He who likes to generalize generally lies.
Al-Risala, September 1984, pp. 36–41
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک تنہا واقعہ کو اگر آپ عمومی انداز میں بیان کریں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ استثناء کو عموم کی حیثیت دے رہے ہیں۔ ایک حادثہ جو کسی اتفاقی سبب سے پیش آیا ہے اس کو سماج کی عام حالت قرار دے رہے ہیں۔ ایسا آدمی ہمیشہ جھوٹ کی فضا میں رہتا ہے۔ وہ نہ ککبھی سچائی کو پا تا اور نہ معاملہ کے سچے حل کو۔
ہمارے بہت سے اخبارات ہیں جن میں آپ کو اس قسم کی سرخیاں پڑھنے کو ملیں گی ـــــــــ ہندوستان میں فرقہ وارانہ فساد، علی گڑھ میں فرقہ وارانہ فساد، حیدر آباد میں فرقہ وارانہ فساد۔ اس قسم کی خبریں صحیح ہونے کے باوجود ہمیشہ غلط ہوتی ہیں۔ وہ آدھی سچائی ہوتی ہیں نہ کہ پوری سچائی۔ کیوں کہ کوئی فساد بھی پورے ملک یا پورے شہر میں نہیں ہوتا۔ مگر ہمارے لکھنے اور بولنے والے ایسی زبان استعمال کرتے ہیں جس سے بظاہر یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ پورا ملک یا پورا شہر فرقہ وارانہ فساد کی زد میں آگیا ہے۔ جب بھی کہیں فرقہ وارانہ فساد ہوتا ہے تو وہ نہ سارے ہندوستان میں ہوتا ا ور نہ کسی پورے شہر مثلاً اس قسم کے فساد تقریباً سب کے سب ہندوستان کے شمالی حصہ میں ہوتے ہیں۔ جنوبی حصہ ہمیشہ اس سے محفوظ رہتا ہے۔ اسی طرح مثلاً علی گڑھ میں فساد ہوا تو وہ پرانے شہر میں ہوا۔ لائن کے علاقہ میں کوئی فساد نہیں ہوا۔ اسی طرح حیدر آباد کا فساد قدیم حیدر آباد کے علاقہ میں ہوا۔ حیدر آباد اس سے بچار ہا۔
حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ بالا قسم کی خبریں ہمیشہ "جھوٹ" ہوتی ہیں۔ اور یہی سب سے بڑی وجہ ہے کہ ہمارے متاذین آج تک اس مسئلہ کا سچا حل دریافت نہ کر سکے۔ چونکہ اپنے ذہن کے مطابق وہ "پورے" ملک یا "پورے" شہر میں فساد فرض کئے ہوئے ہیں اس لئے ان کو وہ غیر فسادزدہ حصہ نظر نہیں آتا جہاں فساد نہ ہونے کے اسباب کی تحقیق کر کے وہ اس کے مطابق فساد زدہ حصہ کو فساد سے بچانے کی تدبیر کر سکیں۔
ایک ہی شہر کے ایک حصہ میں فساد ہو اور اسی شہر کے دوسرے حصہ میں فساد نہ ہو تو یقیناً
یہ سوچنے کی بات ہے کہ یہ فرق کیسے واقع ہوا۔ اس فرق کاراز دریافت کرکے ایسا کیا جا سکتا ہے کہ محفوظ حصے کے تجربہ کو غیر محفوظ حصہ میں دہرایا جائے۔ جس طرح ایک حصہ فساد سے بچاہے اسی طرح دوسرے حصہ کو بھی فساد سے بچایا جائے۔
ہمارے تمام قائدین تعمیم (Generalization) کے جھوٹ میں مبتلا ہیں۔ یہی سب سے بڑی وجہ ہے کہ وہ اس نازک مسئلہ کا سچا حل دریافت نہ کرسکے۔
تعمیم سے ہٹ کر خالص حقیقت پسندانہ نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہندوستان دو ہندوستان کا نام ہے۔ اسی طرح علی گڑھ بھی دو علی گڑھ ہے اور حیدر آباد بھی دو حیدر آباد۔ ایک ملک دو ملک کیسے بنا اور ایک شہر دو شہر کیوں کر ہوگیا۔ اسی سوال کے جواب میں یہ راز چھپا ہوا ہے کہ فرقہ وارانہ فسادات کیسے ہوتے ہیں اور کس طرح ان کو ختم کیا جا سکتا ہے۔
ایک مقام کے ایک حصے میں فساد ہو اور عین اسی زمانہ میں اس مقام کا دوسرا حصہ فساد سے بچا رہے تو ہم کو چاہئے کہ فساد کے مسئلہ کو سمجھنے کے لئے فساد نہ ہونے والے حصہ کا مطالعہ کریں اور وہاں فساد نہ ہونے کے اسباب کو جان کر اسی کو اس دوسرے حصہ میں رائج کریں جہاں فساد ہوا ہے۔ میں یہی فساد کے مسئلہ کے مطالعہ کا فطری طریقہ ہے اور یہی اس مسئلہ کے حل کی آسان ترین تدبیر بھی۔ شمالی ہندوستان اور جنوبی ہندوستان میں کیا فرق ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ ”دوقومی“ سیاست سب سے زیادہ شمالی ہندوستان میں چلائی گئی۔ جب کہ جنوبی ہندوستان کا علاقہ اس قسم کی تفریقی سیاست سے بڑی حد تک محفوظ رہا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ شمالی ہندوستان میں فرقہ وارانہ ممکش کش کی فضا پائی جاتی ہے۔ جب کہ جنوبی ہندوستان میں اس قسم کی فضا تقریبانہ ہونے کے برابر ہے۔ اسی طرح علی گڑھ کے شہری علاقہ اور سول لائن کے علاقہ میں کیا فرق ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ شہری علاقہ میں جاہلوں کی اکثریت ہے اور سول لائن میں تمام کے تمام پڑھے لکھے لوگ ہیں۔ قدیم حیدر آباد اور جدید حیدر آباد میں کیا فرق ہے۔ یہ ہے کہ جدید حیدر آباد میں سب کے سب خوش حال لوگ بستے ہیں اور قدیم حیدر آباد میں کثرت سے غریب لوگ آباد ہیں۔
اس مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ کس قسم کے حالات میں فرقہ وارانہ فساد ہوتا ہے اور کس قسم کے حالات میں وہ نہیں ہوتا۔ اب فسادات کو ختم کرنے کی آزمودہ تدبیر یہ ہے کہ شمالی ہند میں جنوبی ہند کے مانند حالات پیدا کئے جائیں۔ مسلمان اپنی طرف سے ان تمام اسباب کو ختم کر دیں جو دونوں فرقوں میں کش کش اور تناؤ کی فضا پیدا کرتے ہیں۔ مثلاً حقوق کے مطالبے، احتجاجی سیاست اور مسجد اور مندر
کے جھگڑے کھڑے کرنا وغیرہ ۔ اسی طرح یہ کیا جائے کہ " قدیم شہر" کے "جدید شہر" کے حالات پیدا کئے یعنی اقلیتی فرقہ کے افراد کو زیادہ سے زیادہ تعملیم یافتہ بنایا جائے ۔ ان کی اقتصادیات کو بہتر بنانے کی کوششیں کی جائیں ۔ انہیں چیزوں نے ملک کے ایک حصہ میں فساد کو روک رکھا ہیں اور یہی چیزیں ملک کے دوسرے حصہ میں بھی فساد کو روک سکتی ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ فرقہ وارانہ فسادات کو ختم کرنے کے لئے ہمیں کوئی نیا حل تلاش کرنے کی ضررورت نہیں ۔ ہمیں صرف یہ کرنا ہے کہ اسی آزمودہ تدبیر کو فساد زدہ علاقہ میں بھی استعمال کریں جو غیر فساد زدہ علاقہ میں آج بھی فرقہ وارانہ فساد کے خلاف ڈاٹ بنی ہوئی ہے ۔ یہاں میں اضافہ کروں گا کہ فساد کے مسئلہ کا مذکورہ حل ہر شخص کو معلوم ہے۔ حتی کہ ہر شخص اس وقت اسی طریقہ پر عمل کرتا ہے جب کہ اس کا اپنا مفاد خطرہ میں پڑ گیا ہو۔ مگر وہی شخص جب ملت کے اسٹیج پر آتا ہے تو اس طرح پر جوش تقریر شروع کر دیتا ہے جیسے کہ ٹکراؤ اور مقابلہ کے سوا مسائل کا کوئی حل ہی نہیں۔ اس تضاد کی سادہ سی وجہ سستی قیادت کی تلاش ہے ۔ زوال یافتہ قوم میں عمل کی طاقت نہیں ہوتی ۔ وہ بڑے بڑے الفاظ بول کر اس کے پردہ میں اپنی بے علی کو چھپاتے ہیں ۔ ایسی قوم کے اندر قیادت اور مقبولیت حاصل کرنے کا سب سے آسان راز یہ ہوتا ہے کہ شاندار الفاظ بولے جائیں ۔ شاعری اور خطابت کا دریا بہایا جائے ۔ چنانچہ ہمارے تمام قائدین اسی قسم کے نمائشی الفاظ بولنے میں ایک دوسرے پر بازی لے جانا چاہتے مگر یہ صرف سطحیّت ہے اور سطحی قیادت ہمیشہ قوم کے لئے بہت مہنگی پڑتی ہے ۔ کسی نے بالکل درست کہا ہے : The cheaper the politician, the more he costs his country. یہاں میں، ایک مثال دوں گا ۔ ہندوستان کا ایک بین اقوامی شہرت رکھنے والا اسلامی ادارہ ہے ۔ اس ادارہ کے ذمہ داروں نے ہندوستان کی سیاست میں بزعم خود ایک قائدانہ رول ادا کیا۔ انھوں نے مسلمانوں کے مسئلہ کا یہ حل پیش کیا کہ وہ خطرہ مول لینے کی بہادری دکھائیں ۔ اور اپنے حریف کو نقصان پہنچا کر اپنے لئے زندگی کا حق وصول کریں ۔ انھوں نے کہا کہ قوموں کو کبھی یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ دوسروں کو سبق سکھانے کے لئے اپنی اہلیت ضر کا ثبوت دیں۔ ہندوستان کے مسلمانوں کو یہی کرنا ہے۔ مسلمان جب تک یہ نہ دکھائیں کہ وہ نقصان پہنچانے کی طاقت رکھتے ہیں اس وقت تک ملک میں ان کے لئے با عزت زندگی کا حق تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
اس نقصان رسانی کا طریقہ یہ بنایا گیا کہ ملک کے انتخابا بات (۱۹۶۰ء) میں اپوزیشن پارٹیوں کے
ساتھ مل کر حکمراں پارٹی کا نگرس ، کوشکست دی جائے۔ یہ حل اتنا پسند کیا گیا کہ مسلمانوں کی بھیڑ اس کے پیچھے دوڑ پڑی اور1966 میں مذکورہ اسلامی ادارہ ہندوستان کی مسلم سیاست کا مرکز بن گیا۔
یہ مذکورہ اسلامی ادارہ کا وہ حل تھا جو اس نے ملت کے مسائل کے لئے پیش کیا تھا۔ مگر اسی ادارہ میں اس کا اپنا مسئلہ پیدا ہوا تو اس کے لئے اس نے بالکل مختلف انداز اختیار کیا۔ ملت کے مسئلہ کا حل دررسانی میں تھا اور اپنے مسئلہ کا حل تالیف قلب میں۔
اس کی تفصیل یہ ہے کہ یہ عظیم اسلامی ادارہ ہندوستان کے جس شہر میں واقع ہے وہیں ایک بڑی یونی ورسٹی بھی قائم ہے۔ یہ یونیورسٹی ادارہ سے اس قدر قریب ہے کہ اس کا ایک ہوٹل مذکورہ ادارہ کی دیوار سے ملا ہوا ہے۔
یہ پڑوس اس اسلامی ادارہ کے لئے ایک مستقل مسئلہ تھا۔ یونی ورسٹی ہاسٹل کے لڑکے جو سب کے سب غیر مسلم تھے ، مستقل طور پر اسلامی ادارہ کے لوگوں کو پریشان کرتے ، وہ گالی دیتے ، پتھر پھینکتے ، مذاق اڑاتے اور طرح طرح کی دوسری حرکتیں کرتے۔ وہ چاہتے تھے کہ اسلامی ادارہ کے لوگ مشتعل ہو کر جوابی کارروائی کریں تاکہ انھیں ادارہ کو جلانے اور پھونکنے کا موقع مل جاتے۔
یہ صورت حال کئی سال تک باقی رہی۔ اس درمیان میں حکومت کے ذمہ داروں سے شکایات کی گئیں، پولیس بلائی گئی، مگر کسی طرح مسئلہ حل نہیں ہونا تھا۔ اس کے بعد درس گاہ کے ذمہ داروں نے ایک حکیمانہ تدبیر اختیار کی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسئلہ حل ہو گیا۔
اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اسلامی ادارہ کے ذمہ داروں نے پتہ لگایا کہ یونیورسٹی ہاسٹل کے لیڈر طلبہ کون ہیں۔ ان سے ملاقات کر کے انھیں اپنے یہاں چائے پر بلایا گیا۔ ان سے نرم باتیں کی گئیں۔ ان کو تحفے پیش کئے گئے اور پھر یہ تجویز رکھی گئی کہ یونیورسٹی کے طلبہ اور ادارہ کے نوجوانوں کے درمیان ہا کی میچ ہو۔
اب اسلامی ادارہ کے ذمہ داروں نے یہ کیا کہ ادارہ کے ہوشیار کھلاڑیوں کی ایک ٹیم بنائی۔ ان کو پیشگی طور پر یہ سمجھادیا کہ تم کو یہ میچ جیتنے کے لئے نہیں کھیلنا ہے بلکہ اس لئے کھیلنا ہے کہ تم ہار جاؤ۔ یہ تھا کہ بالقصد یونی ورسٹی کے طلبہ کو کھیل میں جتا یا جائے تاکہ انھیں ہیرو بنایا نے اور ان کی تالیف قلب کرنے کا پورا موقع ملے۔
مقررہ تاریخ کو دونوں کے درمیان میچ ہوا ۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق اسلامی ادارہ کے نوجوان خراب کھیل کھیلے اور یونی ورسٹی ہاسٹل کے لڑکوں کو موقع دیا کہ وہ بہتر کھیل کھیل کر میچ جیتیں۔
ہی ہوا اور یونیورسٹی کے طلبہ " شاندار طور پر " کامیاب ہو گئے۔ اب پیشگی منصوبے کے مطابق ان کو خوب اچھا لا مختلف طریقوں سے ان کی تالیف قلب کی گئی۔ ان کو دل کھول کر انعامات دئے گئے۔ ان کا ہیر وانہ استقبال کیا گیا ۔ یونیورسٹی ہاسٹل کے طلبہ اپنی برتری چاہتے تھے۔ اسلامی ادارہ کے لوگوں نے اپنے مذکورہ عمل سے ان کے جذبات برتری کو پوری طرح تسکین دے دی۔ اب مسئلہ اپنے آپ حل تھا۔ طلبہ نے اس کے بعد کبھی اسلامی ادارہ کے لوگوں کو پریشان نہیں کیا۔
مذکورہ واقعہ اپنی نوعیت کی ایک شاندار مثال ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جو لوگ اپنے ذاتی معاملہ میں تالیف قلب کے اصول پر مسئلہ کو حل کرتے ہیں وہ ملت کے معاملہ میں اس کے برعکس تقریریں کیوں کرتے اس کی وجہ یہ ہے کہ ذاتی مسئلہ کو وہ حل کے نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں اور ملت کے مسئلہ کو قیادت کے نقطہ نظر سے ۔ ملت کے معاملہ میں اگر وہ اس اصول کی تلقین کریں تو ان کی قیادت اور مقبولیت اچانک ختم ہو جائے۔ ملت کے معاملہ میں اس تدبیر کو صرف قیادت کی قیمت پر پیش کیا جا سکتا ہے اور بدقسمتی سے ہمارے قائدین میں کوئی یہ حوصلہ دکھانے کے لئے تیار نہیں۔
تاہم یہ یقینی ہے کہ اس مسئلہ کا دوسرا کوئی حل نہیں۔ اپنے ذاتی معاملہ میں آپ جس حکیمانہ تدبیر پر عمل کرتے ہیں اسی کو ملت کے معاملہ میں بھی اختیار کیجئے ۔ اور اس کے بعد ملک میں کبھی فرقہ وارانہ فساد نہیں ہو گا۔
حال میں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ وہ ایک ایسے مقام سے آئے تھے جہاں ہولناک فساد ہوا تھا۔ اور تین دن کے اندر مسلمانوں کا کروڑوں روپیہ کا نقصان ہو گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ میں اس شہر میں پچھلے 30 سال سے رہ رہا ہوں ۔ مگر وہاں آج تک ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا تھا جیسا اس بار تین دن کے اندر ہو گیا۔ اس کے بعد حسب معمول وہ ایک خاص فرقہ کو برا بھلا کہنے لگے۔
میں نے کہا کہ آپ کے شہر میں تین دن کے اندر جو فساد ہوا اس کے بارہ میں تو آپ بہت کچھ سوچتے ہیں مگر یہ بھی تو سوچئے کہ اس سے پہلے ۳۰ سال تک فساد نہیں ہوا تو کیوں نہیں ہوا۔ کیا تین دن کے واقعہ میں آپ کے لئے سبق ہے اور ۳۰ سال کے واقعہ میں آپ کے لئے کوئی سبق نہیں۔
پھر میں نے کہا کہ یہ کسی خاص فرقہ کی بات نہیں بلکہ ہر شخص اور ہر فرقہ کی بات ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہر آدمی کے اندر ایک شیطان سویا ہوا ہے جس کا نام " غصہ " ہے۔ غصہ کے شیطان کو جب تک آپ سویا رہنے دیں آپ امن و امان کے ساتھ رہیں گے۔ مگر جب آپ کوئی نادانی کر کے اس شیطان کو جگا دیں تو پھر وہ اپنے
مقابل کو نقصان پہنچانے کے لئے وہ سب کچھ کر ڈالنا چاہتا ہے جو اس کے بس میں ہے۔ یہ واقعہ آپ مسلم اور مسلم کے درمیان بھی دیکھ سکتے ہیں۔ اور مسلم اور غیر مسلم کے درمیان بھی۔
ایک لفظ میں یہی تمام فسادات کی جڑ ہے۔ فساد ہمیشہ غصہ اور انتقام کے جذبہ کے تحت پیدا ہوتا کوئی بھی شخص خدا نے ایسا پیدا نہیں کیا جس کی عام حالت غصہ اور انتقام کی ہو۔ یعنی وہ ہر وقت بس غصہ اور انتقام سے بھرا رہتا ہو۔ غصہ اور انتقام وقتی کیفیات کا نتیجہ ہیں نہ کہ مستقل کیفیات کا نتیجہ۔ اگر یہی آدمی کی عام اور معمولی کیفیت ہوتی تو ہر وقت فساد ہوتا رہتا اور کبھی ایک دن کے لئے بھی امن و امان نظر نہ آتا۔ کہا کہ ۳۰۔ سال تک فساد نہ ہو۔
جاہلوں کی جہالت سے اعراض کرنے کا حکم جو اسلام میں دیا گیا ہے اس کی مصلحت یہی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ہر ایسے موقع کو ٹالا جائے" اعراض" کا اسلامی اصول ہر قسم کے فساد سے بچنے کی سب سے زیادہ کامیاب تدبیر ہے۔ مگر اس تدبیر کو اختیار کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آدمی اپنی سرکشی کو ختم کر کے اپنے آپ کو خدا کی مرضی کا پابند بنائے۔ ورنہ وہ اپنی سرکشی کے تحت دوسروں کے انا کو جگا کر فساد کروائے گا۔ جب فساد ہو چکا ہوگا تو خود معصوم بن کر دوسروں کو برا بھلا کہنا شروع کر دے گا۔