Al-Risala · September 1984

۲۔ لغویت سے اعراض

Al-Risala, September 1984, p. 21

By Maulana Wahiduddin Khan

اسی طرح قرآن میں اہل ایمان کی یہ صفت بتائی گئی ہے کہ وہ لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں (والذین هم عن اللغو معرضون)، اس آیت کے مطابق مسلمانوں کو چاہئے کہ جب نادان لوگ کوئی جہالت کریں یا کوئی اشتعال انگیز بات کریں تو وہ اس پر بر افروختہ نہ ہوں بلکہ اعراض کا طریقہ اختیار کریں۔ مسلمان اگر اس قرآنی حکم (اعراض) کو اختیار کر لیں تو یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ہندوستان میں تمام فسادات کی جڑ کٹ جائے۔ کیوں کہ بیشتر فسادات کا سبب یہ ہوتا ہے کہ وہ نادانوں کی خرافات پر اعراض نہیں کر پاتے۔ وہ فوراً مشتعل ہو کر ان سے لڑنے لگتے ہیں۔ مثال کے طور پر پچھلے رمضان (جون ۱۹۸۳) میں مالیگاؤں کا فساد یقینی طور پر نہ ہوتا اگر مسلمانوں نے اعراض کا طریقہ اختیار کیا ہوتا۔ جیسا کہ معلوم ہے ، اس فساد کا آغاز اس طرح ہوا کہ روزہ کے دن ہیں شام کو غیر مسلموں نے کسی وجہ سے پٹاخہ چھوڑا۔ کچھ مسلمان جو قریب کی مسجد میں افطار کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے انھوں نے سمجھا کہ یہ افطار کے اعلان کا گولاہے۔ انھوں نے افطار کر لیا۔ جب انھیں معلوم ہوا کہ یہ غیر مسلموں کا پٹاخہ تھا اور انھوں نے وقت سے پہلے افطار کر لیا تو وہ مسجد سے نکل کر غیر مسلموں سے لڑنے لگے۔ اس کا نتیجہ مالیگاؤں میں ہولناک فساد تھا۔ حالانکہ قرآن کی رو سے یہ قطعی طور پر ایسا واقعہ تھا جس سے انھیں اعراض کرنا چاہئے تھا۔

Printed page