کن فیکون
Al-Risala, October 1984, p. 3
By Maulana Wahiduddin Khan
آجکل جو موٹر کاریں سڑکوں پہ دوڑتی ہیں وہ زیادہ تر اسی مشینی اصول پر بنائی گئی ہیں جو نکولاس آٹو (Nikolaus Otto) نے ۱۸۷۶ء میں وضع کیا تھا۔ تاہم پچھلے برسوں میں کار کی دنیا میں ایک نیا انقلاب آیا ہے۔ اب ایسی کاریں بن رہی ہیں جن کے انجن کے ساتھ ایک کمپیوٹر لگا ہوتا ہے اور وہ بہت سے کام خود بخود انجام دیتا ہے۔
مثلاً وہ بتاتا ہے کہ ۔ سیٹ بیلٹ باندھ لیجیے، ایک دروازہ ٹھیک سے بند نہیں ہے، آپ کی ٹنکی میں ایندھن کم ہے وغیرہ۔
انھیں نئی چیزوں میں سے ایک یہ ہے کہ ڈرائیور اپنی کار کو زبانی ہدایات دے سکتا ہے۔ سے کوئی پرزہ چھوئے بغیر زبان سے الفاظ بول کر اس کو کوئی حکم دے سکتا ہے۔ امریکی جنرل امین (Span) کی مئی ۱۹۸۰ء کی اشاعت میں اس سلسلہ میں ایک رپورٹ شائع کرتے ہوئے حسب ذیل الفاظ درج کئے گئے ہیں :
---- and you can talk to the cars. The Ford Motor Company has developed a system in which voice commands turn on car lights, raise the antenna, start the windshield wipers, or activate other electrical systems. اور آپ اپنی کار سے بات کرسکتے ہیں۔ فورڈ موٹر کمپنی نے ایک سسٹم تیار کیا ہے جس کے ذریعہ زبانی حکم سے کار کی لائٹ جل جاتی ہے، اینٹینا اٹھ جاتا ہے، وائپرس چلنے لگتے ہیں۔ اسی طرح دوسرے برقیا تی نظام متحرک ہوجاتے ہیں۔
یعنی ڈرائیور کو لائٹ جلانی ہے تو وہ اس کا بٹن نہیں دبائے گا بلکہ کہے گا " لائٹ جل جا " اور لائٹ جل جائے گی۔ ڈرائیور کو وائپر چلانا ہے تو وہ اس کے لئے کسی بٹن پر اپنا ہاتھ نہیں لے جائے گا بلکہ کہے گا " وائپر چل جا " اور اس کے فوراً بعدوائپر چلنے لگے گا۔
اس مشین و واقعہ سے قرآن کی آیت کن فیکون (البقرہ ، ۱۱۷) آج کے انسان کے لئے قابل فہم اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کس طرح منھ سے نکلی ہوئی آواز بھی کسی چیز کو وجود میں لاتی ہے اور ایک پورے نظام کو متحرک کر دیتی ہے۔ خدا کے کن فیکون کی اصل حقیقت کو انسان نہیں جان سکتا۔ تاہم موجودہ زمانہ کے مشیننی واقعات نے اس کو نہ سمجھنے والوں کے لئے سمجھنے کے قابل بنا دیا ہے۔