Al-Risala · September 1984

تنبیہی سزا

Al-Risala, September 1984, pp. 24–25

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے ساتھ جو صورتِ حال پیش آرہی ہے وہ اسی دوسری قسم سے تعلق یہ یقینی طور پر تنبیہی عذاب ہے۔ مگر چوں کہ بظاہر وہ انسانوں کے ذریعہ ہوتا ہوا نظر آتا ہے ، اس لئے مسلمان اس کو کسی قوم یا کسی حکمران کی طرف منسوب کر کے اس کو انسانی ظلم کے خانہ میں ڈالے ہوئے ہیں۔ جو واقعہ خدا کی طرف سے پیش آرہا ہے اس کو انسانی واقعہ ثابت کرنے میں

یہ طرزِ فکر نہ صرف غلط ہے بلکہ وہ مسئلہ کو حل کرنے میں مزید رکاوٹ ہے۔ اس کی وجہ سے تمام مسلم قائدین کی ساری توجہ ’’ ظالموں ‘‘ کے خلاف چیخ پکار میں لگی ہوئی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب ان کا سبب خدائی فریضہ سے غفلت میں ہے تو خدائی فریضہ کی ادائیگی ہی سے ان کا خاتمہ ہو گا نہ کہ مفروضہ ظالموں کے خلاف شور و غل کرنے سے۔

مسلمانوں کا مسئلہ اس وقت ساری دنیا میں صرف ایک ہے ـــــــــ ان کو ان کی مدعو اقوام کے ہاتھوں ستایا جار ہا ہے۔ گویا کہ وہ زبانِ حال سے کہہ رہے ہیں کہ تم ہماری آخرت کو برباد کر رہے ہو تو ہم تمہاری دنیا کو برباد کریں گے۔ یہ یقینی طور پر مسلمانوں کی دعوتی غفلت کے نتیجہ میں ہو رہا ہے۔ اس صورت حال کا خاتمہ صرف اس طرح ہو سکتا ہے کہ مسلمان اپنی دعوتی غفلت کو ختم کریں۔ وہ اقوامِ عالم کے سامنے خدا کے دین کے داعی بن کر کھڑے ہوں۔ جب تک وہ ایسا نہ کریں گے کوئی بھی دوسری

تدبیران کے مسائل کو حل کرنے والی ثابت نہیں ہو سکتی۔

Printed page