Al-Risala · September 1984

۳۔ حمیت جاہلیہ نہیں

Al-Risala, September 1984, pp. 21–22

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں معاہدہ حدیبیہ کے واقعہ کے ضمن میں ارشاد ہوا ہے کہ اہل کفر نے حب حمیت جاہلیہ کا مظاہرہ کیا تو اہل ایمان نے اس کے جواب میں حمیت جاہلیہ کا طریقہ اختیار نہیں کیا بلکہ وہ تقویٰ کی روش پر قائم رہے۔ (الفتح ۲۶) اہل ایمان کی طرف سے جوابی حمیت کا طریقہ اختیار نہ کرنے ہی کا یہ نتیجہ تھا کہ حدیبیہ کا معاہدہ ہوا جس کو خدا نے فتح مبین فرمایا اور جس کے صرف دو سال بعد عرب فتح ہو گیا۔

مسلمان اگر اس آیت پر عمل کریں تو اچانک ان کی تاریخ بالکل دوسرا رخ اختیار کر لے۔ نیز فسادات کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہو جائے ۔ فریق وارانہ فساد کی وجہ اکثر حالات میں یہی ہوتی ہے کہ فرقہ ثانی کی حمیت

جاہلیت کے مقابلہ میں مسلمان بھی حمیت جاہلیہ پر اتر آتے ہیں۔ اس سے کش مکش بڑھتی ہے اور بالآخر فساد ظہور میں مثال کے طور پر مراد آباد کا فساد (۱۹۸۰) اس طرح شروع ہو اکہ غیر مسلم حضرات کی شادی کا جلوس گاتے بجاتے ایک سڑک سے گزر رہا تھا جس پر ایک مسجد واقع تھی۔ مسلمان مسجد سے نکل کر جلوس کی راہ میں مزاحم ہوگئے انھوں نے کہا کہ اس سے مسجد کی بے حرمتی ہوتی ہے۔ اس لئے تم لوگ دوسرے راستے سے اپنا جلوس لے جاو۔ مسلم حضرات اس پر تیار نہیں ہوئے۔ یہ ضد یہاں تک بڑھی کہ مارپیٹ کی نوبت آگئی اور بالآخر زبر دست فساد

مسلمانوں کی یہ روش یقینی طور پر حمیت جاہلیہ کے مقابلہ میں جوابی حمیت جاہلیہ کا مظاہرہ تھا۔ قرآن کے بتائے ہوئے طریقہ پر چلتے تو یقیناً وہ جوابی حمیت کا مظاہرہ نہ کرتے۔ اور اس کے بعد اس حادثہ کی نوبت ہی نہ آتی جس نے مراد آباد کو فساد کی آگ میں جلا ڈالا۔

حضرت عبداللہ بن مسعود کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ برائی کو برائی سے نہیں مٹاتا بلکہ برائی کو اچھائی سے مٹاتا ہے۔ نا پاک کبھی ناپاک کو نہیں مٹا سکتا ( ان اللہ لا يمحو ا السيئ بالسئى ولكن يمحو السيئ بالحسن ان الخبيث لا يمحوا الخبيث، احمد)

اس حدیث میں ایک خداوندی اصول بیان کیا گیا ہے۔ اسی اصول پر پوری دنیا کا نظام قائم ہے۔ برائی کو بھلائی سے ختم کیا جاتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو ساری دنیا صرف چند روز میں گندگی کا عظیم کوڑا خانہ بن کر رہ

مگر آج مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ وہ برائی کو برائی سے مٹانے پر کمر بستہ ہیں۔ وہ اشتعال کو جوابی اشتعال کے ذریعہ ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ایک نفرت کو دوسری نفرت سے دور کرنا چاہتے ہیں۔ وہ رقابت کا توڑ رقابت کے ذریعہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ قومی عصبیت کا علاج قومی عصبیت کے ذریعے کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ قانون خدا وندی کے سراسر خلاف ہے۔ ایسا کوئی منصوبہ موجودہ دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ کو اپنی اس تدبیر پر اصرار ہے تو ان کو اپنی مرضی کے مطابق ایک اور دنیا بنانی پڑے گی۔ موجودہ دنیا میں وہ کبھی اس طرح کا میابی حاصل نہیں کر سکتے۔

Printed page