Al-Risala · September 1984

داعی اور مدعو

Al-Risala, September 1984, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ قوموں پر خدا کی طرف سے جو عذاب آتا ہے وہ دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک عذابِ متاصل ۔ دوسرے عذابِ تنبیہی ۔ عذابِ متاصل یعنی قوموں کو بالکل برباد کر دینے والا عذاب زلزلہ اور طوفان کے ذریعہ آتا ہے (العنکبوت ۴۰) اور عذابِ تنبیہی عام طور پر بندوں کے ذریعہ یعنی ایک قوم کو دوسری قوم پر چڑھا دینا اور اس طرح انسانوں کے ہاتھوں میں سزا دلانا (بنی اسرائیل ۵)

قدیم زمانہ میں یہود پر جو عذاب آئے ان کو خدا نے اپنی طرف منسوب کیا ہے۔ حالانکہ یہ سب کے سب اس طرح آئے تھے کہ کوئی سرکش قوم یا کوئی ظالم حکمران یہود کے اوپر مسلط ہو گیا ۔ اور وہ ان کی آبادیوں کو اور ان کے مقدس مقامات کو برباد کرتا رہا۔

Printed page