اسلامی انقلاب
Al-Risala, August 1984, pp. 30–24
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت آدم پہلے انسان تھے اور اسی کے ساتھ پہلے پیغمبر بھی۔ بعض روایات کے مطابق حضرت آدم کے بعد تقریباً ایک ہزار سال تک آپ کی نسل توحید اور دین حق پر قائم رہی۔ اس کے بعد ملت آدم میں شرک کا غلبہ ہوگیا (البقره (۲۱۳) حضرت نوح اسی ملت آدم کی اصلاح کے لئے آئے جو اس وقت دجلہ اور فرات کے سرسبز علاقہ میں آباد تھی۔
تاہم حضرت نوح کی طویل کوششوں کے باوجود ملت آدم دوبارہ مشرکانہ دین کو چھوڑنے کے لئے تیار ان میں سے صرف چند آدمی تھے جو حضرت نوح پر ایمان لائے۔ چنانچہ عظیم طوفان آیا اور چند مومنین کو چھوڑ کر باقی تمام لوگ غرق کر دیئے گئے۔ اس کے بعد ملت نوح کے ذریعہ دوبارہ انسانی نسل چلی لیکن دوبارہ وہی قصہ پیش آیا جو اس سے پہلے پیش آچکا تھا۔ کچھ عرصہ بعد بیشتر لوگ دین توحید کو چھوڑ کر دین شرک پر چل پڑے۔ یہی قصہ ہزاروں سال تک بار بار پیش آتا رہا۔ خدا نے لگاتار پیغمبر بھیجے (المومنون (۲۳) مگر انسان ان سے نصیحت قبول کرنے پر تیار نہ ہوا۔ حتیٰ کہ تمام پیغمبروں کو استہزاء کا موضوع بنا لیا گیا (یسین (۳۰) یہ سلسلہ ہزاروں برس تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ تاریخ میں شرک کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اس زمانہ کے انسانی معاشروں میں جو شخص بھی پیدا ہوتا وہ اپنے ماحول کی ہر چیز سے شرک کا سبق لیتا۔ مذہبی رسموں، سماجی تقریبات قومی میلے اور حکومتی نظام تک ہر چیز نشر کا نہ عقائد پر قائم ہوگئی۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ جو انسان بھی پیدا ہو وہ شرک کی فضا میں آنکھ کھولے اور شرک ہی کے ماحول میں اس کا خاتمہ ہو جائے۔ اسی چیز کو میں نے تاریخ میں شرک کا تسلسل قائم ہو جانے سے تعبیر کیا ہے، اور یہی وہ حقیقت ہے جو حضرت نوح کی دعا میں ان الفاظ میں ملتی ہے: ولا يلدوا الا فاجراً كفاراً (نوح (۲۷)
اب تاریخ حضرت ابراہیم تک پہنچ چکی تھی جن کا زمانہ ۲۱۰۰ قبل مسیح ہے۔ خود حضرت ابراہیم نے قدیم عراق میں جو اصلاحی کوششیں کیں ان کا بھی وہی انجام ہوا جو آپ سے پہلے دوسرے نبیوں کا ہوا تھا۔ اللہ تعالی نے انسان کی ہدایت کے لئے نیا منصوبہ بنایا۔ وہ منصوبہ یہ تھا کہ خصوصی اہتمام کے ذریعہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کے تسلسل سے منقطع ہو کر پرورش پائے۔ اپنی فطری حالت پر قائم رہنے کی وجہ سے اس کے لئے توحید کو قبول کرنا آسان ہو جائے۔ پھر اسی گروہ کو اس مقصد کے لئے استعمال کیا جائے کہ وہ تاریخ میں جاری ہونے والے شرک کے تسلسل کو توڑے۔
اس وقت حضرت ابراہیم کو حکم ہوا کہ وہ عراق اور شام اور مصر اور فلسطین جیسے آباد علاقوں کو چھوڑ کر
قدیم مکہ کے غیر آباد علاقہ میں جائیں۔ اور وہاں اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے شیر خوار بچے اسماعیل کو بسا دیں۔ یہ علاقہ وادی غیر ذی زرع ہوتینے کی وجہ سے اس زمانہ میں بالکل غیر آباد تھا۔ اس بنا پر وہ قدیم مشرکانہ تہذیب سے پوری طرح حضرت ابراہیم کی دعا (ابراہیم ، 37) میں عند بیتک المحرم سے یہی چیز مراد ہے۔ ایسا مقام جو شرک کی پہنچ سے دور ہو۔ حضرت ابراہیم کی اس دعا کا مطلب یہ تھا کہ خدایا، میں نے اپنی اولاد کو ایک بالکل غیر آباد علاقہ میں بسا دیا ہے۔ جہاں مشرکانہ تہذیبوں کے اثرات ابھی تک نہیں پہنچے ہیں۔ میں نے اس لئے کیا ہے تاکہ وہاں ایک ایسی نسل پیدا ہو جو شرک کے تسلسل سے منقطع ہو کر پرورش پائے اور حقیقی معنوں میں توحید کی پرستار بن سکے۔
کسی تہذیبی تسلسل سے منقطع ہو کر پرورش پانا کیا معنی رکھتا ہے، اس کی وضاحت ایک جزئی مثال سے ہوتی ہے، راقم الحروف ایک ایسے علاقہ کا رہنے والا ہے جس کی زبان اردو ہے۔ اردو بولتے تھے۔ میں بھی اردو بولتا ہوں اور میرے بچوں کی زبان بھی اردو ہے۔ اب یہ ہوا کہ میرے ایک لڑکے نے لندن میں ایک ایسے علاقہ میں رہائش اختیار کر لی جہاں صرف انگریزی بولنے والے لوگ رہتے ہیں اور ہر طرف انگریزی زبان کا ماحول ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ میرے اس لڑکے کے بچے اب صرف انگریزی زبان جانتے ہیں۔ وہ اردو میں اظہار خیال کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ میں لندن گیا تو اپنے ان پوتوں سے مجھے انگریزی زبان میں بات کرنی پڑی۔
میرے ان پوتوں کا یہ حال اس لئے ہوا کہ اردو کے تسلسل سے منقطع ہو کر ان کی پرورش ہوئی۔ اگر وہ میرے ساتھ دہلی میں ہوتے تو ان بچوں کا یہ معاملہ کبھی نہ ہوتا۔
ذبح اسماعیل کے واقعہ کی حقیقت بھی یہی ہے۔ حضرت ابراہیم کو جو خواب (الصافات (۱۰۲) دکھایا گیا وہ ایک تمثیلی خواب تھا۔ اگر چہ حضرت ابراہیم اپنی انتہائی وفاداری کی بنا پر اس کی حقیقی تعمیل کے لئے آمادہ ہو گئے ۔ قدیم مکہ میں نہ پانی تھا، نہ سبزہ اور نہ زندگی کا کوئی سامان۔ ایسی حالت میں اپنی اولاد کو وہاں بسانا یقینا ان کو ذبح کرنے کے ہم معنی تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ان کو جیتے جی موت کے حوالے کر دیا جائے۔ شرک کے تسلسل سے منقطع کر کے نئی نسل پیدا کرنے کا منصوبہ کسی ایسے مقام پر ہی زیر عمل لایا جا سکتا تھا جہاں اسباب حیات نہ ہوں اور اس بنا پر وہ انسانی آبادی سے خالی ہو۔ ابراہیم کے خواب کا مطلب یہ تھا کہ وہ اپنی اولاد کو معاشی اور سماجی حیثیت سے ذبح کر کے مذکورہ نسل تیار کرنے میں خدائی منصوبہ کا ساتھ دیں۔
یہ منصوبہ بچوں کے اسباب کے دائرہ میں زیرعمل لانا تھا اس لئے اس کی باقاعدہ نگرانی بھی ہو رہی۔
حضرت ابراہیم خود فلسطین میں مقیم تھے۔ مگر وہ کبھی کبھی اس کی جانچ کے لئے مکہ جاتے رہتے تھے۔ ابتداڑ اس مقام پر صرف ہاجرہ اور اسماعیل تھے۔ بعد کو جب وہاں زمزم کا پانی نکل آیا تو قبیلہ جرہم کے کچھ خانہ بدوش افراد یہاں آکر آباد ہوگئے۔ حضرت اسماعیل بڑے ہوئے تو انھوں نے قبیلہ جرہم کی ایک لڑکی سے شادی کرلی۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت ابراہیم ایک بار فلسطین سے چل کر مکہ پہنچے تو اس وقت حضرت اسماعیل گھر پر موجود نہ تھے۔ حضرت ابراہیم نے ان کی بیوی سے حال دریافت کیا۔ بیوی نے کہا کہ ہم بہت برے حال میں ہیں، اور زندگی مصیبتوں میں گزر رہی ہے۔ حضرت ابراہیم یہ کہہ کر واپس ہوگئے کہ جب اسماعیل آئیں تو ان کو میرا سلام کہنا اور یہ کہنا کہ اپنے دروازہ کی چوکھٹ بدل دو (غیر عتبۃ بابك) حضرت اسماعیل جب لوٹے اور بیوی سے یہ رو داد سنی تو وہ سمجھ گئے کہ یہ میرے والد تھے اور ان کا یہ پیغام تمثیل کی زبان میں یہ ہے کہ میں موجودہ عورت کو چھوڑ کر دوسری عورت سے رشتہ کر لوں۔ چنانچہ انھوں نے اس کو طلاق دے دی اور قبیلہ کی دوسری عورت سے شادی کرلی۔ حضرت ابراہیم کی نظر میں وہ عورت اس قابل نہ تھی کہ وہ زیر تیاری نسل کی ماں بن سکے۔
کچھ عرصہ بعد حضرت ابراہیم دوبارہ مکہ آئے۔ اب بھی حضرت اسماعیل گھر پر نہ تھے۔ البتہ ان کی دوسری بیوی وہاں موجود تھیں۔ اس سے حال پوچھا تو اس نے قناعت اور شکر کی باتیں کیں اور کہا کہ ہم بہت اچھے حال میں ہیں۔ حضرت ابراہیم یہ کہہ کر واپس ہوگئے کہ جب اسماعیل آئیں تو ان سے میرا سلام کہنا اور یہ پیغام دے دینا کہ اپنے گھر کی چوکھٹ باقی رکھو (ثبت عتبۃ بابك) حضرت اسماعیل جب واپس آئے اور رو داد سنی تو سمجھ گئے کہ یہ میرے والد تھے اور ان کے پیغام کا مطلب یہ ہے کہ اس عورت کے اندر یہ صلاحیت ہے کہ وہ پیش نظر منصوبہ سے مطابقت کرکے رہ سکے اور پھر اس سے وہ نسل تیار ہو جس کا یہاں تیار کرنا اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے (تفسیر ابن کثیر)۔
اس طرح صحرائے عرب کے الگ تھلگ ماحول میں ایک نسل بننا شروع ہوئی۔ اس نسل کی خصوصیات کیا تھیں ، اس کے متعلق ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ نسل بیک وقت دو خصوصیات کی حامل تھی ۔ اور دوسرے المرورة۔
صحرائے عرب کے ماحول میں فطرت کے سوا اور کوئی چیز نہ تھی جو انسان کو متاثر کرے۔ اونچے پہاڑ، رات کے وقت وسیع آسمان میں جگمگاتے ہوئے تارے وغیرہ۔ اس قسم کے قدرتی مناظر چاروں طرف سے انسان کو توحید کا سبق دے رہے تھے۔ وہ ہر وقت اس کو خدا کی عظمت اور کاریگری کی یاد دلاتے تھے۔ اسی خالص رہبانی ماحول میں پرورش پا کر وہ قوم تیار ہوئی جو حضرت ابراہیم
کے الفاظ میں اس بات کی صلاحیت رکھتی تھی کہ وہ حقیقی معنوں میں امت مسلمہ (البقرہ ۱۲۸) بن سکے یعنی اپنے آپ کو پوری طرح خدا کے سپرد کر دینے والی قوم۔ یہ ایک ایسی قوم تھی جس کی فطرت اپنی ابتدائی حالت میں محفوظ تھی، اسی لئے وہ دین فطرت کو قبول کرنے کی پوری استعداد رکھتی تھی۔
اسی کے ساتھ دوسری چیز جس کو پیدا کرنے کے لئے یہ ماحول خصوصی طور پر موزوں تھا وہ وہی ہے جس کو عربی زبان میں المروة (مردانگی) کہتے ہیں۔ قدیم حجاز کے سنگلاخ ماحول میں زندگی نہایت مشکل تھی۔ وہاں خارجی اسباب سے زیادہ انسانی اوصاف کار آمد ہو سکتے تھے۔ وہاں بیرونی ماحول میں وہ چیزیں موجود ۔ نہ تھیں جن پر انسان بھروسہ کرتا ہے۔ وہاں انسان کے پاس ایک ہی چیز تھی ، اور وہ اس کا اپنا وجود ایسے ماحول میں قدرتی طور پر ایسا ہونا تھا کہ انسان کے اندرونی اوصاف زیادہ سے زیادہ اجا گر اس طرح دو ہزار سالہ عمل کے نتیجہ میں وہ قوم بن کر تیار ہوئی جس کے اندر حیرت انگیز طور پر اعلیٰ مردانہ اوصاف تھے۔ پروفیسر فلپ ہٹی کے الفاظ میں پورا عرب ہیروز کی ایک ایسی نرسری (Nursery of heroes) میں تبدیل ہو گیا جس کی مثال نہ اس سے پہلے تاریخ میں کبھی پائی گئی اور نہ اس
چھٹی صدی عیسوی میں وہ وقت آگیا تھا کہ تاریخ میں شرک کے تسلسل کو توڑنے کا منصوبہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔ چنانچہ بنو اسماعیل کے اندر پیغمبر آخر الزماں (حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم) پیدا کئے جن کے بارہ میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں : ھوالذي ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق ليظھرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون (الصف) یہ آیت بتاتی ہے کہ پیغمبر آخر الزماں کا خاص مشن یہ تھا کہ دین شرک کو غلبہ کے مقام سے ہٹادیں اور دین توحید کو غالب دین کی حیثیت سے دنیا میں قائم کر دیں۔ اس غلبہ سے مراد اصلاحی اور نظریاتی غلبہ ہے۔ یعنی تقریبا اسی قسم کا غلبہ جیسا کہ موجودہ زمانہ میں سائنسی علوم کو روایتی علوم کے اوپر حاصل ہوا ہے۔
یہ غلبہ تاریخ کا مشکل ترین منصوبہ تھا۔ اس کا کچھ اندازہ اس مثال سے ہو سکتا ہے کہ قدیم روایتی علوم کو اگر جدید سائنسی علوم پر غالب کرنے کی مہم چلائی جائے تو وہ کس قدر دشوار ہوگی ۔ ساتویں صدی عیسوی میں یہ بے حد مشکل کام تھا کہ مشرکانہ تہذیب کو مغلوب کیا جائے اور اس کی جگہ توحید کو غالب فکر کا مقام عطا کیا جائے کسی نظام کے فکری غلبہ کو ختم کرنا ایسا ہی ہے جیسے کسی درخت کو اس کی تمام جڑوں سمیت اکھاڑ پھینکنا۔ اس قسم کا کام ہمیشہ بے حد مشکل کام ہوتا ہے جو نہایت گہری منصوبہ بندی اور زبر دست جد وجہد کے بعد ہی انجام دیا جا سکتا ہے۔
اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کو دو خاص امدادی چیزیں فراہم کی گئیں۔ ایک وہ جس کا ذکر کنتم خیر امۃ اخرجت للناس (آل عمران110) میں ہے۔ سال کے عمل کے نتیجہ میں ایک ایسا گر وہ تیار کیا گیا جو وقت کا بہترین گروہ تھا۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، ایک طرف وہ اپنی تخلیقی فطرت پر قائم تھا۔ دوسری طرف وہ چیز اس کے اندر کمال درجہ میں موجود تھی جس کو عربی زبان میں المروة (مردانگی) کہا جاتا ہے۔ اسی گروہ کے بہترین منتخب افراد، قبول اسلام کے بعد وہ لوگ بنے جن کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے۔
دوسری خصوصی مدد وہ تھی جس کی طرف سورہ الروم کی ابتدائی آیات میں اشارہ ملتا ہے۔ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت دنیا میں دو بڑی مشرکانہ سلطنتیں تھیں۔ ایک رومی (باز نطینی) سلطنت، دوسرے ایرانی (ساسانی) سلطنت۔ اس وقت کی آباد دنیا کا اکثر حصہ ، براہ راست یا بالواسطہ طور پر، انھیں دونوں سلطنتوں کے زیرِ قبضہ تھا۔ توحید کو وسیع تر دنیا میں غالب کرنے کے لئے ان دونوں مشرک سلطنتوں سے سابقہ پیش آنا لازمی تھا۔ خدا نے یہ کیا کہ عین اسی زمانہ میں دونوں سلطنتوں کو ایک دوسرے سے ٹکرا دیا۔ ان کی یہ لڑائی نسلوں تک جاری رہی۔ ایک بار ایرانی اٹھے اور رومیوں کی طاقت کو تہس نہس کرکے ان کی مملکت کے بڑے حصہ پر قابض ہوگئے۔ دوسری بار رومی اٹھے اور انھوں نے ایرانیوں کی طاقت کو بالکل توڑ ڈالا۔ یہی وجہ ہے کہ بنو اسماعیل (اصحاب رسول) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تحت منظم ہو کر اٹھے تو انھوں نے بے حدکم عرصہ میں ایشیا اور افریقہ کے بڑے حصہ کو فتح کر ڈالا اور ہر طرف شرک کو مغلوب اور توحید کو غالب کر دیا۔ اس سلسلہ میں یہاں پروفیسر ہٹی کا ایک اقتباس نقل کیا جاتا ہے :
The enfeebled condition of the rival Byzantines and Sasanids who had conducted internecine against each other for many genera- tions, the heavy taxes, consequent upon these wars, imposed on the citizens of both empires and undermining their sense of loyalty., ------- all these paved the way for the surprisingly rapid progress of Philip K. Hitti, History of the Arabs, London 1970, p. 142–43 رومی اور ایرانی سلطنتوں کی باہمی رقابت نے دونوں کو شدید طور پر کمزور کر دیا تھا۔ ایک دوسرے کے خلاف ہلاکت خیز جنگیں چھیڑ رکھی تھیں۔ یہ سلسلہ کئی نسل تک جاری رہا۔ اس کا خرچ پورا کرنے کے لئے رعایا پر بھاری ٹیکس لگائے گئے۔ جس کے نتیجہ میں رعایا کی وفاداری اپنی حکومتوں کے ساتھ باقی نہ رہی۔ اس قسم کی چیزیں تھیں جنہوں نے عرب ہتھیاروں کو موقع دیا کہ وہ رومی اور
ایرانی علاقوں میں تعجب خیز حد تک کامیابی حاصل کر سکیں۔
مورخین نے عام طور پر اس واقعہ کا ذکر کیا ہے۔ تاہم وہ اس کو ایک عام طبیعی واقعہ سمجھتے ہیں حالانکہ یہ غیر معمولی واقعہ ایک خدائی منصوبہ تھا جو خاتم النبین کی تائید کے لئے خصوصی طور پر ظاہر کیا گیا۔ ایک امریکی انسائیکلو پیڈیا میں " اسلام “ کے عنوان سے جو مقالہ ہے اس میں عیسائی مقالہ نگار نے یہ الفاظ لکھے ہیں کہ اسلام کے ظہور نے انسانی تاریخ کے رخ کو بدل دیا: Its advent changed the course of human history. یہ ایک حقیقت ہے کہ صدر اول کے اسلامی انقلاب کے بعد انسانی تاریخ میں ایسی تبدیلیاں ہوئیں جو اس سے پہلے تاریخ میں کبھی نہیں ہوئی تھیں۔ اور ان تمام تبدیلیوں کی اصل یہ تھی کہ دنیا میں شرک کا تسلسل ختم ہو کر توحید کا تسلسل جاری ہوا۔ شرک تمام برائیوں کی جڑ ہے اور توحید تمام خوبیوں کا اس لئے جب یہ بنیادی واقعہ ہوا تو اسی کے ساتھ انسان کے اوپر تمام خوبیوں کا دروازہ بھی کھل گیا جو شرک کے غلبہ کے سبب سے اب تک اس کے اوپر بند پڑا ہوا تھا۔
اب تو ہماتی دور ختم ہو کر علمی دور کا آغاز ہوا۔ انسانی امتیاز کی بنیاد ڈھہ گئی اور اس کے بجائے انسانی مساوات کا زمانہ شروع ہوا۔ نسلی حکمرانی کی جگہ جمہوری حکمرانی کی بنیادیں پڑیں۔ فطرت جو تمام دنیا میں پرستش کا موضوع بنے ہوئے تھے، پہلی بار تحقیق اور تغیر کا موضوع قرار پائے، اور اس طرح حقائق فطرت کے کھلنے کا آغاز ہوا۔ یہ در اصل توحید ہی کا انقلاب تھا جس سے ان تمام انقلابات کی بنیاد پڑی جو بالآخر اس مشہور واقعہ کو پیدا کرنے کا سبب بنے جس کو جدید ترقی یافتہ دور کہا جاتا ہے۔ حضرت ابراہیم نے دعا فرمائی تھی کہ خدا یا مجھ کو اور میری اولاد کو اس سے بچا کہ ہم بتوں کی عبادت خدایا، ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا (ابراہیم ۳۶)
سوال یہ ہے کہ بتوں نے کس طرح لوگوں کو گمراہ کیا۔ بتوں (اصنام) میں وہ کون سی خصوصیت تھی جس کی بنا پر وہ لوگوں کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اس کا راز اس وقت سمجھ میں آتا ہے جب یہ دیکھا جائے کہ حضرت ابراہیم کے زمانہ میں وہ کون سے بت تھے جن کی بابت آپ نے یہ الفاظ فرمائے۔ یہ بت سورج، چاند اور ستارے تھے۔ تاریخی طور پر ثابت ہے کہ حضرت ابراہیم کے زمانہ میں جو مہذب دنیا تھی اس میں ہر جگہ آسمان کے ان روشن اجرام کی پرستش ہوتی تھی جن کو سورج، چاند اور ستارے کہا جاتا ہے۔ اسی سے یہ بات معلوم ہو جاتی ہے کہ یہ بت کیوں کر لوگوں کو گمراہ کر پاتے تھے۔ خدا اگر چہ سب سے بڑی حقیقت ہے مگر وہ آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتا۔ اس کے برعکس
سورج ، چاند اور ستارے ہر آنکھ کو جگمگاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اسی جگمگاہٹ کی بنا پر لوگ ان کے فریب میں آگئے اور ان سے متاثر ہو کر ان کو پوجنا شروع کر دیا۔ ان روشن اجسام کا غلبہ انسان کے ذہن پر اتنا زیادہ ہوا کہ وہی پوری انسانی فکر پر چھا گیا۔ حتیٰ کہ حکومتیں بھی انہیں کی بنیاد پر قائم ہونے لگیں۔ اس زمانہ کے بادشاہ اپنے آپ کو سورج کی اولاد اور چاند کی اولاد بتا کر لوگوں کے اوپر حکومت کرنے لگے۔ پیغمبر آخر الزماں کے ذریعہ توحید کو غالب کر کے اس دور کو ختم کیا گیا۔ اس وقت غلبہ توحید کا جو منصوبہ بنایا گیا اس کے دو خاص مرحلے تھے۔ پہلا مرحلہ وہ تھا جس کو قرآن میں قاتلوهم حتى لا تكون فتنة و يكون الدين كله لله (الانفال ۳۹) کہا گیا ہے۔ اس آیت میں " فتنة “ سے مراد شرک جارح ہے۔ قدیم زمانہ میں شرک کو جارحیت کا موقع اس لئے حاصل تھا کہ اس زمانہ میں حکومت کی بنیاد شرک پر قائم ہو گئی تھی۔ شرک کو مکمل طور پر حکومت کی سرپرستی حاصل تھی۔ ایسی حالت میں جب توحید کی دعوت دی جاتی تو وقت کے حکمرانوں کو یہ محسوس ہونے لگتا کہ یہ دعوت ان کے حق حکمرانی کو شبہ تعکرر رہی ہے۔ چنانچہ وہ توحید کے داعیوں کو کچلنے کے لئے کھڑے ہو جاتے ۔ قدیم زمانہ میں اعتقادی جارحیت کا اصل سبب یہی تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو یہ حکم ہوا کہ علم برداران شرک سے لڑو اور شرک کی اس حیثیت کا خاتمہ کر دو کہ وہ داعیان توحید کو اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنا سکیں۔ میں اس کا مطلب یہ تھا کہ شرک کا رشتہ سیاست سے کاٹ دیا جائے۔ شرک اور سیاست دونوں ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں۔ رسول اور آپ کے اصحاب نے یہ مہم پوری طاقت کے ساتھ شروع کی۔ ان کی کوششوں سے پہلے عرب میں شرک کا زور ٹوٹا۔ اس کے بعد قدیم آباد دنیا کے بیشتر علاقہ میں مشرکانہ نظام کو مغلوب کر کے ہمیشہ کے لئے شرک کی جارحانہ حیثیت کا خاتمہ کر دیا گیا ۔ اب ہمیشہ کے لئے شرک الگ ہو گیا اور سیاسی اقتدار الگ۔
شرک کے اوپر توحید کے غلبہ کی مہم کا دوسرا مرحلہ وہ تھا جس کا ذکر قرآن کی اس آیت میں ملتا ہے: سنريهم آياتنا في الآفاق وفي انفسهم حتى يتبين لهم انه الحق (حم السجدہ ۵۳) پہلے مرحلہ کا مطلب مظاہر فطرت سے سیاسی نظریہ اخذ کرنے کو ختم کرنا تھا۔ وہ ساتویں صدی عیسوی میں پوری طرح انجام پا گیا۔ دوسرے مرحلہ کا مطلب یہ تھا کہ مظاہر فطرت سے توہمات کے پردہ کو ہٹا دیا جائے اور اس کو علم کی روشنی میں لایا جائے ۔ اس دوسرے مرحلہ کا آغاز دور نبوت سے ہوا اور اس کے بعد وہ موجودہ سائنسی انقلاب کی صورت میں تکمیل کو پہنچا۔
موجودہ دنیا خدا کی صفات کا ایک اظہار ہے۔ یہاں مخلوقات کے آئینہ میں آدمی اس کے
خالق کو پاتا ہے۔ وہ اس پر غور کر کے خدا کی قدرت اور عظمت کا مشاہدہ کرتا ہے۔ مگر قدیم مشرکفکرہ افکار نے دنیا کی چیزوں کو پر اسرار طور پر مقدس بنا رکھا تھا۔ ہر چیز کے بارے میں کچھ توہماتی عقائد بن گئے تھے اور یہ عقائد ان چیزوں کی تحقیق و جستجو میں مانع تھے۔ توحید کے انقلاب کے بعد جب تمام دنیا خدا کی مخلوق قرار پائی تو اس کے بارے میں تقدس کا ذهن ختم ہوگئیا۔ اب دنیا کی ہر چیز کا بے لاگ مطالعہ کیا جانے لگا اور اس کی تحقیق شروع ہو گئی۔
اس تحقیق اور مطالعہ کے نتیجہ میں چیزوں کی حقیقتیں کھلنے لگیں۔ دنیا کے اندر قدرت کا جو مخفی نظام کارفرما ہے وہ انسان کے سامنے آنے لگا۔ یہاں تک کہ جدید سائنسی انقلاب کی صورت میں وہ پیشین گوئی کامل صورت میں پوری ہو گی جس کا ذکر اوپر کی آیت (حم السجدہ ۵۳) میں ہے۔
جدید سائنسی مطالعہ نے کائنات کے جو حقائق انسان پر کھولے ہیں انھوں نے ہمیشہ کے لئے توہماتی دور کا خاتمہ کر دیا ہے۔ ان دریافت شدہ حقائق سے بیک وقت دو فائدے حاصل ہوئے ہیں۔ ایک یہ کہ دینی عقائد اب محض مدعیانہ عقائد نہیں رہے بلکہ خود علم انسانی کے ذریعہ ان کا برحق ہونا ایک ثابت شدہ چیز بن گیا ہے۔
دوسرے یہ کہ یہ معلومات ایک مومن کے لئے اضافہ ایمان کا بے پناہ خزانہ ہیں۔ ان کے ذریعہ کائنات کے بارے میں جو کچھ معلوم ہوا ہے وہ اگر چہ بہت جزئی ہے تاہم وہ اتنا زیادہ حیرت ناک ہے کہ اس کو پڑھ کر اور جان کر آدمی کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہوں۔ اس کا ذهن معرفت رب کی روشنی حاصل کرے ۔ اس کی آنکھیں خدا کی عظمت اور خوف سے آنسو بہانے لگیں۔ وہ آدمی کو اس درجہ احسان تک پہنچا دے جس کو حدیث میں تعبد اللہ کأنك تراه (اللہ کی عبادت اس طرح کرو گو یا تم اسے دیکھ رہے ہو) کہا گیا ہے۔ دور جدید میں احیاء اسلام موجودہ زمانہ میں تاریخ دوبارہ وہیں پہنچ گئی ہے جہاں وہ ڈیڑھ ہزار سال پہلے کے دور میں قدیم زمانہ میں انسان کے اوپر شرک کا غلبہ اس طرح ہوا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہو گیا۔ یہاں تک پہنچی کہ ہر شخص جو انسانی نسل میں پیدا ہوتا وہ مشرک پیدا ہوتا۔ اب پچھلے چند سو سال کے عمل کے نتیجہ میں ملحدانہ افکار انسان کے اوپر غالب آگئے ہیں۔ علم و عمل کے ہر شعبہ میں الحادی طرز ان اس طرح چھا گیا ہے کہ دوبارہ تاریخ انسانی میں الحاد کا تسلسل قائم ہو گیا ہے۔ اب ہر شخص جو پیدا ہوتا ہے، خواہ وہ دنیا کے کسی حصہ میں پیدا ہو، وہ ملحدانہ افکار کے زیر اثر پیدا ہوتا ہے۔ الحاد آج کا غالب دین ہے۔ اور اسلام کا احیاء موجودہ زمانہ میں اس وقت تک ممکن نہیں جب تک الحاد کو فکری غلبہ کے مقام سے ہٹایا نہ جائے۔
موجودہ زمانہ میں احیاءِ اسلام کو ممکن بنانے کے لئے دوبارہ وہی دونوں طریقے اختیار کرنے ہیں جو پہلے غلبہ کے وقت اختیار کئے گئے تھے۔ یعنی افراد کی تیاری۔ اور مخالفینِ حق کی مغلوبیت۔ پہلا کام ہم کو خود اپنے وسائل کے تحت انجام دینا ہے۔ جہاں تک دوسرے کام کا تعلق ہے، اس کو موجودہ زمانہ میں دوبارہ خدا نے اسی طرح بہت بڑے پیمانہ پر انجام دے دیا ہے جس طرح اس نے دورِ اول میں انجام دیا ضرورت صرف یہ ہے کہ ان پیدا شدہ مواقع کو استعمال کیا جائے۔
موجودہ زمانہ میں احیاءِ اسلام کی مہم کو کامیاب بنانے کے لئے سب سے پہلے افراد کار کی ضرورت گویا اب دوبارہ ایک نئے انداز سے وہی چیز درکار ہے جو حضرت ابراہیم کے منصوبہ میں مطلوب تھی۔ یعنی حقیقی معنوں میں ایک مسلم گروہ کی تیاری۔
موجودہ زمانہ میں اسلامی احیاء کی مہم چلانے کے لئے جو افرادِ کار ہیں وہ عام قسم کے مسلمان نہیں ہیں بلکہ ایسے لوگ ہیں جن کے لئے اسلام ایک دریافت (Discovery) بن گیا ہو۔ وہ واقعہ جو سب سے زیادہ کسی انسان کو متحرک کرتا ہے وہی دریافت کا واقعہ ہے۔ جب آدمی کسی چیز کو دریافت کے درجہ میں پائے تو اچانک اس کے اندر ایک نئی شخصیت ابھر آتی ہے۔ یقین، حوصلہ، عزم، مردانگی، فیاضی، قربانی، اتحاد، غرض وہ تمام اوصاف جو کوئی بڑا کام کرنے کے لئے درکار ہیں وہ سب دریافت کی زمین پر پیدا ہوتے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں مغربی اقوام میں جو اعلیٰ اوصاف پائے جاتے ہیں وہ سب اسی دریافت کا نتیجہ ہیں۔ مغربی قوموں نے روایتی دنیا کے مقابلہ میں سائنسی دنیا کو دریافت کیا ہے۔ یہی دریافت کا احساس ہے جس نے مغربی قوموں میں وہ اعلیٰ اوصاف پیدا کر دئے ہیں جو آج ان کے اندر پائے جاتے ہیں۔ قرنِ اول میں اصحابِ رسول کا معاملہ بھی یہی تھا۔ ان کو خدا کا دین بطورِ دریافت کے ملا تھا۔ انھوں نے جاہلیت کے مقابلہ میں اسلام کو پایا تھا۔ انھوں نے شرک کے مقابلہ میں توحید کو دریافت کیا تھا ان پر دنیا کے مقابلہ میں آخرت کا انکشاف ہوا تھا۔ یہی چیز تھی جس نے ان کے اندر وہ غیر معمولی اوصاف پیدا کر دئے جن کو آج ہم کتابوں میں پڑھتے ہیں۔ آج اگر اسلامی احیاء کی مہم کو موثر طور پر چلانا ہے تو دوبارہ ایسے انسان پیدا کرنے ہوں گے جنھیں اسلام دریافت کے طور پر ملا ہو نہ کہ محض نسلی وراثت کے طور پر۔ اسلام چودہ سو سال پہلے شروع ہوا۔ اس کے بعد اس کی ایک تاریخ بنی، تمدنی عظمت اور سیاسی فتوحات کی تاریخ۔ آج جو لوگ اپنے کو مسلمان کہتے ہیں وہ اسی تاریخ کے کنارے کھڑے ہوئے جس قوم کی بھی یہ صورت حال ہو وہ ہمیشہ قریبی تاریخ میں اٹک کر رہ جاتی ہے۔ وہ تاریخ سے گزر کر ابتدائی اصل تک نہیں پہنچتی۔ یہی معاملہ آج مسلمانوں کا ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان
شعوری یا غیر شعوری طور پر اپنا دین تاریخ سے اخذ کر رہے ہیں نہ کہ حقیقتاً قرآن اور سنت رسول سے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آج کے مسلمانوں کے لئے فخر کی چیز بنا ہوا ہے نہ کہ ذمہ داری کی چیز۔ کے افکار و اعمال میں یہ نفسیات اس قدر رچ بس گئی ہے کہ ہر جگہ اس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ اسلام کو قرآن وسنت میں دیکھئے تو وہ سراسر ذمہ داری اور مسئولیت کی چیز نظر آئے گا۔ اس کے برعکس اسلام کو جب اس کی تمدنی تاریخ اور سیاسی واقعات کے آئینہ میں دیکھا جائے تو وہ فخر اور عظمت کی چیز معلوم ہونے لگتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی تمام بڑی بڑی انقلابی تحریکیں اسی جذبہ فخر کے تحت اٹھیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ وقتی ہنگامے پیدا کر کے ختم ہو گئیں۔ کیوں کہ فخر کا جذبہ نمائش اور ہنگامے کی طرف لے جاتا ہے۔ اور مسئولیت کا جذبہ حقیقی اور سنجیدہ عمل کی طرف۔
اسلامی احیاء کی مہم کو موثر طور پر چلانے کے لئے وہ افراد درکار ہیں جنھوں نے اسلام کو قرآن و حدیث کی ابتدائی تعلیمات سے اخذ کیا ہو نہ کہ بعد کو بننے والی تمدنی اور سیاسی تاریخ سے۔ قرآن و حدیث سے دین کو اخذ کرنے والے لوگ ہی سنجیدگی اور احساس ذمہ داری کے تحت کوئی حقیقی مہم چلا سکتے ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ تاریخ سے اپنا دین اخذ کریں وہ صرف اپنے فخر کا جھنڈا بلند کریں گے، وہ کسی نتیجہ خیز عمل کا ثبوت نہیں دے سکتے۔
مسلمان موجودہ زمانہ میں ایک شکست خوردہ قوم بنے ہوئے ہیں۔ پوری مسلم دنیا پر ایک قسم کا احساس مظلومی (Persecution complex) چھایا ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہی تاریخ سے دین کو اخذ کرنا ہم نے تاریخی عظمت کو دین سمجھا۔ ہم نے "لال قلعہ" اور "فتح پور سیکری" میں اپنی اسلامیت کا تشخص دریافت کیا۔ چوں کہ موجودہ زمانہ میں دوسری قوموں نے ہم سے یہ چیزیں چھین لیں، اس لئے ہم فریاد و ماتم میں مشغول ہو گئے۔ اگر ہم ہدایت ربانی کو دین سمجھتے تو ہم کبھی احساس محرومی کا شکار نہ ہوتے۔ کیوں کہ وہ ایسی چیز ہے جس کو کوئی طاقت ہم سے کبھی چھین نہیں سکتی۔ ہم نے چھن جانے والی چیزوں کو اسلام سمجھا اس لئے جب وہ چھن گئی تو ہم شکایت اور محرومی کا پیکر بن کر رہ گئے۔ اگر ہم نہ چھننے والی چیز کو اسلام سمجھتے تو ہمارا کبھی وہ حال نہ ہوتا جو آج ہر طرف نظر آرہا ہے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ جو چیز ہمارے پاس ابھی تک بغیر چھنی ہوئی محفوظ ہے اس کا ہمیں شعور نہیں۔ اور جو چیز ہم سے چھن گئی ہے اس کے لئے ہم شکایت اور احتجاج میں مصروف ہیں۔
اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ ساری دنیا میں مسلمان دوسری قوموں سے لڑائی جھگڑے میں مصروف ہیں۔ کو اپنی قومی عظمت کا نشان سمجھتے ہیں۔ اس لئے جو لوگ انھیں اس عظمت کو چھینتے ہوئے نظر آتے ہیں ان کے
خلاف وہ لڑنے کے لئے کھڑے ہو گئے ہیں۔ کہیں یہ لڑائی الفاظ کے زیرعمل ہو رہی ہے اور کہیں ہتھیاروں کے اس صورت حال نے مسلمانوں کے پورے رویہ کو منفی بنا دیا ہے۔ اسلام اگر ان کو ربانی ہدایت کے طور پر ملتا تو وہ محسوس کرتے کہ ان کے پاس دوسری قوموں کو دینے کے لئے کوئی چیز ہے۔ وہ اپنے کو دینے والا سمجھتے اور دوسرے کو لینے والا۔ جب کہ موجودہ حالت میں وہ سمجھتے ہیں کہ وہ چھیننے ہوئے لوگ ہیں اور دوسرے چھینے والے لوگ۔ ہمارے اور دوسری قوموں کے درمیان حقیقی رشتہ داعی اور مدعو کا رشتہ ہے۔ مگر تاریخی اسلام کو اسلام سمجھنے کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ دوسری قومیں ہمارے لئے صرف حریف اور رقیب بن کر رہ گئی ہیں۔ ہمارے اور دوسری قوموں کے درمیان جب تک یہ حریفانہ فضا باقی ہے، اسلامی احیاء کا کوئی حقیقی کام شروع نہیں کیا جاسکتا۔
پہلے ہی مرحلہ میں ایسا نہیں ہو سکتا کہ تمام مسلمانوں کو حریفانہ نفسیات سے پاک کر دیا جائے۔ کم سے کم ایک ایسی ٹیم کا ہونا ضروری ہے جس کے افراد اپنی حد تک اس ذہنی فضا سے نکل چکے ہوں ۔ کے اندر ایسی فکری تبدیلی آچکی ہو کہ دوسری قوموں کو وہ اپنا مدعو سمجھیں نہ کہ مادی حریف اور رقومی قریب۔ یہ بظاہر سادہ سی بات انتہائی مشکل بات ہے۔ اس کے لئے اپنے آپ کو ذبح کرنا پڑتا ہے۔ دوسری قوموں کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ قائم کرنے کی لازمی شرط یہ ہے کہ ہم یک طرفہ طور پر تمام شکایتوں کو بھلا دیں۔ ہر قسم کے مادی نقصانات کو گوارا کرنے کے لئے تیار ہو جائیں۔ داعی اور مدعو کا رشتہ داعی کی طرف سے یک طرفہ قربانی پر قائم ہوتا ہے۔ اور موجودہ دنیا میں بلا شبہ یہ سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔
یہ اور اس طرح کے دوسرے اوصاف ہیں جو ان لوگوں میں ہونا ضروری ہیں جو موجودہ زمانہ میں احیاء اسلام کی مہم کے لئے اٹھیں۔ ایسے افراد تیار کرنے کے لئے موجودہ زمانہ میں دوبارہ اسی قسم کا ایک منصوبہ درکار ہے جو دور اول میں خیر امت کے اخراج (آل عمران ۱۱۰) کے لئے ذریعہ لایا گیا موجودہ زمانہ کے اعتبار سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ آج یہ ضرورت ہے کہ جدید طرز کی ایک اعلیٰ تربیت گاہ قائم کی جائے۔ یہ تربیت گاہ تمدنی ماحول سے الگ قدرت کی بے آمیز فضا میں قائم ہونی یہ تربیت گاہ گویا دوبارہ قوم کے کچھ اعلیٰ افراد کو وادی غیر ذی زرع میں بسانے کے ہم معنی
مذکورہ تربیت گاہ کو کامیاب طور پر چلانے کے لئے کچھ ایسے ابراہیمی والدین درکار ہیں جو اپنی اولاد کو ذبح کرنے کے لئے تیار ہوں۔ وہ اس پر راضی ہو جائیں کہ ان کی ذہین اولاد کو وقت
کے اعلیٰ معاشی مواقع سے محروم کر کے ایک ایسے ماحول میں ڈال دیا جائے جہاں سب کچھ دے کر بھی تعلق باللہ اور فکر آخرت کے سوا کوئی اور چیز نہ ملتی ہو۔ اس طرح کی ایک تربیت گاہ ، غلپ ہٹی کے مذکورہ الفاظ میں، دوبارہ ایک قسم کی ” نرسری آف ہیروز “ بنانے کے ہم معنی ہوگی۔ جب تک اس قسم کے افراد کی ایک قابل لحاظ ٹیم تیار نہ ہو جائے ، احیاء اسلام کی جانب کوئی حقیقی قدم نہیں اٹھایا جا سکتا۔ اس قسم کی تربیت گاہ کا قیام گویا جدید زمانہ کے لحاظ سے اس آیت قرآنی کی تعمیل ہوگی ــــــــــ ولو لا نفر من كل فرقة منهم طائفة ليتفقهوا فى الدين ولينذروا قومهم اذا رجعوا اليهم ولعلهم يرجعون۔ یعنی قوم کے کچھ ذہین افراد کو عام ماحول سے الگ کر کے ایک علیحدہ ماحول میں لایا جائے اور وہاں متعین مدت تک خصوصی تعلیم و تربیت کے ذریعہ انہیں اس کے لئے تیار کیا جائے کہ وہ موجودہ زمانہ میں احیاء اسلام کی مہم کو کامیابی کے ساتھ چلاسکیں۔ وہ اہلِ عالم کے لئے منذر اور مبشر بن سکیں۔
دور اول میں اسلامی انقلاب کو ممکن بنانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک خاص اہتمام یہ کیا کہ ایران اور روم کی سلطنتیں جو اس زمانہ میں دین توحید کی سب سے بڑی حریف تھیں، ان کو باہم ٹکرا کر اتنا کمزور کر دیا کہ اہل اسلام کے لئے ان کو مغلوب کرنا آسان ہو گیا۔
خدا کی یہی مدد موجودہ زمانہ کے اہل ایمان کے لئے ایک اور شکل میں ظاہر ہوئی ہے۔ اور وہ ہے کائنات کے بارہ میں ایسی معلومات کا سامنے آنا جو دینی حقیقتوں کو معجزاتی سطح پر ثابت کر رہی ہیں۔ زمانہ میں تو ہماتی طرز فکر کا غلبہ تھا ، اس بنا پر علم عالم کائنات کے بارہ میں انسان نے عجیب عجیب بے بنیاد رائیں قائم کر رکھی تھیں۔ کائنات کو قرآن میں آلا رب در کرشمہ خدا) خدا کہا گیا ہے۔ مگر یہ خدائی کرشمہ تو ہماتی مفروضوں کے پردہ میں چھپا ہوا تھا۔ دور اول کے اسلامی انقلاب کے نتائج میں سے ایک نتیجہ یہ ہے کہ مظاہر فطرت جو اس سے پہلے پرستش کا موضوع بنے ہوئے تھے وہ انسان کے لئے تحقیق و تسخیر کا موضوع بن گئے۔ اس طرح تاریخ انسانی میں پہلی بار واقعات فطرت کو خالص علمی انداز میں جاننے کا ذہن پیدا ہوا۔ یہ ذہن مسلسل بڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ یورپ پہنچا۔ یہاں ترقی پا کر وہ اس انقلاب کا سبب بنا جس کو موجودہ زمانہ میں سائنسی انقلاب کہا جاتا ہے۔
سائنس نے گویا تو ہماتی پردہ کو ہٹا کر کرشمہ خدا کا کرشمہ خدا ہونا ثابت کر دیا۔ اس نے مظاہر فطرت کو ” معبود “ کے مقام سے ہٹا کر ” مخلوق “ کے مقام پر رکھ دیا۔ حتی کہ یہ نوبت آئی کہ چاند، جس کو قدیم انسان معبود سمجھ کر پوجتا تھا ، اس پر اس نے اپنے پاؤں رکھ دئے اور وہاں اپنی مشینیں
یہ ایک حقیقت ہے کہ سائنس نے جو نئے دلائل فراہم کئے ہیں ان کو صحیح طور پر استعمال کیا جائے تو دین توحید کی دعوت کو اس بر سطح پر پیش کیا جا سکتا ہے جس کے لئے اس سے پہلے معجزات ظاہر کئے جاتے تھے۔
زمین و آسمان میں جو چیزیں ہیں وہ اس لئے ہیں کہ ان کو دیکھ کر آدمی خدا کو یاد کرے۔ انسان نے خود انھیں چیزوں کو خدا سمجھ لیا۔ یہ ایک قسم کا انحراف تھا۔ اس قسم کا انحراف موجودہ زمانہ میں سائنسی معلومات کے بارہ میں پیش آ رہا ہے۔ سائنسی تحقیق سے جو حقائق سامنے آئے ہیں وہ سب خدا کی خدائی کا ثبوت ہیں۔ وہ انسان کو خدا کی یاد دلانے والے ہیں۔ مگر موجودہ زمانہ کے ملحد مفکرین نے دوبارہ ایک انحراف کیا۔ انھوں نے سائنسی حقیقتوں کو غلط رخ دے کر یہ کیا کہ جس چیز سے خدا کا ثبوت نکل رہا تھا اس کو انھوں نے اس بات کا ثبوت بنا دیا کہ یہاں کوئی خدا نہیں ہے۔ بلکہ سارا نظام ایک مشینی عمل کے تحت اپنے آپ چلا جا رہا ہے۔
سائنس نے جو کائنات دریافت کی ہے وہ ایک حد درجہ با معنی اور بامقصد کائنات ہے جدید دریافتوں نے ثابت کیا ہے کہ ہماری دنیا منتشر مادہ کا بے معنی انبار نہیں ہے۔ بلکہ وہ ایک اعلیٰ درجہ کا منظم کار خانہ ہے۔ دنیا کی تمام چیزیں بے حد ہم آہنگی کے ساتھ ایک ایسے رخ پر سفر کرتی ہیں جو ہمیشہ با مقصد نتائج پیدا کرنے والے ہوں۔ کائنات میں نظم اور مقصدیت کی دریافت واضح طور پر ناظم کی موجودگی کا اقرار ہے۔ وہ کائنات کے پیچھے خدائی کار فرمائی کا یقینی ثبوت ہے۔ مگر موجودہ زمانہ کے بے خدا مفکرین نے یہ کیا کہ اس سائنسی دریافت کا رخ الحاد کی طرف موڑ دیا۔ انھوں نے کہا کہ جو کچھ ثابت ہوا ہے وہ بجائے خود واقعہ ہے۔ مگر اس کا کیا ثبوت کہ وہ کوئی نتیجہ (End) ہے۔ عین ممکن ہے کہ وہ محض ایک اثر (Effect) ہو۔ یعنی یہ ضروری نہیں ہے کہ یہاں کوئی ذہن ہو جو شعور اور ارادہ کے تحت بالقصد واقعات کو ایک خاص انجام کی طرف لے جا رہا ہو۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ واقعات کے بے شعور عمل کے اثر سے اپنے آپ ایک چیز بر آمد ہو رہی ہو، جو اتفاق سے بامعنی بھی ہو__ یہ بے معنی توجیہہ خود ایک ارادہ کے تحت وجود میں آئی ہے۔ پھر کیسی عجیب بات ہے کہ با معنی کائنات کو بلا ارادہ کار فرمائی مان لیا جائے۔
ایک طرف سائنس کے ظہور کے بعد ملحد مفکرین نے بہت بڑے پیمانہ پر سائنس کو الحاد کا رخ دینے کی کوشش کی ہے۔ دوسری طرف اس کے مقابلہ میں مذہبی مفکرین کی کوششیں اتنی ہی کم پچھلے سوسال کے اندر ایک طرف ہزاروں کی تعداد میں اعلیٰ علمی کتابیں چھپی ہیں جن کے
ذریعہ سائنس سے غلط طور پر الحاد کو بر آمد کرسامنے کی کوشش کی گئی ہے۔ دوسری طرف دینی مفکرین کی صف میں چند ہی قابل ذکر علمی کوششوں کا نام لیا جا سکتا ہے۔ ان میں سے ایک قابل قدر کتاب سرجیمز جینز کی پر اسرار کائنات (The Mysterious Universe) ہے۔ اس کتاب میں لائق مصنف نے نظریہ تعلیل (Principle of Causation) کو خالص سائنسی استدلال کے ذریعہ منہدم کر دیا ہے جس کو موجودہ زمانہ میں خدا کا مشینی بدل سمجھ لیا گیا تھا۔
موجودہ صدی کے نصف آخر میں بے شمار نئے حقائق انسان کے علم میں آئے ہیں جو نہایت بر ترسطح پر دینی عقائد کی حقانیت کو ثابت کر رہے ہیں۔ مگر ابھی تک کوئی ایسا دینی مفکر نے نہیں آیا جو ان سائنسی معلومات کو دینی صداقتوں کے اثبات کے طور پر مدون کرے ۔ اگر یہ کام اعلیٰ سطح پر ہو سکے تو وہ دعوت توحید کے حق میں ایک علمی معجزہ ظاہر کرنے کے ہم معنی ہوگا۔
قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ ماضی میں جتنے پیغمبر آئے سب کی پیغمبری پر ان کے ہم عصر مخاطبین نے شک کیا ( ہود ۶۳) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی ابتدائی یہی صورت پیش آئی کہ آپ کے مخاطبین اول آپ کی نبوت پر شک کرتے رہے (ص ۸) تاہم اس کے ساتھ قرآن میں یہ اعلان کیا گیا کہ آپ کو مقام محمود پر کھڑا کیا جائے گا عسىٰ ان یبعثك ربك مقاما محمودا) اس اعلان کا مطلب یہ تھا کہ آپ کی نبوت شک کے مرحلہ سے گزر کر ایک ایسے مرحلہ میں پہنچے گی جب وہ مکمل طور پر تسلیم شدہ نبوت بن جائے۔ ( قابل تعریف ) ہونا تسلیم و اعتراف کا آخری درجہ ہے۔
ہر نبی جب پیدا ہوتا ہے تو وہ اپنی قوم کے اندر ایک ایسی شخصیت ہوتا ہے جس کو لوگ شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ معلوم نہیں یہ واقعہ پیغمبر ہیں یا صرف دعویٰ کر رہے ہیں ، اس طرح کے خیالات لوگوں کے ذہن میں گھومتے ہیں اور آخر وقت تک ختم نہیں ہو پاتے۔ پیغمبری اپنے ابتدائی دور میں صرف دعویٰ ہوتی ہے۔ وہ اپنے دعویٰ کا ایسا ثبوت نہیں ہوتی جس کو ماننے پر لوگ مجبور ہو جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی پیغمبر آیا وہ اپنی قوم کی نظر میں ایک نزاعی شخصیت بن گیا۔ کی صداقت کو جاننے کے لیے لوگوں کے پاس اس وقت اس کا صرف دعویٰ تھا۔ اس کے حق میں مسلمہ تاریخی دلائل ابھی جمع نہیں ہوئے تھے۔ اس قسم کے دلائل ہمیشہ بعد کو وجود میں آتے ہیں۔ مگر عام طور پر انبیاء کا معاملہ اس بعد کے مرحلہ تک پہنچ نہ سکا۔
دوسرے پیغمبرانہ اکی دور میں شروع ہوئے اور رزاعی دور ہی میں ان کا اختتام ہو گیا۔ کیوں کہ ان کے بعد ان کے پیغام کی پشت پر ایسا گر وہ جمع نہ ہو سکا جوان کی سیرت اور ان کے کلام
کو مکمل طور پر محفوظ رکھ سکے۔ دوسرے انبیاء اپنے زمانہ میں لوگوں کے لئے اس لئے نزاعی تھے کہ وہ ابھی اپنی تاریخ کے آغاز میں تھے، بعد کے دور میں وہ دوبارہ نزاعی ہو گئے۔ کیوں کہ بعد کو ان کی جو تاریخ بنی وہ انسانی علم کے معیار پر تسلیم شدہ نہ تھی۔
نبیوں کی فہرست میں اس اعتبار سے صرف پیغمبر آخر الزماں کا استثنار ہے۔ آپ نے اگر چہ دوسرے نبیوں کی طرح اپنی نبوت کا آغاز نزاعی دور سے کیا۔ مگر بعد کے دور میں آپ کو اتنی غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی کہ زمین کے بڑے حصے میں آپ کا اور آپ کے ساتھیوں کا اقتدار قائم ہو گیا ایک صدی سے بھی کم عرصہ میں آپ کے دین نے ایشیا اور افریقہ کی بڑی طاقتوں کو زیر و زبر کر ڈالا۔ پیغمبر آخر الزماں کو جتنے چیلنج پیش آئے سب میں وہ فاتح رہے۔ آپ نے جتنی پیشین گوئیاں کیں سب مکمل طور پر پوری ہوئیں۔ جو طاقت بھی آپ سے ٹکرائی وہ پاش پاش ہو گئی۔ آپ کی زندگی میں ایسے واقعات پیش آئے جن کی بنا پر معاصر تاریخ میں آپ کا ریکارڈ قائم ہو گیا۔ ساری تاریخ انبیاء میں آپ کو یہ غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی کہ آپ کی نبوت نزاعی مرحلہ سے نکل کر محمودی مرحلہ میں پہنچ گئی۔ آپ کا کلام اور آپ کا کارنامہ دونوں اس طرح محفوظ حالت میں باقی رہے کہ کسی کے لئے آپ کے بارہ میں شک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔
موجودہ زمانہ میں دین حق کے داعیوں کو ایک ایسا خصوصی موقع (Advantage) حاصل ہے جو تاریخ کے پچھلے ادوار میں کسی داعی گروہ کو حاصل نہ تھا۔ وہ یہ کہ ہم آج اس حیثیت میں ہیں کہ توحید کی دعوت کو مسلّم (Established) نبوت کی سطح پر پیش کر سکیں۔ جب کہ اس سے پہلے توحید کی دعوت صرف نزاعی (Controversial) نبوت کی سطح پر پیش کی جاسکتی تھی۔
دوسری امتیں اگر نبوت نزاعی کی وارث تھیں تو، ہم نبوت محمودی کے وارث ہیں۔ اقوام عالم کے سامنے شہادت حق کا جو کام انجام دینا ہے اس کے لئے خدا نے آج ہر قسم کے موافق مواقع مکمل طور پر کھول دیے ہیں۔ اس کے باوجود اگر مسلمان اس کارِ شہادت کو انجام نہ دیں۔ یا شہادت دین کے نام پر قومی جھگڑے کھڑے کرنے لگیں تو مجھے نہیں معلوم کہ قیامت کے دن وہ رب العالمین کے سامنے کیوں کر بری الذمہ ہو سکتے ہیں۔
نومبر ۱۹۸۳ء کے آخری ہفتہ میں لاہور میں قرآنی سیمینار ہوا۔ اس موقع پر راقم الحروف کو ایک مقالہ پڑھنے کی دعوت دی گئی۔ زیر نظر مقالہ اسی سیمینار میں پیش کرنے کے لئے تیار کیا گیا۔