عقلمند کون
Al-Risala, October 1984, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان کو اس کے پیدا کرنے والے نے بہترین بناوٹ کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ مگر بڑھاپا آتا ہے اور اس کی بہترین بناوٹ کو کھا جاتا ہے۔ انسان کو اعلیٰ ترین لذتوں کا احساس دیا گیا ہے۔ ہزار کوشش کے بعد جب وہ ان لذتوں کو پا لیتا ہے تو اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اپنی پیدائشی محدودیتوں (Limitations) کی وجہ سے وہ ان لذتوں سے لطف اندوز نہیں ہو سکتا۔ انسان کو ایک ایسی زمین دی گئی ہے جو اپنی حسین فضاؤں اور قیمتی ساز و سامان کے ساتھ ساری کائنات میں ایک انتہائی نادر استعمار ہے مگر آدمی اس دنیا کو استعمال نہیں کر پاتا کہ موت آتی ہے اور اس کو اس کی پسند کی دنیا سے جدا کر دیتی ہے۔
ایسا کیوں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ دنیا ہماری اصل دنیا نہیں۔ اصل دنیا وہ ہے جو موت کے بعد آنے والی ہے۔ موجودہ دنیا اس آئندہ آنے والی دنیا کا ابتدائی تعارف ہے۔ یہ لذتوں کے اصل خزانہ کا لمحاتی تجربہ ہے۔ یہ ابدی بہشت کا صرف ایک وقتی مظاہرہ ہے۔ یہ اس لئے ہے کہ آدمی حال کے آئینہ میں مستقبل کے عظیم امکانات کو دیکھے۔ وہ ناقص فلاح میں کامل فلاح کار از پالے۔ عقلمند انسان وہ ہے جس کو دنیا کا یہ وقتی تجربہ اس کو ابدی دنیا کی یاد دلائے۔ وہ اپنے آپ کو زندگی کے آنے والے دور کے لئے تیار کرے ۔ وہ اپنی عمر کے موجودہ مرحلہ کو اس طرح استعمال کرے کہ وہ اس کے لئے عمر کے اگلے مرحلہ میں کامیابی کا زینہ بن جائے۔
اس کے برعکس نادان وہ ہے جو وقتی اور فانی لذتوں میں گم ہو جائے ۔ جو " آج " میں مشغول ہو کر "کل" کو بھول جائے ۔ ایسا آدمی اس نادان مسافر کی طرح ہے جو ریلوے اسٹیشن کی بیچ خالی پا کر اس پر سو جائے۔ وہ اسی طرح بے خبر پڑا رہے۔ یہاں تک کہ اس کی ٹرین اپنے وقت پر آئے اور اس کو لئے بغیر آگے
موجودہ دنیا آخرت کے سفر کا راستہ ہے۔ جس طرح ایک عام مسافر اس وقت اپنی منزل پر نہیں پہنچتا جب کہ وہ راستہ کی چیزوں میں کھو گیا ہو۔ اسی طرح جو شخص دنیا کی دلفریبیوں میں گم ہو جائے وہ کبھی آخرت کے اعلیٰ مقامات تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو گا۔ وہ دنیا میں بھٹک کر رہ جائے گا اور بالآخر اس کے حصہ میں حسرت کے سوا اور کچھ نہیں آئے گا۔