Al-Risala · September 1984

دشمن دوست بن جاتا ہے

Al-Risala, September 1984, pp. 36–50

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر اسم (حم سجدہ) کی تین آیتیں اس معاملہ میں رہنما حیثیت رکھتی ہیں۔ کا ترجمہ یہ ہے :

اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں ہو سکتی۔ جواب وہ دو جو اس سے بہتر ہو۔ پھر یکا یک

تجھ میں اور جس میں دشمنی تھی وہ ایسا ہو جائے گا جیسے کوئی قریبی دوست۔ اور یہ بات انہیں کو ملتی ہے جو صبر والے ہیں اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جس کی بڑی قسمت ہے۔ اور اگر تجھ کو شیطان کی طرف سے کچھ وسوسہ آئے تو اللہ کی پناہ پکڑو۔ بے شک وہ سننے والا ، جاننے والا ہے (حم سجده ۳۶ - ۳۴) ان آیات کی تشریح میں دو تفسیروں کا اقتباس یہاں نقل کیا جاتا ہے : (ولا تستوى الحسنة ولا السيئة) ای فرق عظیم بين هذه و هذه (ادفع بالتي هي احسن) ای من اساء اليك فادفعه عنك بالاحسان اليه كما قال عمر رضی الله عنه : ما عاقبت من عصي الله فيك بمثل ان تطيع الله فيه (فاذا الذى بينك و بينه عداوة كأنه ولي حمیم ) وهو الصدیق ای اذا احسنت الى من اساء اليك قادته الحسنة اليه الى مصافاتك و محبتك والحنو عليك حتى يصير (كانه ولى حمیم ) ای قريب اليك من الشفقة عليك والاحسان اليك (وما يلقاها الا الذين صبروا ) ای و ما يقبل هذه الوصية و يعمل بها الا من صبر على ذلك فانه يشق على النفوس ۔ و ما يلقاها الا ذو حظ عظیم ) ای ذو نصيب وافر من السعادة فى الدنيا والآخرة ۔ عباس فى تفسير هذه الآية : أمر الله المومنين بالصبر عند الغضب والحلم عند الجهل والعفو عند الاساءة ۔ فاذا فعلوا ذلك عصمهم الله من الشيطان وخضع لهم عدوهم كانه ولی

مختصر تفسیر ابن کثیر جلد ۳، صفحه ص ۲۶ قال ابن عباس : ادفع بحلمك جهل من يجهل اور حسنہ اور سیئہ برابر نہیں ہوسکتے، یعنی اس کے اور اُس کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ احسن طریقہ سے دفع کرو ، یعنی جو شخص تمہارے ساتھ برا سلوک کرے اس کے ساتھ اچھا سلوک کر کے تم اس کا جواب دو ، جیسا کہ حضرت عمر فاروق نے فرمایا : جو شخص تمہارے ساتھ خدا کی نافرمانی کرے اس کا سب سے اچھا بدلہ یہ ہے کہ تم اس کے ساتھ اللہ کی اطاعت کرو۔ پھر تمہارے ساتھ جس کی عداوت ہے وہ قریبی دوست کی طرح ہو جائے گا، یعنی جب تم ایسا کرو گے کہ برا سلوک کرنے والے کے ساتھ تم اچھا سلوک کرو گے تو تمہاری اچھائی اس کے اندر محبت اور ہمدردی کا جذبہ پیدا کرے گی۔ یہاں تک کہ وہ تمہارا دوست اور تمہارا مہربان بن جائے گا۔ کو صرف نصیبہ والے پاتے ہیں، یعنی جو دنیا اور آخرت میں بڑے خوش قسمت ہیں۔ حضرت عبداللہ ابن عباس نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ اللہ نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ غصہ کے وقت صبر کریں، جہالت کے وقت برداشت کریں، اور برائی کے وقت معاف کر دیں۔ جب وہ ایسا کریں گے تو اللہ ان کو شیطان سے بچا لے گا اور ان کے دشمن کو پست کر کے ان کا دوست بنا دے گا۔

عبداللہ ابن عباس نے فرمایا کہ جو شخص تمہارے ساتھ

ليك (تفسير القرطبي)

واما ينزغنك من الشيطان نزغ فاستعذ بالله ای وان وسوس اليك الشيطان بترك ما امرت به من الدفع بالتي هي احسن و اراد ان يحملك على البطش و الانتقام فاستعذ بالله من كيده و شره ( انه هو السميع العليم ) ای هو السميع لاقوال العباد ، العليم بافعالهم صفوة التفاسير ، جلد ثالث ، صفحه ۱۲۳ جہالت کرے اس کے جہل کا مقابلہ تم برداشت سے

اور جب شیطان تمھیں اکسائے تو اللہ سے پناہ مانگو، یعنی احسن طریقہ سے دفع کرنے کا حکم جو تھیں دیا گیا ہے، اگر شیطان تھیں اس کو چھوڑنے کے لئے ابھارے اور تم کو اکسائے کہ پکڑو اور انتقام لو تو شیطان کے دھوکے اور شر سے اللہ کی پناہ مانگو۔ بندوں کے کلام کو سنتا ہے اور وہ ان کے اعمال سے

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے ساتھ دوسری قوموں کی طرف سے جو کچھ پیش آرہا ہے۔ اس کی وجہ ایک لفظ میں یہ ہے کہ مسلمانوں نے برداشت کو کھو دیا ہے۔ یہ دراصل اپنی بے صبری کی قیمت ہے جس کو آج مسلمان بھگت رہے ہیں۔ صبر اور برداشت کھونے کا سبب یہ ہے کہ داعیانہ مقصد ان کے سامنے نہیں رہا۔ مسلمانوں کو اگر دوبارہ اٹھانا ہے تو ان کو اس کے لئے تیار کرنا ہوگا کہ وہ دعوت کو اپنا مقصد حیات بنائیں۔ اس کے بعد ہی ان کے اندر وہ محرک پیدا ہوگا جو آدمی کو بلند حوصلہ اور بلند کردار بناتا ہے۔ قوم بلند حوصلہ اور بلند کردار ہو اس کو کوئی بھی چیز شکست نہیں دے سکتی۔ مسلمانوں کو اگر داعی گروہ کی حیثیت سے اٹھایا جاسکے تو ان کے اندر اپنے آپ حکمت اور صبر کی صفات پیدا ہوجائیں گی جو گویا ہر قسم کے فساد کی قاتل ہیں۔ دعوت الی اللہ کے لئے اٹھنا اپنے آپ کو آخرت کی پکڑ سے بچانا ہے، اور اسی کے ساتھ دنیا کی پکڑ سے بچانا بھی۔

‘Introduction to Islam’ 1. The Way to Find God 2. The Teachings of Islam 3. The Good Life 4. The Garden of Paradise 5. The Fire of Hell The series provides the general public with an accurate and comprehensive picture of Islam—the true religion of submission to God. The first pamphlet shows that the true path is the path that God has revealed to man through His prophets. The second pamphlet is an introduction to various as- pects of the Islamic life under forty-five sepa- rate headings. Qur'anic teachings have been summarized in the third pamphlet in words taken from the Qur'an itself. In the fourth pamphlet the life that makes man worthy of Paradise has been described and in the last pamphlet the life that will condemn him to Price per set: Rs 24.00 C-29 Nizamuddin West New Delhi 110013

مولانا وحید الدین خاں کے قلم سے تذکیر القرآن جلد اول مذہب اور جدید چیلنج دین کیا ہے قرآن کا مطلوب انسان اسلام اور دورِ جدید 50/- سبق آموز واقعات 3/- 20/- زلزلہ قیامت 4/- 25/- حقیقت کی تلاش 3/- 25/- پیغمبر اسلام 3/-. 15/- آخری سفر 3/- 25/- حقیقت حج 2/- 2/- اسلامی دعوت 3/- 5/- خدا اور انسان 3/- 3/- تمام فہرست اسلام بینچ مارک تاریخ کا سبق مذہب اور سائنس مساوات کا مسئلہ انسان اپنے آپ کو پہچان اسلام پندرھویں صدی میں راہیں بند نہیں The Way to Find God 4/= The Teachings of Islam 5/= The Good Life 5/= The Garden of Paradise 5/= The Fire of Hell 5/-

The Ideal Character 3/-

Printed page