حیوانیت کی سطح پر
Al-Risala, August 1984, pp. 25–46
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت سلیمان کے زمانہ حکومت (۳۹-۹-۱۰۱۳ ق م ) میں بحر قلزم کی مشرقی شاخ کے کنارے ایلات (Elath) کے مقام پر یہودیوں کی آبادی تھی۔ انھوں نے قانون سبت کی خلاف ورزی کی۔ ان کی شریعت میں سبت (سنیچر) کے دن معاشی سرگرمیاں ممنوع تھیں۔ مگر وہ اس دن مچھلی کا شکار کرنے لگے۔ سنیچر کے دن مچھلیاں کثرت سے دریا میں آتی تھیں اور بقیہ دنوں میں پانی کے نیچے چلی جاتی تھیں۔ یہود نے یہ شرعی تدبیر کی کہ دریا کے کنارے گڑھے بنائے۔ وہ دریا کا پانی کاٹ کر گڑھے میں ملا دیتے ۔ سینچر کے دن جب مچھلیاں گڑھے میں آجاتیں تو وہ نکلنے کا راستہ بند کر دیتے ۔ اگلے دن اتوار کو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ تدبیر وہ اس لئے کرتے تھے تاکہ ان پر یہ بات صادق نہ آئے کہ وہ سبت کے دن شکار کرتے ہیں۔ دین کے نام پر یہ بے دینی اللہ کو اتنی زیادہ ناپسند ہوئی کہ ان پر اللہ کی لعنت ہوئی۔ وہ بندر اور سور بنا دیئے گئے ( مائدہ (۶۰) عملاً یہی حالت اگرچہ پوری قوم یہود کی تھی ، تاہم ایک خاص مقام کے یہودیوں کے باطن کو غالباً ظاہری طور پر بھی مجسم کر دیا گیا تاکہ دوسروں کے لئے عبرت ہو ( بقرہ (۶۶) بندر اور سور بنانے سے کیا مراد ہے ، اس بارہ میں مفسرین کی دو رائیں ہیں۔ ظاہر الفاظ پر قیاس کرتے ہوئے یہ مراد لیا ہے کہ مذکورہ گروہ حقیقی معنوں میں بندر اور سور بنا دئے گئے ۔ جہاں تک حدیث کا تعلق ہے ، اس سے کوئی واضح بات ثابت نہیں ۔ میں صرف اتنا ہے کہ آپ سے پوچھا گیا کہ موجودہ بندر اور سور کیاقدیم مسخ شدہ اقوام کی نسلیں ہیں۔ آپ نے فرمایا نہیں۔ یہ حیوانات ہمیشہ سے اسی طرح ہیں ( تفسیر ابن کثیر ، الجزء الثانی مجاہد کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ وہ بندر کی صورت میں تبدیل نہیں کئے گئے بلکہ ان کے دل مسخ کر دئے گئے ( قال مسخت قلوبهم ولم يمسخوا قردة - وانما هو مثل ضربه الله : كمثل الحمار يحمل اسفارا ) ابو العالیہ کا قول ہے کہ کونوا قردة خاسئین سے مراد یہ ہے کہ وہ پست اور حقیر بنا دئے گئے ( یعنی اذلة صاغرين ) یہی رائے قتادہ اور ربیع اور ابو مالک کی بھی ہے ( تفسیر ابن کثیر ، الجز ء الاول ، صفحہ ۱۰۶ - ۱۰۵) موجودہ زمانہ کے مفسرین میں شیخ رشید رضا نے بھی اس کو اختیار کیا ہے ( المنار )
سور کی خصوصیت کیا ہے۔ ستھری چیز کو چھوڑ کر ، گندی چیز کو اپنی خوراک بنانا، اس کی ایک صورت وہ ہے جو کمائی اور لین دین میں ظاہر ہوتی ہے۔ آدمی حلال ذرائع پر قانع نہ رہ کر حرام سے اپنا پیٹ
بھرنے لگتا ہے (مائدہ۔ دوسری صورت وہ ہے جس کو قرآن میں ان لفظوں میں بیان کیا گیا ہے : اگر وہ ہدایت کار استہ دیکھیں تو اس کو اپنا راستہ نہ بنائیں اور اگر گمراہی کا راستہ دیکھیں تو اس کو اپنا راستہ
ایسے لوگوں کا حال ہو جاتا ہے کہ وہ مثبت چیزوں کے بجائے منفی چیزوں کی طرف دوڑنے لگتے ہیں، ان کو اصلاح کے کاموں کی طرف رغبت نہیں ہوتی۔ البتہ ایسے کاموں کی طرف وہ تیزی سے لپکتے ہیں جن کا نتیجہ نسلوں اور کھیتیوں کی ہلاکت ہو۔
ان کے سامنے تعمیری کام کے مواقع کھلے ہوتے ہیں۔ مگر وہ ان کو چھوڑ کر تخریب کے راستوں میں تیزی ابنائے نوع کے لئے نفع بخش بننے کا شوق ان میں نہیں ابھرتا۔ البتہ ان کو نقصان پہنچانے کے نعرہ پر وہ بآسانی جمع ہو جاتے ہیں۔ خاموش خدمت میں ان کے لئے اپیل نہیں ہوتی البتہ نمائشی ہنگاموں میں وہ خوب دل چسپی دکھاتے ہیں۔ حقیقی فائدہ کے منصوبوں میں ان کے لئے کوئی کشش نہیں ہوتی۔ بے فائدہ مشغلوں میں وہ اپنا وقت اور مال خوب خرچ کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ نوبت یہاں تک پہنچتی ہے کہ ان کو خدائے واحد کی پرستش کی طرف بلائیے تو وہ لبیک نہ کہیں گے البتہ یہ زندہ یا مردہ شخصیتوں کی پوجا کے نام پر وہ جوق در جوق اکٹھا ہو جائیں گے۔
بے دینی کو دین کے نام پر کرنا بدترین جرم ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دھیرے دھیرے آدمی کے اندر سے صحیح اور غلط کا فرق مٹ جاتا ہے۔ وہ ایک بے حس انسان بن جاتا ہے۔ دین اور بے دینی دونوں اس کو یکساں دکھائی دینے لگتے ہیں۔ وہ انسانیت کی سطح سے گر کر حیوانیت کی سطح پر آ جاتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ نوبت آتی ہے جب کہ اس میں بندر اور سور کی اخلاقیات پیدا ہو جاتی ہیں۔ بندر کی خصوصیت کیا ہے۔ فساد اور بے حیائی۔ کسی مکان میں بندروں کا غول داخل ہو جائے تو وہ فوراً بے معنی اچھل کود اور توڑ پھوڑ شروع کر دے گا۔ ایسا ہی کچھ حال اس قوم کا ہو جاتا ہے۔ زبان سے خدا کا انکار نہیں کرتی۔ تاہم عملاًوہ خدا کی زمین پر اس طرح رہنے لگتی ہے جیسے اس زمین کا کوئی مالک نہیں ہے۔ جیسے نہ کبھی خدا سے اس کا سامنا ہونا ہے اور نہ اپنے کئے کا حساب دینا ہے۔ بدنظمی، غیر ذمہ دارانہ زندگی، بے معنی کارروائیاں، آپس کی چھین جھپٹ، ایک دوسرے پر غراانا، ہمدردی اور انصاف کے بجائے ظلم و فساد کو اپنا شیوہ بنا لینا، یہ اس کی عام زندگی ہو جاتی ہے۔ بظاہر انسان مگر عملاً بندر صفت ہو جاتے ہیں۔ وہ انسانوں کی آبادی میں اس طرح رہنے لگتے ہیں جیسے بندر جنگلوں کی آبادی میں۔