Al-Risala · September 1984

God is making commerce his missionary

Al-Risala, September 1984, pp. 45–36

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ اس نفسیات کا نہایت صحیح اظہار ہے جو ایک داعی کے اندر اپنے مدعو کے لئے پیدا ہوتی

ہے، داعی کے اندر اپنے مدعو کے لئے وہی احساسات پیدا ہوتے ہیں جو یک تاجر کے اندر اپنے خریدار کے لئے پیدا ہوتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ تاجر کی نفسیات تجارتی مفاد کے لئے ہوتی ہے اور داعی کی نفسیات دعوتی مفاد کے لئے۔

داعی اگر واقعۃً داعی ہو، وہ قومی وکیل یا مذہبی مناظر نہ ہو تو بالکل فطری طور پر اس کے اندر اپنے مدعو کے لئے محبت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے اندر یہ مزاج پرورش پاتا ہے کہ وہ اس سے حکمت اور صبر کے ساتھ معاملہ کرے ویسے ہی جیسے یک دانش مند تاجر اپنے گاہک سے معاملہ کرنے میں ضروری سمجھتا ہے کہ وہ کسی حال میں حکمت اور صبر کا طریقہ نہ چھوڑے۔ تاجر کا رویہ اپنے گاہک کے حق میں گاہک کے رویہ کے ردعمل کے طور پر نہیں بنتا۔ بلکہ خود اپنے سوچے سمجھے ہوئے فکر کے تحت بنتا ہے۔ وہ ایک طرفہ طور پر اپنے آپ کو حسن سلوک کا پابند بناتا ہے، خواہ گاہک اس کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کرے یا نہ کرے۔ ٹھیک یہی طریقہ داعی کا بھی اپنے مدعو کے حق میں ہوتا ہے۔

مسلمان اگر دوسری قوموں کو اپنا مدعو سمجھیں تو اس کے بالکل لازمی نتیجہ کے طور پر یہ ہوگا کہ وہ اپنے آپ کو دوسری قوموں کے حق میں ’’ناصح اور امین‘‘ سمجھیں گے۔ ان کے دل میں دوسری قوموں کے لئے خیر خواہی کے جذبات پیدا ہوں گے۔ وہ ان کی طرف سے پیش آنے والی تلخیوں کو بخوشی برداشت وہ ایک طرفہ طور پر اپنے آپ کو اس کا ذمہ دار سمجھیں گے کہ ان کی اشتعال انگیز حرکات کو نظر انداز کریں تاکہ دعوت کی فضا برباد نہ ہونے پائے۔

دوسری اقوام کو اپنا مدعو سمجھنے کے بعد ان کی نسبت سے مسلمانوں کے اندر وہی نفسیات پیدا ہوگی جو ایک دانش مند تاجر کے اندر اپنے خریدار کے لئے پیدا ہوتی ہے۔ مسلمان ان کے حق میں دعائیں وہ ان کی تالیف قلب کے لئے کوشاں ہوں گے۔ وہ ان کی ہدایت کے حریص بن جائیں گے جس طرح پیغمبر اپنے مدعو کے ایمان کے لئے حریص تھا۔ ان کے اندر اشتعال کے بجائے برداشت کا مادہ پیدا ہوگا۔ اس نفسیات اور کردار کا ثبوت دینے کے بعد ان کے حق میں وہ شان دار نتیجہ برآمد ہوگا جس کی قرآن میں خوش خبری دی گئی ہے۔

Printed page