موقع نہ کھوئیے
Al-Risala, October 1984, pp. 15–17
By Maulana Wahiduddin Khan
زندگی بس کامیاب ہونے کا راز یہ ہے کہ آدمی ہر آنے والے موقع کے لئے تیار رہے۔ ڈزرائلی کا یہ قول موجودہ دنیا میں کامیابی کا راز بتا رہا ہے۔ دنیا میں کامیابی حقیقۃً اس کا نام ہے کہ آدمی حالات کو سمجھے اور آنے والے موقع کو فوراً استعمال کرے۔ جو شخص کسی موقع کو وقت پر استعمال نہ کر سکے وہی وہ شخص ہے جو ناکام رہا اور زندگی کی دوڑ میں پچھڑ گیا۔
شہر کی ایک گلی میں ایک بار میں نے دیکھا کہ بجلی کا بلب سارے دن جل رہا ہے۔ مگر دن کے اجالے میں وہ بالکل گم تھا۔ غور سے دیکھنے کے بعد اس کی روشنی میں اتنی نظر آتی تھی کہ آدمی یہ جان لے کہ یہاں ایک بلب موجود ہے۔ مگر جب رات آئی اور ہر طرف اندھیرا پھیل گیا تو وہی بلب نمایاں ہو گیا۔ اپنے ماحول کو اس طرح روشن کر رہا تھا جیسے کوئی چھوٹا سورج زمین پر اتر آیا ہو۔ میں نے یہ منظر دیکھا تو مجھے خیال آیا کہ ـــــــــــ چراغ کی روشنی در اصل تاریکی کے موقع سے فائدہ اٹھانے کا دوسرا نام ہے۔ چراغ اسی وقت چراغ ہے جب کہ وہ تاریکی میں ہو۔ سورج کی روشنی ظاہر ہونے کے بعد چراغ کا کوئی وجود نہیں۔
تاریکی عام معنوں میں صرف ”تاریکی“ نہیں وہ ایک ”موقع“ ہے۔ تاریکی کو دیکھ کر آدمی اکثر فریاد و ماتم کرنے لگتا ہے۔ حالانکہ تاریکی کسی آدمی کے لئے بہترین موقع ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جہاں تاریکی ہو وہاں کسی کے لئے اپنے آپ کو روشن کرنے کا ایک قیمتی موقع موجود ہوتا ہے ۔ بشرطیکہ آدمی اس راز کو جانے اور اس کو بھر پور طور پر استعمال کرے۔ ظاہر ہے کہ تاریکی کو وہی شخص اپنے لئے موقع بنا سکتا ہے جس کے پاس اپنی کوئی روشنی موجود ہو۔ جو شخص خود تاریکی ہو اس کے لئے تاریکی مزید اندھیر الانے کا باعث ہوتی ہے۔ اس کے لئے تاریکی کبھی موقع نہیں بنتی۔ چامِلس نے کہا ہے کہ ”موقع کو کھودینا کامیابی کو کھو دینا ہے؛ اگر آپ مسافر ہوں اور ٹرین پکڑنے کے لئے ریلوے اسٹیشن جائیں تو آپ کو چوکنار ہنا پڑتا ہے کہ جب ٹرین آکر پلیٹ فارم پر کھڑی ہو تو آپ فوراً اس کے اندر داخل ہو جائیں۔ اگر آپ اپنے ذہن کو بیدار نہ رکھیں تو عین ممکن ہے کہ ٹرین آکر پلیٹ فارم پر کھڑی ہو اور پھر سیٹی دے کر چلی جائے۔ اور آپ اس پر سوار نہ ہوئے
ایسا ہی کچھ معاملہ زندگی کا ہے۔ آپ زندگی کے جس میدان میں بھی ہوں، ہمیشہ آپ اس امتحان
میں ہوتے ہیں کہ مواقع کو پہچانیں اور ان کو استعمال کر سکیں۔ اگر آپ اپنے ذہن کو جاگتا ہوا نہ رکھیں تو مواقع آئیں گے اور آپ ان کو استعمال نہ کر سکیں گے۔ مواقع آپ کا انتظار کریں گے اور آپ کو ان کی خبر بھی نہ ہوگی اور پھر بعد کو بیٹھ کر زمانے کی شکایت کریں گے کہ اس نے آپ کا ساتھ نہیں دیا۔ دنیا میں مواقع آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ تاہم ایک موقع ایسا ہے جو ہمیشہ باقی رہتا ہے۔ کارکردگی کا موقع ہے۔ حقیقت یہ کہ اس دنیا میں سب سنے بڑا موقع وہ ہے جس کو امتیاز (Distinction) کہا جاتا ہے۔ کسی معاملہ میں امتیازی صلاحیت آدمی کو سب سے بڑا موقع فراہم کرتی ہے۔ دوسرے مواقع زندگی میں کبھی کبھی آتے ہیں۔ مگر " امتیاز " وہ موقع ہے جو ہمیشہ ہر آدمی کے لئے موجود رہتا ہے۔ وہ کبھی ختم نہیں اسی لئے دنیئیل ویبسٹر (Daniel Webster) نے کہا ہے کہ چوٹی کی جگہ ہمیشہ خالی رہتی ہے : There is always room at the top. اس دنیا میں سب سے بڑا موقع " امتیاز " ہے۔ دوسرے مواقع زندگی میں کبھی کبھی آتے ہیں۔ امتیاز وہ موقع ہے جو ہمیشہ ہر مقام پر موجود رہتا ہے۔ وہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ کسی کا قول ہے کہ "غصہ آدمی کے چہرہ کو بگاڑ دیتا ہے"! اس قول کی سچائی دیکھنا ہو تو ایک کتے کو اس وقت دیکھئے جب کہ وہ دوسرے کتے سے بگڑ کر اس پر غرا رہا ہو۔ اس وقت کتا دنیا کا سب سے زیادہ بدشکل جانور دکھائی دیتا ہے۔ اس کے برعکس مثال پھول کی ہے۔ پھول کے سامنے کھڑے ہو کر آپ اس کو برا بھلا اس کے باوجود اس کے حسن میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پھول آپ کے برا کہنے پر نہیں بگڑا۔ اس نے آپ کی کر دی باتوں کا کوئی خراب اثر نہیں لیا۔
اسی بنا پر ایک مفکر نے کہا ہے کہ انسان سب سے زیادہ خوبصورت اس وقت ہوتا ہے جب کہ وہ ایک اشتعال انگیز بات پر غصہ نہ ہو۔ اور انسان سب سے زیادہ بدصورت اس وقت ہوتا ہے جب کہ وہ اشتعال انگیز بات سے اور پھر قابو سے باہر ہو جائے۔
ایک مثل ہے"غصہ ہمیشہ حماقت سے شروع ہوتا ہے۔ اور ندامت پر ختم ہوتا ہے"! یہ ایک ایسی بات ہے جس کی تصدیق غصہ کے ہر واقعہ سے کی جاسکتی ہے۔ جب بھی کسی آدمی کو غصہ آتا ہے تو اس کی وجہ زیادہ تر یہ ہوتی ہے کہ اس کے پاس غصہ کے علاوہ دوسرا جو طریقہ تھا وہ اس کو استعمال نہ کر سکا۔ ایک بار ایک لڑکے نے اپنے گھر میں کچھ نقصان کر دیا۔ اس کا جاہل باپ اس کو نظر انداز نہ کر سکا۔ وہ سخت غصہ میں آگیا۔ اس نے اپنے لڑکے کو پکڑ کر زور سے دھکیلا تو اس کا سر جا کر دیوار سے ٹکر اگیا۔
اس کے سر کی کوئی رگ شدید طور پر متاثر ہوگئی۔ اس لڑکے نے ہمیشہ کے لئے اپنا حافظہ کھو دیا۔ وہ کسی کام کے قابل نہ رہا۔ بظاہر وہ دیکھنے میں پہلے کی طرح تھا مگر اب اس کو کوئی چیز یاد نہیں رہتی تھی یہاں تک کہ وہ بیکار ہو کر رہ گیا۔ باپ نے وقتی جذبہ سے مغلوب ہو کر ایک نادانی کی تھی مگر اپنے اس فعل پر بے پناہ شرمندگی اس کو ہمیشہ باقی رہی۔ اگر اس نے وقتی طور پر برداشت سے کام لیا ہوتا تو وہ منتقل شرمندگی سے
داتانج بخش کا قول ہے کہ " غصہ عقل کو کھا جاتا ہے" گوسوامی تلسی داس نے کہا، جہاں غصہ ہے وہاں بربادی ہے۔ ان دونوں اقوال کا مطلب ایک ہے۔ غصہ آدمی کی عقل کے لئے بھی قاتل ہے اور اس کے جسم کے لئے بھی۔ وہ اس کی پوری شخصیت کو نگل جاتا ہے۔ جو شخص اپنے آپ کو بچانا چاہتا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے آپ کو غصہ سے بچائے۔
ڈاکٹر آلیورٹ نے بتایا ہے کہ غصہ کرنے سے عضلات (پٹھوں) کا تناؤ بڑھ جاتا ہے۔ جسم کی قوت غیر معمولی طور پر استعمال ہو کر تکان کی کیفیت پیدا کر دیتی ہے۔ نتیجہ کے طور پر آدمی کے اندر عمل کی قوت گھٹ جاتی ہے۔
دوسرے ڈاکٹر جے اے شنڈلر کا کہنا ہے کہ غصہ کی حالت میں آنتوں میں اینٹھن آ جاتی ہے۔ حرکت تیز ہو جاتی ہے۔ خون کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر غصہ شدید ہے تو اس کا بھی امکان ہے کہ دماغ کی رگ پھٹ جائے اور آدمی کی اچانک موت واقع ہو جائے۔
چیسٹر فیلڈ نے نہایت گہری بات کہی ہے۔ اس نے کہا کہ کوئی شخص اگر اپنے غصہ پر قابو نہیں پاسکتا تو سمجھ لیجئے کہ وہ دنیا کا کوئی کام بھی نہیں کر سکتا۔ کیوں کہ دنیا میں کوئی چیز حاصل کرنے کے لئے دنیا پر قابو پانا پڑتا ہے۔ پھر جو شخص اپنے آپ پر قابو نہ پاسکے وہ دنیا پر قابو پانے میں کس طرح کامیاب ہوگا۔