Al-Risala · September 1984

فساد کا جائزہ

Al-Risala, September 1984, pp. 13–14

By Maulana Wahiduddin Khan

اس فساد کا جائزہ لینے کے دو طریقے ہیں۔ ایک قومی طریقہ اور دوسرا اسلامی طریقہ۔ قومی طریقہ وہی ہے جس کا مظاہرہ مسلمانوں کے تمام اصاغر و اکابر ایسے مواقع پر کرتے ہیں اور اس بار بھی کر رہے ہیں۔ حادثہ کے بعد مسلمانوں کی تمام زبانیں ایک ہی بات بول رہی ہیں اور ان کے تمام قلم ایک ہی بات لکھ رہے اور وہ ہے شیو سینا کو دیا انتظامیہ کو، ایک طرفہ طور پر تمام بر بادیوں کا ذمہ دار قرار دینا۔ قومی طریقہ یہ نہیں دیکھتا کہ حق کیا ہے اور ناحق کیا۔ وہ صرف اپنی قوم اور غیر قوم دیکھتا ہے۔ اور جب بھی اس قسم کا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو اپنی قوم کا ساتھ دیتے ہوئے دوسری قوم کو برا بھلا کہنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ وہی طریقہ ہے جس کو حدیث میں عصبیت کہا گیا ہے اور عصبیت سراسر باطل ہے۔

دوسرا طریقہ اسلام کا طریقہ ہے۔ اسلام کا طریقہ اصولی ہے نہ کہ قومی۔ اسلامی طریقہ کو جب ہم اس واقعہ پر استعمال کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سی شکایت تھی جس پر برہم ہو کر مسلمانوں نے ہنگامہ کیا اور شیو سینا کے لیڈر کی مورت بنا کر اس کو پرانے چپلوں کا ہار پہنایا۔ مسلمانوں کے بیان کے مطابق یہ تھی کہ شیو سینا کے لیڈر نے قرآن کو بند کرنے کا مطالبہ کیا اور پیغمبر اسلام

کی شان میں گستاخی کی۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ یہ الزام سراسر غلط تھا۔ بال ٹھاکرے نے ایسی بات سرے سے

شیو سینا کا لیڈر بمبئی میں موجود تھا۔ مگر نہ مسلمانوں کا کوئی وفد فساد سے پہلے اس سے تحقیق کی غرض سے ملا۔ نہ کسی نے ٹیلیفون کر کے دریافت کیا۔ مسلمانوں کے وہ نام نہاد لیڈر جو فساد کے بعد خوب متحرک ہو جاتے ہیں وہ فسا د سے پہلے اس کی تحقیق کے لئے بالکل متحرک نہیں ہوئے۔ جو ہوا وہ صرف یہ کہ بمبئی کی یہ خبر بنگلور کے ایک اردو اخبار میں شائع ہوئی جو سستی صحافت اور سنسنی خیزی کے لئے مشہور ہے۔ بس اس کا اردو اخبار میں چھپنا تھا کہ مسلمانوں نے اس کو بڑھا چڑھا کر نقل کرنا شروع کر دیا اور چند دنوں کے اندر یہ فضا اس قدر گرم ہو گئی جس کا دوسرا نتیجہ لازماً فساد تھا۔

Printed page