Al-Risala · September 1984

ایک چھوڑی ہوئی سنت

Al-Risala, September 1984, pp. 27–31

By Maulana Wahiduddin Khan

انیسویں صدی عیسوی کے آغاز میں پرتگیزی ہندوستان کے ساحل تک آچکے تھے۔ اس زمانہ میں ایسے واقعات پیش آئے کہ ہندوستانی مسلمان جو بادبانی کشتیوں کے ذریعہ حج کے لئے ہندوستان سے حجاز جارہے تھے ، ان کو پرتگیزیوں نے راستہ میں لوٹ لیا۔

اس طرح کے واقعات مشہور ہوئے تو اطراف لکھنؤ کے بعض علماء نے یہ فتویٰ دیا کہ موجودہ حالات میں ہندوستانی مسلمانوں کے لئے حج کی عبادت ضروری نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ قرآن میں ہے کہ من استطاع الیہ سبیلا ( آل عمران ۷۹ ) اس آیت کے مطابق حج کی شرط یہ ہے کہ راستہ میں امن ہو۔ چونکہ حجاز اور ہندوستان کے درمیان کا سمندری سفر غیر مامون ہو گیا ہے ، اس لئے اس آیت کے مطابق اب ہندوستانی مسلمانوں کے اوپر سے حج کی فرضیت ساقط ہو گئی ہے۔

یہ مسئلہ بڑھا اور مختلف علماء سے اس کے بارہ میں رائیں دریافت کی گئیں۔ مفتی فیض الدین صاحب (لکھنؤ) نے شاہ عبد العزیز دہلوی ( ۱۸۲۳ - ۱۷۸۲ء) کو خط بھیجا اور اس کے متعلق ان کا فتویٰ پوچھا۔ انھوں نے اور دوسرے علماء نے فتویٰ دیا کہ حج کی فرضیت بدستور قائم ہے۔ سمندری خطرات کے باوجود صاحب استطاعت مسلمانوں کو حج کرنا چاہئے۔

اس کے بعد سید احمد شہید بریلوی (۱۸۳۱ - ۱۷۸۶ء) کے اندر جوش پیدا ہوا۔ انھوں نے حج کو ز ندہ کرنے کے لئے ایک فوری اقدام کیا۔ انھوں نے اعلان کیا کہ ہم حج کے لئے جا رہے ہیں۔ جس کا جی چاہے وہ ہمارے ساتھ چلے۔ ہم ہر ایک کے اخراجات کے ذمہ دار ہیں۔ اس سلسلہ میں انھوں نے مختلف علاقوں میں خطوط روانہ کئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تقریبا سات سو آدمی ان کے ساتھ جمع ہو گئے۔ اگرچہ اس وقت سید صاحب کے پاس صرف گیارہ روپے موجود تھے مگر انھوں نے مجاہدانہ عزم کے ساتھ قافلہ کو لے کر سفر شروع رائے بریلی سے الہ آباد پہنچے۔ وہاں سے گنگا میں چلنے والی کشتیوں کے ذریعہ کلکتہ تک کا سفر اور کلکتہ سے بادبانی کشتیوں کے ذریعہ جدہ کے ساحل پر اترے اور پھر حج ادا کر کے سب کے ساتھ پورے راستہ میں مسلم آبادیاں ان کا تعاون کرتی رہیں۔ اس طرح یہ سفر تکمیل تک پہنچا۔ سید احمد شہید کا یہ پر جوش اقدام قابل تعریف ہے۔ مگر یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا کہ سید صاحب کے اندر اس کا جوش تو پیدا ہوا کہ وہ حج کے فریضہ پر لوگوں کو عمل کرانے کے لئے فوری اقدام کریں۔ مگر ان کی سمجھ میں یہ نہ آیا کہ اس بات کی تحقیق کریں کہ یہ

”سمندری قزاق“ کون ہیں۔ جنہوں نے ہمارے عبادتی سفر کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ یہ دوسرا سوال بے حد اہم تھا۔ اور بے حد دور رس نتائج کا حامل تھا۔ مگر انھوں نے اس کی طرف توجہ نہ دی۔ مزید یہ کہ بیدو سرا مسئلہ بھی اسی طرح عین دینی عمل تھا جس طرح حج کرنا ایک دینی عمل ہے۔ پہلی چیز اگر فرض ہے تو دوسری چیز سنت۔ انھوں نے فرض پر تو عمل کیا اور سنت کو چھوڑ دیا۔ موجودہ دور میں غیر مسلم اقوام کی طرف سے مسلمانوں کے لئے زبر دست مسائل پیدا ہوئے مگر اس کی کوئی مثال نہیں ملتی کہ کسی مسلم وفد نے تحقیق حال کے لئے ان علاقوں کا سفر کیا ہو یا ان کی خبریں فراہم کرنے کے لئے کوئی ادارہ قائم کیا گیا ہو۔

سیرت کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں میں سے ایک سنت تتبع اخبار ہے۔ یعنی فریقِ مخالف کی سرگرمیوں اور منصوبوں کا خاموشی سے پتہ لگانا۔ یہ وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانہ میں جاسوسی نظام کہتے ہیں۔ موجودہ زمانہ کی حکومتیں اپنے جارحانہ عزائم کے لئے جاسوسی کرتی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جاسوسی نظام اس لئے تھا کہ تعمیر اسلام کی راہ میں جو لوگ رکاوٹ پیدا کرنا چاہتے ہیں ان کی سرگرمیوں کا پیشگی اندازہ کیا جائے تاکہ بروقت ان کا توڑ کیا جاسکے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ کے حالات سے مجبور ہو کر ہجرت کے لئے نکلے تو قریش نے آپ کا پیچھا کیا۔ چنانچہ آپ نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ چند میل کے فاصلہ پر جبل ثور کے ایک غار میں بیٹھ گئے اور وہاں تین دن تک چھپے رہے۔ ان دنوں کے بارہ میں جو واقعات سیرت کی کتابوں میں آتے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ حضرت ابو بکر کے صاحبزادے عبد اللہ بن ابی بکر جو نہایت ہوشیار اور سمجھ دار نوجوان تھے ، ان کے ذمہ یہ خدمت سپرد کی گئی کہ وہ دن بھر مکہ میں رہیں۔ اور خاموشی کے ساتھ قریش کی باتوں کا پتہ کرتے رہیں۔ پھر رات کو غار ثور میں آکر آپ کو قریش کے ارادوں اور ان کے منصوبوں سے مطلع کریں۔ اس طرح کر کے وہ دوبارہ اندھیرے ہی میں مکہ واپس چلے جاتے اور صبح سویرے وہاں پہنچ جاتے تاکہ وہ لوگ اس غلط فہمی میں رہیں کہ عبداللہ بن ابی بکر نے رات مکہ ہی میں گزاری ہے۔ وہ تین دن تک برابر ایسا ہی کرتے رہے۔ اس سلسلہ میں ابن ہشام کے الفاظ یہ ہیں : امر عبد الله بن ابی بكر ان يتسمّع لهما مايقول الناس فيهما (عبد اللہ بن ابی بکر کو یہ ہدایت کی کہ وہ ان دونوں کے لئے مکہ میں سنیں کہ لوگ ان دونوں کے بارہ میں کیا کہتے ہیں) طبرانی میں حضرت اسماء بنت ابی بکر کی ایک روایت میں

یہ الفاظ ہیں :

وعبد اللہ بن ابی بکر يظل بمكة يتطلب الاخبار اور عبد اللہ بن ابی بکر ( دن میں ) مکہ میں رہ کر خبریں ثم ياتيهما اذا اظلم الليل فيخبرهماثم معلوم کرتے۔ پھر جب رات کی تاریکی چھا جاتی يدبلجو من عنده ما فيصبح بمكة تو وہ ان کے پاس ( غار ثور ) میں آتے اور ان کو خبریں بتاتے۔ پھر اندھیرے میں ان کے پاس سے چلے جاتے اور مکہ میں صبح کرتے ( تاکہ قریش کو خبر نہ ہوسکے )

(مزید تفصیل کے لئے : السیرۃ النبویہ لابن کثیر، جلد ۲، صفحہ ۲۳۶)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حفاظت کے ساتھ مدینہ پہنچ گئے۔ مگر چوں کہ آپ کے خلاف قریش کے عزائم ختم نہیں ہوئے تھے ، آپ نے ان کی خبریں لینے کا سلسلہ بدستور جاری رکھا۔ ہجرت کے فوراً بعد جن سرايا کی روانگی کا ذکر حدیث کی کتابوں میں آتا ہے وہ زیادہ تر جاسوسی دستے تھے جو مکہ کے اطراف میں قریش کی سرگرمیوں کا پتہ لگانے کے لئے بھیجے گئے۔ چنانچہ ان دستوں کی روانگی کے وقت آپ ان کو جو ہدایت دیتے تھے اس میں اس قسم کے الفاظ ہوتے تھے : فترصد بها قريشا وتعلم لنا من اخبار هم (سیرۃ النبی لابن ہشام، الجزء الثانی، صفحہ ۲۳۹) یعنی قریش کی خبر گیری کے لئے بیٹھو اور ہم کو ان کی خبروں سے مطلع کرو۔

فریق مخالف کی تیار یوں اور اس کی سرگرمیوں کا پتہ لگانے کا یہ سلسلہ آخر وقت تک جاری رہا۔ جس کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ سنت بناتی ہے کہ ہمارے یہاں ایک مستقل شعبہ خبروں کی فراہمی کا ہونا چاہئے۔ اس قسم کا شعبہ عام غیر مسلم اقوام کے سلسلے میں بھی ضروری ہے اور ہندوستان کے مخصوص حالات میں بھی ضروری ہے۔

ہندوستان میں اس شعبہ کا کام یہ ہونا چاہئے کہ وہ مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں کے احوال کی مستقل خبر گیری کرتا رہے وہ دونوں طرف کی صحیح اطلاع فراہم کرے۔ یہ شعبہ جدید ترین ذرائع کو استعمال کر کے مکمل طور پر باخبر رہے۔ وہ تمام اسلامی مراکز کو اطلاعات فراہم کرے۔ ایک فریق کے بارے میں کوئی غلط خبر پھیلے تو فوراً اس کا سدِ توڑ کیا جائے۔ جب بھی کہیں کوئی غیر ضروری اشتعال پیدا ہو تو فوراً مسلم قیادت حرکت میں آجائے اور اس کو آخری سنگینی تک پہنچنے سے پہلے ابتدائی مرحلہ میں دفن کر دیا جائے۔

بھی ایک فریق دوسرے فریق کے خلاف سازش کرتا ہو اسے تو فوراً اُس کی سازش کو بے نقاب کیا جائے اور ہر قسم کے پر امن ذرائع کو اختیار کر کے اسے ابتدائی مرحلہ ہی میں ناکام بنا دیا جائے۔ اس سلسلے میں مراد آباد کے فساد کی مثال لیجیے۔ یہاں مسلمانوں نے غیر مسلموں کی ایک شادی پارٹی کو روکا اور کہا کہ مسجد کے راستہ کو چھوڑ کر دوسرے راستے سے اپنا جلوس لے جاو۔ غیر مسلم اس پر راضی نہیں ہوئے تکرار بڑھتی گئی یہاں تک کہ باقاعدہ لڑائی شروع ہو گئی۔ کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں نے غیر مسلموں کو مارا اور انہیں

یہ واقعہ ۲۷ جولائی ۱۹۸۰ کو ہوا۔ اس کے بعد دو ہفتہ تک مکمل خاموشی رہی۔ یہاں تک کہ ۱۳ اگست ۱۹۸۰ کو زبردست فساد ہوا جس میں مسلمانوں کی معاشیات تباہ کر دی گئیں مسلمانوں کا کہنا ہے کہ ۱۳ اگست ان کی عید کا دن تھا۔ اس روز مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد عید گاہ میں جمع تھی۔ چنانچہ پیشگی منصوبہ کے تحت عید گاہ میں خنزیر داخل کیا گیا۔ یہاں پہلے سے غیر مسلم لڑکے مسلمانوں کے لباس میں عید گاہ کے اندر بٹھا دئے انھوں نے خنزیر کے داخل ہوتے ہی پتھراؤ شروع کر دیا اور پولیس کے حفاظتی دستہ کو بھی مارا۔ اس طرح اشتعال پیدا ہوا اور فساد پھوٹ پڑا۔

مگر سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا کہ ۲۷ جولائی سے لے کر ۱۳ اگست تک مسلمانوں کے خلاف تیاری کی گئی مگر شہر کے مسلمانوں کو آخر وقت تک اس کی اطلاع نہ ہوسکی۔ اسی بے خبری میں اس سوال کا جواب چھپا ہوا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ پچھلے پچاس سال سے مسلمان ایک ہی شکایت لئے بیٹھے ہیں۔ وہ آج تک اس کا علاج نہ کر سکے۔ وہ یہ کہ ان کے خلاف منصوبہ بند فساد کرائے جاتے ہیں۔ یہ دنیا مقابلہ کی دنیا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو دوسرے لوگ اگر منصوبہ بند فساد کے قصور وار ہیں تو مسلمان اس کے قصور وار ہیں کہ وہ اپنے خلاف منصوبوں سے اس وقت تک باخبر نہیں ہوتے جب تک وہ اپنے آخری انجام کو نہ پہنچ جائیں۔ فساد کے بعد تمام مسلم قائدین تیز رفتار سواریوں پر دوڑتے ہیں تاکہ وہ حکومت کے ذمہ داروں سے مل کر انھیں فسادیوں کی تخریب کاری کی اطلاع دے سکیں۔ اس قسم کی سرگرمیاں سراسر بے فائدہ ہیں۔ ہونا یہ چاہئے کہ ہماری قیادت کو فسادیوں کے منصوبہ کی پیشگی طور پر مکمل اطلاع ہو جائے اور وہ حادثہ سے پہلے ذمہ داروں کو باخبر کرنے کے لئے سرگرم ہو جائیں۔ اور اس سے بڑھ کر مسلمانوں کی تربیت کے لئے۔ فساد کی روک تھام کے لئے ہمیں جو کچھ کرنا ہے اس میں سے ایک یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کی سیر اہی اخبار کی سنت کو زندہ کیا جائے محض شکایت اور احتجاج کرتے رہنے سے کوئی فائدہ نہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں خبروں کی فراہمی کا شعبہ حقیقتاً جنگ کا شعبہ نہ تھا بلکہ وہ تمام تر امن کا شعبہ تھا۔ یعنی اس کا مقصد یہ تھا کہ دشمن کے جارحانہ عزائم سے پیشگی طور پر باخبر ہو کر اس کو ناکام بنانا تاکہ اسلام کی دعوتی اور تعمیری سرگرمیوں کو خلل اندازی سے بچایا جاسکے۔

یہی موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا اصول ہونا چاہئے۔ ان کے یہاں اعلیٰ پیمانہ پر خبروں کی فراہمی کا شعبہ ہو۔ مگر اس لئے نہیں کہ جب کسی فریق کی طرف سے تشدد کے سامان جمع کرنے کی خبر ملے تو ہم بھی تشدد کے سامان جمع کرنے میں لگ جائیں۔ موجودہ حالات میں اس قسم کی ہر کوشش صرف خودکشی کے ہم معنی اس کے برعکس ہمارے یہاں خبروں کی فراہمی کے شعبہ کا مقصد یہ ہونا چاہئے کہ جب بھی کسی " سازش" کی خبر ملے تو اس کو حکمت سے دفع کیا جائے " آگ " کو " پانی " کے ذریعہ بجھانے کی تدابیر اختیار کی جائیں ۔ اور یہ یقینی طور پر ممکن ہے۔ اس سے زیادہ ممکن اور کوئی چیز خدا کی اس دنیا میں نہیں۔

Printed page