوپر گھاس اور درخت اگ آئے۔ حکومت ہند کے محکمہ آثار قدیمہ اور مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ کے مشترک منصوبہ کے تحت اس کی کھدائی کی گئی ہے اور اس کو باہر نکالا گیا ہے (ٹائمس آف انڈیا ۸ جون 1984)

اس عبادت خانہ میں شہنشاہ اکبر علماء کی صحبت میں بیٹھا کرتا تھا۔ اور ان سے مذہب کے موضوعات پر گفتگو کرتا تھا۔ یہیں اس نے اپنا مشہور ”دین الہی“ وضع کیا۔ اس کا خیال تھا کہ ہندوستان میں مختلف مذاہب کے ماننے والے بستے ہیں۔ اس لئے کسی ایک مذہب کی بنیاد پر یہاں سیاسی استحکام حاصل نہیں کیا

اس نے یہ رائے قائم کی کہ اس ملک میں مغل سلطنت کی بنیاد اس وقت تک مضبوط نہیں ہو سکتی جب تک یہاں کے لوگوں کا مذہب ایک نہ ہو جائے۔ تبلیغ کے ذریعہ مذہب کو بدلنا اس کو مشکل نظر آیا۔ چنانچہ اس نے ایک نیا مذہب (دین الہی) ایجاد کیا۔ جس میں بزعم خود اس نے تمام مذاہب کی خصوصیات جمع کرنے کی کوشش کی۔ اس کا خیال تھا کہ یہ نیا مذہب اپنی مشترک خصوصیات کی بنا پر ملک کے تمام باشندوں کے لئے قابل قبول ہو جائے گا۔

دین الہی کی تصنیف کے دوران اس کو عیسائی مذہب کے بارے میں جاننے کی ضرورت پیش آئی۔ اس نے پرتگال کے عیسائی بادشاہ کو خط لکھا کہ اس کو انجیل کے فارسی ترجمے کی ضرورت ہے۔ نے یہ فارسی ترجمہ بھیج دیا۔ تاہم اس کا مطالعہ اکبر کے لئے کافی نہ ہوسکا۔ اس کے بعد اکبر نے پوپ (روم) کو لکھا کہ مسیحیت کی تعلیم کے لئے اس کے پاس معلم بھیجے جائیں۔ پوپ نے فوراً دو تربیت یافتہ افراد ہندوستان

ایک فادر اکوا و یوا (Fr. Acquaviva) اور دوسرا فا در مانسر یٹ (Fr. Monserrate) یہ دونوں صاحبان ۲۸ فروری ۵۸۰۶۱ کو فتح پور سیکری پہنچے۔ ”اکبر نامہ کی ایک پینٹنگ میں اکبر ان عیسائی معلمین سے محو گفتگو نظر آتا ہے۔

اکبر نے ان دونوں عیسائی معلمین کو شاہی عبادت خا کے پاس " خوشبو خانہ " میں ٹھہرایا۔ یہ دونوں مسیحی صرف " معلم " نہ تھے۔ بلکہ وہ اپنے مذہب کے تربیت یافتہ مبلغ تھے۔ چنانچہ انھوں نے نہایت ہوشیاری کے ساتھ خوشبو خانہ کو گرجا گھر میں تبدیل کر دیا۔ یہ شمالی ہند کا پہلا گر جا گھر تھا جو اکبر کے زمانہ میں قائم ہوا۔

تاریخ بتاتی ہے کہ نادر اکوا و یوانے پوپ کو جورپورٹ بھیجی تھی اس میں اس نے لکھا کہ میرا احساس یہ ہے کہ اکبر ذہنی طور پر اس کے لئے تیار ہو رہا ہے کہ وہ مسیحیت کو قبول کرلے۔ مگر اس سے اکبر کا اصل مقصد (سلطنت کا استحکام) حاصل نہیں ہوتا تھا۔ اس لئے اکبر ایسے اقدام سے باز نہ رہا۔ اس واقعہ میں دو بڑے سبق ہیں۔ ایک سبق یہ کہ دولت اور اقتدار کا حصول اکثر عقل سے محرومی کی قیمت پر ہوتا ہے۔ کسی آدمی کو جب دولت اور اقتدار مل جاتا ہے تو اکثر اس کو وہ ایسے کاموں میں ضائع کرتا ہے جس کا کوئی نتیجہ نکلنے والا نہیں۔ شہنشاہ اکبر نے سیاسی خوش خیالی تحت " دین الہی " وضع کیا اس پر اس نے سلطنت کے بے پناہ وسائل خرچ کئے۔ حالاں کہ اس کا انجام بالاخر یہ ہونا تھا کہ وہ تاریخ کے ملبہ کے نیچے دب کر رہ جائے اور آثار قدیمہ کے طالب علموں کے سوا کسی اور کو اس سے دل چسپی

دوسرا سبق دعوتی ہے۔ اکبر نے پوپ سے مسیحی معلم مانگے اور اس نے فوراً دو تیار شدہ افراد اس کے پاس بھیج دئے۔ جب کہ مسلمانوں سے جدید دور میں بار بار یہی تقاضا کیا گیا ہے مگر وہ اس تقاضے کو کبھی پورا نہ کر سکے۔ مسیحی ادارے اپنی مشنری اسپرٹ کی وجہ سے سیکڑوں سال سے اس پوزیشن میں ہیں کہ مشرق و مغرب میں اپنے تربیت یافتہ افراد بھیج سکیں ۔ جب کہ مشنری اسپرٹ سے محروم ہو کر مسلمانوں کا یہ حال ہورہا ہے کہ ان کے پاس نہ مشرقی ضرورت کے مطابق خدا کے دین کے مبلغ موجود ہیں اور نہ مغربی ضرورت کے مطابق۔

دور جدید میں مسلمانوں کی بربادی کا واحد سب سے بڑا سبب یہی ہے۔ مسلمانوں کی حیثیت خدا کے گواہ کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کی عملی سرگرمیوں کا اصل نشانہ صرف ایک ہے اور وہ دعوت جن لوگوں کی نظریں اس نشانہ پر جمی ہوئی ہوں وہ اپنے لئے عمل کا صحیح میدان پالیں گے اور جب نظریں اس نشانہ سے ہٹ جائیں تو تمام قوتیں منتشر ہو کر رہ جاتی ہیں۔ اس کے بعد وہ ایک ایسی قوم بن جاتے ہیں جس کا کوئی مقصد نہ ہو۔ وہ ایسا گروہ بن جاتے ہیں جس کا کوئی اقدام نتیجہ خیز ثابت

Printed page