دعوت سے حفاظت
Al-Risala, September 1984, pp. 25–44
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا نے جو رسول بھیجے سب اس لئے بھیجے کہ وہ لوگوں کو خدا کے تخلیقی منصوبے سے اچھی طرح آگاہ کر دیں، تا کہ قیامت میں کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ ربے کہ ہم کو اس کی خبر نہ تھی (النساء ۱۶۵ ) یہ دعوت الی اللہ یا شہادت حق پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ عملہ وسلم کا مشن تھا۔ اور ختم نبوت کے بعد یہی وہ خاص مشن ہے جس کے لئے امت محمدی قیامت تک کے لئے مامور ہے (الحج ۷۸)
کسی بھی شخص یا گروہ کی جو اصل حیثیت ہو وہی وہ چیز ہے جس سے اس کی قسمت وابستہ ہوتی ہے۔ قرآن میں واضح لفظوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (اور آپ کی تبعیت میں آپ کی امت سے) کہا گیا ہے کہ لوگوں کے مقابلہ میں تمھاری حفاظت کا سارا معاملہ اسی علی دعوت کی ادائیگی سے وابستہ ہے: یا ایها الرسول بلغ ما انزل اليك من اے رسول، جو تمھارے رب کی طرف سے اترا ہے اسے ربك وان لم تفعل فما بلغت رسالته پہنچا دو اگر تم نے ایسا نہ کیا تو تم نے خدا کے پیغام کو نہیں والله يعصمك من الناس ( المائدة ، ۶۷) پہنچایا۔ اور اللہ تم کو لوگوں سے بچائے گا۔ حافظ ابن کثیر نے اس آیت کی تفسیر ان الفاظ میں کی ہے: ای بلغ انت رسالتي و انا حافظك و ناصرك و مؤيدك على اعدائك و مظفرك عليهم فلا تخف ولا تحزن فلن يصل احد منهم اليك بسؤ دم ذیت یعنی تم میرے پیغام کو پہنچاؤ اور میں تمھارا محافظ ہوں اور تمھارا مدد کرنے والا ہوں اور تمھارے دشمنوں کے مقابلہ میں تمھاری تائید کرنے والا ہوں اور ان پر فتح دلانے والا ہوں۔ تم نہ ڈرو اور نہ اندیشہ کرو۔ ان میں سے کوئی شخص تم تک نہیں پہنچ سکتا کہ وہ تم کو تکلیف دے۔
اس آیت کے مطابق اللہ کے نزدیک اہل ایمان کی قیمت صرف اس وقت ہے جب کہ وہ دنیا کی قوموں تک خدا کا ہے آمیز پیغام پہنچانے کا کام کر رہے ہوں۔ اگروہ ایسا کریں تو اللہ کی طرف سے اہل ایمان کے لئے یہ وعدہ ہے کہ وہ ان کو مخالفین کے ظلم و ستم کا شکار نہیں ہونے دے گا۔ تبلیغ ما انزل اللہ کا کام ان کے لئے عصمت من الناس کی ضمانت بن جائے گا۔
اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ دعوت حق کو چھوڑنے کے بعد وہ خدا کی نظر میں بے قیمت ہو جائیں گے اہل ایمان اگر کسی وقت دیگر اقوام کے ظلم و ستم کا شکار ہونے لگیں تو اس کی براہ راست وجہ یہی ہوگی کہ خدا کی حفاظت ان سے اٹھ گئی ہے۔ اور حفاظت کے اٹھنے کا سبب یقینی طور پر یہ ہوگا کہ انھوں نے دعوت الی اللہ کے کام کو چھوڑ دیا ہے۔
یہ صورتِ حال آج نہ صرف ہندوستان کے مسلمانوں پر وہ تمام دنیا کے مسلمانوں پر صادق آتی ہے۔ آج ساری دنیا کے مسلمان دوسری قوموں کے ظلم اور لوٹ کا نشانہ بن رہے ہیں۔ یہ واقعہ کہیں براہِ راست، ہو رہا ہے اور کہیں بالواسطہ۔ کہیں ان کے دشمن ان کو خود اپنی طاقت کا مزہ چکھا رہے ہیں۔ اور کہیں انھوں نے مسلمانوں کو دو طبقوں میں بانٹ دیا ہے، اور پھر ایک کے مقابلے میں دوسرے کو مدد دے کر دونوں کو ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان پر وہ وقت آ گیا ہے جس کی پیشین گوئی ابو داؤد کی ایک روایت ان الفاظ میں کی گئی تھی :
عن ثوبان قال قال رسول الله صلعم رسول الله صلعم نے فرمایا کہ وہ وقت وسلم يوشك الامم ان تداعى عليكم كما آنے والا ہے کہ قویمی تمہارے اوپر ٹوٹ پڑیں جس طرح تداعى الأكلة إلى قصعتها ۔ فقال قائل ومن کھانے والے کھانے کے پیالہ پر ٹوٹتے ہیں کسی نے کہا قلة نحن يومئذ . قال انتم كثير ولكنكم کیا اس وقت ہم تھوڑے ہوں گے۔ آپ نے فرمایا کہ غثاء كفاء السيل . وليمنزعن الله من صدور نہیں، تم بہت زیادہ ہو گے مگر اس وقت تم سیلاب کے عدوكم المهابة وليقذ فن في قلوبكم جھاگ کی مانند ہوگے۔ اللہ تمہارے دشمنوں کے سینہ قال قائل يا رسول الله وما الوهن سے تمھارا ڈر نکال دے گا اور تمھارے دلوں میں وہن (کمزوری) ڈال دے گا۔ پوچھنے والے نے پوچھا کہ وہن آپ نے فرمایا دنیا کی محبت اور موت کو ناپسند
قال حب الدنيا وكراهية الموت ، (مشکوة المصابیح ، باب تغیر الناس)