Al-Risala · September 1984

بنیادی بات

Al-Risala, September 1984, pp. 9–11

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں ارشاد ہوا ہے تم کو تم کو جو بھی دکھ پیش آتا ہے وہ خود تمہارے سبب سے ہوتا ہے (وما اصابك من سيئة فمن نفسك، النساء79) )، دوسری جگہ بتایا گیا ہے کہ تم کو جو بھی مصیبت پہنچتی ہے وہ خود تمہارے ہاتھوں کے کئے ہوئے کاموں سے پہنچتی ہے ( وما اصابكم من مصيبة فبما كسبت ايديكم،

اس سے معلوم ہوا کہ دنیا کا نظام خدا نے اس طرح بنایا ہے کہ یہاں کسی کو دوسرے کے اوبر کوئی یہاں ہر آدمی یا ہر گروہ خود اپنے ہی عمل کا انجام بھگتتا ہے۔ آدمی پر جب بھی کوئی مصیبت پڑے تو اس کو چاہیے کہ اس کا سبب وہ باہر نہ تلاش کرے۔ بلکہ خود اپنے اندر ڈھونڈ کر نکالے۔ کیوں کہ اس کا سبب یقینی طور پر خود اس کے اپنے اندر موجود ہوگا۔

رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس کی دو واضح مثالیں موجود ہیں۔ ایک غزوہ احد (۳ھ) کی شکست اور دوسرے غزوہ حنین (۸ھ) میں پیش آنے والا زبردست نقصان۔ قرآن میں ان دونوں غزوات کا ذکر ہے اور دونوں میں یہ انداز ہے کہ اسلام دشمنوں کے خلاف احتجاج کرنے کے بجائے خود مسلمانوں پر اس کی پوری ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔

احد کے بارہ میں بتایا گیا ہے کہ تمہاری کمزوری، تمہارا آپس کا اختلاف اور تمہارا مرکزی قیادت کی نافرمانی کرنا، یہ اسباب تھے جنھوں نے تم کو اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں شکست سے دوچار کیا (آل عمران ۱۵۲) اسی طرح حنین کے بارہ میں ارشاد ہوا ہے کہ اس موقع پر کہ جس پر بادی سے سابقہ پیش آیا اس کی وجہ یہ تھی کہ تمہارے اندر گھمنڈ پیدا ہو گیا۔ یہاں بھی سبب مسلمانوں کے اپنے اندر بتایا گیا کہ ان کے باہر (التوبہ ۲۵) ان دونوں حادثات میں پوری طرح یہ ممکن تھا کہ ان کی ساری ذمہ داری قریش پر ڈالی جائے اور ان کو یک طرفہ طور پر برا بھلا کہا جائے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے جب ان حادثات پر تبصرہ کیا تو ان کی ساری ذمہ داری صرف مسلمانوں کے اوپر ڈال دی۔ یہ مثال ہمیشہ کے لئے بتا رہی ہے کہ اس طرح کے معاملات میں مسلمانوں کا ذہن کیا ہونا چاہئے ۔ یہ کہ وہ دوسروں کی سازشوں کا انکشاف کرنے کے بجائے خود اپنا احتساب کریں۔ وہ اپنی کمزوریوں کو دور کرکے اپنے حریف کے اوپر فتح حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

اس موضوع کی مزید وضاحت کے لئے یہاں ہم خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کا ایک مکتوب نقل کرتے ہیں جو انھوں نے اپنے ایک ماتحت افسر کے نام روانہ کیا تھا: یروی ان عمر بن عبد العزيز بعث برسالة الى منصور بن غالب حين بعثه على قتال اهل الحرب جاء فيها : هذا ما عهد به عبد الله (عمر بن عبد العزيز ) امير المومنين الى منصور بن غالب حين بعثه الى قتال اهل الحرب ـ امره في ذالك بتقوى الله على كل حال نزل به من امر الله تعالى فان تقوى الله من افضل العدة وابلغ المكيدة واقوى القوة و امره الا يكون من شئ من عد و اشد احتراسا منه لنفسه ومن معه من معاصى الله فان الذنوب اخوف عندى على الناس من مكيدة عدوهم وانما نعادى عدونا وننصر عليهم بمعصيتهم ولولا ذالك لم يكن لنا قوة بهم لان عددنا ليس كعددهم ولا عداتنا كعدتهم فلو استوينا نحن وهم فى المعصية كانوا افضل منا في القوة والعد دفان لا ننصر عليهم بحقنا لا نغلهم بقوتنا ولا تتاونوا لعداوة احد من الناس احذر منكم لذنوبكم . روایت ہے کہ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز نے منصور بن غالب کے نام ایک خط روانہ کیا جب کہ انھوں نے ان کو اہل حرب کے مقابلے کے لئے بھیجا تھا۔ اس میں لکھا کہ تم ہر حال میں تقویٰ پر قائم رہو۔ کیونکہ اللہ کا تقویٰ (ڈر) سب سے بہتر تیاری اور سب سے کامیاب تدبیر ہے اور سب سے بڑی قوت ہے۔ دشمن سے بچنے کے لئے سب سے زیادہ اہم چیز اپنے گناہوں سے بچنا ہے۔ کیوں کہ گناہ میرے نزدیک دشمن کی چالوں سے زیادہ خطرناک ہوتا ہم دشمنوں پر ان کی گنہگاری کی وجہ سے کامیاب ہوتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو, ہم کو کوئی قوت ان کے اوپر نہ رہے۔ کیوں کہ ان کی تعداد اور ان کی تیاری ہم سے زیادہ ہے۔ پھر اگر ہم اور وہ دونوں گنہگاری میں برابر ہو جائیں تو وہ ہم سے طاقت اور تعداد میں برتر ہو جائیں گے۔ ایسی حالت میں, ہم اپنی موجودہ قوت کے ساتھ ان پر کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اور تم کسی کی عداوت سے جتنا ڈرتے ہو اس سے بھی زیادہ خود اپنے گناہ سے ڈرو۔ خلیفہ راشد حضرت عمر بن عبدالعزیز کی ان نصیحتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ آدمی کی ناکامی کا سبب ہمیشہ اس کے اپنے اندر ہوتا ہے نہ کہ اس کے باہر۔

بنیادی بات یہ ہے کہ یہ دنیا خدا کی دنیا ہے نہ کہ انسان کی دنیا۔ یہاں انسان کو صرف اپنے آپ پر اختیار کسی بھی فرد یا قوم کو کسی دوسرے فرد یا قوم کے اوپر کوئی اختیار حاصل نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں جب بھی کسی کو کچھ ملتا ہے تو وہ اس کو خدا کی طرف سے ملتا ہے۔ وہ کسی اور کے ذریعہ اسے پہنچا ہو۔ اسی طرح یہاں جب بھی کسی سے کچھ چھنتا ہے تو وہ خدا کی طرف سے چھنتا ہے ، خواہ بظاہر اس کا چھیننے والا کوئی دوسرا دکھائی دیتا ہو۔ اس لئے عقلمند وہ ہے جو دونوں حالتوں

میں خدا کی طرف رجوع کرنے۔

مسلمانوں کو موجودہ زما میں دوسرے فرقوں سے حسن ظن کا نتیجہ مور مارکیٹ کے سامنے، کچہری روڈ، عام روڈ، مسلمانوں کو موجودہ زمانہ میں دوسری قوموں سے جس ظلم کا تجربہ ہو رہا ہے اس کے سلسلے میں عام طور پر وہ ایک ہی کام کرنے میں مشغول ہیں۔ اور وہ ہے ”ظالم قوموں “ کے خلاف چیخ و پکار۔ یہ سراسر غیر اسلامی جب ہر, نہ ہونے والا واقعہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے تو یقیناً یہ واقعہ بھی خدا کی طرف سے پیش آرہے ہوں۔ اس لئے اس کا متاثر صرف یہ ہونا چاہئے کہ مسلمان اللہ کی طرف رجوع ہوں ۔ وہ یہ جاننے کی کوشش کریں کہ خدا کے معاملہ میں ان سے کون سی کوتاہی ہوئی ہے جس کی انہیں یہ سزا مل رہی ہے۔ تاکہ اپنی کوتاہی کی اصلاح کرکے وہ دوبارہ اپنے آپ کو خدا کی عنایات کا مستحق بناسکیں۔

اگر آپ پر پتھر اوپر کی طرف سے آرہا ہے اور آپ اس کا سبب نیچے کی طرف تلاش کرنے لگیں تو آپ بھی کبھی اپنے آپ کو پتھر کی بارش سے بچانے میں کامیاب نہیں ہو سکتے ۔

Printed page