Al-Risala · September 1984

فساد کی جڑ

Al-Risala, September 1984, pp. 17–18

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلمان اس قسم کی نادانیاں کیوں کرتے ہیں۔ اس کی وجہ ان کی فخر کی نفسیات ہے۔ مسلمانوں پر جب بھی زوال کا دور آتا ہے تو ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ان کے اندر فخر کی نفسیات پیدا ہو جاتی ہے۔ امت کا زوال دراصل نام ہی اس بات کا ہے کہ دین ان کے یہاں ذمہ داری کی سطح پر نہ رہے بلکہ فخر کی سطح پر پہنچ جائے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ خدائے رحمان کے بندے وہ ہیں جو زمین پر نرمی اور عاجزی کے ساتھ چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے الجھتے ہیں تو وہ ان کو سلام کر کے الگ ہو جاتے ہیں۔ مگر امت پر جب گراوٹ کا دور آتا ہے تو اس کے اندر بالکل برعکس مزاج پیدا ہو جاتا ہے۔ اب اس کے افراد کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ دین کی تعلیمات کا چرچا اپنی بڑائی جتانے کے لیے کرتے ہیں نہ کہ حقیقتاً عمل کرنے

وہ سراٹھا کر کہیں گے کہ صرف ہمارا دین ایک ایسا دین ہے جس میں خالص توحید پائی جاتی ہے۔ اسی وقت اپنی زندہ اور مردہ شخصیتوں کی پرستش میں مبتلا ہوں گے ۔ وہ اس بات پر فخر کریں گے کہ اسلام میں کامل مساوات پائی جاتی ہے مگر اپنے معاملات میں سراسر غیر مساوی سلوک جاری رکھیں گے۔ وہ جوش و خروش کے ساتھ یہ اعلان کریں گے کہ ہمارا دین حکم دیتا ہے کہ تم مِفتاح للخير، مغلاق للشر (بھلائی کا دروازہ کھولنے والے اور برائی کا دروازہ بند کرنے والے)، بنو مگر جب خدا کا کوئی بندہ اس حکم کو خود ان کی ذات پر استعمال کرتے ہوئے ان کے کسی غلط رویہ پر تنقید کر دے تو وہ ہمیشہ کے لیے اس کے دشمن بن جائیں گے۔ وہ اپنے پیغمبر کے اعلی کردار کو بیان کرتے ہوئے پر فخر طور پر کہیں گے کہ وہ اشتعال کے باوجود مشتعل نہیں ہوئے مگر خود ہر خلاف مزاج بات پر بپھر اٹھیں گے اور کہیں گے کہ جب اشتعال پیدا کیا جائے تو ہم کیسے نہ مشتعل ہوں۔ دوسرے ادیان کو کمتر ثابت کرنے کے وقت وہ زور و شور کے ساتھ کہیں گے کہ ہمارے رسول پر پیغمبری ختم ہوگئی۔ مگر اپنے پیغمبر کی تعلیمات کو دوسری قوموں تک پہنچانے سے وہ اس قدر غافل ہوں گے جیسے کہ اس کام کے لئے انہیں کسی نے رسول کی آمد کا انتظار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی نفسیات ہر قسم کے فساد کی اصل جڑ ہے۔ جب دین فخر کا عنوان بن جائے تو اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر وہ مزاج پیدا ہوتا ہے جس کو جھوٹا احساس برتری سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ اپنے آپ کو ہر حال میں صحیح سمجھنے لگتے ہیں اور دوسرے کو ہر حال میں غلط۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دوسروں کے ساتھ ان کا رویہ سراسر غیر حقیقت پسندانہ رو یہ ہو کر رہ جاتا ہے۔

ایسے لوگوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ دوسروں کی غلطیوں کا خوب چرچا کریں گے مگر خود اپنی غلطی

ماننے کے لئے کبھی تیار نہ ہوں گے۔ وہ اس طرح رہیں گے جیسے کہ انھیں سب کچھ کرنے کا حق ہے۔ اور ان کے سوا جو لوگ ہیں انھیں کچھ بھی کرنے کا حق نہیں۔

ظاہر ہے کہ جو لوگ اس مزاج کے ساتھ دوسروں کے درمیان رہنا چاہیں وہ کبھی مندرل طور پر دوسروں کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ ان کا وجود خدا کی زمین پر صرف فساد پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔ کے ذریعہ یہاں کبھی امن قائم نہیں ہو سکتا۔ اس مزاج کے ساتھ دنیا میں رہنا گو یا خدا کی دنیا میں گندگ بکھیڑنا ہے جب کہ خدا کا طریقہ یہ ہے کہ اگر کہیں کوئی گندگی ہو جائے تو اس کو تحلیل (Decompose) کر کے دوبارہ اس کو پاکی میں تبدیل کر دیا جائے ۔ اس طرح رہنا خدا کی دنیا میں غیر خدائی طریقہ پر رہنا ہے۔ اور جو لوگ خدا کی دنیا میں غیر خدائی طریقہ پر رہنا چاہیں وہ آخر کامياب ہوں گے تو کس طرح کامیاب ہوں گے۔ الرسالة کا انگریزی ایڈیشن پابندی سے ہر ماہ نکل رہا ہے۔ زبان و بیان ہر لحاظ سے بفضلہ تعالیٰ وہ ایک معیاری پرچہ ہے۔ ایک امریکی نومسلم جو انگریزی الرسالہ شروع سے پڑھ رہے ہیں، انھوں نے کہا کہ الرسالہ مجھ کو بہت پسند ہے۔ وہ مسلم دنیا کا واحد انگریزی رسالہ ہے جو خالص دعوتی اور تعمیری انداز میں نکلتا ہے۔ میں الرسالہ کو بہت شوق سے پڑھتا ہوں۔

الرسالة خالص دعوتی مقصد سے نکالا گیا ہے اور دعوت پوری امت کی مشترک ذمہ داری ہے۔ اعتبار سے الرسالہ (انگریزی) کسی خاص ادارہ کا پرچہ نہیں وہ پوری امت کا پرچہ ہے۔ اس کا تعاون کر ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے۔ الرسالہ (انگریزی) کے سلسلے میں آپ اپنی ذمہ داری کو اس طرح پورا کر سکتے ہیں کہ :

اس کے خریدار بنائیں اور ایجنسی قائم کریں تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچے۔ نوٹ: انگریزی الرسالہ کی خریداری اور ایجنسی کے شرائط وہی ہیں جو اردو الرسالہ کے ہیں۔

Printed page