دعوتِ غفلت
Al-Risala, September 1984, pp. 44–45
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا دوسری قوموں کا تختۂ مشق بننا اتنا زیادہ ثابت شدہ ہے کہ اس کے بارے میں دو رائے ممکن نہیں۔ البتہ اس کے سبب کے بارے میں مسلمانوں کی دو رائیں ہیں۔ بڑی تعداد ابھی تک اس غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ یہ سب کچھ صرف دوسری قوموں کا ظلم ہے۔ چنانچہ ان کے زبان و قلم ظالموں کے خلاف احتجاج اور شکایت میں مشغول ہیں۔ مگر اس قسم کی توجیہہ قرآن کی تردید کے ہم معنی ہے۔ قرآن کے نظریۂ تاریخ کو رد کرنے کے بعد، ہی ایسی توجیہہ کو قبول کیا جا سکتا ہے۔ قرآن کو مانتے ہوئے اس کو قبول کرنا کسی طرح ممکن نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ صورتِ حال دیگر قوموں کا ظلم نہیں بلکہ دیگر قوموں کے ہاتھوں خدا کی سزا یہ سزا (یا تنبیہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک مسلمان اپنے اصل نصبی فریضہ (دعوت
الی اللہ کے لئے نہ اٹھیں۔
موجودہ زمانہ میں دعوت الی اللہ کے کام کو مسلمانوں نے بالکل چھوڑ رکھا ہے۔ حتیٰ کہ آج شاید دنیا بھر میں چند آدمی بھی نہیں جن کو دعوت الی اللہ کی اہمیت کا واضح شعور حاصل ہو۔ ان کی بڑی تعداد کا یہ حال ہے کہ یا تو وہ دعوتی کام کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ یا وہ خود جس قومی یا تہذیبی احیاء کے لئے سرگرم ہیں اس کو انھوں نے اسلامی دعوت کا نام دے دیا ہے۔
اس میں شک نہیں کہ آج بھی بہت سے خدا کے بندے اپنے آپ کو اسلام کے سایہ رحمت میں داخل کر رہے ہیں۔ مگر اس میں مسلمانوں کی دعوتی کوشش کا کوئی دخل نہیں۔ یہ وہ سعید روحیں ہیں جن کو خدا کے فضل خاص سے قبول حق کی توفیق ملی۔ انھوں نے بطور خود صراط مستقیم کو پالیا نہ کہ مسلمانوں کی کوشش سے۔ اس دعوتی غفلت کے ساتھ دوسرا سنگین جرم یہ ہے کہ مسلمان ساری دنیا میں اپنی مدعو اقوام سے سیاسی اور مادی لڑائی چھیڑے ہوئے ہیں۔ اس طرح انھوں نے مدعو کو حریف اور رقیب بنا کر کھڑا کر دیا ہے۔ یہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا ناقابل معافی جرم ہے۔ اگر وہ چاہتے ہیں کہ دوبارہ خدا کی رحمت ان کی طرف متوجہ ہو تو انہیں یک طرفہ طور پر وہ تمام جھگڑے ختم کرنے ہوں گے جنھوں نے مدعو اقوام کو حریف اقوام میں تبدیل کر دیا ہے۔ دوسری قوموں سے حریف اور رقیب کا رشتہ ختم کر کے اپنے اور ان کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ بحال کرنا اس سلسلہ کا پہلا قدم ہے۔ اس کے بغیر امت مسلمہ کے لئے کسی حقیقی مستقبل کی تعمیر ممکن نہیں۔
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں سے سب سے بڑی چیز جو کھوئی گئی ہے وہ دعوتی ذہن ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان اس کو بالکل بھول گئے ہیں کہ غیر مسلم اقوام ہماری مدعو ہیں اور ہم ان کے داعی موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے ساتھ بربادی کے جو واقعات پیش آرہے ہیں وہ سب اسی غفلت کی قیمت ہیں۔ یہ واقعات اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک مسلمان اپنی اس کو تاہی کو جاری دعوتی کو تاہی اور ملی ترقی دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔