Al-Risala · October 1984

خدا کا وجود

Al-Risala, October 1984, p. 2

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا کے وجود کا سب سے بڑا ثبوت انسان کا خود اپنا وجود ہے۔ خدا جیسی ہستی کو ماننا جتنا مستبعد ہے اتنا ہی مستبعد یہ بھی ہے کہ انسان جیسی ہستی کو مانا جائے۔ اگر ہم ایک انسان کو مانتے ہیں تو ایک خدا کو ماننے میں بھی ہمارے لئے کوئی رکاوٹ نہیں ہونا چاہئے۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ خدا نے انسان کے اندر اپنی روح پھونکی (الحجر ۲۹) اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان خدا کی صفات کا ایک بشری نمونہ ہے۔ وجود، زندگی، علم، قدرت ، ارادہ، اختیار اور دوسری صفات کمال جن کا حقیقی مظہر صرف خدا کی ذات ہے۔ ان کا ایک عکس ( نہ کہ حصہ ) انسان کو ودیعت کیا گیا ہے، انسان کسی بھی اعتبار سے خدا کا جز نہیں مگر وہ اپنی ذات میں اس خدا کی محسوس دلیل ہے جس کو غیبی طور پر ماننے کا اس سے مطالبہ کیا گیا ہے۔

انسان کے اندر وہ ساری خصوصیات شہود کے درجہ میں موجود ہیں جن خصوصیات کے ساتھ ایک خدا کو غیب کے درجہ میں ماننے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

انسان کا ایک مستقل وجود ہے۔ وہ دیکھنے اور سننے اور بولنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ سوچتا ہے اور منصوبہ بناتا ہے۔ وہ اپنے ذاتی ارادہ کے تحت حرکت کرتا ہے۔ وہ مادہ کو تمدن میں تبدیل کرتا ہے۔ وہ ریموٹ کنٹرول سسٹم کے ذریعہ خلائی مشین کو چلاتا ہے۔ وہ اپنی ذات کا شعور رکھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ”میں ہوں“ ـــــ انھیں صفات کی کامل ہستی کا نام خدا ہے۔

انسان اور خدا میں جو فرق ہے وہ یہ ہے کہ انسان کا وجود غیر حقیقی ہے اور خدا کا وجود حقیقی۔ مخلوق ہے اور وہ خالق۔ یہ محدود ہے اور وہ لا محدود۔ یہ بے اختیار ہے اور وہ با اختیار۔ یہ فانی ہے اور وہ غیر فانی۔ انسان کے پاس جو کچھ ہے وہ عطیہ ہے جب کہ خدا کے پاس جو کچھ ہے وہ اس کا ذاتی ہے ، وہ کسی دوسرے کا دیا ہوا نہیں ۔

انسان کو ماننا بلا تشبیہ ”چھوٹے خدا“ کو ماننا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے وہ ”بڑے خدا“ کو نہ مانے۔ ہر شخص جو خدا کو نہیں مانتا وہ یقیناً اپنا اقرار کرتا ہے۔ وہ انسانی وجود کو تسلیم کرتا ہے۔ جو شخص انسان کو مان رہا ہو اس کے لئے خدا کو نہ ماننے کی کوئی دلیل نہیں۔ انسان کے وجود کا اقرار کر کے وہ خدا کے وجود کا بھی اقرار کر چکا ہے، خواہ وہ اپنی زبان سے اس کا اظہار کرے یا نہ کرے ۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کا انکار خود اپنا انکار ہے۔ اور کون ہے جو خود اپنا انکار کر سکے ۔

Printed page