قول میں کچھ، عمل میں کچھ
Al-Risala, September 1984, pp. 23–26
By Maulana Wahiduddin Khan
ہندوستان کے سیاسی لیڈر اور حکمراں ہمیشہ " دستور ہند " کا قصیدہ پڑھتے ہیں۔ مگر جب عمل کا وقت آتا ہے تو وہ اس کے خلاف عمل کرتے ہیں۔ دستور کی تعریف کرنا ہوا تو وہ اس کے حوالہ سے سماجی برابری کے خوبصورت الفاظ بولیں گے۔ مگر عملی معاملات میں وہ نابرابری کا سلوک کریں گے۔ دفعات کی تشریح میں وہ شاندار طور پر اس کے سیکولر کردار کا تذکرہ کریں گے مگر عمل کے پہلے ہی موقع پر سیکولر ازم کو چھوڑ کر قومی جانب داری کا رویہ اختیار کر لیں گے۔ یا دستور ہند صرف فخر کرنے کے لئے ہے نہ کہ عمل کرنے کے لئے۔
ٹھیک یہی حال موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا ہو رہا ہے۔ مسلمان اپنی تقریروں اور تحریروں میں اسلامی تعلیمات کی عظمت کا قصیدہ پڑھتے ہیں مگر عمل کے وقت وہ جس چیز پر عمل کرتے ہیں وہ ان کا ذاتی مفاد یا ان کی قومی خواہشیں ہوتی ہیں نہ کہ اسلام کی حقیقی تعلیمات۔ یہی حال آج اصاغر امت کا بھی ہے اور یہی حال اکابر امت کا بھی۔
مسلمان جب اسلام کے عقیدہ توحید پر بولیں گے تو شاندار الفاظ کا دریا بہا دیں گے۔ وہ بتائیں گے کہ اسلام میں ایک خدا کے سوا کسی اور کی پرستش کی گنجائش نہیں۔ مگر عملاً قوم کی قوم کا یہ حال ہے کہ وہ غیر اللہ کی پرستش میں مبتلا ہے۔ کوئی کسی بزرگ کی پرستش کر رہا ہے اور کوئی کسی مفکر کی۔ کوئی کسی زندہ شخصیت کو مقدس سمجھے ہوئے ہے اور کوئی کسی مردہ شخصیت کو۔ انسانی عظمت کے تذکروں سے تمام مجلسیں گو گونج رہی ہیں مگر خدا کی عظمت کا تذکرہ کہیں سنائی نہیں دیتا۔ گویا " توحید " صرف اس لئے ہے کہ اس کے ذریعہ سے دوسری قوموں پر اپنی نظریاتی برتری ظاہر کر کے فخر کیا جائے۔ جہاں تک عمل کا تعلق ہے تو مسلمانوں کی عملی حالت بھی تقریباً وہی ہے جو دوسری قوموں کی۔
اسی طرح ہمارے ادیب اور خطیب پرجوش طور پر بیان کریں گے کہ اسلام کے نزدیک خدا بھی ایک ہے اور کتاب بھی ایک اور انسان بھی ایک۔ آفاقی وحدت سے کم کوئی چیز ان کو اسلام کی عظمت گھٹانے کے ہم معنی معلوم ہوگی۔ وہ کہیں گے کہ ہم ایسی صاف اور واضح شریعت کے حامل ہیں جس کی راتیں بھی اس کے دنوں کے مانند روشن ہیں (لیلها كنهارها )
بذات خود یہ باتیں یقیناً صحیح ہیں۔ مگر مسلمانوں کے لئے اب وہ صرف کہنے کی باتیں رہ گئی ہیں۔ عمل دیکھتے تو ہر ایک سراسر اس کے خلاف عمل کرتا ہو نظر آئے گا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمان آج جتنا
زیادہ اختلاف اور انتشار میں مبتلا ہیں، دنیا کی کوئی قوم اتنے زیادہ اختلاف اور انتشار میں مبتلا نہیں مسلمانوں کی حالت دیکھیے تو ایسا معلوم ہوتا ہے گویا ان کے درمیان کوئی مشترک چیز موجود ہی نہیں۔ جیسے کوئی واحد بنیاد ہی نہیں جس پر ان کو متحد کیا جاسکے۔ ایسی حالت میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسلام کی وحدت کا لفظ آج مسلمان صرف دوسری قوموں کے مقابلہ میں اپنی برتری ظاہر کرنے کے لیے بولتے ہیں۔ اسلام اب ان کے لیے صرف فخر کرنے کی چیز ہے نہ کہ عمل کرنے کی چیز۔
یہی حال آج مسلمانوں کے تمام قومی اور اجتماعی معاملات کا ہے۔
اس کی ایک واضح مثال اسلام کی وہ تعلیم ہے جو معاہدہ حدیبیہ کی صورت میں پائی جاتی ہے۔ قائدین اور مفکرین کا یہ حال ہے کہ جب وہ رسول کی سیرت یا قرآن کی تعلیم پر بولتے ہیں تو وہ معاہدہ حدیبیہ کی صابرانہ پالیسی کو زور و شور کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ وہ فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ مکہ کی فتح صلح کے ذریعہ حاصل کی گئی نہ کہ جنگ کے ذریعہ۔ مگر دوسری اقوام سے موجودہ مسلمانوں کے جو جھگڑے ہیں ان میں وہ حدیبیہ کی روح کے سراسر خلاف عمل کرتے ہیں۔ ہر فائد معاہدہ حدیبیہ کی شاندار تفسیر بیان کرتا ہے۔ ان قائدین اور مفکرین نے موجودہ زمانہ میں سب سے زیادہ جس اسلامی تعلیم کو نظر انداز کیا ہے وہ وہی ہے جس کو معاہدہ حدیبیہ کہا جاتا ہے۔
بطور مثال یہاں ایک مشہور مسلم اخبار کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے اس انگریزی اخبار نے ۱۴ جولائی ۱۹۸۲ء کی اشاعت میں معاہدہ حدیبیہ پر ایک طویل مضمون شائع کیا ہے۔ اس مضمون میں تفصیل کے ساتھ دکھایا گیا ہے کہ معاہدہ حدیبیہ کے ذریعہ عرب کی فتح کا دروازہ کھلا۔ مضمون کے مطابق، معاہدہ حدیبیہ کا خلاصہ یہ تھا کہ مخالف فریق کی ہر قسم کی اشتعال انگیزیوں کے باوجود یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو رد عمل سے بچایا جائے، اور ٹکراؤ کو نظر انداز (Avoid) کرتے ہوئے اپنی مثبت تعمیر کے ذریعہ کامیابی حاصل کی جائے یہاں اخبار کے مذکورہ مضمون کا ایک اقتباس نقل کیا جاتا ہے۔ حدیبیہ کے واقعات بیان کرنے ہوئے مضمون نگار لکھتے ہیں :
During this period, while negotiations were on, the Quraish continued with their efforts in different ways to provoke Muslims to start a fight but the companions all through exercised great self-restraint as directed by their leader and refused to fall into any trap. Once a group of around fifty stealthily approached the camp of Muslims in the night and started pelting stones. Companions of the Prophet who had al- ready been cautioned against reacting to such provocations, kept their cool and simply rounded up them all and produced them before the Prophet who simply let them go. (p. 19)
جب بات چیت ہورہی تھی تو قریش مختلف طریقوں سے مسلمانوں کو مشتعل کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے تا کہ دونوں کے درمیان لڑائی شروع ہو جائے مگر اصحاب رسول نے شروع سے آخر تک زبردست صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا، جیسا کہ ان کے فائدے انھیں ہدایت کی تھی۔ انھوں نے ان کی کسی بھی چال میں پھنسنے سے انکار کر دیا۔ ایک بار تقریباً ۵۰ آدمیوں کا ایک گروہ چپکے سے مسلمانوں کے پڑاؤ کے پاس رات کے وقت آگیا اور پتھر مارنا شروع کیا۔ رسول کے اصحاب جن کو پہلے سے ہی چوکنا کر دیا گیا تھا کہ وہ اس قسم کی اشتعال انگیز یوں پر برانگیختہ نہ ہوں، وہ بالکل ٹھنڈے بنے رہے اور صرف یہ کیا کہ ان سب کو پکڑ کر رسول اللہ کے سامنے پیش کر دیا جنھوں نے سادہ طور پر بس ان کو رہا کر دیا (صفحہ ۱۹) معاہدہ حدیبیہ کی اس اسپرٹ کا مذکورہ مضمون میں تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ اور بتایا گیا ہے کہ اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہونے کی یہی حکیمانہ پالیسی تھی جس کے ذریعے عرب میں بے مثال کامیابی حاصل کی گئی۔ مگر یہی اخبار ہے جو ملک میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے مسائل کے ذیل میں اس کے بالکل برعکس ذہن کی نمائندگی کرتا ہے۔ وہ ہمیشہ اشتعال انگیز واقعات پر مسلمانوں کے مشتعل ہو جانے کی حمایت کرتا ہے۔ مثال کے طور پر اخبار مذکور کی اشاعت ۹ جون ۱۹۸۴ میں بھیونڈی اور بمبئی کے علاقہ میں ہونے والے فساد پر تفصیلی تبصرہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں پر بمبئی کے اس واقعہ کا ذکر ہے کہ شیو سینا کے لیڈر مسٹر بال ٹھاکرے کے پیغمبر کی شان میں گستاخانہ الفاظ بولنے پر ایک مسلمان ایم ایل اے مسٹر اے آر خان نے غصہ میں بھرا ہوا جلوس نکالا اور مسلمانوں نے مسٹر بال ٹھاکرے کی مورت بنا کر اس کو پرانے چپلوں کا ہار پہنایا۔ اخبار مذکور یہ تسلیم کرتا ہے کہ یہ احتجاج کا نہایت زیبا طریقہ تھا۔ مگر اگلے ہی نقرہ میں یہ کہہ کر اس کا جوا ز فراہم کر دیتا ہے کہ ۔ مگر ایک شخص کو یہ کہنے سے باز نہیں رکھا جا سکتا کہ اس سلسلہ میں ابتدائی اشتعال شیو سینا کے لیڈر کی طرف سے فراہم کیا گیا تھا:
-the Muslims took out an angry procession on May 11 and a Muslim MLA, Mr. A.R. Khan, in his muddle headedness, garlanded an effigy of Mr. Bal Thackeray with wornout chappals. No level headed Muslim approves of the Congress-I legislator's indecent manner of protest. But one need not strain one's commonsense to conclude that the initial provocation had come from the Shiva Sena chief. مذکورہ دونوں مضامین میں واضح طور پر تضاد ہے۔ اول الذکر بیان بتاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کی سنت یہ تھی کہ فریق مخالف خواہ کتنی ہی اشتعال انگیزی کرے ہم اس پر بر افروختہ نہ ہوں، بلکہ اس کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے مثبت طرز عمل پر قائم رہیں۔ اس کے برعکس دوسرا بیان یہ کہتا ہے کہ جب اشتعال انگیزی ہوگی تو اس کا رد عمل بھی ضرور ہوگا۔ پیغمبر کی سنت تو یہ کہتی ہے کہ پتھر
کا جواب لفظ سے بھی مت دو، مگر اخبار مذکور کے مطابق مسلمان اگر لفظ کا جواب چیل سے دیں تب بھی وہ بالکل حق بجانب ہیں ، کیوں کہ وہ اشتعال دلانے کے بعد مشتعل ہوئے ہیں !
یہ کسی ایک اخبار کی بات نہیں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی تمام صحافت و قیادت اسی تضاد میں مبتلا اور یہی وہ تضاد ہے جس نے ہماری تمام کوششوں کو بے نتیجہ بنا دیا ہے۔ جب اسلام پر لکھنا یا بولنا ہو تو ہمارا ہر لیڈر اسلام کے حق میں شاندار قصیدہ پیش کرتا ہے مگر جب عملی انطباق کا وقت آتا ہے تو وہ فوراً وہی کرنے لگتا ہے جو قومی خواہشات کا تقاضا ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام اب مسلمانوں کا ” دین“ نہیں رہا ہے بلکہ وہ صرف ان کے قومی فخر کا عنوان ہے۔ عمل کے وقت ان کی رہنما ان کی خواہشیں ہوتی ہیں ، البتہ جب اظہار فخر کا موقع ہو تو وہ اسلام کی شان میں قصیدہ پڑھ کر اپنی برتری کے جذبات کو تسکین دے لیتے ہیں۔
گویا یہاں مسلم لیڈروں کا کیس وہی ہے جو غیر مسلموں کی مثال میں نظر آتا ہے۔ غیر مسلم لیڈر دستور ہند کے شاندار الفاظ پر فخر کرتے ہیں کہ ہمارے پاس ایسا اور ایسا دستور ہے۔ مگر ان کا عمل اس کے سراسر خلاف ہوتا ٹھیک یہی مسلم لیڈروں کا حال بھی ہے۔ وہ قرآن و سنت پر شاندار قصیدہ پڑھ کر اپنے جذبات فخر کو تسکین دیتے رہتے ہیں مگر جب عمل کا وقت آتا ہے تو اس وقت ان کا رہنما یا ان کا ذاتی مفاد ہوتا ہے یا ان کی قومی
ہمارے قائدین بلاشبہ خود فساد نہیں کرتے۔ مگر جب ان کی قوم کے جاہل افراد کی نادانی سے کہیں فساد ہو جاتا ہے تو وہ ہمیشہ اس کی حمایت کرتے ہیں۔ وہ کبھی اپنے لوگوں کو قصور وار نہیں ٹھہراتے جس کی ایک مثال مذکورہ انگریزی اقتباس ہے۔ قائدین کی یہ قومی روش خود انھیں بھی فسادیوں کی فہرست میں شامل کر رہی ہے خواہ بظاہر وہ اس سے الگ دکھائی دیتے ہوں۔
لوگ خدائی مذہب کا نام لیتے ہیں، حالانکہ انھیں قومی مذہب کے سوا کسی اور چیز کی خبر نہیں۔