Al-Risala · January 1984

سب سے زیادہ، سب سے کم

Al-Risala, January 1984, p. 4

By Maulana Wahiduddin Khan

سردی کے موسم میں سانپ ٹھٹھرا پڑا ہوا ہے۔ بظاہر وہ ایک کالی رسی کا ٹکڑا معلوم ہوتا ہے۔ جب آپ اس کو چھوتے ہیں تو اچانک وہ پھن نکال کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ یہی ہر آدمی کا حال ہے۔ بظاہر اچھا آدمی ہے۔ مگر جب اس کو چھیڑئے تو اچانک وہ ایسا بن جائے گا جیسے اس کے اندر برائی کے سوا اور کوئی چیز موجود نہ تھی۔

ایک شخص دیکھنے میں بالکل ٹھیک معلوم ہوگا۔ عام تعلقات میں وہ دین دار اور اخلاق نظر آئے گا۔ لیکن اگر اس کو آپ سے کوئی شکایت ہو جائے، آپ سے اس کو کوئی ٹھیس پہنچ جائے تو وہ اگلے ہی لمحہ آپ کے لئے دوسرا انسان بن جائے گا۔ اب ایسا معلوم گویا اس کو دین اور اخلاق سے کوئی واسطہ ہی نہیں۔

ایک شخص اچھی اچھی باتیں کرے گا۔ وہ سچائی کا طالب دکھائی دے گا۔ لیکن اگر آپ اس پر تنقید کر دیجئے ۔ آپ ایسی بات کہہ دیجئے جس کی زد اس کی ذات پر پڑتی ہو تو وہ فوراً بھر اٹھے گا۔ ایسا نظر آئے گا گویا اس کے اندر یہ صلاحیت ہی نہیں کہ سنجیدگی کے ساتھ کسی نسا کو سمجھ سکے۔ ایک شخص ہے جس کی نظر میں آپ طاقتور ہیں۔ آپ کے اندر وہ دنیوی اہمیت کی چیز دیکھتا ایسی حالت میں وہ آپ کا زبردست قدرداں ہوگا۔ آپ اس کو عظیم انسان نظر آئیں گے۔ اگر آپ اس کی نگاہ میں کمزور ہوں آپ سے اس کو کوئی فائدہ نہ ہو تو اس کی نظر میں آپ بے قیمت آپ کا اخلاص اس کو بے وقوفی دکھائے گا۔ آپ کی اچھی بات بھی اس کو بے وقعت معلوم ہونے لگے گی۔

ایک شخص ہے جس سے ابھی آپ کا کوئی معاملہ نہیں پڑا۔ اس سے آپ کے دور دور کے تعلقات ہیں ایسی حالت میں وہ بالکل صحیح بنا رہے گا۔ لیکن اگر اس سے کوئی معاملہ پیش آجائے۔ آپ کے کسی عمل سے اس کا مفاد مجروح ہو جائے تو اس کے بعد وہ ایسا بن جائے گا جیسے وہ بظا ہر انسان مگر باطن حیوان اب وہ آپ کے سامنے ایک بالکل مختلف انسان کے روپ میں ظاہر ہوگا۔ وہ ایک ایسا شخص بن جائے گا جو خدا اور غصہ اور انتقام کے سوا کچھ اور جانتا ہی نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ خود پرست انسان دنیا میں سب سے زیادہ پائے جاتے ہیں، اور خدا پرست انسان دنیا میں سب سے زیادہ کم۔

Printed page